جنگ احد میں حضرت علی (ع) کی جاں نثاری اور بعض صحابہ کا فرار

جنگ احد میں حضرت علی (ع) کی جاں نثاری اور بعض صحابہ کا فرار

کپی کردن لینک

جنگ احد میں میں ۵۰ تیر اندازوں نے پیغمبر ﷺ کے حکم کی نافرمانی کرکے مالِ غنیمت کی لالچ میں پہاڑی چھوڑ دی، جس سے مسلمان فوج کمزور پڑ گئی اور دشمن نے حملہ کر دیا۔ افواہ پھیلی کہ پیغمبر ﷺ شہید ہو گئے تو کئی نام نہاد صحابہ بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس وقت حضرت علی (ع) نے بہادری سے فوج کی کمان سنبھالی اور آپ ﷺ کی حفاظت کی۔ پیغمبر ﷺ نے اس وقت یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے: ’’ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں اور علی (ع) جیسا کوئی جوان نہیں‘‘ یہ واقعہ حضرت علی (ع) کی بے مثال شجاعت اور وفاداری کی یادگار ہے۔

جنگ بدر میں شکست کی وجہ سے قریش کے دل بہت زیادہ افسردہ اور مرجھائے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے اس مادی اور معنوی شکست کی تلافی کے لئے ارادہ کیا کہ اپنے قتل ہونے والوں کا انتقام لیں۔ اور اکثر عرب کے قبیلوں کے بہادر و جانباز اور جنگجو قسم کے افراد کاایک منظم لشکر تیار کر کے مدینہ کی طرف روانہ کریں۔ لہٰذا عمرو عاص اور بعض دوسرے افراد کو مامور کیا گیا کہ کنانہ اور ثقیف قبیلے کے افراد کو اپنا بنائیں اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے میں ان سے مدد طلب کریں۔ ان لوگوں نے کافی محنت و مشقت کر کے تین ہزار جنگجو افراد کو مسلمانوں سے مقابلے کے لئے آمادہ کرلیا۔

اسلام کے اطلاعاتی دستہ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو قریش کے ارادے اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے وہاں سے روانہ ہونے سے آگاہ کردیا۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے دشمنوں سے مقابلے کے لئے جانبازوں کی ایک کمیٹی بنائی جس میں سے اکثریت کا کہنا یہ تھا کہ اسلام کا لشکر مدینے سے نکل جائے اور شہر کے باہر جاکر دشمنوں سے مقابلہ کرے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ایک ہزار کا لشکر لے کرمدینہ سے کوہ احد کی طرف نکل پڑے۔

7 شوال 3ھ کی صبح کو دونوں لشکر صف بستہ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے ہوگئے، اسلام کی فوج نے ایسی جگہ کو مورچہ بنایا کہ ایک طرف یعنی پیچھے سے طبیعی طور پر ایک محافظ کوہ احد تھا لیکن کوہ احد کے بیچ میں اچھی خاصی جگہ کٹی ہوئی تھی اور احتمال یہ تھا کہ دشمن کی فوج کوہ کو چھوڑ کر اسی کٹی ہوئی جگہ اور مسلمانوں کے لشکر کے پیچھے کی طرف سے حملہ کرے، لہٰذا پیغمبر ﷺ نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لئے عبداللہ جبیر کو پچاس تیر اندازوں کے ساتھ اسی پہاڑی پر بھیج دیا تاکہ اگر دشمن اس راستے سے داخل ہو تو اس کا مقابلہ کریں۔

اور حکم دیا کہ ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹیں، یہاں تک کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہوجائے اور دشمن بھاگنے بھی لگیں جب بھی اپنی جگہ چھوڑ کرنہ جائیں۔ پیغمبر ﷺ نے علم کو مصعب کے حوالے کیا کیونکہ وہ قبیلۂ بنی عبد الدار کے تھے اور قریش کے پرچمدار بھی اسی قبیلے کے رہنے والے تھے۔

