بچے کی تربیت ایک ایسا عمل ہے جو محض معلومات یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ گہرے شعور، ذمہ داری اور مسلسل توجہ کا تقاضا رکھتا ہے۔ ہر گھر میں بچے کی تربیت اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب والدین اس حقیقت کو سمجھیں کہ بچہ ایک نازک اور تشکیل پذیر روح رکھتا ہے، جو ماحول کے ہر نقش کو شدت سے قبول کرتی ہے۔ اس لئے بچے کی تربیت آغازِ حیات ہی سے ایک سنجیدہ مرحلہ تصور کی جاتی ہے۔ والدین اور دیگر مربیوں کے باہمی تعاون، ہم آہنگی اور مثبت رویّے سے وہ بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں جن پر ایک پاکیزہ، باوقار اور باکردار انسان کی شخصیت تعمیر ہوتی ہے۔
بچے کی تربیت میں باریکیاں اور ذمہ داریاں
بچے کی تربیت کوئی ایسی سادہ اور آسان سی بات نہیں ہے کہ جسے ہر ماں باپ آسانی سے انجام دے سکیں بلکہ یہ کام بہت سی باریکیوں اور ظرافتوں کا حامل ہے اس میں سینکڑوں بال سے باریک تر نکات موجود ہیں بچے کی تربیت میں مربی کا تعلق بچے کی روح سے ہوتا ہے وہ روحانی، نفسیاتی علمی اور تجرباتی پہلوؤں سے آگاہی کے بغیر اپنی ذمہ داری بخوبی انجام نہیں دے سکتا بچے کی دنیا ایک اور ہی دنیا ہے اور اس کے افکار ایک اور ہی طرح کے افکار ہیں اس کی سوچوں کا انداز مختلف ہوتا ہے، جس کا بڑوں کے طرز تفکر سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
بچے کی روح نہایت ظریف اور حساس ہوتی ہے اور ہر نقش سے خالی ہوتی ہے اور ہر طرح کی تربیت کو قبول کرنے کےلئے آمادہ ہوتی ہے بچہ ایک ایسا چھٹا سا انسان ہوتا ہے، جس نے ابھی تک ایک مستقل شکل اختیار نہیں کی ہوتی جب کہ ہر طرح کی شکل قبول کرنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے بچے کے مربّی کو انسان شناس اور بالخصوص بچوں کا شناسا ہونا چاہئے تربیت کے اسرار و رموز پر اس کی نظر ہونی چاہئے انسانی کمالات اور نقائص پر اس کی نگاہ ہونی چاہئے اس کے اندر احساس ذمہ داری بیدار ہونا چاہئے۔
اور اسے اپنے کام سے دلچسپی بھی ہونا چاہئے اسے صابر اور باحوصلہ ہونا چاہئے اور مشکلات سے ہراساں نہیں ہونا چاہئے۔ علاوہ ازیں تربیت کے قوانین سو فیصد کلی نہیں ہوتے کہ جنہیں ہر جگہ پر اور ہر کسی کےلئے قابل اعتماد قرار دیا جاسکے بلکہ ہر بچے کی اپنی جسمانی ساخت اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی ہی خصوصیات ہوتی ہیں لہذا بچے کی تربیت اس کی جسمانی ساخت، عقلی قوتوں، حالات اور ماحول کے تقاضوں کی مناسبت سے ہونی چاہئے ماں باپ کو چاہئے کہ بچے کی جسمانی ساخت کا صحیح طرح سے جائزہ لیں اور اسی کے پیش نظر اس کی تربیت کریں ورنہ ممکن ہے ان کی کوششوں کا وہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکے جو ان کی خواہش ہے۔
تربیت کے اصول اور مربّی کی شخصیت
بچے کی تربیت کے حوالے سے مرد اور عورت کو چاہئے کہ ماں باپ بننے سے پہلے تعلیم و تربیت کے طریقے سے آگاہی حاصل کریں اس کے بعد بچے کی پیدائش کےلئے اقدام کریں،کیونکہ بچے کی تربیت کا مرحلہ اس کی ولادت سے بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہوجاتا ہے اس حساس عرصے میں بچے کی لطیف اور حساس طبیعت کوئی شکل اختیار کرتی اور اس کے اخلاق، کردار، عادات حتی کہ افکار کی بنیاد پڑتی ہے۔
