آپ(ص)کے اخلاق وکردار کا نمونہ یہ ھے کہ خاک پر بیٹھتے[۱۲۳] غلاموں کے ساتھ کھانا کھاتے اور بچوں کوسلام کرتے تھے ۔[۱۲۴]
ایک صحرانشین عورت آپ (ص) کے پاس سے گزری تو دیکھا آ پ (ص) خاک پر بیٹھے کھانا کھا رھے ھیں۔ ا س عورت نے کھا:اے محمد (ص)!تمھاری غذا غلاموں جیسی ھے اور بیٹھنے کا انداز بھی غلامو ں جیسا ھے۔ آپ (ص) نے فرمایا :مجھ سے بڑھ کر غلام کون هوگا۔[۱۲۵]
اپنے لباس کو اپنے ھاتھوں سے پیوند لگاتے[۱۲۶]،بھیڑ کا دودھ نکالتے [۱۲۷]اور غلام وآزاد دونوں کی دعوت قبول کرتے تھے ۔[۱۲۸]
اگر مدینہ کے آخری کونے میں بھی کوئی مریض هوتا اس کی عیادت کو جاتے ۔[۱۲۹]
فقراء کے ساتھ ھم نشینی فرماتے اور مساکین کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ جاتے ۔[۱۳۰]
آپ (ص) غلاموں کی طرح کھاتے اور غلاموں کی مانند بیٹھتے تھے۔[۱۳۱]
جو کوئی آپ (ص) سے ھاتھ ملاتا ،جب تک وہ خود نہ چھوڑتا آپ اپنا ھاتھ نھیں کھینچتے تھے ۔[۱۳۲]
جب کسی مجلس میں تشریف لاتے تو آنے والے جھاںتک بیٹھ چکے هوتے ان کے بعد بیٹھ جاتے[۱۳۳] اور کسی کی طرف ٹکٹکی باندھ کر نھیںدیکھتے ۔[۱۳۴]
پوری زندگی میں سوائے خدا کی خاطر کسی پر غضب نہ کیا ۔[۱۳۵]
ایک عورت آنحضرت (ص) کے ساتھ گفتگو کر رھی تھی ،بات کرتے وقت اس کے بدن پر کپکپی طاری هوگئی تو آپ نے فرمایا :آرام واطمینان سے بات کرو، میں کوئی بادشاہ نھیں ہوں، میں اس عورت کا بیٹا هوں جو سوکھا گوشت کھایا کرتا تھی۔[۱۳۶]
انس ابن مالک نے کھا: میں نو سال آنحضرت (ص) کی خدمت میں تھا آپ (ص) نے کبھی نہ کھا :”ایسا کام کیوں کیا؟“ اور کبھی عیب جوئی نہ فرمائی۔[۱۳۷]
ایک دن مسجد میں تشریف فرما تھے، انصار کے بچوں میں سے ایک بچی نے آکر آپ (ص) کے لباس کا ایک کونا پکڑا ۔آپ (ص) اس کی حاجت روائی کے لئے اٹھے، لیکن نہ تو اس بچی نے کچھ کھا اور نہ آپ (ص) نے پوچھا کہ تمھیںکیا چاھیے ؟یھاں تک کہ یہ عمل چار مرتبہ تکرار هوا۔چوتھی مرتبہ اس نے حضرت (ص)کے لباس سے دھاگہ توڑ لیا اور چلی گئی۔اس بچی سے پوچھا گیا: یہ تم نے کیا کام کیا؟
اس بچی نے کھا: ھمارے یھاں ایک شخص مریض ھے۔مجھے بھیجا گیا کہ میں اس کی شفا کے لئے آنحضرت (ص) کے لباس سے دھاگہ توڑ کر آؤں ۔جب بھی میں دھاگہ لینا چاہتی تھی میں دیکھتی تھی کہ آنحضرت (ص) مجھے دیکھ رھے ھیں اور اجازت لینے میں مجھے شرم آتی تھی، یھاں تک کہ چوتھی بار دھاگہ نکالنے میں کامیاب هوگئی۔[۱۳۸]
احترامِ انسان کے سلسلے میں، یہ واقعہ آنحضرت (ص)کی خاص توجہ کی نشاندھی کرتا ھے،کیونکہ اپنی فراست سے بچی کی حاجت اور سوال سے کراہت کو سمجھ کر اس کی حاجت روائی کے لئے چار مرتبہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے هوئے، لیکن یہ نہ پوچھاکہ اسے کیا چاہئے، تاکہ اس کےلئے ذھنی پریشانی وذلتِ سوال کا باعث نہ هو۔
اس باریکی اوردقت نظری سے بچی کی حرمت وعزت کا پاس رکھنے والے کی نظر مبارک میں بڑوں کے مقام ومنزلت کی کیا حد هوگی ۔
جن دنوں یہودی،کافر ذمی کے عنوان سے اسلام کے زیر سایہ زندگی بسر کررھے تھے اور آنحضرت (ص) کا اقتدار اپنے عروج پر تھا۔ ایک یہودی کے چند دینار آپ (ص) پر قرض تھے ۔جب اس یہودی نے واپسی کا مطالبہ کیا،آپ(ص)نے فرمایا: ”اس وقت میرے پاس تمھیں دینے کو کچھ نھیں ھے۔“
یہودی نے کھا:” میں اپنے دینار لئے بغیر آپ (ص) کو بالکل نھیں چھوڑوں گا ۔“
فرمایا:”اچھا میں تمھارے پاس بیٹھا هوں۔ “ ظھر ،عصر ،مغرب ، عشاء اور صبح کی نماز وھیں ادا کی، صحابہ نے اس یہودی کو دھمکی دی، تو آپ (ص) نے فرمایا:”اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رھے هو ؟“
اصحاب نے کھا :”یا رسول اللہ (ص)! اس یہودی کی یہ جراٴت کہ آ پ (ص) کو محبوس کرے؟“
