ہمارا ایمان ہے کہ معرفتِ پروردگار کے موضوع میں سب سے بنیادی اور اہم ترین مسئلہ ’’توحید کی پہچان‘‘ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو واحد و یکتا تسلیم کرنا۔ توحید نہ صرف اصولِ دین کا جزو ہے، بلکہ پورے اسلامی عقیدے کی بنیاد اور روح بھی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تمام اسلامی تعلیمات، خواہ اصول ہوں یا فروع، توحید ہی میں راسخ ہیں۔ توحید ہی وہ محور ہے جس کے گرد صفات و افعالِ الٰہی، وحدتِ ذاتِ خداوندی، تمام انبیاءِ کرام کی مشترکہ دعوت، انسانی زندگی سے متعلق خدائی قوانین، دین و شریعت کا یگانہ ہونا، قبلے کا ایک ہونا، آسمانی کتاب کا ایک ہونا، مسلمانوں کی صف بندی اور روزِ قیامت سب کا ایک جگہ جمع ہونا، سب کچھ اسی پر دلالت کرتا ہے۔
توحید کی اہمیت
اسلامی عقائد کی بنیاد توحید پر استوار ہے، جو نہ صرف خالقِ کائنات کی وحدانیت کا اعلان ہے بلکہ انسانی نجات، فکری تطہیر، اور روحانی ارتقاء کا پہلا زینہ بھی ہے۔ قرآنِ کریم کی بے شمار آیات اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کو تسلیم کیے بغیر کوئی عمل، کوئی عقیدہ اور کوئی عبادت بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ اللہ ربّ العزت نے واضح الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ شرک ایک ایسا سنگین گناہ ہے جسے وہ ہرگز معاف نہیں فرماتا، جبکہ اس کے سوا تمام گناہوں کی بخشش اس کی مشیت پر موقوف ہے۔ اسی دلیل کی بنیاد پر قرآنِ مجید توحید الٰہی سے انحراف اور شرک کی طرف میلان کو ہرگز نہ بخشے جانے والا گناہ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
’’إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا‘‘[1]
خداوندِ عالم (ہرگز) شرک کو نہیں بخشے گا اور اس سے کم کو جسے چاہتا ہے (لائق سمجھتا ہے) بخش دیتا ہے، اور جو بھی اللہ کے لئے شریک قرار دیتا ہے وہ عظیم گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔
ایک اور جگہ پر ارشاد باری تعالٰی ہے کہ:
’’وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ‘‘[2]
آپ پر اور آپ سے پہلے تمام انبیاء پر وحی ہوئی ہے کہ اگر مشرک بن گئے تو سارے اعمال تباہ ہو جائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
توحید کی اقسام
ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی بہت سی شاخیں ہیں، جن میں سے مندرجہ ذیل چار سب سے زیادہ اہم ہیں:
توحید ذاتی
یعنی یہ کہ خداوندِ عالم کی ذات پاک ہے اور وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک و نظیر نہیں ہے۔
توحید صفاتی
یعنی یہ کہ صفاتِ علم، قدرت، ازلی و ابدی سب اس کی ذات میں جمع ہیں، اور یہ صفات اس کی عین ذات ہیں۔ مخلوقات کی طرح نہیں کہ ان کی صفات ایک دوسرے سے الگ اور ان کی ذات سے جدا ہوں۔ البتہ خداوندِ عالم کی ذات و صفات کا ایک ہونا ایک ایسی بحث ہے جس کے لئے ظرافت اور دقّت لازمی ہے۔
توحید افعالی
یعنی یہ کہ ہر فعل و حرکت جو اس دنیا میں انجام پاتا ہے، وہ سب پروردگارِ عالم کی مشیّت و ارادے سے وجود میں آتا ہے:
’’اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ‘‘[3]
خداوندِ عالم تمام اشیاء کا پیدا کرنے والا اور ان پر حافظ و ناظر ہے۔
لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ[4]
آسمان و زمین کی چابیاں اس کے پاس ہیں (یعنی اس کے دستِ قدرت میں ہیں)۔ بے شک:
’’لا مُؤَثّرَ فِی الوُجودِ إِلّا الله‘‘
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس جہانِ ہستی میں مؤثر نہیں ہے۔
اس بات کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنے کام انجام دینے میں مجبور ہیں۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ ہم اپنے ارادے اور فیصلے میں آزاد ہیں:
’’إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا‘‘[5]
ہم نے اسے (انسان کو) ہدایت دی (اور راستے دکھا دیے) چاہے وہ شکر گزار بنے یا انکار کرے۔
’’وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ‘‘[6]
انسان جو کچھ حاصل کرتا ہے اپنی سعی و کوشش سے حاصل کرتا ہے۔
یہ آیتِ کریمہ صراحت سے بیان کر رہی ہے کہ انسان آزاد و خودمختار ہے۔ لیکن چونکہ ارادے کی آزادی اور کام انجام دینے کی قدرت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے، اس لئے ہمارے کام اسی سے نسبت رکھتے ہیں۔ مگر اس نسبت سے ہمارے افعال کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ اس پر توجہ ضروری ہے۔
البتہ اس نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے اعمال کو آزادی، ارادہ اور اختیار کے ساتھ انجام دیں تاکہ اس کے ذریعے وہ ہمیں آزما سکے اور ہمیں کمال کی منزلوں تک پہنچا سکے۔ اسی لئے صرف ارادے کی آزادی اور اختیار کے ساتھ خداوندِ عالم کی عبادت و اطاعت ہی انسان کو کمال تک پہنچا سکتی ہے۔ مجبوری میں انجام دیے گئے افعال نہ خوبی کا سبب ہو سکتے ہیں اور نہ برائی کی علامت۔
اگر ہم اپنے افعال انجام دینے میں مجبور ہوتے تو نہ انبیاء کی بعثت کا مفہوم ہوتا، نہ آسمانی کتابوں کا کوئی مقصد، نہ دینی تعلیم و تربیت کا کوئی فائدہ، اور نہ ہی جزا و سزا کا کوئی مفہوم باقی رہتا۔ یہ وہ تعلیمات ہیں جو ہم نے ائمہ اہلِ بیت (ع) کے مکتب سے حاصل کی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:
’’لا جبر و لا تفويض و لكن أمر بين الأمرين‘‘[7]
نہ جبر مطلق صحیح ہے اور نہ تفویض و آزادیِ مطلق، بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اپنانا صحیح ہے۔
معجزات انبیاء اور توحید افعالی
توحیدِ افعالی کی اصل و بنیاد اس حقیقت پر زور دیتی ہے کہ وہ عظیم معجزات و کرامات، جو پیغمبرِ ﷺ سے ظاہر ہوئے، سب اللہ کے اذن سے تھے۔ جیسا کہ قرآنِ مجید میں حضرت عیسیٰ (ع) کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:
’’وَتُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتَىٰ بِإِذْنِي‘‘[8]
اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے صحت یاب کرتے تھے اور تم میرے حکم سے مردوں کو (زندہ کر کے) نکال کھڑا کرتے تھے۔
اور حضرت سلیمانؑ کے ایک وزیر کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
’’قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ فَلَمَّا رَآهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُ قَالَ هَٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّي‘‘[9]
جس کے پاس کتاب میں سے کچھ علم تھا وہ کہنے لگا: میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کر دیتا ہوں، جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس نصب شدہ دیکھا تو کہا: یہ میرے رب کا فضل ہے ۔
لہٰذا، اللہ کے حکم سے حضرت عیسیٰ (ع) کا ناقابلِ علاج مریضوں کو شفا دینا اور مردوں کو زندہ کرنا، جیسا کہ قرآنِ مجید میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے، عین توحید ہے۔
توحید عبادی
عبادت، خداوندِ عالم سے مخصوص ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہ شاخ، توحید کی سب سے اہم شاخوں میں شمار ہوتی ہے، اور انبیاءِ الٰہی نے سب سے زیادہ اسی پر تاکید کی ہے۔
’’وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ‘‘[10]
انہیں (انبیاء کو) اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص کریں اور شرک سے باز آئیں، یہ ہے اللہ کا محکم اور پائیدار دین۔
اخلاق و عرفان کے کمال کی منزلیں طے کرنے کے لئے اس سے بھی زیادہ عمیق توحید کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس راہ میں توحید اس منزل تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان صرف اللہ تعالیٰ سے لو لگاتا ہے اور ہر مرحلے پر صرف اسی کو طلب کرتا ہے۔ اس کے سوا کسی کی فکر اسے مشغول نہیں کرتی، اور کوئی بھی چیز اسے خدا سے دور کر کے اپنی طرف مشغول نہیں کرتی۔
’’كُلَّما شَغَلَكَ عَنِ اللَّهِ فَهُوَ صَنَمُكَ‘‘ ہر چیز جو تجھے خداوند سے دور کرے اور خود میں مشغول کر دے، وہ تیرا بت ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی شاخیں صرف ان چار (ذات، صفات، افعال، عبادت) تک محدود و منحصر نہیں ہیں، بلکہ مزید شاخیں بھی ہیں جیسے:
توحید مالکیت
یعنی تمام اشیاء کا حقیقی مالک خداوندِ عالم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا: ’’لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ‘‘[11] جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اللہ کا ہے۔
توحید حاکمیت
یعنی قانون بنانے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ ’’مَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ‘‘[12] جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قوانین کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، پس وہ ظالم ہیں۔
خاتمہ
توحید کی یہ گہری تفہیم نہ صرف بنیادی عقائد کی بنیاد ہے، بلکہ انسان کے اخلاق، عرفان اور کمال کی منزلیں طے کرنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ توحید کی شاخیں، جن میں توحیدِ ذات، توحیدِ صفات، توحیدِ افعال، اور توحیدِ عبادت کو نمایاں حیثیت حاصل ہے، اسی ایک وحدتِ الٰہی کے مختلف مظاہر ہیں۔ تاہم، توحید ان چار شعبوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی اور بھی کئی شاخیں موجود ہیں۔ ان میں توحیدِ مالکیت، جس کا مطلب ہے کہ تمام اشیاء کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے، اور توحیدِ حاکمیت، جس کے مطابق قانون سازی کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے، شامل ہیں۔ ان تمام شعبوں میں توحید، انسان کے عقائد و اعمال پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
حوالہ جات
[1]۔ نساء: 48۔
[2]۔ زمر: 65۔
[3]۔ زمر: 62۔
[4]۔ زمر: 62۔
[5]۔ انسان: 3۔
[6]۔ نجم : 39۔
[7]۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول الکافی، ج1، ص160، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1407ھ ق۔
[8]۔ مائدہ: 110۔
[9]۔ نمل: 40۔
[10]۔ بینہ: 5۔
[11]۔ بقرہ: 284۔
[12]۔ مائدہ: 44۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مکارم شیرازی، ناصر، ہمارے عقیدے (ترجمہ اردو آيين ما)؛ مترجم، مجلس مترجمین معارف پبلشر، ص ۲۷-۳۲، ۲۰۱۵م، (یہ کتاب برقی شکل میں زیر اہتمام شبکہ الامامین الحسنین (ع) تنظیم و نشر ہوئی ہے)۔