الشیعہ اسلام اســلامی احکام اجتهاد اور تقلید
سوال ۹: کسی مجتھد کی اعلمیت کی تشخیص کرنا کہ یہ مجتھد اپنے ھم عصر مجتھدین سے علم میں زیادہ ھے ایک عام شخص کے لئے جو اس علم سے ناواقف ھے، کیسے ممکن
سوال۷: بعض لوگ کھتے ھیں کہ تقلید باطل بلکہ بدعت اور حرام ھے۔ ان کا دعوےٰ ھے کہ بعض آیات و روایات بھی حرمت تقلید( تقلید کے حرام ھونے) پردلالت کرتی
س ۱: تقلید کیا ھے؟ جواب: دلیل طلب کئے بغیر کسی کا قول قبول کرنا تقلید ھے۔ جس طرح بیمار اپنے طبیب کے دستور کی پیروی اور اسی کے مطابق عمل کرتا ھے۔
ایک مختصر وضاحت فتوی کے معنی میں” مرجعیت” ایک فقہی اصطلاح ہے کہ اس کے مقا بلے میں، ” تقلید” کا مفہوم قرار پا یا ہے، یعنی اگر کوئی شخص
تقلید کے بارے میں فریقین کا استدلال ان کے دو مختلف نظریوں کی بنیاد پر آسانی سے سجمھ میں آسکتا ہے۔ مطلب ہے سنیوں کا شوری کا نظریہ اور شیعوں کا نص
شیعہ کہتے ہیں کہ فروع دین شریعت کے وہ احکام ہیں جن کا تعلق ان اعمال سے ہے جو عبادت میں جیسے: نماز، روزہ، زکات اور حج وغیرہ۔ ان کے بارے میں مندرجہ
مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح) فتوؤں میں فقیہ کے تصورات کی جھلک فقیہ اور مجتہد کا کام شرعی احکام کا استنباط و استخراج ہے‘ لیکن موضوعات کے
مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح) حضرت (ع) نے فرمایا: بین عوامنا و علمائنا وبین عوام الیہود و علمائھم فرق من جھة وتسویة من جھة: اما من حیث
مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح) مکتب تشیع میں اخباریت کا رواج میں یہاں اس خطرناک تحریک کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں جو تقریباً چار صدی قبل شیعہ