جنگ شروع ہوگئی اور مسلمانوں کے جانباز اور بہادروں کی وجہ سے قریش کی فوج بہت زیادہ نقصان اٹھانے کے بعد بھاگنے لگی، پہاڑی پر بیٹھے ہوئے تیر اندازوں نے یہ خیال کیا کہ اب اس پہاڑی پر رکنا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا پیغمبر ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مال غنیمت لوٹنے کے لئے مورچے کو چھوڑ کر میدان میں اگئے، خالد بن ولید جو جنگ کرنے میں بہت ماہر و بہادر تھا جنگ کے پہلے ہی سے وہ جانتا تھا کہ اس پہاڑی کا دہانہ کامیابی کی کلید ہے۔

اس نے کئی مرتبہ کوشش کی تھی کہ اس کے پشت پر جائے اور وہاں سے اسلام کے لشکر پر حملہ کرے۔ مگر محافظت کرنے والے تیر اندازوں نے اسے روکا اور یہ پیچھے ہٹ گیا، اس مرتبہ جب خالد نے اس جگہ کو محافظوں سے خالی پایا تو ایک زبردست اور غافل گیر حملہ کرتے ہوتے فوج اسلام کی پشت سے ظاہر ہوا، اور غیر مسلح اور غفلت زدہ مسلمانوں پر پیچھے کی جانب سے حملہ کردیا، مسلمانوں کے درمیان عجیب کھلبلی مچ گئی اور قریش کی بھاگتی ہوئی فوج اسی راستے سے دوبارہ میدان جنگ میں اتر آئی۔

اسی دوران اسلامی فوج کے پرچم دار مصعب بن عمیر دشمن کے ایک سپاہی کے ہاتھوں قتل کردیئے گئے اور چونکہ مصعب کا چہرا چھپا ہوا تھا، ان کے قاتل نے یہ سوچا کہ یہ پیغمبر ﷺ ہیں۔ لہٰذا چیخنے لگا ’’الا قد قتل محمّد، الا قد قتل محمّدً‘‘ (اے لوگو! آگاہ ہوجاؤ محمد قتل ہوگئے) پیغمبر ﷺ کے قتل کی خبر مسلمانوں کے درمیان پھیل گئی۔ اور ان کی اکثریت میدان چھوڑ کر بھاگنے لگی اور میدان میں چند لوگوں کے علاوہ کوئی باقی نہ بچا۔

جنگ سے متعلق علماء اہل سنت کا بیان

ابن ہشام کا بیان

انس بن مالک کا چچا انس بن نضر کہتا ہے: جس وقت اسلام کی فوج ذہنی دباؤ کا شکار ہوئی اور پیغمبر ﷺ کے قتل کی خبر چاروں طرف پھیل گئی تو اکثر مسلمان اپنی جان بچانے کی فکر کرنے لگے اور ہر شخص ادھر ادھر چھپنے لگا۔ انس کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ انصار و مہاجر کا ایک گروہ جس میں عمر بن خطاب، طلحہ اور عبیداللہ بھی تھے ایک کنارے پر بیٹھا اپنی نجات کی فکر کررہا ہے۔ میں نے اعتراض کے انداز میں ان سے کہا: کیوں یہاں بیٹھے ہو؟

ان لوگوں نے مجھے جواب دیا: پیغمبر ﷺ قتل ہوگئے ہیں اور اب جنگ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ اگر پیغمبر ﷺ قتل ہوگئے تو کیا زندگی کا کوئی فائدہ نہیں ہے تم لوگ اٹھو اور جس راہ میں وہ قتل ہوئے ہیں تم بھی شہید ہو جاؤ۔ اور اگر محمد ﷺ قتل کردیئے گئے تو محمد ﷺ کا خدا زندہ ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ میری باتوں کا ان پر ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا، میں نے اسلحہ اٹھایا اور جنگ میں مشغول ہوگیا۔[1]

