شيعه مذهب کا آغاز(پهلا حصه)

شيعہ مذہب کا آغاز (پہلا حصہ)

2023-12-05

586 مشاہدات

کپی کردن لینک

تاریخی اعتبار سے شیعہ مذہب کے ماننے والے کو سب سے پہلے حضرت علی (علیہ السلام) کا شیعہ یا پیروکار کہا گیا ہے۔ مذہب شیعہ کی پیدائش یا آغاز کا زمانہ وہ دور ہے جب پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس دنیا میں موجود تھے۔ پیغمبر اکرم کی ولادت سے لے کر ۲۳ سالہ زمانۂ بعثت تک، اور تحریک اسلام کی ترقی کے دوران، بہت سے ایسے اسباب و واقعات رونما ہوئے جن کے نتیجے میں خود رسول خدا (ص) کے اصحاب میں ایک ایسی جماعت کا پیدا ہونا ناگزیر اور لازمی ہو گیا تھا۔ مندرجہ ذیل امور اس امر کی توثیق کرتے ہیں۔(1)

1- رسول خدا کو اپنی بعثت کے اوائل میں ہی قرآن مجید کی آیت کے مطابق حکم ملا کہ اپنے خویش و اقارب کو اپنے دین کی طرف بلائیں۔ لہٰذا آپ نے واضح طور پر فرمایا کہ جو شخص تم میں سب سے پہلے میری دعوت کو قبول کرے گا، وہی میرا وصی، وزیر اور جانشین ہوگا۔ حضرت علی (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پیغمبر اکرم (ص) نے بھی ان کے ایمان کو تسلیم کر لیا اور اپنے وعدے کو پورا کیا۔

فطری طور پر یہ بات محال ہے کہ ایک تحریک کا قائد و رہبر اپنی تحریک کے آغاز میں اپنے قرابت داروں یا دوستوں میں سے کسی ایک شخص کو وزیر، جانشین یا نائب کے طور پر دوسروں کے سامنے پیش کرے، لیکن اپنے فداکار اور جان نثار اصحاب اور دوستوں سے اس کا تعارف نہ کرائے، یا اس کی وزارت و جانشینی کو صرف خود تسلیم کرے اور دوسروں سے بھی قبول کرائے، لیکن اپنی دعوت و تحریک کے پورے عرصے میں اسے وزارت اور جانشینی کے فرائض سے معزول رکھے، اور اس کی جانشینی کو نظرانداز کرتے ہوئے اس کے اور دوسروں کے درمیان فرق قائم رکھے۔

2- پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کئی مستفیض اور متواتر روایات کے ذریعے، جو شیعہ اور سنی دونوں ذرائع سے ہمیں پہنچیں، واضح طور پر فرمایا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) اپنے قول و فعل میں خطا اور گناہ سے پاک ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں یا جو کام بھی انجام دیتے ہیں، وہ دین اسلام کی دعوت و تبلیغ کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ نیز، وہ اسلامی معارف کے بارے میں سب سے زیادہ جانکاری رکھتے ہیں۔

3- حضرت علی (علیہ السلام) نے بے شمار خدمات انجام دیں اور بے پناہ فداکاریاں کیں۔ مثال کے طور پر، ہجرت کی رات دشمنوں کے نرغے میں پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بستر مبارک پر سوئے۔ بدر، احد، خندق اور خیبر کی جنگوں میں اسلام کو حاصل ہونے والی فتوحات بھی انہی کے ایثار کا نتیجہ تھیں۔ اگر ان میں سے کسی معرکے میں بھی حضرت علی (علیہ السلام) موجود نہ ہوتے، تو دشمنان حق کے ہاتھوں اسلام اور اہل اسلام کی بنیادیں ہل جاتی۔(2)

4- غدیر خم کا واقعہ، جس میں پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کو اپنے جانشین کے طور پر مسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور انہیں اپنا وصی بنایا۔(3)

