حضرت علیؑ کی پرورش اور تربیت پیغمبر اکرمﷺ کے دامن محبت میں

حضرت علیؑ کی پرورش اور تربیت پیغمبر اکرمﷺ کے دامن محبت میں

کپی کردن لینک

حضرت علی (ع) کی زندگی، کعبہ میں ولادت سے لے کر، نوجوانی، جوانی، اور پختہ سالگی تک کے تمام مراحل پیغمبر ﷺ کے زیر سایہ پایہ تکمیل کو پہنچے۔ آپ ﷺ نے حضرت علی (ع) کی تربیت اور پرورش کا ذمہ خود لیا اور اس بات کا مکمل خیال رکھا کہ حضرت علی (ع) کی پرورش میں کسی اور شخص کا اثر نہ ہو۔

 حضرت علی (ع) اور حضرت عیسیٰ (ع) میں ممثالت

کائنات کی عظیم اور بزرگ شخصیتوں کے درمیان حضرت علی (ع) کے علاوہ کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں نظریے قائم ہوئے ہوں۔

آپ سے محبت اور دشمنی کرنے میں بھی آپ جیسا کوئی نہیں ہے، آپ کے چاہنے والوں کی بھی تعداد بہت ہے اور آپ کے دشمنوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، عظیم شخصیتوں اور انسانوں کے درمیان فقط جناب حضرت عیسیٰ مسیح (ع) ہیں، جو حضرت علی (ع) کی طرح ہیں۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ (ع) سے دوستی اور دشمنی کرنے والے دو متضاد دھڑے نظر آتے ہیں، اس طرح دونوں آسمانی پیشواؤں میں مشابہت پائی جاتی ہے۔

حضرت عیسیٰ (ع) دنیا کے تمام عیسائیوں کے گمان و خیال میں وہی خدائے مجسم ہیں جس نے اپنے بندوں اور چاہنے والوں کو اپنے باپ حضرت آدم (ع) سے ورثہ میں ملے ہوئے گناہوں سے نجات دلانے کے لئے زمین پر آئے اور آخر کار سولی پر چڑھا دیئے گئے وہ عام عیسائیوں کی نگاہ میں الوہیت کے علاوہ کوئی اور شخصیت کے مالک نہ تھے۔

بالکل ایسے کچھ افراد ہیں جو حضرت علی (ع) کے بارے میں متضاد فکر رکھتے ہیں ایک گروہ کم ظرف اور تنگ نظر ہے اور دوسرا کچھ زیادہ ہی الفت و محبت کی وجہ سے خدا کے مطیع و فرمانبردار کو مقام الوہیت تک پہنچا دیا ہے اور جو کرامتیں اور معجزات حضرت کی پوری زندگی میں ظاہر ہوئے اس کی وجہ سے وہ خدا مان بیٹھے ہیں افسوس کہ اس گروہ نے اپنے کو اس مقدس نام ”علوی” سے منسوب کر رکھا ہے اور آج بھی اس نظریے پر چلنے والے اور ان کی پیروی کرنے والے افراد کثرت سے موجود ہیں۔

پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) کے زمانہ حکومت میں، ان دونوں گروہوں کے ظہور کے سلسلے میں بخوبی آگاہ تھے اسی وجہ سے آپ نے حضرت علی (ع) سے ایک موقع پر فرمایا تھا: ”هَلَكَ فيكَ اثْنانِ مُحِبٌّ غال وَ مُبْغِضٌ قَالٍ‘‘[1]

تمہارے ماننے والوں میں سے دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ گروہ جو تمہارے بارے میں غلو کرے گا اور دوسرا وہ گروہ جو تم سے دشمنی و عداوت رکھے گا۔

حضرت علی (ع) اور حضرت عیسیٰ (ع) کے درمیان ایک اور بھی مشابہت پائی جاتی ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں پران دو شخصیتوں کی ولادت ہوئی ہے۔

