قیامت کی ضرورت اور اہمیت پر دو عقلی دلیلیں

قیامت کی ضرورت اور اہمیت پر دو عقلی دلیلیں

کپی کردن لینک

آخرت اور قیامت پر ایمان دینِ اسلام کا ایک بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے، جسے قرآن مجید میں توحید کے ساتھ برابر کی اہمیت دی گئی ہے۔ قیامت کا درست اور جامع تصور انسان کو نہ صرف روح کی بقاء کا یقین دلاتا ہے بلکہ اسے اپنے اعمال کے انجام پر بھی متوجہ کرتا ہے۔ اسی لیے انبیاءِ کرام نے قیامت کے عقیدے کو لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے کےلئے بڑی جانفشانی سے کام لیا، اور اس راہ میں بے شمار مصیبتیں اور مشکلات برداشت کیں۔

قرآن مجید میں بھی تقریباً بیس سے زیادہ مقامات پر کلمہ ’’اللّہ‘‘ اور ’’واليَومَ الأخِر‘‘ کو ایک ساتھ استعمال کیا گیا ہے، اگرچہ دو ہزار سے زیادہ آیات میں آخرت سے متعلق بحث کی گئی ہے۔

قیامت کا صحیح تصور اس روح کو قبول کرنے پر موقوف ہے جو ہر انسان کی شناخت کا معیار ہے اور اس کا وجود موت کے بعد بھی باقی رہے گا، تاکہ یہ کہا جاسکے کہ وہی شخص جو اس دنیا سے گیا ہے دوبارہ قیامت اور آخرت میں زندہ کیا جائے گا، پھر اس کے بعد عقل اور وحی کے ذریعے اس روح کو ثابت کیا گیا ہے تاکہ انسان کی ابدی زندگی کے بارے میں گفتگو کا راستہ ہموار ہو جائے۔

ضرورتِ قیامت اور عقلی دلائل

قیامت کی ضرورت پر دو اہم عقلی دلیلیں پیش کی جا رہی ہیں جو انسانی عقل و فطرت کو اس عظیم حقیقت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ دلائل اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ قیامت کا ہونا نہ صرف عدلِ الٰہی کا تقاضا ہے بلکہ انسانی زندگی کے حقیقی مقصد اور انجام کو سمجھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

برہان حکمت

خدا کی خلقت بے کار اور بے مقصد نہیں ہے بلکہ خیر و کمال سے محبت، جو کہ خدا کی عین ذات ہے ’’بالأصالة‘‘ اور اس کے آثار ’’باالتبع‘‘ ہیں، کہ جس میں خیر وکمال کے بعض مراتب پائے جاتے ہیں، کے متعلق ہوتی ہے، اسی لئے دنیا کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خیر و کمال کا کسب کرنا اس پر مبنی ہو، اور اس طرح حکمت کی صفت، جس کا تقاضہ یہ ہے کہ مخلوقات کو ان کے مناسب کمال اور مقصد تک پہنچایا جاسکے، لیکن چونکہ مادی دنیا مزاحمتوں اور ٹکرؤ کا مقام ہے، مادی موجودات کے خیر و کمالات ایک دوسرے کے معارض ہیں۔

لہذا خدا کی حکیمانہ تدبیر کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کو اس انداز سے مرتب اور منظم کرے کہ مجموعی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ خیرات اور کمالات اس پر مرتب ہوں، بلکہ دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اس دنیا میں بہترین نظام پایا جائے۔

اسی وجہ سے مختلف قسم کے عناصر اور ان کی مقدار و کیفیت، فعل و انفعالات نیز اس کی حرکات و سکنات اس طرح منظم اور مرتب ہیں کہ سبزوں اور درختوں اور آخر میں اس دنیا کی سب سے کامل ترین مخلوق یعنی انسان کی خلقت کا زیادہ سے زیادہ موقع فراہم ہو جائے، اور اگر یہ مادی دنیا اس طرح پیدا کی گئی ہوتی کہ موجودات زندہ کی پیدائش اور اس کے رشد کو ناممکن بنا دیتی، تو یہ حکمت کے خلاف کام ہوتا۔