ظاہر ہے کہ ان خصوصی امتیازات اور فضائل (4) کے علاوہ، جو سب افراد کے لیے قابل قبول تھے، حضرت علی (علیہ السلام) کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بے پناہ محبت (5) نے فطری طور پر رسول خدا (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک بڑی تعداد کو ان کی فضیلت اور حقیقت کا شیفتہ بنا دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کو منتخب کیا، ان کے گرد جمع ہو گئے، اور ان کی پیروی و اطاعت شروع کر دی۔ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اس پسندیدگی کی وجہ سے آپ سے حسد کرنا شروع کر دیا اور آپ کے دشمن بن گئے۔

شیعہ اقلیت اور سنی اکثریت کے درمیان جدائی اور اختلافات کے اسباب

رسول پاک (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم)، صحابۂ کرام اور تمام مسلمانوں کی نظر میں حضرت علی (علیہ السلام) کی قدر و منزلت کے باعث آپ کے پیروکاروں کو یقین تھا کہ آنحضرت (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحلت کے بعد خلافت اور رہبری حضرت علی (علیہ السلام) کا مسلمہ حق ہے۔ اس کے علاوہ تمام شواہد و حالات بھی اس عقیدے کی تصریح کرتے تھے، سوائے ان واقعات کے جو پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیماری کے زمانے میں رونما ہوئے۔(6)

لیکن ان لوگوں کی توقعات کے بالکل برعکس، بالکل اسی وقت جب پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے رحلت فرمائی اور ابھی آپ کی تجہیز و تکفین بھی نہیں ہوئی تھی، اور اہل بیت (علیہم السلام) اور بعض اصحاب کفن و دفن کے انتظامات کر رہے تھے، خبر ملی کہ ایک جماعت نے، جو بعد میں اکثریت کی حامل ہوئی، نہایت جلد بازی میں، پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اہل و عیال، رشتہ داروں اور پیروکاروں سے مشورہ کیے بغیر، حتیٰ کہ انہیں اطلاع دیے بغیر، ظاہری خیرخواہی اور مسلمانوں کی بھلائی کے بہانے، مسلمانوں کے لیے خلیفہ کا انتخاب کر لیا۔ اس کی خبر حضرت علی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں کو خلیفہ کے انتخاب کے بعد دی گئی تھی۔(7)

حضرت رسول اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کفن و دفن کے بعد، جب حضرت علی (علیہ السلام) اور آپ کے پیروکاروں عباس، زبیر، سلمان، ابوذر، مقداد اور عمار وغیرہ کو اس واقعے کی اطلاع ملی، تو انہوں نے انتخابی خلافت اور خلیفہ کو منتخب کرنے والوں پر سخت اعتراضات کیے اور اس ضمن میں احتجاجی جلسے بھی ہوئے، مگر جواب دیا گیا کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے۔

یہی اعتراضات تھے جنہوں نے اقلیت کو اکثریت سے جدا کر دیا اور حضرت علی (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو معاشرے میں "شیعۂ علی (علیہ السلام)” کے نام سے متعارف کرایا۔ البتہ حکومت اور خلافت کے مامورین بھی سیاسی لحاظ سے کڑی نظر رکھے ہوئے تھے کہ مذکورہ اقلیت اس نام سے مشہور نہ ہو اور اسلامی معاشرہ اکثریتی اور اقلیتی گروہوں میں تقسیم نہ ہو، کیونکہ وہ خلافت کو اجماع امت جانتے تھے۔

البتہ شیعہ شروع سے ہی وقتی سیاست کے محکوم ہو گئے تھے، لیکن صرف اعتراضات کے ذریعے کوئی کام انجام نہیں دے سکتے تھے۔ ادھر حضرت علی (علیہ السلام) بھی مسلمانوں اور اسلام کی خاطر، اور کافی طاقت و قوت نہ رکھنے کی وجہ سے، ایک خونریز انقلاب برپا نہ کر سکے۔ لیکن یہ اعتراض کرنے والے اپنے عقیدے اور نظریے کے لحاظ سے اکثریت کے تابع نہ ہوئے، اور پیغمبر اکرم (صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی جانشینی اور علمی رہبری کو حضرت علی (علیہ السلام) کا حق سمجھتے رہے۔ نیز، علمی و معنوی مرکز صرف حضرت علی (علیہ السلام) کو ہی مانتے رہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی حضرت علی (علیہ السلام) کی طرف دعوت دیتے رہے۔