حضرت عیسیٰ (ع) کی ولادت مقدس، سرزمین بیت اللحم (جو کہ بیت المقدس کے علاوہ ہے) پر ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام پیغمبروں سے آپ ایک جہت سے برتر و افضل ہیں، اور حضرت علی (ع) کی ولادت مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین خانہ کعبہ کے اندر معجزاتی طور پر ہوئی، اور آپ نے خدا کے گھر (مسجد کوفہ) میں جام شہادت نوش۔

حضرت علی (ع) کی شخصیت کے تین پہلو

ماہرین نفسیات کی نظر میں ہر انسان کی شخصیت کے نکھار میں تین اہم عوامل ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک شخصیت سازی میں مؤثر ہوتا ہے گویا انسان کی روح اور صفات اور فکر کرنے کا طریقہ مثلث کی طرح ہے اور یہ تینوں پہلو ایک دوسرے سے ملنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور وہ تینوں عامل یہ ہیں:

1۔ وراثت
2۔ تعلیم و تربیت
3۔ محیط زندگی

انسان کے اچھے اور برے صفات اور اس کی عظیم و پست خصلتیں ان تینوں عامل کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں اور رشد و نمو کرتی ہیں۔

ہماری اولادیں ہم سے صرف ظاہری صفات مثلاً شکل و صورت ہی بطور میراث نہیں لیتیں بلکہ ماں باپ کے باطنی صفات اور روحانی کیفیت بھی بطور میراث اولاد میں منتقل ہوتی ہیں۔ تعلیم و تربیت اور محیط زندگی، جو انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہیں، بہترین تربیت جسے خداوند عالم نے انسان کے ہاتھوں میں دیا ہے۔

یا مثالی تربیت جسے بچہ ماں باپ سے بطور میراث حاصل کرتا ہے اس کی بہت عظمت و منزلت ہے، ایک استاد بچے کی تقدیر یا اس کے درسی رجحان کو بدل سکتا ہے اور اسی طرح گناہوں سے آلودہ انسانوں کو پاک و پاکیزہ، اور پاک و پاکیزہ افراد کو گناہوں کے دلدل میں ڈال سکتا ہے یہ دونوں صورتیں انسان کی شخصیت کو اتنا واضح و روشن کرتی ہیں کہ جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ان تینوں امور پر انسان کا ارادہ غالب ہے۔

حضرت علی (ع) کی خاندانی شخصیت

حضرت علی (ع) کی ولادت ابوطالب (ع) کے صلب سے ہوئی۔ ابوطالب (ع)، بطحاء (مکہ) کے بزرگ اور بنی ہاشم کے رئیس تھے۔ آپ کا پورا وجود مہربانی و عطوفت، جانبازی اور فدا کاری اور جود و سخا میں آئین توحید کا آئینہ دار تھا۔

جس دن پیغمبر ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہوا اس وقت آپ صرف آٹھ سال کے تھے اور اس دن سے 42 سال تک آپ نے پیغمبر ﷺ کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لی تھی اور بے مثال عشق و محبت سے پیغمبر ﷺ کے مقدس ہدف، جو کہ وحدانیت پروردگار تھا، میں جم کر فدا کاری کی اور یہ حقیقت آپ کے بہت سے اشعار ”دیوان ابوطالب” سے واضح ہوتی ہیں. مثلاً:

”ليعلم خيارُ الناس أنّ محمّداً نبيُّ كموسى والمسيحِ بن مريم‘‘[2]

پاک و پاکیزہ اور نیک طینت والے یہ جان لیں کہ محمد ﷺ، موسیٰ اور عیسیٰ (ع) کی طرح پیغمبر ہیں اور دوسری جگہ فرماتے ہیں:

”أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنّا وَجَدْنا مُحَمّداً *** رَسُولاً كَمُوسى خُطَّ في أَوَّلِ الْكُتُب‘‘[3]

