بنی عباس کے دور حکومت میں شیعوں کی کثرت کے اسباب

بنی عباس کے دور حکومت میں شیعوں کی کثرت کے اسباب

کپی کردن لینک

بنی عباس کے دور میں شیعیت کا پھیل جانا کئی تاریخی اور سماجی عوامل کا نتیجہ تھا۔ بنی عباس نے ابتدا میں اہل بیت (ع) کی حمایت کا دعویٰ کیا، لیکن بعد میں ان کے خلاف سخت رویہ اپنایا۔ اس دور میں ہاشمی اور علوی عناصر کا اتحاد، بنی امیہ کے زوال کے بعد شیعہ نظریات کی ترویج اور علویوں کی ہجرت جیسے عوامل نے تشیع کو مزید مستحکم کیا۔ بنی عباس کی حکومت کے آغاز میں شیعوں کو آزادی ملی، لیکن جلد ہی ان پر دباؤ بڑھا دیا گیا۔

شیعیت بنی عباس کے دور میں روز بروز بڑھتی گئی اس مسئلہ کے کچھ عوامل واسباب ہیں کہ ان میں سے بعض کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں:

 (١) ہاشمی اور علوی بنی امیہ کے زمانے میں

بنی امیہ کے دور میں ہاشمی چاہے علوی ہوں یا عباسی متحد تھے اور ہشام کے زمانے سے بنی عباس کی تبلیغ شروع ہوگئی تھی وہ زید اور ان کے فرزند یحییٰ کے قیام کے ساتھ ہم آہنگی رکھتے تھے، انہوں نے تشیع کی بنیاد پر اپنے کام کا آغاز کر دیا تھا جیسا کہ ابو الفرج اصفہانی کا بیان ہے:

جس وقت اموی خلیفہ ولید بن یزید قتل ہوا اور مروانیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوگیا تو بنی ہاشم کے مبلغین مختلف علاقے میں ہجرت کر گئے اور سب سے پہلے جس چیز کا اظہار کیا وہ حضرت علی (ع) کی افضلیت اور ان کے فرزندوں کی مظلومیت تھی۔

منصور عباسی جو حدیث غدیر کے راویوں میں سے ایک تھا[1] جس وقت بنی عباس کے سپاہیوں نے علویوں کے مقابلہ میں ان کی سیاست کو دیکھا تو اس کو قبول نہیں کیا اور ان کا بنی عباس کے ساتھ اختلاف پیدا ہوگیا، ابوسلمہ خلال جو عراق میں بنی عباس کی جانب لوگوں کو دعوت دینے والا تھا،[2]علویوں کی طرف میلان کی وجہ سے بنی عباس کے ہاتھوں قتل ہوگیا۔

ابراہیم کی موت کے بعد ابو سلمہ (خلال کہ جو عراقیوں کو بنی عباس کی جانب سے دعوت دینے والا تھا اور بعد میں سفاح کا وزیر بھی بنا) بنی عباس سے منصرف ہو گیا اور سادات علوی میں سے جعفر بن محمد الصادق، عبد اللہ بن حسن بن حسن بن علی اور عمر الاشرف بن زید العابدین کے پاس خط لکھا اور اپنے نامہ بر سے کہا:

سب سے پہلے جعفر بن محمد کے پاس جانا اگر وہ قبول کرلیں تو بقیہ دونوں خطوط کے لے جانے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر وہ قبول نہ کریں تو عبد اللہ محض کے پاس جانا اور اگر وہ بھی قبول نہ کریں تب عمر الاشرف کے پاس جانا۔ نامہ بر سب سے پہلے امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوا، نامہ دیا امام نے فرمایا: ابو سلمہ دوسروں کا محب اور چاہنے والا ہے مجھے اس سے کیا کام، نامہ بر نے کہا:

خط تو پڑھ لیجئے امام نے خادم سے چراغ منگوایا اور خط کو جلا دیا، نامہ بر نے کہا: جواب نہیں دیجیے گا؟ امام نے فرمایا: جواب یہی ہے جو تم نے دیکھا ہے۔ ابو سلمہ کا نمایندہ عبد اللہ بن حسن کے پاس گیا اور خط دیا عبد اللہ نے جیسے ہی خط پڑھا خط کو بوسہ دیا۔ فوراً امام صادق کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یہ ہمارے چاہنے والے شیعہ ابو سلمہ کا خط ہے، خراسان میں مجھے خلافت کی دعوت دی ہے۔ امام نے فرمایا:

خراسان کے لوگ کب سے تمہارے چاہنے والے ہو گئے ہیں۔ کیا ابو مسلم کو تم نے ان کی جانب روانہ کیا ہے؟ کیا تم ان میں سے کسی کو پہچانتے ہو؟ تم نہ انہیں جانتے ہو اور نہ وہ تمہیں جانتے ہیں تو پھر وہ کیسے تمہارے چاہنے والے ہیں؟! عبد اللہ نے کہا: آپ کی باتوں سے ایسا لگتا ہے کہ آپ ان ساری باتوں سے واقف ہیں، امام نے فرمایا:

خدا جانتا ہے میں ہر مسلمان کی بھلائی چاہتا ہوں۔ تمہاری بھلائی کیوں نہ چاہوں، اے عبد اللہ! ان باطل آرزوؤں کو چھوڑ دو اور اس بات کو جان لو! کہ یہ حکومت بنی عباس کی ہے ایسا ہی خط میرے پاس بھی آچکا ہے، عبد اللہ وہاں سے ناراض ہو کر واپس آگئے عمر بن زید العابدین نے بھی ابو سلمہ کے خط کو رد کر دیا اور کہا: میں خط بھیجنے والے کو نہیں جانتا کہ جواب دوں[3]

اگرچہ یہ شخص عقیدہ کے اعتبار سے شیعہ نہیں تھا مگر خاندان پیغمبر (ص) سے جواس کو لگاؤ تھا اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا، خاص کر قبیلۂ حمدان سے اور کوفہ کا رہنے والا تھا۔[4] قحطانی قبائل کے درمیان قبیلۂ حمدان تشیع میں سب سے آگے تھا۔ چنانچہ سید محسن امین نے اس کو وزراء شیعہ میں شمار کیا ہے۔[5]

یہاں تک کہ شروع میں خود بنی عباس نے بھی ذریت پیغمبر (ص) کی محبت سے انکار نہیں کیا ہے جیسا کہ لکھا ہے: جس وقت بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کا سر ابو العباس سفاح کے سامنے لایا گیا تو وہ طولانی سجدہ بجا لایا اور اس نے سر کو اٹھا کر کہا:

حمد اس خدا کی جس نے مجھے تیرے اوپر کامیابی عطا کی، اب مجھے اس بات کاغم نہیں ہے کہ میں مرجاؤں۔ کیونکہ میں نے حسین (ع) اور ان کے بھائی اور دوستوں کے مقابلہ میں بنی امیہ کے دو سو افراد کو قتل کردیا، اپنے چچا کے بیٹے زید بن علی کے بدلے میں ہشام کی ہڈیوں کو جلا دیا اور اپنے بھائی ابراہیم کے بدلے میں مروان کو قتل کر دیا۔[6]

جب بنی عباس کی حکومت مضبوط و مستحکم ہو گئی تو ان کے نیز خاندان پیغمبر (ص) اور شیعوں کے درمیان فاصلہ ہو گیا، منصور عباسی کے زمانے سے بنی عباس نے پیغمبر (ص) کی ذریت کے ساتھ بنی امیہ کی روش اختیا ر کی، بلکہ خاندان پیغمبر (ص) سے دشمنی میں بنی امیہ سے بھی آگے بڑھ گئے۔