ابن ہشام کہتے ہیں: انس کو اس جنگ میں ستر زخم لگے اور اس کی لاش کو اس کی بہن کے علاوہ کوئی پہچان نہ سکا، مسلمانوں کے بعض گروہ اس قدر افسردہ تھے کہ انہوں نے خود ایک بہانہ تلاش کیا کہ عبداللہ بن ابی منافق کا ساتھ کس طرح سے دیں تاکہ ابوسفیان سے ان کے لئے امان نامہ لیں۔ اور مسلمانوں کے بعض گروہ نے پہاڑی پر پناہ لی۔[2]

ابن ابی الحدید کا بیان

بغداد میں 608ھ میں ایک شخص واقدی کی کتاب ’’مغازی‘‘ کو ایک بزرگ دانشمند محمد بن معد علوی سے پڑھتا تھا۔ ایک دن میں نے بھی اس درس میں شرکت کی۔ اور جس وقت گفتگو یہاں پہونچی کہ محمد بن مسلمہ جو صریحاً نقل کرتا ہے کہ احد کے دن خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مسلمان پہاڑی کے اوپر چڑھ رہے تھے اور پیغمبر ﷺ ان کا نام لے کر پکار رہے تھے کہ ’’اِلَیَّ یا فلان‘‘ (اے فلاں میری طرف آؤ) لیکن کسی نے بھی پیغمبر ﷺ کی آواز پر لبیک نہ کہا۔

استاد نے مجھ سے کہا فلاں سے مراد وہی لوگ ہیں جنھوں نے پیغمبر ﷺ کے بعد مقام و منصب کو حاصل کیا۔ اور راوی نے خوف و ڈر کی وجہ سے ان کا نام لکھنے سے پرہیز کیا ہے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ صریحی طور پر ان سب کا نام لکھے۔[3]

جاں نثاری مقصد و ہدف پر ایمان کی علامت ہے

جاں نثاری اور جانبازی، مقصد و ہدف پر ایمان کی علامت و نشانی ہے اور اس کے ذریعے سے انسان کی جاں نثاری کا اندازہ اس کے ہدف پر ایمان و اعتقاد کے ذریعے لگایا جاسکتا ہے، اور حقیقت میں بلند ترین اور صحیح کسوٹی ایک شخص کے عقیدے کا اندازہ کرنے کے لئے، اس کے گزرے ہوئے حالات کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو اپنی آیتوں میں اس طرح سے بیان کیا ہے:

’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ‘‘[4]

(سچے مؤمن) تو بس وہی ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر انہوں نے اس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہ کیا اور اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے خدا کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ (دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔

جنگ احد، مؤمن اور غیر مؤمن کی پہچان کے لئے بہترین کسوٹی تھی اور ایک عمدہ پیمانہ تھا بہت سے ان افراد کے لئے جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے۔ مسلمانوں کے بعض گروہ کا اس جنگ سے بھاگنا اتنا پر اثر تھا کہ مسلمانوں کی عورتیں جو اپنے بیٹوں کے ساتھ میدان جنگ میں آئی تھیں اور کبھی کبھی زخمیوں کی خبر گیری کرتی تھیں اور پیاسے جانبازوں کو پانی سے سیراب کرتی تھیں اس بات پر مجبور ہوگئیں کہ پیغمبر ﷺ کا دفاع کریں۔

جب نسیبہ نامی عورت نے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو ہاتھ میں تلوار لے کر رسول اسلام ﷺ کا دشمنوں سے دفاع کیا۔ جس وقت پیغمبر ﷺ نے اس عورت کی جاں نثاری کو بھاگنے والوں کے مقابلے میں مشاہدہ کیا تو آپ نے اس بہادر عورت کے بارے میں ایک تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: ’’مَقٰاُم نَسِیْبَةِ بِنْتِ کَعْبٍ خَیْر مِنْ مَقٰامِ فُلٰانِ و فُلٰانِ’‘ (کعب کی بیٹی نسیبہ کا مقام و مرتبہ فلاں فلاں سے بہترہے) ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ راوی نے پیغمبر ﷺ کے ساتھ خیانت کی ہے کیونکہ جن لوگوں کا نام پیغمبر ﷺ نے صریحی طور پر ذکر کیا تھا اسے بیان نہیں کیا۔[5]