کیا تم لوگ نہیں جانتے کہ محمد ﷺ موسیٰ کی طرح آسمانی رہبر اور رسول ہیں، اور ان کی پیغمبری کا تذکرہ آسمانی کتابوں میں درج ہے ایک ایسی قربانی، کہ جس میں تمام بنی ہاشم ایک سوکھی اور تپتی ہوئی غار میں قید ہوگئے اور یہ چیز مقصد سے عشق و محبت کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ اتنا گہرا معنویت سے تعلق ہو، رشتے کی الفت و محبت اور تمام مادی عوامل اس طرح کی ایثار و قربانی کے روح انسان کے اندر پیدا نہیں کرسکتیں۔

حضرت ابوطالب کے ایمان کی دلیل اپنے بھتیجے کے آئین و قوانین پر اس قدر زیادہ ہے جس نے محققین کی نظروں کو اپنی طرف جذب کر لیا ہے۔ مگر افسوس کہ ایک گروہ نے تعصب کی بنیاد پر ابوطالب پر شک کیا اور دوسرے گروہ نے تو بہت ہی زیادہ جسارت کی ہے اور آپ کو غیر مومن تک کہہ ڈالا ہے۔

حالانکہ وہ دلیلیں جو حضرت ابوطالب کے لئے تاریخ و حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں اگر اس میں سے تھوڑا بہت کسی اور کے متعلق تحریر ہوتا تو اس کے ایمان واسلام کے متعلق ذرہ برابر بھی شک و تردید نہ کرتے۔ مگر انسان نہیں جانتا کہ اتنی دلیلوں کے باوجود بعض انسانوں کا دل روشن نہ ہوسکا۔

حضرت علی (ع) کی کعبہ میں ولادت پر اقوال

آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد، جناب ہاشم کی بیٹی ہیں۔ آپ وہ پہلی خاتون ہیں جو پیغمبر ﷺ پر ایمان سے پہلے آئین ابراہیمی پر عمل پیرا ہوئیں۔ وہ وہی پاکیزہ و مقدس خاتون ہیں جو درد زہ کی شدت کے وقت مسجد الحرام کی طرف آئیں اور دیوار کعبہ کے قریب جا کر کہا:

پروردگارا! میں تجھ پر اور پیغمبروں پر اور آسمانی کتابوں پر جو تیری طرف سے نازل ہوئی ہیں اور اپنے جد ابراہیم کے آئین پر جنہوں نے اس گھر کو بنایا ہے ایمان کامل رکھتی ہوں، پروردگارا: جس نے اس گھر کو تعمیر کیا اس کی عظمت اور اس مولود کے حق کا واسطہ جو میرے رحم میں ہے اس بچے کی ولادت کو مجھ پر آسان کردے۔

ابھی کچھ دیر بھی نہ گزری تھی کہ فاطمہ بنت اسد معجزاتی طریقے سے خدا کے گھر میں داخل ہوئیں اور مولائے کائنات کی ولادت ہوئی۔[4] اس عظیم فضیلت کو مذہب شیعہ کے معتبر محدثین اور مؤرخین اور علم انساب کے معتبر دانشوروں اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ اہلسنت کے اکثر دانشوروں نے اس حقیقت کو صراحت سے بیان کیا ہے اور اس کو ایک بے مثال فضیلت کے نام سے تعبیر کیا ہے۔[5]

حاکم نیشاپوری کا قول: خانہ کعبہ میں علی کی ولادت کی خبر حدیث تواتر کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔[6]

آلوسی کا قول: کعبہ میں علی کی ولادت کی خبر دنیا کے تمام مذہبوں کے درمیان مشہور و معروف ہے اور آج تک کسی کو بھی یہ فضیلت حاصل نہیں ہوئی ہے۔[7]