(٢) بنی امیہ کا خاتمہ اور بنی عباس کا آغاز

اموی دور حکومت کے ختم ہونے اور بنی عباس کی حکومت آنے کے بعد اور ان کے درمیان جنگ و جدال کی وجہ سے امام باقر (ع) و امام صادق (ع) کو فرصت مل گئی۔ انہوں نے تشیع کے مبانی کو پہچنوانے میں غیر معمولی فعالیت و سرگرمی انجام دیں، خاص طور پر امام صادق (ع) نے مختلف شعبوں اور مختلف علوم میں بہت سے شاگردوں کی تر بیت کی۔

ممتاز دانشور جیسے ہشام بن حکم، محمد بن مسلم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم، مومن طاق، مفضل بن عمر، جابر بن حیان وغیرہ نے حضرت کے محضر میں تربیت پائی تھی۔ شیخ مفید کے قول کے مطابق ان کے موثقین (معتمدین) کی تعداد چار ہزار تھی۔[7]

مختلف اسلامی سر زمین کے لوگ امام (ع) کے پاس آتے تھے اور امام (ع) سے فیض حاصل کرتے تھے اور اپنے شبہات کو برطرف کرتے تھے، حضرت (ع) کے شاگرد مختلف مناطق اور شہروں میں پھیلے ہوئے تھے، فطری بات ہے کہ یہ لوگ مختلف مناطق میں تشیع کے پھیلانے کا سبب بنے۔

(٣) علویوں کی ہجرت

بنی عباس کے دور میں تشیع کے پھیلنے کے سلسلہ میں، سادات اور علویوں کا مختلف مقامات پر ہجرت کرجانا بھی ایک اہم سبب بنا، ان میں اکثر تشیع نظریات کے حامل تھے اگرچہ ان میں سے کچھ زیدی مسلک کی طرف چلے گئے۔ یہاں تک کہ بعض منابع کے نقل کے مطابق سادات کے درمیان ناصبی بھی موجود تھے۔[8]

یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ سادات میں سے اکثر شیعہ تھے اور شیعہ مخالف حکومت کے ذریعہ ان پر جو مصیبتیں پڑیں ان کی وجہ بھی واضح ہے، اکثر اسلامی سرزمینوں میں سادات تھے، ماوراء النہر اور ہندوستان سے لے کر افریقہ تک پھیلے ہوئے تھے۔

اگرچہ یہ ہجرت حجاج کے زمانے سے شروع ہو گئی تھی، بنی عباس کے زمانے میں علویوں کی طرف سے جو قیام ہوا ان میں سے زیادہ تر میں شکست ہوئی اور بہت نقصان ہوا، شمال ایران، گیلان، مازندران نیز خراسان کے پہاڑی اور دور افتادہ علاقہ علویوں کے لئے امن کی جگہ شمار ہوتے تھے۔

سب سے پہلی بار ہارون رشید کے زمانے میں یحییٰ بن عبد اللہ حسنی مازندران کی طرف گئے کہ جو اس زمانے میں طبرستان کے نام سے مشہور تھا، جب انہوں نے قدرت حاصل کرلی اور ان کے کام میں کافی ترقی پیدا ہوگئی تو ہارون نے اپنے وزیر فضل بن یحییٰ کے ذریعہ امان نامہ لکھ کر صلح کے لئے وادار کیا۔[9]

اس کے بعد وہاں کافی تعداد میں علوی آباد ہوگئے اور روز بروز شیعیت کو فروغ ملتا گیا اور وہاں کے لوگوں نے پہلی بار علویوں کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور تیسری صدی ہجری کے دوسرے حصہ میں علویوں کی حکومت طبرستان میں حسن بن زید علوی کے ذریعہ تشکیل پائی۔