جانشينى اور علمى رہبرى کے دو اہم مسائل

اسلامی تعلیمات کے مطابق شیعوں نے جو کچھ سیکھا تھا، اس پر مضبوطی سے معتقد تھے۔ ان کے نزدیک معاشرے کے لیے سب سے زیادہ اہمیت اس بات کی تھی کہ اسلامی تعلیمات اور دینی ثقافت کو واضح کیا جائے اور دوسرے مرحلے میں انہیں معاشرے میں مکمل طور پر نافذ اور جاری کیا جائے۔

دوسرا یہ کہ ایک دینی حکومت قائم کی جائے، حقیقی اسلامی انتظام اور نظم و نسق کو معاشرے میں مضبوط اور محفوظ رکھا جائے، اور اسے اس طرح نافذ کیا جائے کہ لوگ خدا کے سوا کسی اور کی پرستش نہ کریں، اور مکمل آزادی اور انفرادی و اجتماعی انصاف سے بھرپور ہوں۔

یہ دونوں کام اس شخص کے ہاتھوں انجام پائیں جو خداوند تعالیٰ کی طرف سے عصمت اور حفاظت کا حامل ہو۔ ورنہ ممکن ہے کہ ایسے افراد اقتدار و حکومت اور علمی رہبری کو اپنے ہاتھ میں لے لیں جو اپنے فرائض کی ذمہ داری میں فکری انحراف یا خیانت سے محفوظ نہ ہوں، اور اس طرح اسلام کی آزاد و عادلانہ حکومت اور ولایت آہستہ آہستہ استبدادی سلطنت اور قیصر و کسریٰ جیسی حکومتوں میں تبدیل ہو جائے۔ مقدس دینی علوم اور دیگر معارف میں تبدیلیاں پیدا ہو جائیں، اور بوالہوس و خودغرض دانشور یا عام افراد ان میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کر دیں۔ لہٰذا ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جس کی تصدیق پیغمبر اکرم نے کی ہو، اور وہ شخص اپنے قول و فعل میں پاک اور پختہ ہو، اور اس کے طریقے کتاب خدا اور سنت رسول کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتے ہوں۔ ایسا شخص صرف حضرت علی (علیہ السلام) تھے۔(8)

اگرچہ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اگر قریش حضرت علی (علیہ السلام) کی خلافت حقہ کے مخالف تھے، تو اس صورت میں ضروری تھا کہ مخالفوں کو حق کی اطاعت پر مجبور کیا جاتا اور سرکش لوگوں کو سر اٹھانے کی اجازت نہ دی جاتی، نہ کہ قریش کی مخالفت کے ڈر سے حق کو پامال کیا جاتا۔ جیسا کہ خلیفۂ اول نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی تھی جنہوں نے زکوٰة دینا بند کر دی تھی، لیکن زکوٰة لینے سے چشم پوشی نہیں کی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز نے شیعوں کو انتخابی خلافت کو قبول اور تسلیم نہ کرنے پر ابھارا، وہ یہ تھی کہ انہیں بعد میں رونما ہونے والے ناگوار اتفاقات و حوادث کا خوف تھا۔ یعنی اسلامی حکومت کے نظام اور طریقوں میں بدعنوانی اور فساد کے نتیجے میں دینِ مبین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں خرابی لازمی نظر آتی تھی۔ اتفاق سے بعد میں رونما ہونے والے حوادث بھی اس عقیدے یا پیشین گوئی کو تقویت دے رہے تھے، جس کے نتیجے میں شیعہ جماعت اپنے عقیدے پر زیادہ سے زیادہ مضبوط ہوتی جارہی تھی۔