پیغمبر ﷺ کی آغوش اور علی (ع) کی زندگی کا آغاز

اگر امام (ع) کی عمر کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو آپ کی زندگی کا ابتدائی دور پیغمبر ﷺ کی بعثت سے پہلے کا دور ہوگا۔ اس وقت امام (ع) کی عمر دس سال سے زیادہ نہیں تھی۔ کیونکہ جب حضرت علی (ع) کی ولادت ہوئی تو پیغمبر ﷺ کی عمر 30 سال سے زیادہ نہ تھی۔ اور پیغمبر ﷺ چالیس سال کی عمر میں رسالت کے لئے مبعوث ہوئے۔ ابن خشاب نے اپنی کتاب موالید الائمہ میں حضرت علی (ع) کی کل عمر 65 سال اور بعثت پیغمبر سے پہلے 12 سال لکھی ہے۔[8]

امام (ع) کی زندگی کے حساس ترین واقعات اسی دور میں رونما ہوئے یعنی حضرت علی (ع) کی شخصیت پیغمبر کے توسط سے ابھری، عمر کا یہ حصہ ہر انسان کے لئے اس کی زندگی کا سب سے حساس اور کامیاب و اہم حصہ ہوتا ہے ایک بچے کی شخصیت اس عمر میں ایک سفید کاغذ کی مانند ہوتی ہے اور وہ ہر شکل کو قبول کرنے اور اس پر نقش ہونے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔

اس کی عمر کا یہ حصہ پرورش کرنے والوں اور تربیت کرنے والوں کے لئے سنہرا موقع ہوتا ہے تاکہ بچے کی روح کو فضائل اخلاقی سے مزین کریں کہ جس کی ذمہ داری خدا نے ان کے ہاتھوں میں دی ہے تاکہ ان کی بہترین تربیت کریں۔

اور اسے انسانی اور اخلاقی اصولوں سے روشناس کرائیں اور بہترین اور کامیاب زندگی گزارنے کا طور طریقہ اسے سکھائیں۔ پیغمبر ﷺ نے اسی عظیم مقصد کے لئے حضرت علی (ع) کی ولا دت کے بعد ان کی تربیت کی ذمہ داری خود لے رکھی تھی، جس وقت حضرت علی (ع) کی والدہ نو مولود بچے کو لے کر پیغمبر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو پیغمبر ﷺ نے والہانہ عشق و محبت کے ساتھ اس بچے کو دیکھا اور کہا اے چچی علی کے جھولے کو میرے بستر کے قریب رکھ دیجیے،

اس جہت سے حضرت علی (ع) کی زندگی کا آغاز پیغمبر ﷺ کے لطف خاص سے ہوا، پیغمبر صرف سوتے وقت حضرت علی (ع) کے گہوارہ کو جھولاتے ہی نہیں تھے بلکہ آپ کے بدن کو دھوتے بھی تھے اور انہیں دودھ بھی پلاتے تھے، اور جب حضرت علی (ع) بیدار ہوتے تو خلوص و الفت کے ساتھ ان سے بات کرتے تھے اور کبھی کبھی انہیں سینے سے لگا کر کہتے تھے ”یہ میرا بھائی ہے اور مستقبل میں میرا ولی و ناصر اور میرا وصی اور میرا داماد ہوگا”

پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ کبھی بھی ان سے جدا نہیں ہوتے تھے اور جب بھی مکہ سے باہر عبادت خدا کے لئے جاتے تھے تو حضرت علی (ع) کو چھوٹے بھائی یا عزیز ترین فرزند کی طرح اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔[9]

اس حفاظت و مراقبت کا مقصد یہ تھا کہ حضرت علی (ع) کی شخصیت کا دوسرا پہلو جو کہ تربیت ہے آپ کے ذریعے ہو اور پیغمبر ﷺ کے علاوہ کوئی شخص بھی ان کی تربیت میں شامل نہ ہو۔