یہ صحیح نہیں ہے کہ ماں باپ اس حساس عرصے میں غفلت سے کام لیں اور تعلیم و تربیت کو آئندہ پر ٹال دیں یعنی تعلیم و تربیت کو اس وقت پر اٹھا نہ رکھیں کہ جب بچہ اچھے یا برے اخلاق و کردار یا اچھی یا بری عادتوں کے بارے میں تقریبا ایک مزاج اختیار کرچکا ہو کیونکہ ابتدائی مراحل میں تربیت عادتوں کے تبدیل کرنے کی نسبت کہیں آسان ہے عادت کا تبدیل کرنا اگرچہ ناممکن نہیں تاہم اس کےلئے بہت زیادہ آگاہی، صبر، حوصلہ اور کوشش کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سب تربیت کرنے والوں کے بس کی بات نہیں۔
حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: أَصْعَبُ اَلسِّيَاسَاتِ نَقْلُ اَلْعَادَاتِ۔[۱] ”مشکل ترین سیاست لوگوں کی عادات کو تبدیل کرنا ہے“۔
حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: لِلْعَادَةِ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ سُلْطَانٌ۔[۲] ”عادت انسان پر مسلط ہوجاتی ہے“۔
امیر المؤمنین (ع) فرماتے ہیں: اَلْعَادَةُ طَبْعٌ ثَانٍ۔[۳] ”عادت فطرت ثانیہ بن جاتی ہے“۔
ترک عادت اس قدر مشکل ہے کہ اسے بہترین عبادتوں سے شمار کیا گیا ہے حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: أَفْضَلُ اَلْعِبَادَةِ غَلَبَةُ اَلْعَادَةِ.[۴] ”بری عادت پر غلبہ پالینا افضل ترین عبادتوں میں سے ہے“۔
بچے کو راہ کمال پر تربیت دینے کےلئے ایک مسئلہ یہ بھی اہم ہے کہ ماں باپ اور دیگر تمام مربیوں کے درمیان فکری اور عملی طور پر تربیت کے تمام پروگراموں میں اور ان کے اجراء کی کیفیت میں ہم آہنگی اور تفاہم موجود ہو اگر ماں باپ اور دیگر لوگ کہ جن کا بچے کی تربیت میں عمل دخل ہو مثلاً دادا اور دادی وغیرہ ان کے درمیان تربیتی پروگراموں میں اتفاق اور ہم آہنگی موجود ہو۔
اور ان کے اجرا میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں اور ایک اچھا اور ممتاز بچہ پروان چڑھا سکتے ہیں لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی تربیت کے بارے بے اعتناء یا تربیتی امور میں خلاف سلیقہ ہو تو مراد حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ تربیت کے مسئلے میں مکمل یقین اور ہم آہنگی ضروری ہے۔
بچے کو اپنے فریضے سے آگاہ ہونا چاہئے جب ماں باپ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور دادا دادی کچھ اور تو بچہ حیران و پریشان ہوجاتا ہے اسے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرے بالخصوص اگر ان میں سے ہر کوئی اپنے نظریے پر زور دے رہا ہو ایسی صورت میں نہ فقط یہ کہ اچھا نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ ایسا ہونا تربیت میں نقص کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
تربیت کی بڑی مشکلات میں سے یہ ہے کہ بچے کے بارے میں باپ کچھ فیصلہ کرے اور ماں یا دادی اس میں دخالت کرکے اس کے برخلاف عمل کرے یا پھر اس کے الٹ مسئلہ ہو مربیوں کے درمیان ایسے اتفاق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے کہ جس سے بچہ واضح طور پر یہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس کی خلاف ورزی کا خیال اس کے ذہن میں نہ آئے۔
غیر ہم آہنگ گھرانہ اور اس کے اثرات
کبھی یوں ہوتا ہے کہ باپ ایک خوش اخلاق اور اچھا تربیت یافتہ بچہ پروان چڑھانا چاہتا ہے لیکن ماں بداخلاق اور بے تربیت ہوتی ہے اسے تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے، یہ مشکل بہت سے گھرانوں میں نظر آتی ہے۔
ایسے خاندانوں میں پرورش پانے والے بچے عموماً اچھی اور صحیح تربیت کے حامل نہیں ہوتے کیونکہ ایک تربیت یافتہ اور صالح فرد کی تربیت اس کی غیرصالح بیوی کے سبب بے اثر ہوجاتی ہے اس صورت میں صحیح تربیت بہت مشکل امر بن جاتا ہے البتہ ایسی دشواریوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تربیت کی ذمہ داری سے دست بردار ہوجائیں۔