اس زمانے میں سادات کے لئے یہ جگہ مناسب سمجھی جاتی تھی، جیسا کہ ابن اسفندیار کا بیان ہے کہ اس موقع پر درخت کے پتوں کے مانند علوی سادات اور بنی ہاشم حجاز نیز اطراف عراق و شام سے ان کی خدمت میں جمع ہوگئے سبھی کو عزت و شرف سے بہت بہت نوازا اور ایسا ہو گیا تھا کہ جب وہ کہیں جانا چاہتا تھا تین سو شمشیر بکف علوی اس کے اردگرد صف بستہ ہوتے تھے۔[10]

جس وقت امام رضا (ع) مامون کے ذریعہ ولایت عہدی کے منصب پر پہنچے، حضرت (ع) کے بھائی اور ان کے قریبی افراد ایران کی طرف روانہ ہوئے جیسا کہ مرعشی نے لکھا ہے: سادات نے ولایت کی آواز اور اس عہدنامہ پر کہ جو مامون کی طرف سے آنحضرت کی امامت کا پروانہ تھا اس طرف رخ کیا۔

آنحضرت کے اکیس دوسرے بھائی تھے۔ یہ تمام بھائی اور چچازاد بھائی حسنی اور حسینی سادات میں سے تھے جہوں نے ری اور عراق میں حکومت کی، جب سادات نے یہ سنا کہ مامون نے حضرت امام رضا (ع) سے غداری کی ہے تو انہوں نے کوہستان دیلمستان اور طبرستان میں جاکر پناہ لی اور بعض لوگ وہیں شہید ہوگئے۔ ان کی قبریں اور مزار مشہور ہیں۔ وہ سب کے سب شیعہ تھے اور اولاد رسول (ص) سے حُسن عقیدت رکھتے تھے اور سادات کے لئے وہاں قیام کرنا آسان تھا۔[11]

شہید فخ کے قیام کی شکست کے بعد ہادی عباسی کے دور خلافت میں حسین بن علی حسنی، ادریس بن عبد اللہ محمد نفس زکیہ کا بھائی افریقہ گئے تو وہاں پر لوگ ان کے اطراف میں جمع ہوگئے اور انہوں نے حکومت ادریسیان کی مغرب میں بنیاد ڈالی۔

چند روز نہیں گزرے تھے کہ خلافت کے کارندوں کے ذریعہ انہیں زہر دیا گیا، لیکن ان کے بیٹوں نے وہاں پر تقریباً ایک صدی حکومت کی۔[12] اس طرح سادات نے اس طرف کا رخ کیا۔

اسی وجہ سے متوکل عباسی نے ایک نامہ مصر کے حاکم کو لکھا کہ سادات علوی میں مردوں کو تیس دینار اور عورتوں کو پندرہ دینار کے بدلے نکال باہر کرے۔ لہذا یہ لوگ عراق منتقل ہوگئے اور وہاں سے مدینہ بھیج دئے گئے۔[13]

منتصر نے بھی مصر کے حاکم کو لکھا کہ کوئی بھی علوی صاحب ملکیت نہ ہونے پائے اور گھوڑے پر سوار نہ ہو۔ نیز پائے تخت سے کسی دوسرے علاقہ میں کوچ نہ کرنے پائے اور ایک غلام سے زیادہ رکھنے کا انہیں حق حاصل نہ ہو۔[14]

علویوں نے تیزی سے لوگوں کے درمیان خاص مقام پیدا کر لیا اس حد تک کہ حکومت سے مقابلہ کر سکیں جیسا کہ مسعودی نقل کرتا ہے:

٢٧٠ھ کے آس پاس طالبیوں میں سے ایک شخص بنام احمد بن عبد اللہ نے مصر کے منطقہ صعید میں قیام کیا لیکن آخر میں احمد بن طولان کے ہاتھوں شکست کھائی اور قتل ہوگیا۔[15]