حضرت علی (ع) اپنے خطبے میں پیغمبر ﷺ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ”وَ قَدْ عَلِمْتُمْ مَوْضِعي مِنْ رَسُولِ اللّهِ بِالْقَرابَةِ الْقَرِيبَةِ وَالْمَنْزِلَةِ الخَصِيصَةِ، وَضَعَني في حِجْرِهِ وَ أَنَا وَلَدٌ يَضُمُّني إِلى صَدْرِهِ وَ يَكْنُفُني في فِراشِهِ وَ يُمِسُّنِي جَسَدَهُ وَ يُشِمُّني عَرْفهُ وَ كانَ يَمْضَغُ الشَّيءَ ثُمَّ يُلْقِمُنِيهِ‘‘[10]

حضرت علی (ع) پیغمبر ﷺ کے گھر میں

جب خدا نے چاہا کہ اس کے دین کا عظیم ولی، سردار انبیاء، پیغمبر ﷺ کے گھر میں پرورش پائے اور رسول ﷺ کے زیر نظر اس کی تربیت ہو تو پیغمبر ﷺ کو اس کی طرف متوجہ کیا۔

اسلام کے مشہور مورخین لکھتے ہیں: مکہ میں سخت قحط پڑا، پیغمبر کے چچا ابوطالب اپنے اہل و عیال کے ساتھ اخراجات کے متعلق بہت پریشان ہوئے، پیغمبر ﷺ اپنے دوسرے چچا عباس جو ابوطالب سے زیادہ امیر اور دولت مند تھے،

سے گفتگو کی اور دونوں کے درمیان یہ طے پایا کہ ہر ایک حضرت ابوطالب کے لڑکوں میں سے ایک ایک کو اپنے گھر لے جائے تاکہ اس قحط کے زمانے میں ابوطالب کی پریشانیوں میں کچھ کمی واقع ہو چنانچہ جناب عباس، جعفر کو اور پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) کو اپنے گھر لے گئے۔[11]

اب جبکہ حضرت علی (ع) مکمل طور پر پیغمبر کے اختیار میں تھے حضرت علی (ع) نے انسانی اور اخلاقی فضیلتوں کے گلستان سے بہت زیادہ فائدہ اٹھایا اور پیغمبر ﷺ کی سر پرستی میں کمال کے بلند ترین درجے پر فائز ہوئے، امام (ع) نے اپنے خطبے میں اس زمانے اور پیغمبر کی تربیت کی طرف اشارہ کیا ہے آپ فرماتے ہیں: ”وَلَقَدْ كُنْتُ أَتَّبِعُهُ اتِّباعَ الْفصيلِ أَثَرَ أُمِّه يَرْفَعُ لي كُلَّ يَوْم مِنْ أَخْلاقِهِ عَلَماً وَيَأْمُرُني بالاِقْتِداءِ بِهِ‘‘[12]

میں اونٹ کے اس بچے کی طرح جو اپنی ماں کی طرف جاتا ہے، پیغمبر کی طرف گیا، آپ روزانہ مجھے اپنے اخلاق حسنہ کا ایک پہلو سکھاتے تھے اور حکم دیتے کہ ان کی پیروی کروں۔

حضرت علی (ع) غار حرا میں

پیغمبر ﷺ رسالت پر مبعوث ہونے سے پہلے تک سال میں ایک مہینہ غار حرا میں عبادت میں مصروف رہتے تھے اور جیسے ہی مہینہ ختم ہوتا تھا آپ پہاڑ سے نیچے اترتے تھے اور سیدھے

مسجدالحرام کی طرف جاتے تھے اور سات مرتبہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے پھر اپنے گھر واپس آتے تھے۔

یہاں پر سوال یہ ہے کہ جب پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) سے اس قدر محبت کرتے تھے تو کیا اس عجیب و غریب جگہ پر عبادت و دعا کے لئے حضرت علی (ع) کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے یا انہیں اتنی مدت تک کہاں چھوڑ کر جاتے تھے؟