یوں کہا جائے کہ ظاہری طور پر ایک چھوٹی سی جماعت ایک بڑی اکثریت کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن باطنی طور پر اہل بیت (علیہم السلام) سے اسلامی تعلیمات کے حصول اور اپنے طریقے کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہی تھی اور اپنے عقائد پر مصر تھی۔ مگر اس کے ساتھ ہی اسلامی طاقت کی ترقی اور حفاظت کے پیش نظر حکومت کے ساتھ اعلانیہ مخالفت بھی نہیں کرتی تھی، حتیٰ کہ شیعہ اکثریت کے دوش بدوش جہاد میں جاتے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں حصہ لیتے تھے، اور خود حضرت علی (علیہ السلام) اسلام کے مفادات کی خاطر لوگوں کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔(9)

انتخابی خلافت کا سیاسی طریقہ اور اس کا شیعی عقیدے کے ساتھ تضاد

شیعہ جماعت کا عقیدہ تھا کہ اسلام کی آسمانی اور خدائی شریعت، جس کا سارا مواد خدا کی کتاب اور پیغمبر اکرم (ص) کی سنت میں واضح کیا جا چکا ہے، قیامت تک اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے اور ہرگز قابلِ تغییر نہیں ہے۔ لہٰذا اسلامی حکومت کے پاس اس قانونِ شریعت کو مکمل طور پر نافذ کرنے کے لیے کوئی عذر یا بہانہ نہیں کہ وہ اس شریعت کی خلاف ورزی کرے۔
اسلامی حکومت کا اولین فرض یہ ہے کہ شریعتِ اسلامی کی حدود میں رہ کر مشورے کرے، وقت کے حالات و مصلحت کے پیش نظر فیصلے کرے اور قدم اٹھائے۔ لیکن شیعوں کی سیاسی و مصلحتی بیعت، اور اسی طرح کاغذ، قلم اور دوات کا واقعہ جو پیغمبر اکرم (ص) کی زندگی کے آخری ایام میں پیش آیا، سے ظاہر ہوتا ہے کہ انتخابی خلافت کے طرفدار اور اس کے چلانے والوں کا اعتقاد تھا کہ خدا کی کتاب (قرآن مجید) بنیادی قانون کی طرح محفوظ رہے، لیکن پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث اور سنت کو اپنی جگہ پر ثابت نہیں سمجھتے۔
ان کا عقیدہ تھا کہ اسلامی حکومت، زمانے کی ضروریات اور مصلحتِ وقت کے سبب اسلامی احکام کے نفاذ کو نظر انداز کر سکتی ہے۔ یہ عقیدہ ان بہت سی احادیث و روایات کے ذریعے، جو بعد میں نقل ہوئیں، صحابہ کے حق میں ثابت ہو گیا تھا کہ وہ مجتہد ہیں، اور اگر اجتہاد یا مصلحت اندیشی میں اختلاف کریں تو مجبور ہیں اور اگر خطاکار ہوں تو معذور۔
اس کا اہم ترین نمونہ وہ واقعہ ہے جب خلیفہ کے گورنر خالد بن ولید رات کے وقت ایک مشہور مسلمان، مالک بن نویرہ، کے گھر مہمان ہوئے اور پھر موقع پا کر اس کو قتل کر دیا، اس کا سر کاٹ کر بھٹی میں جلا دیا اور پھر اسی رات مالک بن نویرہ کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ اس شرمناک واقعے کے بعد چونکہ خلیفۂ وقت کو ایسے گورنر کی ضرورت تھی، لہٰذا شریعت کی حد کو خالد بن ولید کے حق میں جاری نہ کیا گیا۔ (10)
اسی طرح اہل بیت (علیہم السلام) کو خمس کا حصہ نہیں دیا گیا، پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث لکھنا بالکل ممنوع کر دیا گیا۔ اگر کوئی حدیث کسی جگہ لکھی ہوئی نظر آتی یا کسی سے ملتی، تو اسے فوراً ضبط کر کے جلا دیا جاتا۔ (11) یہ ممنوعیت تمام خلفائے راشدین کے زمانے سے لے کر عمر بن عبدالعزیز اموی خلیفہ (۹۹ تا ۱۰۲ ہجری) کے عہد تک جاری رہی۔ (12)
خلیفہ دوم کے زمانے میں یہ سیاست بالکل واضح ہو گئی تھی۔ خلیفۂ وقت نے بعض شرعی احکام مثلاً حجِ تمتع، نکاحِ متعہ اور اذان میں "حی علی خیر العمل” کہنا ممنوع قرار دیا، تین طلاق دینے کی رسم نافذ کی گئی، اور ایسے ہی کئی دوسرے احکام بھی نافذ کیے گئے۔ (13)
ان کے خلافت کے دوران بیت المال کا حصہ عوام کے درمیان فرق اور اختلاف سے تقسیم ہوا (14)، جس کے نتیجے میں عجیب طبقاتی اختلاف اور خطرناک خونی مناظر سامنے آئے۔ ان کے زمانے میں معاویہ شام میں قیصر و کسریٰ جیسے شاہانہ ٹھاٹھ باٹ اور رسم و رواج کے ساتھ حکومت کرتا تھا، یہاں تک کہ خلیفۂ وقت بھی اسے "کسریٰ عرب” یعنی عرب کا بادشاہ کہہ کر مخاطب کرتا اور کبھی اس حال پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔

خلیفۂ دوم ۲۳ ہجری میں ایک ایرانی غلام کے ہاتھوں قتل ہوئے، اور چھ رکنی کمیٹی کی اکثریتِ رائے کے نتیجے میں، جو خلیفۂ دوم کے حکم پر تشکیل پائی تھی، خلیفۂ سوم نے زمامِ امور سنبھالی۔ انہوں نے اپنے عہدِ خلافت میں اموی خویش و اقارب کو حکمرانی کے عہدوں پر مسلط کر دیا اور اس طرح حجاز، عراق، مصر اور تمام اسلامی ممالک میں عنانِ حکومت ان کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی۔(15) انہوں نے لاقانونیت کی بنیاد رکھی اور آشکاراً ظلم و ستم، فسق و فجور اور اسلام کی خلاف ورزی کو اسلامی حکومت کے اندر فروغ دیا۔ دارالخلافہ میں شکایات کے طومار آنے لگے، مگر خلیفہ اپنی اموی کنیزوں، لونڈیوں اور خصوصاً مروان بن الحکم(16) کے زیرِ اثر ان شکایات پر توجہ نہ دیتے؛ اس طرح ظلم و ستم کا سدِ باب کبھی ممکن نہ ہو سکا۔ بعض اوقات تو حکم صادر ہوتا کہ شکایت کنندگان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ بالاخر ۳۵ ہجری میں لوگوں نے ان کے خلاف مظاہرے کیے، چند روز تک ان کے مکان کو گھیرے رکھا، اور بالآخر مار دھاڑ کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔

خلیفۂ سوم نے اپنی خلافت کے دور میں شام کی حکومت معاویہ کو دے رکھی تھی جو ان کے اموی خویش و اقارب میں ایک انتہائی اہم شخص تھا۔ وہ معاویہ کو ہر ممکن مدد دیتے اور اسے مضبوط کرتے رہے؛ درحقیقت شام خلافت کا اصل مرکز بن چکا تھا اور مدینہ میں محض نام کی حکومت باقی رہ گئی تھی۔(17) خلیفۂ اول کی خلافت اکثریتِ صحابہ کی رائے اور انتخاب سے مقرر ہوئی تھی؛ خلیفۂ دوم، اول کی وصیت کے تحت منتخب ہوئے؛ اور خلیفۂ سوم چھ رکنی مشاورتی کمیٹی کی رائے کے ساتھ مقرر ہوئے، جس کا دستورالعمل و منشور بذاتِ خود خلیفۂ دوم نے ترتیب دیا تھا۔ مجموعی طور پر تینوں خلفائے راشدہ کا طریقِ حکومت یہ رہا کہ اسلامی قوانین کو اجتہاد اور مصلحتِ وقت کے مطابق معاشرے میں نافذ کیا جائے، اور یہ مصلحت بینی خود خلیفۂ وقت تشخیص دے۔