انہیں افراد کے مقابلے میں تاریخ ایک ایسے جانباز کا اعتراف کرتی ہے جو اسلام کی پوری تاریخ میں فداکاری اور جاں نثاری کا نمونہ ہے، اور جنگ احد میں مسلمانوں کی دوبارہ کامیابی اسی جانثار کی قربانیوں کا نتیجہ تھی۔ یہ عظیم المرتبت جانثار، یہ حقیقی فداکار مولائے متقیان حضرت امیر المؤمنین (ع) کی ذات گرامی ہے۔

جنگ کی ابتدا میں قریش کے بھاگنے کی وجہ یہ تھی کہ ان کے پرچم اٹھانے والے 9 افراد ایک کے بعد ایک مولائے کائنات (ع) کے رعب و دبدبے کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے دلوں میں شدید رعب بیٹھ گیا اور ان کے اندر ٹھہرنے اور مقابلے کرنے کی صلاحیت باقی نہ رہی۔[6]

اہل سنت کے مأخذ سے امام علی (ع) کی جاں نثاری کے دلائل

معاصر مصری مؤرخین جنہوں نے اسلامی واقعات کا تجزیہ کیا ہے حضرت علی (ع) کے حق کو جیسا کہ آپ کے شایان شان تھا یا کم از کم جیسا کہ تاریخ نے لکھا ہے ادا نہیں کیا ہے، اور امیر المؤمنین (ع) کی جاں نثاری کو دوسرے کے حق میں قرار دیا ہے اس بنا پر ضروری ہے کہ مختصر طور پر حضرت امیر (ع) کی جاں نثاریوں کو انہی کے مأخذ سے بیان کیا جائے۔

پہلی دلیل

 ابن اثیر نے اپنی تاریخ[7] میں لکھا ہے: پیغمبر ﷺ چاروں طرف سے قریش کے لشکر میں گھر گئے تھے، ہر گروہ جب بھی پیغمبر ﷺ پر حملہ کرتا تو حضرت علی (ع) پیغمبر ﷺ کے حکم سے جب کچھ قتل ہوجاتے تھے تو باقی راہ فرار اختیار کرتے تھے۔ ایسا جنگ احد میں کئی مرتبہ ہوا۔

اس جاں نثاری کی بنیاد پر جبرئیل امین نازل ہوئے اور حضرت علی (ع) کے ایثار کو پیغمبر ﷺ کے سامنے سراہا اور کہا: یہ ایک بلند ترین جاں نثاری ہے جس کو انہوں نے کر دکھایا ہے۔ رسول خدا ﷺ نے جبرئیل امین کی تصدیق کی اور کہا: ’’میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے‘‘ کچھ ہی دیر کے بعد میدان میں ایک آواز سنائی دی جس کا مفہوم یہ تھا: ’’لاسَيْفَ إلا ذو الفقارِ ولا فَتَىً‌ إلا عَلِي‘‘ ذوالفقار جیسی کوئی تلوار نہیں اور علی (ع) کے جیسا کوئی جوان نہیں۔

ابن ابی الحدید اس واقعے کی مزید شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وہ گروہ جس نے پیغمبر ﷺ پر حملہ کیا تاکہ ان کو قتل کردیں اس میں پچاس آدمی تھے اور علی (ع) نے جو کہ پیادہ جنگ کررہے تھے ان لوگوں کو متفرق کردیا۔

پھر جبرئیل امین کے نازل ہونے کے بارے میں کہتے ہیں: اس مطلب کے علاوہ جو کہ تاریخ کے اعتبار سے مسلم ہے میں نے محمد بن اسحاق کی کتاب ’’غزوات‘‘ کے بعض نسخوں میں جبرئیل امین کے نزول کے متعلق دیکھا ہے کہ یہاں تک ایک دن اپنے استاد عبدالوہاب سکینہ سے اس واقعہ کی صحت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا صحیح ہے، میں نے ان سے کہا پھر کیوں اس صحیح روایت کو صحاح ستہ کے مؤلفین نے نہیں لکھا؟ انہوں نے جواب میں کہا: بہت سی صحیح روایتیں موجود ہیں جس کے لکھنے میں صحاح ستہ کے مؤلفین سے غفلت ہوئی ہے۔[8]