یہی وجہ ہے کہ بنی عباس کے دور خلافت میں ان کے اہم ترین رقیب اور دشمن علوی شمار ہوتے تھے۔ ٢٨٤ھ میں معتضد خلیفۂ عباسی نے ارادہ کیا کہ یہ دستور صادر کرے کہ منبر پر معاویہ کو نفرین (لعنت) کی جائے اور اس بارے میں اس نے حکم لکھا لیکن اس کے وزیر نے ہنگامہ ہونے سے ڈرایا، معتضد نے کہا:

میں ان کے درمیان شمشیر سے کام لوں گا۔ وزیر نے جواب دیا: اس وقت ان طالبیان کے ساتھ کیا کرے گا جو ہر طرف سے نکل رہے ہیں اور خاندان پیغمبر (ص) سے دوستی کی بنا پرلوگ ان کے حامی ہیں، یہ تیرا فرمان ان کے لئے لائق ستائش اور قابل قبول ہوگا اور جیسے ہی لوگ سنیں گے ان کے طرفداراور حامی ہو جائیں گے۔[16]

علوی جس منطقہ میں بھی رہتے تھے مورد احترام تھے۔ اسی وجہ سے لوگ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد ان کی قبروں پر مزار اور روضے تعمیر کرتے تھے اور ان کی زندگی میں ان کے اطراف جمع ہوتے تھے۔ جس وقت محمد بن قاسم علوی معتصم کے دور میں خراسان تشریف لے گئے، مختصر سی مدت میں چالیس ہزار افراد اس کے اطراف جمع ہوگئے اور ان کو ایک مضبوط قلعہ میں جگہ دی۔[17]

چونکہ ایک طرف علوی پاک دامن اور پرہیز گار افراد تھے جب کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے حاکموں کا فسق و فجور لوگوں پر روشن تھا دوسری طرف ان کی مظلومیت نے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنالی تھی جیسا کہ مسعودی نے نقل کیا ہے: جس سال یحییٰ بن زید شہید ہوئے اس سال خراسان میں جو بھی بچہ پیدا ہوا اس کا نام یحییٰ یا زید رکھا گیا۔[18]

سادات کے مختلف اسلامی علاقے میں ہجرت کرنے اور پھیلنے کے تین اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں:

الف- علویوں کے قیام کی شکست

جنگوں میں شکست کھانے کی وجہ سے ان کے لئے عراق اور حجاز میں زندگی بسر کرنا مشکل ہوگیا تھا جو اس وقت مرکز خلافت بغداد کے کنٹرول میں تھا لہٰذا وہ مجبور ہوئے کہ دور دراز کے علاقوں میں ہجرت کرجائیں اور اپنی جان بچائیں جیسا کہ محمد نفس زکیہ کے بھائیوں کے منتشر کے بارے میں مسعودی کا کہنا ہے:

حمد نفس زکیہ کے بھائی اور بیٹے مختلف شہروں میں منتشر گئے اور لوگوں کو ان کی رہبری کی طرف دعوت دی ان کا بیٹا علی بن محمد مصر گیا اور وہاں قتل کر دیا گیا ان کا دوسرا بیٹا عبداللہ خراسان گیا اور وہاں سے سندھ کی طرف کوچ کیا اور سندھ میں اسے قتل کر دیا گیا۔

ان کا تیسرا بیٹا حسن یمن پہونچا، زندان میں ڈال دیا گیا اور وہیں دنیا سے چل بسا، ان کے ایک بھائی موسیٰ جزیرہ گئے او ر ایک بھائی یحییٰ ری اور وہاں سے طبرستان تشریف لے گئے نیز ایک دوسرے بھائی ادریس مغرب کی طرف روانہ ہوئے تولوگ ان کے اطراف جمع ہونا شروع ہو گئے۔[19]

ب- حکومتی دباؤ

حجاز و عراق کے علاقہ جو مر کز حکومت سے نزدیک تھے جس کی وجہ سے یہاں کے علوی افراد ہمیشہ حکومت کے فشار میں تھے۔ مسعودی کے بقول محمد بن قاسم کا کوفہ سے خراسان کی جانب کوچ کرنا معتصم عباسی کے دباؤ کی وجہ سے تھا۔[20]