انسان کے اندر قابل بقاء روح پائی جاتی ہے، اور وہ ابدی و جاودانی کمالات کو حاصل کرسکتا ہے وہ بھی ایسے کمالات جس کا تقابل مادی کمالات سے نہیں کیا جاسکتا، اگر اس کی حیات اس دنیوی زندگی پر منحصر ہو جائے تو حکمت الٰہی کے ساتھ سازگار نہیں ہوسکتی، خاص طور سے اس بات کے پیش نظر کہ دنیاوی حیات بے شمار رنج و مصیبت اور سختیوں و پریشانیوں کے ہمراہ ہوتی ہے اور غالباً کوئی بھی لذت بغیر رنج و مصیبت اور زحمت کے حاصل نہیں ہوتی، اس طرح حساب لگانے والے افراد اس نتیجے پر پہنحے ہیں کہ محدود لذتوں کو حاصل کرنے کےلئے ان سب زحمتوں اور پریشانیوں کا برداشت کرنا مفید نہیں ہے۔

اور انہیں محاسبات کے ذریعے بے کاری اور بے مقصد زندگی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے یہاں تک بعض لوگ زندگی سے شدید محبت رکھنے کے باوجود خودکشی کی منزل تک پہنچ جاتے ہیں در حقیقت اگر انسان کی زندگی اس کے علاوہ نہ ہوتی کہ مسلسل زحمتیں برداشت کرے، اور طبیعی و اجتماعی مشکلات سے ہمیشہ دست و گریباں رہے تاکہ چند لمحہ لذت و خوشی کے ساتھ گذارے، اور اس وقت خستگی اور تھکاوٹ کے باعث سو جائے تاکہ جس وقت اس کا جسم دوبارہ محنت کرنے اور کام کےلئے آمادہ ہو جائے (نیا دن اور نئی روزی) تو پھر دوبا رہ سعی و کوشش کرے مثلاً ایک لقمہ رو ٹی حاصل کرلے۔

اور اسے کھا نے کے ذریعے ایک لمحے کی لذت محسوس کرے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں! ایسے تکلیف دہ اور رنج و ملال آور تسلسل کو عقل ہرگز پسند نہیں کرتی، اور نہ تو اس کے انتخاب کا حکم (فتویٰ) دیتی ہے، ایسی زندگی کی بہترین مثال یہ ہے کہ ایک ڈرائیور اپنی کار کو پٹرول پمپ تک لے جائے اور پٹرول کی ٹینکی کو بھرنے کے بعد اس پٹرول کو دوسرے پٹرول پمپ تک لے جانے میں صرف کردے۔

اور اس کام کو ہر بار انجام دیتا رہے یہاں تک کہ اس کی کار پرانی و بوسیدہ ہو جائے اور کام کرنا چھوڑ دے یا کسی اکسیڈنٹ یا دوسرے موانع کی وجہ سے تباہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کے متعلق ایسا نظریہ رکھنا بے مقصد بے ہدف ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

دوسری طرف انسان کی مہم اور بنیادی خواہشات میں سے ایک بقا اور جاویدانگی ہے کہ جسے خداوند عالم نے اس کی فطرت میں قرار دیا ہے اور ایک ایسے محرک اور قوت کے حکم میں ہے جو اسے ابدیت کی طرف لے جاتا ہے اور مسلسل اس کی رفتار میں اضافہ کرتا رہتا ہے ایسے موقع پر اگر یہ فرض کیا جائے کہ ایسے محرک اور تیز رفتاری سے چلنے وا لے کا انجام سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی رفتار کی انتہاء پر ایک مضبوط پتھر سے ٹکرا جائے اور پاش پاش ہوکر ختم ہو جائے آیا ایسے انجام اور مقصد کے پیش نظر قوت و سرعت و رفتار میں اضافہ کرنا مناسب ہوگا؟

لہذا ایسا فطری رجحان اس وقت حکمت الہٰی کے ساتھ سازگار ہوگا کہ جب اس فانی اور موت سے محکوم دنیا کے علاوہ کوئی اور زندگی پائی جائے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اپنی انہیں دو تمہیدوں کے بعد یعنی حکمت اور انسان کےلئے ابدی زندگی کے امکان سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس محدود دنیاوی زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی انسان کےلئے ہونی چاہیے تاکہ حکمت الہٰی کی مخالفت نہ ہو۔

اور جاودانی زندگی کی طرف رجحان کو ایک دوسرا مقدمہ قرار دیا جاسکتا ہے اور اس میں حکمت الہٰی کو ضمیمہ کرکے ایک دوسری دلیل بنا کر پیش کی جاسکتی ہے۔ اسی کے ضمن میں یہ بات بھی روشن ہوگئی ہے کہ انسان کی ابدی زندگی میں ایک دوسرا نظام ہونا چاہیے کہ جس میں دنیاوی حیات کی طرح رنج و مصیبت نہ پائی جائے ورنہ یہی دنیاوی زندگی اگر ہمیشہ کےلئے ممکن ہوجا تی، تب بھی حکمت خدا کے ساتھ سازگار نہ ہوتی۔