دوسری دلیل

حضرت امیر المؤمنین (ع) نے ’’رأس الیہود‘‘ کے متعلق اپنے اصحاب کے بعض گروہ کے سامنے جو تفصیلی تقریر فرمائی اس میں اپنی جاں نثاری کے بارے میں اس طرح اشارہ کیا ہے: جس وقت قریش کے لشکر نے طوفان کی طرح ہم پر حملہ کیا تو انصار اور مہاجرین اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے، لیکن میں نے ستر زخم کھانے کے باوجود بھی حضرت محمد ﷺ کا دفاع کیا۔

پھر آپ نے قبا کو اتارا اور زخم کے نشانات جو باقی تھے اس پر ہاتھ لگا کر دکھایا، یہاں تک کہ بنابر نقل، ’’خصال شیخ صدوق‘‘ حضرت علی (ع) نے پیغمبر ﷺ کے دفاع کرنے میں اتنی جانفشانی و جاں نثاری کی کہ آپ (ع) کی تلوار ٹوٹ گئی اور پیغمبر ﷺ نے اپنی تلوار، ذوالفقار کو حضرت علی (ع) کے حوالے کیا تاکہ اس کے ذریعے سے راہ خدا میں جہاد کرتے رپیں۔[9]

تیسری دلیل

ابن ابی الحدید لکھتے ہیں: جب پیغمبر ﷺ کے اکثر صحابی و سپاہی میدان سے بھاگ گئے تو دشمنوں نے پیغمبر ﷺ پر اور بڑھ چڑھ کر حملہ کرنا شروع کردیا۔ بنی کنانہ قبیلہ کا ایک گروہ اور بنی عبد مناف قبیلے کا گروہ جن کے درمیان چار نامی گرامی پہلوان موجود تھے پیغمبر ﷺ کی طرف حملہ آور ہوئے۔ اس وقت علی (ع) پیغمبر ﷺ کی چاروں طرف سے پروانے کی طرح حفاظت کررہے تھے، اور دشمن کو نزدیک آنے سے روک رہے تھے۔

ایک گروہ جس کی تعداد پچاس آدمیوں سے بھی زیادہ تھی، انہوں نے پیغمبر ﷺ کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا اور صرف حضرت علی (ع) کا شعلہ ور حملہ تھا جس نے اس گروہ کو منتشر کردیا، لیکن وہ پھر دوبارہ آگئے اور پھر سے حملہ شروع کردیا اور اس حملے میں وہ چار نامی گرامی پہلوان اور دس دوسرے افراد جن کا نام تاریخ نے بیان نہیں کیا ہے قتل ہوگئے۔ جبرئیل نے حضرت علی (ع) کی اس جاں نثاری پر پیغمبر ﷺ کو مبارک باد دی اور پیغمبر ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔

چوتھی دلیل

اس پہلے کی جنگوں میں لشکر کی علمبرداری کے سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط رکھی گئی اور پرچم کو بہادر اور دلیر افراد کے ہاتھ میں دیا گیا۔ علمبردار کے بہادر ہونے کی وجہ سے جنگجوؤں میں بہادری و شجاعت بڑھ گئی اور سپاہیوں کو ذہنی خلفشار سے بچانے کے لئے کچھ لوگوں کو لشکر کا علمبردار معین کیا گیا تاکہ اگر ایک مارا جائے تو دوسرا اس کی جگہ پر پرچم کو اپنے ہاتھ میں لے لے۔