ایسی صورت میں تربیت کی ذمہ داری اور بھی سوا ہوجاتی ہے چاہئے کہ ایسی صورت میں اولاد کی تربیت کے بارے میں زیادہ توجہ دی جائے، اپنے اخلاق و کردار کی پوری طرح اصلاح کی جائے اور بچوں کی زیادہ دیکھ بھال سے کام لیا جائے اور ان سے زیادہ سے زیادہ انسیت پیدا کی جائے اچھے کام اور خوش رفتاری کے ذریعے بچوں کی توجہ اپنی طرف جذب کی جائے اور ان کےلئے بہترین نمونہ عمل بن جایا جائے۔
اپنے بچوں سے تفاہم پیدا کیا جائے اچھائی برائی اور نیکی بدی کا مفہوم ان کے سامنے کامل طور پر واضح کیا جائے۔ ایسا عمل کیا جائے کہ بچہ خودبخود اچھے اور برے اخلاق کے درمیان تمیز کرسکے اور برائیوں سے متنفر ہوجائے۔ بچے کی تربیت میں اگر مرّبی عاقل، تدبر، صابر، اور حوصلہ مند ہو تو کسی حد تک اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے اور اپنی بیوی کی غلط تربیت اور بد آموزی کے اثرات زائل کرسکتا ہے بہرحال یہ ایک مشکل اور اہم کام ہے لیکن اس کے علاوہ چارہ بھی نہیں۔
ایک دانشور کا قول ہے:
وہ خاندان کہ جس میں ماں اور باپ کی تربیت کے بارے میں ہم فکر ہیں اور اپنے کردار اور رفتار کو اس کے مطابق ڈھالتے ہیں تو بچے کے اعصاب کےلئے مناسب ماحول مہیا ہوجاتا ہے خاندان ایک ایسا چھوٹا سا معاشرہ ہے کہ جس میں بچے کی اخلاقی خصوصیات ایک خاص صورت اختیار کرتی ہیں وہ خاندان کہ جس کے افراد ایک دوسرے سے دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں اس کے بچے عموماً متین، خوددار اور انصاف پسند ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ گھر کہ جس میں ماں باپ کے درمیان روز روز کی نوک جھونک اور تو تکرار رہتی ہے اس کے بچے کج اخلاق، بہانہ ساز اور غصیلے ہوتے ہیں۔[۵]
خاتمہ
بچے کی تربیت نہ صرف دقیق فہم اور شعوری توجہ چاہتا ہے بلکہ تمام مربیوں کی مشترکہ ہم آہنگی کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ بچے کی تربیت میں سب سے بنیادی حقیقت یہ ہے کہ بچہ اپنے ماحول سے فوری اثر لیتا ہے، اسی لئے والدین کا کردار اس کی اخلاقی ساخت کی بنیاد بن جاتی ہے۔ اگر گھر میں اتحاد اور محبت ہو تو بچے کی تربیت آسان ہوجاتی ہے، لیکن اگر تضاد ہو تو یہی عمل مشکل ترین مرحلہ بن جاتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ تمام ذمہ دار افراد صبر اور مثبت نمونہ عمل کے ذریعے بچے کی شخصیت کو اس راستے پر لے جائیں جو اس کے فطری کمال تک پہنچنے کا راستہ ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۱۸۱۔
[۲]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۵۸۰۔
[۳]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۲۶۔
[۴]۔ آمدی، غرر الحکم، ص۱۸۲۔
[۵]۔ گریگوروا، روان شناسی تجربی کودک، ص۱۹۱۔
کتابیات
۱۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی علیه السلام، قم، دار الکتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔
2۔ گریگوروا، آ-ل، روانشناسی تجربی کودک، فارسی ترجمہ: محمد تقی زاد، تہران، انتشارات گلشائی، ۱۳۶۷ش۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
امینی، ابراهیم، آئین تربیت، ترجمہ: قیصر عبّاس و ثاقب نقوی، لاہور، مصباح الہدیٰ پبلیکیشنز۔ (نسخہ برقی توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