اس زمانے میں اسلامی علوم و معارف کا طریقہ یہ تھا کہ صرف قرآنِ کریم کو — نیز اس کی تلاوت کو — بغیر کسی تفصیل، تفسیر یا معانی پر غور کے پڑھا جائے، اور پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث کو لکھا جانا ممنوع قرار دیا گیا؛ یعنی علمِ دین میں سننے یا بیان کرنے سے آگے جانے کی اجازت نہ تھی۔ قرآنِ کریم کی کتابت پر اجارہ داری تھی، جبکہ حدیث کی کتابت بالکل ممنوع رہی۔(18) جنگِ یمامہ جو ۱۲ ہجری میں ختم ہوئی تھی — اور اس جنگ میں صحابہ اور قرّاء کی ایک بڑی تعداد شہید ہو گئی تھی — کے بعد عمر بن الخطاب نے خلیفۂ اول سے تجویز کی کہ قرآنی آیات کو ایک مُصحف میں جمع کر دیا جائے؛ کیونکہ خدشہ تھا کہ اگر ایسی کوئی اور جنگ ہو اور باقی ماندہ قاری بھی شہید ہو جائیں تو قرآنِ مجید ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے گا؛ اس لیے ضروری ہے کہ قرآنی آیات کو ایک مصحف میں جمع کیا جائے۔(19)

قرآنِ مجید کے بارے میں تو ایک فیصلہ کر دیا گیا، مگر احادیثِ رسول اکرم (ص) جو قرآنِ مجید کے بعد دوسرے درجے پر آتی ہیں، کے بارے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ حالانکہ احادیث کو بھی وہی خطرہ درپیش تھا، یعنی معانی اور کتابت میں کمی بیشی، جعل، فراموشی اور دستبرد سے محفوظ نہیں تھیں، لیکن احادیث شریف کی حفاظت کے لیے کوئی کوشش نہ کی گئی، بلکہ احادیث کی کتابت تک کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔ جب بھی کوئی لکھی ہوئی حدیث ہاتھ لگتی، تو اسے جلا دیا جاتا۔ یہاں تک کہ اسلامی احکام و ضروریات، مثلاً نماز کے بارے میں بھی متضاد اور متعدد احادیث و روایات پیدا ہو گئی تھیں۔ اسی طرح دیگر تمام علمی موضوعات کے متعلق بھی کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا۔ قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی میں اجتہاد و تفقہ کرنے کے بارے میں جو احترام اور تاکید موجود ہے، اور علوم کو وسعت و ترقی دینے پر جس قدر زور دیا گیا ہے، وہ سب بے اثر ہو گیا۔

اکثر لوگ اسلامی فوجوں کی پے درپے فتوحات میں سرگرم اور بے حد مال و غنیمت سے خوش و راضی تھے، جو ہر طرف سے جزیرۃ العرب میں آ رہا تھا۔ لہٰذا خاندانِ رسالت مآب کے علوم کی طرف کوئی توجہ نہ تھی، حالانکہ ان کے بانی حضرت علی (ع) تھے۔ پیغمبر اکرم نے انہیں سب سے زیادہ عالم اور قرآن و اسلام کے جاننے والے کے طور پر لوگوں سے متعارف کرایا تھا۔ حتیٰ کہ قرآن شریف کو جمع کرنے کے واقعے میں، باوجود اس کے کہ سب جانتے تھے کہ آپ نے رسول اکرم کی رحلت کے بعد ایک مدت تک گوشۂ عزلت میں بیٹھ کر قرآنِ مجید کو ایک مصحف میں جمع کر دیا تھا، بھی آپ کو شامل نہ کیا گیا، حتیٰ کہ آپ کا نام تک نہ لیا گیا۔(20)

