عدل و انصاف کو پسند کرنے والوں کو اس سے کوئی رنج نہیں پہنچتا، کیونکہ عدل و انصاف ہی وہ بنیادی اصول ہے جو معاشرے کو استحکام بخشتا ہے۔ البتہ، غیر منظم اور قانون شکن لوگوں کےلئے عدل و انصاف ایک بہت بڑی سزا سے کم نہیں، کیونکہ یہ ان کی ناانصافیوں کو بے نقاب کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام علی (ع) سے سب سے زیادہ عداوت بھی آپ کی اسی عدل و انصاف کی صفت کی وجہ سے کی گئی، کیونکہ آپ کا ہر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہوتا تھا۔ تاریخ میں آپ کے عدل و انصاف کے بے شمار واقعات ملتے ہیں جو عدل و انصاف کی عظمت کو واضح کرتے ہیں۔
دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آنا
پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں: ’’حضرت امام علی (ع) احکام خداوندی کے جاری کرنے میں بہت زیادہ غور و فکر اور سختی سے عمل کرتے تھے اور ہرگز ان کی زندگی میں چاپلوسی اور خوشامدی کا دخل نہیں تھا‘‘
جو لوگ اپنی زندگی میں پاکیزہ مقصد کی تلاش میں رہتے ہیں وہ دن رات اس کی تلاش و جستجو کرتے رہتے ہیں، اور ان چیزوں کے مقابلے میں جو ان کے ہدف کی مخالف ہوں ان سے بے توجہ بھی نہیں رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہدف تک پہونچنے میں جو راستہ طے کرتے ہیں اس میں بعض محبت و الفت کرنے والے ملتے ہیں تو بعض عداوت و دشمنی کرتے ہیں۔ پاک دل اور روشن ضمیر ان کے عدل و انصاف اور پختہ گیری پر فریفتہ ہوئے ہیں لیکن غافل اور غیر متدین افراد ان کی سختی اور عدل و انصاف سے ناراض ہوتے ہیں۔
وہ لوگ جو اچھے اور برے کام انجام دیتے ہیں اور مسلمان اور غیر مسلمان کو ایک ہی صف میں رکھتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ کسی کی مخالفت مول لیں ایسے لوگ کبھی مذہبی اور بامقصد نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ تمام طبقوں کے ساتھ اتحاد و دوستی، منافقت اور دو رخی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
حضرت علی (ع) کی حکومت کے زمانے میں ایک شخص نے اپنے علاقے کے حاکم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تمام طبقوں کے لوگ اس سے راضی ہیں۔ حضرت امام علی (ع) نے فرمایا: لگتا ہے کہ وہ شخص عادل نہیں ہے کیونکہ تمام لوگوں کا راضی ہونا اس بات کی حکایت کرتا ہے کہ وہ منافق اور صحیح فیصلہ کرنے والا نہیں ہے ورنہ تمام لوگ اس سے راضی نہ ہوتے۔
حضرت علی (ع) ان لوگوں میں سے جو، صلح و آشتی کرنے والوں میں سے ہوتے، مہر و محبت اور پاکیزہ و صاف دلوں کو بلندی عطاء کرتے تھے اور اسی کے مقابلے میں غیظ و غضب کی آگ میں جلنے والوں اور قانون توڑنے والوں کو انہیں کے سینے میں ڈال دیا کرتے تھے۔
امام (ع) کا عدل و انصاف کی رعایت اور عدل و انصاف کے اصول و قوانین پر سختی سے عمل کرنا صرف آپ کی حکومت کے زمانے سے مخصوص نہیں ہے اگرچہ بہت سے مؤرخین اور مقررین جب حضرت امام علی (ع) کی پاکیزگی اور عدل و انصاف کے متعلق گفتگو کرتے ہیں تو اکثر آپ کی حکومت کے دوران رونما ہونے والے واقعات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ کیونکہ آپ کی حکومت کے زمانے میں یہ عظیم انسانی فضیلت بہت زیادہ رائج تھی۔