ج- مناسب موقع کا فراہم ہونا

علویوں کی ہجرت کے اسباب میں سے ایک سبب قم اور طبرستان کے علاقے میں ان کے لئے اجتماعی لحاظ سے بہترین موقعیت کا پایا جانا ہے۔

 

خاتمہ

بنی عباس کے دور میں شیعوں کی کثرت کئی وجوہات کی بنا پر ہوئی، جن میں سادات کی ہجرت، علمی سرگرمیاں، اور سیاسی حالات شامل تھے۔ ابتدا میں بنی عباس نے اہل بیت (ع) کی حمایت کو اپنی حکومت کے لیے استعمال کیا، لیکن بعد میں وہی بنی عباس علویوں کے سخت دشمن بن گئے۔ اس دور میں شیعہ قیادت نے فکری اور تعلیمی میدان میں اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں تشیع کی بنیادیں مضبوط ہوئیں۔

 

حوالہ جات

[1]۔ ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٢٠٧۔

[2]۔ خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج١٢، ص ٣٤٠۔

[3]۔ مسعودی، مروج الذہب ج٤، ص٢٨٠۔

[4]۔ امین، اعیان الشیعہ، ج١، ص١٩٠۔

[5]۔ امین، اعیان الشیعہ، ج١، ص١٩٠۔

[6]۔ مسعودی مروج الذھب، ص٣٨٣۔٢٨٤۔

[7]۔ شیخ مفید، الارشاد، ص٥٢٥۔

[8]۔ ابن عنبہ، عمدة الطالب، ص٧١، ٢٢٠۔٢٥٣۔

[9]۔ ابوالفرج اصفہانی، ص٣٨٩۔٣٩٥۔

[10]۔ مرعشی، تاریخ طبرستان و رویان و مازندران، ص٢٩٠۔

[11]۔ مرعشی، تاریخ طبرستان و رویان و مازندران، ٢٧٧ و٢٧٨۔

[12]۔ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، ص٤٠٦، ٤٠٩۔

[13]۔ الکندی، الولاة والقضاة، ص١٩٨

[14]۔ الکندی، الولاة والقضاة، ص٢٠٣۔ ٢٠٤

[15]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٤، ص٣٢٦۔

[16]۔ طبری، تاریخ طبری، ج۱، ص٦٢٠۔٦٢٥۔

[17]۔ مسعودی، مروج الذھب، ص٦٠۔

[18]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٣، ص٢٣٦

[19]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٣، ص٢٣٦۔

[20]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٣، ص٢٣٦۔

 

کتابیات

۱۔ ابن عنبہ، احمد بن علی بن حسین حسینی، عُمْدَةُ ألطّالِب فی أنْسابِ آلِ أبی‌طالب، نجف، مطبعة الحیدریہ، ۱۳۸۰ق۔

۲۔ ابو الفرج اصفہانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبین، قم، منشورات شریف رضی، ۱۴۱۶ھ۔

۳۔ امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۲۱ق۔

۴۔ خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ھ۔

۵۔ شیخ مفید، محمد بن محمد، اَلْإرْشاد فی مَعْرفةِ حُجَجِ الله عَلَی الْعِباد، تہران، کتاب فروشی اسلامیہ، ۱۳۶۷ش۔

۶۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخُ الرُسُلِ و الاُمَمِ و المُلوک (تاریخ طبری)، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۸ھ۔

۷۔ کندی، أبو عمر محمد بن یوسف، الولاة والقضاۃ، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۴ھ۔

۸۔ مرعشی، محمد بن حسن، تاریخ طبرستان و رویان و مازندران، تہران، نشتر گسترہ، ۱۳۶۳ش۔

۹۔ مسعودی، علی بن حسین، مُروجُ الذَّهَب و مَعادنُ الجَوهَر، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۱ھ۔

 

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