یہ اور ایسے ہی دیگر امور حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کو اپنے عقیدے میں زیادہ سے زیادہ راسخ و مضبوط کر رہے تھے اور انہیں واقعات سے متعلق زیادہ ہوشیار بنا رہے تھے۔ اس طرح روز بروز یہ لوگ اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کر رہے تھے۔ حضرت علی (علیہ السلام) بھی جو تمام لوگوں کی تربیت کرنے سے قاصر تھے، صرف اپنے خاص لوگوں کی تربیت پر توجہ دے رہے تھے۔

ان پچیس برسوں میں حضرت علی (ع) کے چار خاص اصحاب و دوستوں میں سے تین وفات پا گئے، جو ہر حال میں آپ کی پیروی میں ثابت قدم رہے، یعنی سلمان فارسی، ابوذر غفاری اور مقداد۔ لیکن اس مدت میں اصحاب اور تابعین کی ایک خاص بڑی جماعت حجاز، یمن، عراق اور دیگر ممالک میں حضرت علی (ع) کے پیروکاروں میں شامل ہو گئی تھی، اور آخر کار خلیفۂ سوم کے قتل کے بعد ہر طرف سے عوام نے آپ کی طرف رجوع کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے آپ کو خلافت کے لیے منتخب کر لیا گیا۔

حضرت علی (ع) کی خلافت اور آپ کا طریقۂ کار

حضرت علی (علیہ السلام) کی خلافت ۳۵ ہجری کے آخر میں شروع ہوئی اور تقریباً چار سال نو مہینے جاری رہی۔ حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے دوران پیغمبر اکرم (ص) کی سنت کو رائج کیا اور خود بھی اسی طریقے پر کاربند رہے۔(21) اسلام میں وہ اکثر تبدیلیاں جو پہلے خلفائے راشدین کے زمانے میں پیدا ہو چکی تھیں، آپ نے اپنی اصل حالت میں واپس لائیں، اور اس کے ساتھ ہی ظالم اور نالائق حاکموں کو، جو ایک مدت سے عنانِ حکومت اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے، معزول کر دیا۔(22) حقیقت میں آپ کی حکومت ایک انقلابی تحریک تھی، مگر آپ کے سامنے مشکلات اور مسائل کا ایک ڈھیر موجود تھا۔

حضرت علی (ع) نے اپنی خلافت کے پہلے ہی دن تقریر کرتے ہوئے خطاب فرمایا:

"خبردار! تم لوگ جن مشکلات و مصائب میں پیغمبر اکرم کی بعثت کے موقع پر گرفتار تھے، آج دوبارہ وہی مشکلات تمہیں درپیش ہیں، اور انہی مشکلات نے پھر تمہیں گھیر لیا ہے۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے آپ کو ٹھیک کر لو، صاحبان علم و فضیلت کو سامنے آنا چاہیے جو پیچھے دھکیل دیے گئے ہیں، اور وہ لوگ جو ناجائز اور بے جا طور پر سامنے آگئے ہیں، ان کو پیچھے ہٹا دینا چاہیے۔ آج حق و باطل کا مقابلہ ہے، جو شخص اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے اسے حق کی پیروی کرنی چاہیے۔ اگر آج ہر جگہ باطل کا زور ہے تو یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے، اور اگر حق کم ہو چکا ہے تو کبھی کبھی ہوتا ہے کہ جو چیز ایک دفعہ ہاتھ سے نکل جائے وہ پھر دوبارہ واپس آجائے۔”
(نہج البلاغہ، خطبہ ۱۵)

حوالہ جات

(1) تاريخ طبرى، ج2، ص63؛ تاريخ ابو الفداء، ج1، ص116؛ البدایۃ و النہایۃ، ج3، ص39؛ غایۃ المرام، ص320.

(2) مختلف تواریخ اور جامع کتب احاديث.