مگر حضرت امام علی (ع) کا عدل و انصاف اور قوانین پر سختی سے عمل پیرا ہونا رسول اسلام ﷺ کے زمانے سے ہی ہر خاص و عام کی زبان پر تھا، اس بنا پر وہ لوگ جو حضرت امام علی (ع) کے عدل و انصاف کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ گا ہے بہ گاہے پیغمبر اکرم ﷺ سے حضرت امام علی (ع) کی شکایت کرتے تھے اور ہمیشہ پیغمبر اکرم ﷺ اس کے برعکس کہتے تھے اور کہتے تھے حضرت امام علی (ع) قانون الہی کے اجراء میں کسی کی رعایت نہیں کرتا۔
امام علی (ع) کے عدل و انصاف کے واقعات
زمانہ پیغمبر اکرم ﷺ میں آپ سے متعلق چند واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں اور ہم یہاں بطور مثال دو واقعات کو نقل کر رہے ہیں:
پہلا واقعہ
10 ہجری میں جب پیغمبر اکرم ﷺ نے خانہ خدا کی زیارت کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت امام علی (ع) کو مسلمانوں کے ایک گروہ کے ساتھ ’’یمن’‘ بھیج دیا۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے حضرت امام علی (ع) کو حکم دیا تھا کہ جب یمن سے واپس آئیں تو وہ کپڑے جسے نجران کے عیسائیوں نے مباہلہ کے دن دینے کا دعدہ کیا تھا اسے اپنے ہمراہ لائیں اور اسے آپ ﷺ کے پاس پہونچا دیں، آپ (ع) کو ماموریت انجام دینے کے بعد معلوم ہوا کہ پیغمبر اکرم ﷺ خانۂ کعبہ کی زیارت کےلئے روانہ ہوگئے ہیں اس لئے آپ (ع) نے راستے کو بدل دیا اور مکہ کی جانب روانہ ہوگئے۔
آپ نے مکہ کے راستے کو بہت تیزی کے ساتھ طے کیا، تاکہ جلد سے جلد پیغمبر اکرم ﷺ کے پاس پہونچ جائیں۔ اسی وجہ سے ان تمام کپڑوں کو اپنے لشکر کے ایک سپہ سالار کے حوالے کردیا اور اپنے سپاہیوں سے الگ ہوگئے اور مکہ کے نزدیک پیغمبر اکرم ﷺ کے پاس پہونچ گئے۔ پیغمبر اکرم ﷺ اپنے بھائی کے دیدار سے بہت زیادہ خوشحال ہوئے اور جب احرام کے لباس میں دیکھا تو آپ سے احرام کی نیت کے متعلق حضرت امام علی (ع) نے جواب دیا: میں نے احرام پہنتے وقت کہا تھا خدایا میں اسی نیت پر احرام باندھ رہا ہوں جس نیت پر پیغمبر اکرم ﷺ نے احرام باندھا ہے۔
حضرت امام علی (ع) نے اپنے یمن اور نجران کے سفر اور وہ کپڑے جو لے کر آئے تھے، سے پیغمبر اکرم ﷺ کو مطلع کیا اور پھر پیغمبر اکرم ﷺ کے حکم سے اپنے سپاہیوں کے پاس واپس چلے گئے تاکہ دوبارہ ان کے ساتھ مکہ واپس جائیں۔ جب حضرت امام علی (ع) اپنے سپاہیوں کے پاس پہونچے تو آپ نے دیکھا کہ آپ کے جانشین سپہ سالار نے تمام کپڑوں کو سپاہیوں کے درمیان تقسم کردیا ہے اور تمام سپاہیوں نے ان کپڑوں کو احرام بنا کر پہن لیا ہے۔
حضرت امام علی (ع) اپنے سپہ سالار کے اس عمل پر بہت سخت ناراض ہوئے اور اس سے کہا: ان کپڑوں کو رسول خدا ﷺ کے سپرد کرنے سے پہلے تم نے کیوں سپاہیوں میں تقسیم کردیا؟ اس نے جواب دیا کہ آپ کے سپاہیوں نے بہت اصرار کیا کہ میں کپڑے کو ان لوگوں کے درمیان بطور امانت تقسیم کردوں اور حج کی ادائیگی کے بعد سب سے واپس لے لوں۔ حضرت امام علی (ع) نے اس کی بات کو قبول نہیں کیا اور کہا کہ تمہیں یہ اختیار نہیں تھا۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ تمام تقسیم ہوئے کپڑوں کو جمع کرو، تاکہ مکہ میں پیغمبر اکرم ﷺ کے سپرد کریں۔[1]
وہ گروہ جنھیں عدل و انصاف اور منظم و مرتب رہنے سے تکلیف ہوتی ہے وہ ہمیشہ تمام امور کو اپنے اعتبار سے جاری کروانا چاہتے ہیں وہ لوگ پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے اور حضرت امام علی (ع) کے نظم و ضبط اور سخت گیری کی شکایت کی، لیکن وہ لوگ اس نکتہ سے بے خبر تھے کہ اس طرح سے قانون شکنی اور بے جا خلاف ورزی ایک بڑی قانون شکنی اور خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔
’’أَلَا وَ إِنَّ الْخَطَايَا خَيْلٌ شُمُسٌ حُمِلَ عَلَيْهَا أَهْلُهَا وَ خُلِعَتْ لُجُمُهَا فَتَقَحَّمَتْ بِهِمْ فِى النَّارِ‘‘
حضرت امام علی (ع) کی نظر میں ایک گناہگار شخص (خصوصاً وہ گناہگار جو اپنی لغزشوں کو بہت چھوٹا تصور کرے) اس سوار کی طرح ہے جو ایک سرکش اور بے لگام گھوڑے پرسوار ہو۔ تو یقینا وہ گھوڑا اپنے سوار کو گڑھوں اور پتھروں پر گرا دے گا۔[2]
امام (ع) کا مقصد اس تشبیہ سے یہ ہے کہ کوئی بھی گناہ چاہے جتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو اگر اس کو نظر انداز کردیا جائے تو دوسرے گناہوں کو اپنے ساتھ لاتا ہے اور جب تک انسان کو گناہ کا مرتکب نہیں کردیتا اور آگ میں نہیں ڈال دیتا اس سے دوری اختیار نہیں کرپاتا۔ اسی وجہ سے انسان کےلئے ضروری ہے کہ شروع سے ہی اپنے کو گناہوں سے محفوظ رکھے۔ اور اسلامی اصول و قوانین کی معمولی مخالفت سے پرہیز کرے۔
پیغمبر اکرم ﷺ نے جو حضرت امام علی (ع) کے تمام کام اور ان کی عدل و انصاف سے مکمل طور پر باخبر تھے، اپنے کسی ایک صحابی کو بلایا اور اس سے کہا کہ شکایت کرنے والوں کے پاس جاؤ اور میرے اس پیغام کو ان تک پہونچا دو۔ علی (ع) کی برائی کرنے سے باز آجاؤ کیونکہ وہ خدا کے احکام کو جاری کرنے میں بہت سخت ہے اور اس کی زندگی میں ہرگز چاپلوسی اور خوشامد نہیں پائی جاتی۔
دوسرا واقعہ
خالد بن ولید قریش کا ایک بہادر سردار تھا۔ اس نے 7 ہجری کو مکہ سے مدینے کی طرف ہجرت کی اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ قوانین الہی پر عمل پیرا ہوتا، اسلام کی نو بنیاد حکومت کو گرانے کےلئے قریش کی طرف سے جتنی بھی جنگیں ہوئیں اس میں شریک رہا۔ یہ وہی شخص تھا جس نے جنگ احد میں مسلمانوں پر رات میں چھپ کر حملہ کیا اور ان کی فوج کی پشت سے میدان جنگ میں وارد ہوا۔
اور اسلام کے مجاہدوں پر حملہ کیا۔ اس شخص نے اسلام لانے کے بعد بھی حضرت امام علی (ع) سے عداوت و دشمنی کو فراموش نہیں کیا اور حضرت امام علی (ع) کی قدرت و طاقت و بہادری سے ہمیشہ حسد کرتا رہا۔ پیغمبر اکرم ﷺ کی شہادت کے بعد خلیفہ وقت سے حضرت امام علی (ع) کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی، لیکن کسی علت کی بنا پر کامیاب نہ ہوسکا۔
اس واقعے کی تشریح زندگانی امیر المومنین کے چوتھے حصے میں آئی ہے جو حصہ مخصوص ہے حضرت امام علی (ع) کی زندگی کے حالات پیغمبر اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد سے۔
احمد بن حنبل اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
پیغمبر اکرم ﷺ نے حضرت امام علی (ع) کو اسی گروہ کے ساتھ کہ جس میں خالد بھی موجود تھا یمن بھیجا، اسلام کی فوج سے یمن کے ایک مقام پر قبیلۂ بنی زید سے جنگ ہوئی اور دشمنوں پر کامیابی حاصل کرلی اور کچھ مال غنیمت ہاتھ لگا۔ حضرت امام علی (ع) نے عدل و انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے مال غنیمت تقسیم کردیا اور یہ روش خالد بن ولید کی رضایت کے برخلاف تھی۔ اس نے پیغمبر اکرم ﷺ اور حضرت امام علی (ع) کے درمیان سوء تفاہم پیدا کرنے کےلئے خط لکھا اور اسے بریدہ کے حوالے کیا تاکہ جتنی جلدی ممکن ہو پیغمبر اکرم ﷺ تک پہونچا دے۔