تمام قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ جس دن سے پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) کو اپنے گھر لے گئے اس دن سے ایک دن کے لئے بھی انہیں اپنے سے جدا نہیں کیا۔

مؤرخین لکھتے ہیں: حضرت علی (ع) ہمیشہ پیغمبر کے ساتھ رہتے تھے اور جب بھی پیغمبر شہر سے باہر جاتے اور بیابان اور پہاڑ کی طرف جاتے تو حضرت علی (ع) کو اپنے ساتھ لے جاتے۔[13]

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: حدیثوں سے پتہ چلتا ہے کہ جب جبرئیل پہلی مرتبہ پیغمبر ﷺ پر نازل ہوئے اور انہیں رسالت کے عہدے پر فائز کیا اس وقت حضرت علی (ع) پیغمبر ﷺ کے ہمراہ تھے اور وہ دن انہی دنوں میں سے تھا جن دنوں پیغمبر ﷺ غار حرا میں عبادتوں کے لئے جایا کرتے تھے۔ حضرت علی (ع) اس سلسلے میں فرماتے ہیں: ”وَلَقَدْ كانَ يُجاوِرُ فِي كُلِّ سَنَة بِحَراء فَأَراهُ ولا يَراهُ غيْري‘‘[14]

”پیغمبر ہر سال غار حرا میں عبادت کے لئے جاتے تھے اور میرے علاوہ کسی نے انہیں نہیں دیکھا” اس جملے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مولائے کائنات غار حرا میں پیغمبر ﷺ کے ہمراہ، رسالت کے بعد بھی تھے لیکن گذشتہ قرائن سے مولائے کائنات کا پیغمبر ﷺ کے ساتھ غار حرا میں ہونا غالباً رسالت سے پہلے ہے اور خود یہ جملہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہ واقعہ پیغمبر ﷺ کی رسالت سے پہلے کا ہے۔

حضرت علی (ع) کی طہارت و پاکیزگی اور پیغمبر ﷺ کے ہاتھوں ان کی پرورش کا ہونا اس بات کا سبب بنا کہ اسی بچپن کے زمانے میں حساس دل اور چشم بصیرت اور اپنی بہترین سماعتوں کے ذریعے ایسی چیزیں دیکھیں اور ایسی آوازیں سنیں کہ جن کا سننا یا دیکھنا عام آدمی کے لئے ممکن نہیں ہے۔ چنانچہ امام (ع) خود اس سلسلے میں فرماتے ہیں: ”أَرى نُورَ الوَحْيِ وَ الرِّسالَةِ وَ أَشُمُّ ريحَ النُّبُوَّةِ‘‘[15]

ہم نے بچپن کے زمانے میں غار حرا میں پیغمبر ﷺ کے ساتھ وحی اور رسالت کے نور کو دیکھا جو پیغمبر پر چمک رہا تھا اور پاک و پاکیزہ نبوت کی خوشبو سے اپنے مشام کو معطر کیا۔

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: علی (ع) نے پیغمبر ﷺ کی رسالت سے پہلے نور رسالت اور وحی کے فرشتے کی آواز کو سنا تھا اس عظیم موقع پر جب کہ آپ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: اگر میں خاتم الانبیاء نہ ہوتا تو تم میں پیغمبری کی تمام چیزیں بدرجہ اتم موجود تھیں اور تم میرے بعد پیغمبر ہوتے لیکن تم میرے بعد میرے وصی اور وارث اور تمام وصیوں کے سردار اور متقیوں کے پیشوا ہو۔[16]

علی (ع) اس غیبی آواز کے متعلق جس کو آپ نے بچپن میں سنا تھا ارشاد فرماتے ہیں: جس وقت پیغمبر پر وحی نازل ہوئی اسی وقت میرے کانوں سے کسی کے نالہ و فریاد کی آواز ٹکرائی میں نے رسول خدا سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ نالہ و فریاد کیسا ہے؟ آپ نے فرما یا:

یہ شیطان کا نالہ و فریاد ہے اور اس کی علت یہ ہے کہ میری بعثت کے بعد زمین والوں کے درمیان جو اس کی اطاعت و پرستش ہوتی اس سے یہ نا امید ہو گیا ہے پھر پیغمبر ﷺ حضرت علی (ع) کی طرف مخاطب ہوکر کہتے ہیں: ”إِنَّكَ تَسْمَعُ ما أَسْمَعُ وَ تَرى ما أَرى، إِلاّ أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِىّ وَ لكِنَّكَ لَوَزيرٌ‘‘[17]

اے علی! جس چیز کو میں نے سنا اور دیکھا تم نے بھی اسے دیکھا اور سنا مگر یہ کہ تم پیغمبر نہیں ہو بلکہ تم میرے وزیر اور مددگار ہو۔

 

خاتمہ

حضرت علی (ع) کی زندگی کے تمام پہلو چاہے بعثت پیغمبر ﷺ سے قبل ہوں یا بعثت کے بعد، پیغمبر ﷺ کی موجودگی شفقت، محبت، تربیت  اور تاْثیر سے سرشار ہیں۔

 

حوالہ جات

[1]۔ سید رضی، نہج البلاغہ، کلمات قصار177۔

[2]۔ مجمع البیان، ج4، ص37۔

[3]۔ مجمع البیان، ج4، ص37۔

[4]۔ کشف الغمہ، ج1 ص90۔

[5]۔ مروج الذہب، ج2، ص349؛ بشرح الشفاء، ج1، ص151۔

[6]۔ مستدرک حاکم، ج3، ص483۔

[7]۔ شرح قصیدہ عبدالباقی آفندی، ص15۔

[8]۔ تفصیل کتاب کشف الغمہ کے ص ۶۵ پر ملاحظہ فرمائیں۔

[9]۔ کشف الغمہ، ج1، ص90۔

[10]۔ نہج البلاغہ عبدہ، ج2، ص182، خطبۂ قاصعۃ۔

[11]۔ سیرۂ ابن ہشام، ج1، ص236۔

[12]۔ نہج البلاغہ عبدہ، ج2، ص182۔

[13]۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج13، ص208۔

[14]۔ نہج البلاغہ، خطبہ187۔

[15]۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج13، ص197۔

[16]۔ شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج13، ص31۰۔

[17]۔ نهج البلاغه، خطبه قاصعۃ۔

 

کتابیات

1۔ ابن ابی الحدید، عبد الحمید بن هبۃ الله، شرح نهج البلاغة، قم، مکتبۃ آیۃ الله العظمی المرعشي النجفي، ۱۳۶۳ھ ش۔

2۔ ابن ھشام، عبد الملك، السيرۃ النبويۃ لابن هشام، بیروت، شركۃ مكتبۃ ومطبعۃ مصطفى البابي الحلبي وأولاده، ۱۳۷۵ھ ق۔

3۔ اربلی، علی بن عیسی، كشف الغمۃ في معرفۃ الأئمۃ، تبریز، بني هاشمي، 1381ھ ش۔

4۔ حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الكتب العلمية، 1411ھ ق۔

5۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، هجرت، 1414ھ ش۔

6۔ طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تهران، ناصر خسرو، 1372ھ ش۔

7۔ عبده، محمد، شرح نهج البلاغة (عبده)، مصر، مطبعه الاستقامۃ۔

8۔ عمری، عبدالباقی بن سلیمان، شرح قصیده عبدالباقی، تهران، آقا ميرزا محمد رضا بن حاج ميرزا کريم نوري، 1270ھ ق۔

9۔ قاری، علی بن سلطان‌ محمد، شرح الشفا للقاضي عياض، بروت، دار الکتب العلميۃ، 1421ھ ق۔

10۔ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، قم، مؤسسة دار الهجرۃ، ۱۴۰۹ھ ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، پہلا باب، ص۱۳ تا ۲۳، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

 

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