(3) حديث غدير خم شيعہ اور اہلسنت کے درمیان مسلمہ احاديث میں سے ہے اور ایک سو سے زیادہ اصحاب نے اسناد اور مختلف عبارات کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے اور عام و خاص کتابوں میں لکھی ہوئی ہے؛ تفصیل کے لیے دیکھئے کتاب غایۃ المرام، ص79؛ اور طبقات جلد غدير؛ اور کتاب الغدير.

(4) تاريخ يعقوبى، طبع نجف، ج2، ص137، 140؛ تاريخ ابو الفداء، ج1، ص156؛ صحيح بخارى، ج4، ص107؛ مروج الذهب، ج2، ص437؛ تاريخ ابى الحديد، ج1، ص127، 161.

(5) صحيح مسلم، ج15، ص176؛ صحيح بخارى، ج4، ص207؛ مروج الذهب، ج2، ص23، 437؛ تاريخ ابو الفداء، ج1، ص127، 181.

(6) آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے مرض الموت کی حالت میں اسامہ بن زيد کی سربراہی میں ایک لشکر تیار کیا اور تاکید کی کہ سب لوگ اس جنگ میں شرکت کریں اور مدینہ سے باہر نکل جائیں؛ ایک جماعت نے آپ کے حکم کی خلاف ورزی کی، اس میں ابو بکر اور عمر بھی تھے۔ اس واقعہ نے پیغمبر اکرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم کو بہت زیادہ صدمہ پہنچایا (شرح ابن ابى الحديد، طبع مصر، ج1، ص53)؛ پیغمبر اکرم صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے رحلت کے وقت فرمایا کہ قلم اور دوات لاؤ تاکہ میں تمہارے لیے ایک چٹھی لکھوں کہ تمہاری ہدایت اور رہنمائی کا باعث بنے اور تم گمراہ ہونے سے بچ جاؤ؛ حضرت عمر نے اس کام سے منع کر دیا اور کہا کہ آپ کا مرض بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور شدید بخار کی حالت میں آپ کو ہذیان ہے (تاريخ طبرى، ج2، ص436؛ صحيح بخارى، ج3؛ صحيح مسلم، ج5؛ البدایۃ و النہایۃ، ج5، ص227؛ تاريخ ابن ابى الحديد، ج1، ص133).

(7) شرح ابن ابى الحديد، ج1، ص58، 123 تا 135؛ تاريخ يعقوبى، ج2، ص102؛ تاريخ طبرى، ج2، ص445 تا 460.

(8) البدایۃ و النہایۃ، ج7، ص360.

(9) تاريخ يعقوبى، ص111، 126، 129.

(10) تاريخ يعقوبى، ج2، ص110؛ تاريخ ابى الفداء، ج1، ص158.

(11) کنز العمال، ج5، ص237؛ طبقات ابن سعد، ج5، ص140.

(12) تاريخ ابى الفداء، ج1، ص151.

(13) تاريخ يعقوبى، ج2، ص131؛ تاريخ ابى الفداء، ج1، ص160.

(14) اسد الغابۃ، ج4، ص386؛ الاصابۃ، ج3.

(15) تاريخ يعقوبى، ج2، ص150؛ تاريخ ابى الفداء، ج1، ص168؛ تاريخ طبرى، ج3، ص377.

(16) تاريخ يعقوبى، ج2، ص150؛ تاريخ طبرى، ج3، ص397.

(17) تاريخ طبرى، ج3، ص377.

(18) صحيح بخارى، ج6، ص98؛ تاريخ يعقوبى، ج2، ص113.

(19) تاريخ يعقوبى، ج2، ص111؛ تاريخ طبرى، ج3، ص129، 132.

(20) تاريخ يعقوبى، ج2، ص13؛ تاريخ ابن ابى الحديد، ج1، ص9.

(21) تاريخ يعقوبى، ج2، ص154.

(22) تاريخ يعقوبى، ج2، ص155؛ مروج الذهب، ج2، ص36.

شيعہ مذہب کا آغاز (دوسرا حصہ)

2 تبصرے

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