بریدہ کہتا ہے:
میں بہت تیزی کے ساتھ مدینہ پہونچا اور اس نامے کو پیغمبر اکرم ﷺ کے حوالے کیا، حضرت ﷺ نے اس نامے کو اپنے کسی ایک صحابی کو دیا تاکہ وہ پڑھے اور جب وہ نامہ پڑھ چکا تو میں نے اچانک پیغمبر اکرم ﷺ کے چہرے پر غیظ و غضب کے آثار دیکھے۔ بریدہ کہتا ہے کہ میں اس طرح کا خط لا کر بہت شرمندہ ہوا اور عذر خواہی کےلئے کہا کہ خالد کے حکم سے میں نے یہ کام کیا ہے اور میرا اس کے حکم کی پیروی کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
وہ کہتا ہے کہ جب میں خاموش ہوگیا تو کچھ دیر کےلئے سکوت طاری رہا۔ اچانک پیغمبر اکرم ﷺ نے اس خاموشی کو توڑا اور فرمایا: علی کے بارے میں بری باتیں نہ کہو ’’فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بعْدِي‘‘ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارے ولی و حاکم ہیں۔
بریدہ کہتا ہے کہ میں اپنے کئے پر بہت نادم تھا چنانچہ رسول خدا ﷺ سے استغفار کی درخواست کی۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے کہا جب تک حضرت امام علی (ع) نہ آئیں اور اس کےلئے رضایت نہ دیں میں تیرے لئے استغفار نہیں کروں گا۔ اچانک حضرت امام علی (ع) پہونچے اور میں نے ان سے درخواست کی کہ پیغمبر اکرم ﷺ سے میری سفارش کردیں کہ وہ میرے لئے استغفار کریں۔[3]
اس روداد کی وجہ سے بریدہ نے اپنی دوستی کو خالد سے ختم کرلیا اور صدق دل سے حضرت امام علی (ع) سے محبت کرنے لگا اور پیغمبر اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد اس نے ابوبکر کی بیعت بھی نہ کی اور ان بارہ آدمیوں میں سے ایک تھا جنھوں نے ابوبکر کے اس عمل پر اعتراض کیا اور انہیں خلیفہ تسلیم نہیں کیا۔[4]
خاتمہ
تاریخ میں امام علی (ع) کے عدل و انصاف کے بہت سارے واقعات درج ہیں لیکن پیغمبر ﷺ امام علی (ع) کی زندگی میں دو اہم واقعات ملتے ہیں، جو آپ (ع) کے خدا کے دین کی سختی سے پابندی کرانے کی دلیلیں ہیں۔ یہاں تک کہ قانون شکن لوگوں نے تنگ آ کر کئی مرتبہ رسول اکرم ﷺ سے آپ (ع) کی شکایت کی، لیکن پیغمبر اکرم ﷺ نے ہر بار یہی فرمایا کہ علی (ع) خلافِ عدل و انصاف کوئی کام نہیں کرسکتے۔
منابع
[1]۔ مجلسي، بحار الانوار، ج۲۱، ص۳۸۵۔
[2]۔ شریف رضی، نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۔
[3]۔ ابن الأثیر عزالدین، اسد الغابہ، ج۱، ص۱۷۶؛ مدنی، والدرجات الرفیعہ، ص۴۰۱۔
[4]۔ مامقانی، رجال مامقانی، ج۱، ص۱۹۹، منقول از احتجاج۔
کتابیات
1۔ ابن الأثیر عزالدین، علی بن محمد، أسد الغابة في معرفة الصّحابة، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ھ ق۔
2۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نهج البلاغه، تہران، شرکت سهامی طبع کتاب، ۱۳۴۴ھ ش۔
3۔ مامقانی، عبدالله، تنقیح المقال في علم الرجال، قم، آل البیت (ع)، ۱۴۳۱ھ ق۔
4۔ مجلسي، محمد باقربن، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، بيروت، داراحياء التراث العربي، ۱۴۰۱ھ ق۔
5۔ مدنی، علیخان بن احمد، الدرجات الرفیعة، بیروت، مؤسسة الوفاء، ۱۴۰۳ھ ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، تیسرا باب، آٹھویں فصل، ص ۱۰۸ تا ۱۱۲، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