فرمایا:”پروردگا ر عالم نے مجھے اس لئے مبعوث نھیں کیا کہ ظلم کروں“ ۔جیسے ھی دن چڑھا اس یہودی نے کھا:”اشھد ان لا الہ اللہ واشھد ان محمداًعبدہ ورسولہ، میں اپنے مال کا ایک حصہ خدا کی راہ میں دیتا هوں ،خدا کی قسم! میں نے آپ (ص)کے ساتھ ایسا سلوک صرف اس لئے کیا تاکہ تورات میں آپ سے متعلق درج شدہ صفات کو عملی طور پر آپ (ص)میں دیکھ سکوں۔“[۱۳۹]
عقبہ بن علقمہ کہتا ھے:میں علی (ع) کی خدمت میں حاضر هوا، آپ(ع) کے سامنے سوکھی روٹی رکھی تھی، پوچھا:اے امیرالمومنین (ع) ! کیا آ پ (ع) کی غذا یھی ھے ؟
فرمایا: رسول خدا(ص) کی روٹی اس سے زیادہ خشک اور لباس میرے لباس سے زیادہ کھردرا تھا۔اگر میں آنحضرت (ص) کی طرح زندگی بسر نہ کروں تو مجھے ڈر ھے کھیں ایسا نہ هو کہ آپ (ص) سے ملحق نہ هوسکوں۔“[۱۴۰]
جب امام زین العابدین علی ابن الحسین (ع)سے پوچھا گیا کہ آ پ(ع) کی عبادت کو امیرالمومنین(ع)کی عبادت سے کیا نسبت ھے ؟آ پ (ع) نے فرمایا: ”میری عبادت کو میرے جد کی عبادت سے وھی نسبت حاصل ھے جو میرے جد کی عبادت کو رسول خدا (ص) کی عبادت سے نسبت تھی۔“[۱۴۱]
زندگی کے آخری لمحات میں بھی اپنے قاتل سے درگزر کرتے هوئے صفاتِ الٰھی کواپنانے کا ایسا نمونہ پیش کیا جو خدا کی رحمت رحمانیہ کے ظہور کا عملی نمونہ ھے ۔[۱۴۲]<وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ رَحْمَةً لِّلْعَالَمِیْنَ>[143]اور فقط اسی کو یہ کھنے کا حق ھے کہ((إنما بعثت لاٴتمم مکارم الاٴخلاق))[۱۴۴]
ایسی شخصیت کے اخلاقی فضائل کی شرح کھاں ممکن ھے جس کے بارے میں خداوند عظیم نے یہ فرمایا هوکہ <وَإِنَّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ >[145]
آپ (ص) کی زندگی سے اخلاق وکردار کا مطالعہ وتحقیق، ھر باانصاف شخص کے لئے آپ (ص) کی نبوت پر ایمان کے لئے کافی ھے <یَا اٴَیُّھَا النَّبِیُّ إِنَّا اٴَرْسَلْنَاکَ شَاھِداً وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاخ وَّدَاعِیاً إِلیَ اللّٰہِ بِإِذْنِہ وَسِرَاجاً مُّنِیْرًا>[146]
حواله جات
[۱۲۳] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۲۔
[۱۲۴] بحار الانوار ج۱۶
[۱۲۵] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۵۔
[۱۲۶] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۷۔
[۱۲۷] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۷۔
[۱۲۸] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۷۔
[۱۲۹] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۸۔
[۱۳۰] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۸۔
[۱۳۱] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۵۔
[۱۳۲] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۸۔
[۱۳۳] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۸۔(پوری عمر میں خدا کے علاہ کسی اور چیز کے خاطر غضب ناک نھیں هوا)
[۱۳۴] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۷۔
[۱۳۵] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۷۔
[۱۳۶] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۲۹۔
[۱۳۷] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۳۰۔
[۱۳۸] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۶۴۔
[۱۳۹] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۱۶۔
[۱۴۰] بحار الانوار ج۴۰ ص ۳۳۱۔
[۱۴۱] بحار الانوار ج۴۱ ص ۱۴۹۔
[۱۴۲] اصول کافی ج۲ ص۱۰۸ کتاب الایمان والکفر باب العفو ح نمبر۹۔
[۱۴۳] سورہ انبیاء ، آیت ۱۰۷ ۔” نھیں بھیجا تم کو مگر عالمین کے لئے رحمت بنا کر“۔
[۱۴۴] بحار الانوار ج۱۶ ص۲۱۰۔(میں مبعوث هوا هوں تاکہ اخلاق کو پایہ ٴ تکمیل تک پہونچا سکوں)
[۱۴۵] سورہ قلم ، آیت ۴۔”یقینا اے محمد ! آپ خلق عظیم پر فائز ھیں“
[۱۴۶] سورہ احزاب ، آیت ۴۵،۴۶۔”اے پیغمبر ! ھم نے تم کو لوگوں پر گواہ، بشارت دھندہ اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ھے اللہ کے اذن سے اس کی طرف دعوت دینے والا ، اور روشن چراغ بنا کر بھیجا ھے“۔