برہان عدالت

اس دنیا میں سارے انسان اچھے اور برے عمل کو انجام دینے میں آزاد ہیں ایک طرف تو وہ لوگ ہیں جو اپنی پوری زندگی خدا کی عبادت اور بندگان خدا کی خدمت میں گذار دیتے ہیں، اور دوسری طرف ایسے ایسے گناہ گار اور بدکردار افراد نظر آتے ہیں جو اپنی شیطانی خواہشات تک پہنچنے کےلئے بڑے سے بڑا ظلم اور بد سے بدتر گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔

اور بنیادی طور پر اس دنیا میں انسان کی خلقت کا مقصد اور اس کو مختلف متضاد رجحانات اور ارادہ و انتخاب سے اور مختلف عقلی و نقلی شناختوں سے مالا مال کردینے اور اس کی مختلف رفتا ر و کردار کےلئے موقع فراہم کرنے اور حق و باطل اور خیر و شر کے دو راہے پر لا کر کھڑا کر دینے کا مقصد و ہدف یہ ہے کہ انسان بے شمار امتحانات اور آزمائشوں سے گذرے، اور اپنے کمال کی راہ کو اپنے ارادہ و اختیار کے ذریعے انتخاب کرے۔

تاکہ اپنے اختیاری اعمال کی جزا یا سزا پا سکے اور در حقیقت انسان کےلئے اس دنیا کی پوری زندگی صرف امتحانات اور آزمائشیں اور اپنی شخصیت کو بنانا ہے یہاں تک کہ یہ انسان اپنی عمر کے آخری لمحے تک ان آزمائشات اور امتحانات اور تکلیف کے انجام دینے سے معذور نہیں ہے۔

لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا کے نیک بندے اور گناہ گار وظالم اس دنیا میں اپنے کئے کی جزا یا سزا نہیں پاتے اور بسا اوقات دیکھتے ہیں گناہ گار لوگ زیادہ نعمتوں سے سرفراز ہیں اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں، اور بنیادی اعتبار سے اس دنیاوی زندگی میں بہت سے ایسے اعمال ہیں جن کی جزا یا سزا کی گنجائش نہیں، مثلاً وہ شخص جس نے ہزاروں بے گناہ انسانوں کو قتل کردیا ہو اس کو ایک بار سے زیادہ قصاص نہیں کیا جاسکتا اور باقی تمام جرائم و فسادات اور سارے ظلم بغیر سزا کے رہ جائیں گے۔

حالانکہ عدل پروردگار کا تقاضہ یہ ہے کہ اگر کسی نے چھوٹے سے چھوٹا بھی اچھا یا برا کام کیا ہے تو اس کو اس کا نتیجہ ملنا چاہیے۔ پس جیسا کہ یہ دنیا آزمائش اور امتحان کا مقام ہے ویسے ایک دوسرا مقام ہونا چاہیے جہاں جزا اور سزا ملے اور انسان کے اعمال کا نتیجہ سامنے آئے اور ہر فرد اپنے مناسب مقامات تک پہنچ جائے، تاکہ خدا کی عدالت عینی طور سے محقق ہوجائے۔ اسی بیان کے ذیل میں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آخرت، انتخاب راہ اور تکلیف کوانجام دینے کی جگہ نہیں ہے۔

خاتمہ

برہان حکمت اور برہان عدالت کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ دنیا چونکہ ایک مقام امتحان اور آزمائش ہے جہاں اعمال کا مکمل نتیجہ اور خدا کا عدل پوری طرح محقق نہیں ہوتا۔ اس لئے انسانی زندگی کےلئے ایک دوسری زندگی، یعنی آخرت کا وجود ضروری ہے۔ آخرت ہی وہ جگہ ہے جہاں انسان اپنے انتخابی اعمال کی جزا یا سزا پا سکے گا اور خدا کا عدل اپنے تمام تر پہلوؤں کے ساتھ آشکار ہوگا۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

مصباح، محمد تقی، درس عقائد، مترجم: ضمیر حسین بہاولپوری، ص، ۲۳۷-۲۳۹، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1427ھ۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