قریش، مسلمانوں کی بہادری اور جاں نثاریوں سے جنگ بدر میں باخبر تھے، اسی وجہ سے اپنے بہت زیادہ سپاہیوں کو لشکر کا علمبردار بنایا تھا۔ قریش کا سب سے پہلا علمبردار طلحہ بن طلیحہ تھا وہ پہلا شخص تھا جو حضرت علی (ع) کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کے قتل کے بعد قریش کے پرچم کو افراد درج ذیل نے سنبھالا اور تمام کے تمام حضرت علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔ سعید بن طلحہ، عثمان بنم طلحہ، شافع بن طلحہ، حارث بن ابی طلحہ، عزیز بن عثمان، عبد اللہ بن جمیلہ، ارطاة بن شراحبیل، صوأب۔

ان لوگوں کے مارے جانے کی وجہ سے قریش کی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ گئی، اس طرح سے مسلمانوں نے حضرت علی (ع) کی جاں نثاری کی وجہ سے جنگ فتح کرلی۔[10]

علامہ شیخ مفید اپنی کتاب ’’ارشاد‘‘ میں امام جعفر صادق (ع) سے نقل کرتے ہیں کہ قریش کے علمبرداروں کی تعداد 9 آدمیوں پر مشتمل تھی اور تمام کے تمام یکے بعد دیگرے حضرت علی (ع) کے ہاتھوں مارے گئے۔ ابن ہشام نے اپنی کتاب ’’سیرہ‘‘ میں ان افراد کے علاوہ اور بھی نام ذکر کئے ہیں جو حضرت علی (ع) کے پہلے ہی حملہ میں قتل ہوگئے تھے۔[11]

 

خاتمہ

جنگ اُحد میں بعض نامی گرامی صحابہ نے مالِ غنیمت کی طمع میں، تو بعض نے جان کے خوف سے رسول اللہ ﷺ کو تنہا چھوڑ کر میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار کیا۔ اس نازک موقع پر صرف حضرت علی (ع) ہی ایسے جانثار تھے جنہوں نے ہر خطرے کو نظرانداز کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کا دفاع کیا۔ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ مؤرخین نے ان فراریوں کے کارناموں کو تو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، لیکن اس عظیم ہستی کی قربانیوں اور فتوحات کو نظرانداز کردیا، جو ہر لمحہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ڈٹے رہے۔

 

منابع

[1]۔ ابن ہشام، سیرۂ ابن ہشام، ج۳، ص۸۳-۸۴۔

[2]۔ ابن ہشام، سیرۂ ابن ہشام، ج۳، ص۸۳-۸۴۔

[3]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۵، ص۲۳۔

[4]۔ سورہ حجرات: ۱۵۔

[5]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۴، ص۲۶۶۔

[6]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۴، ص۲۵۰۔

[7]۔ ابن اثیر، تاریخ کامل، ج۲، ص۱۰۷۔

[8]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۴، ص۲۵۰۔

[9]۔ ابن بابويه، خصال، ج۲، ص۱۵۔

[10]۔ قمی، تفسیر قمی، ص۱۰۳؛ مجلسي، بحار الأنوار، ج۲۰، ص۱۵؛ مفید، ارشاد مفید، ص۱۱۵۔

[11]۔ ابن ہشام، سیرہ ابن ہشام، ج۱، ص۸۱-۸۴۔

 

کتابیات

1۔ قرآن مجید۔

2۔ ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبه الله، شرح نهج البلاغة، قم، مکتبة آیة الله العظمی المرعشي النجفي، ۱۳۶۳ش۔

3۔ ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، علمی، تہران، ۱۳۷۱ش۔

4۔ ابن بابويه، محمد بن على‌، خصال شیخ صدوق، قم، مؤسسة النشر الإسلامی، ۱۳۶۲ش۔

5۔ ابن ہشام، عبدالملک، سیرہ ابن ہشام، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۳م۔

6۔ قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، قم، دارالکتاب، ۱۳۶۳ش۔

7۔ مجلسي، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بيروت، داراحياء التراث العربي، ۱۴۰۱ق۔

8۔ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، بیروت، مؤسسة آل البیت (علیهم السلام) لإحیاء التراث، ۱۴۱۶ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، پانچویں فصل، ص ۸۷ تا ۹۳، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