صحابہ کے درمیان امیرالمومنین حضرت علی (ع) کا مقام و مرتبہ

صحابہ کے درمیان امیر المومنین حضرت علیؑ کا مقام و مرتبہ

کپی کردن لینک

اصحاب میں حضرت علیؑ کا مقام منفرد اور نمایاں ہے، کیونکہ وہ سب سے زیادہ فضیلتوں کے حامل تھے اور نیز ان کی قربت رسول اکرم (ص) سے بھی سب سے زیادہ تھی۔ کچھ فضائل ایسے تھے جو خاص طور پر حضرت علی (ع) سے مختص تھے۔ اصحاب کے درمیان حضرت علیؑ کا مقام و برتری اسی وقت واضح ہو گئی تھی جب نبی اکرم (ص) نے آغاز اسلام ہی میں انہیں اپنا وصی اور جانشین مقرر فرمایا۔

حضرت علیؑ کا مقام اور آپ کی فضیلتیں

اصحاب کے درمیان امیر المومنین حضرت علیؑ کا مقام ایک منفرد و خاص مقام ہے، مسعودی کہتا ہے: وہ تمام فضائل و مناقب جو اصحاب میں تھے جیسے اسلام میں سبقت، ہجرت، نصرت پیغمبر (ص)، آنحضرت (ص) کے ساتھ قرابت، قناعت، ایثار، کتاب خدا کا جاننا، جھاد، تقویٰ، ورع پرہیزگاری، زہد، قضا، فقہ وغیرہ یہ تمام فضیلتیں حضرت علی (ع) میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔

بلکہ ان کے علاوہ بعض فضیلتیں صرف آپ کی ذات گرامی سے مختص ہیں جیسے پیغمبر (ص) کا بھائی ہونا اور پیغمبر کا آپ کے بارے میں فرمانا: یا علی: تم کومجھ سے و ہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، اور یہ بھی کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے علی (ع) مولا ہیں، اے اللہ !علی (ع) کے دوستوں کودوست رکھ اور علی (ع) کے دشمن کو دشمن قراردے۔[1]

بنی ہاشم میں بھی حضرت علی (ع) پیغمبر (ص) سے سب سے زیادہ نزدیک تھے۔ بچپنے ہی سے آپ نے پیغمبر (ص) کے گھر اور انھیں کے زیر نظر تربیت پائی۔[2]

ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ رسول خدا (ص) نے اسلام میں حضرت علیؑ کا مقام اور آپ کے بلند مرتبہ فضیلت کو آغاز پیغمبری ہی میں معین فرما دیا تھا، جس وقت پیغمبر (ص) کو حکم ہوا کہ اپنے قرابت داروں کو ڈرائیں۔ اسی وجہ سے شاید علی (ع) كو اصحاب پیامبر (ص) میں پہلا صحابی بھی جانا جا سكتا ہے۔

اس جلسہ میں جو پیغمبر (ص) کی مدد کے لئے حاضر ہوئے وہ صرف علی (ع) تھے اس کے بعد رسول (ص) نے اسی جلسہ میں خاندان کے بزرگوں کے درمیان یہ اعلان کر دیا کہ علی (ع) میرے وصی، وزیر، خلیفہ اور جانشین ہیں جب کہ حضرت علی (ع) کا سن تمام حاضرین سے کم تھا۔[3]

پیغمبر اکرم (ص) نے مختلف مقامات پر مناسبت کے لحاظ سے حضرت علی (ع) كے مقام کو لوگوں کے سامنے بیان کیا اور اس طرح حضرت علیؑ کا مقام واضح کیا ہے۔ خاص طور پر اسلام کے پھیلنے کے بعد کافی لوگ جو مسلمانوں کے لباس میں آگئے تھے خصوصاً قریش کا حسد خاندان بنی ہاشم و رسالت سے کافی زیادہ ہو چکا تھا۔

حضرت علی (ع) كو تكلیف دینے كی مذمت

ابن شہر آشوب نے عمر بن خطاب سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں: میں علی (ع) کو اذیت دے رہا تھا کہ پیغمبر (ص) سے ملاقات ہوگئی تو آپ نے فرمایا: اے عمر! تو نے مجھے اذیت دی ہے عمر نے کہا: خدا کی پناہ کہ میں اللہ کے رسول کو اذیت دوں، آپ نے فرمایا تو نے علی (ع) کو اذیت دی ہے اور جس نے علی (ع) کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی۔

ہیثمی نقل کرتا ہے: بریدہ اسلمی ان اصحاب پیامبر میں سے ہے کہ جو حضرت علی (ع) کی سپہ سالاری میں یمن گئے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ میں لشکر سے پہلے مدینہ واپس آگیا۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا خبر ہے؟ میں نے کہا: خبر یہ ہے کہ خدا نے مسلمانوں کو کامیاب کر دیا ہے پھر لوگوں نے دریافت کیا کہ تو تم کیوں پہلے واپس آگئے؟

میں نے کہا: علی (ع) نے ایک کنیز خمس میں سے اپنے لئے مخصوص کر لی ہے۔ میں آیا ہوں تاکہ اس بات کی خبر پیغمبر (ص) کو دوں، جس وقت یہ خبر پیغمبر (ص) تک پہنچی تو پیغمبر (ص) ناراض ہوئے اور آپ (ص) نے فرمایا:

آخرکیوں کچھ لوگ علی (ع) کے بارے میں چوں چرا کرتے ہیں۔ جس نے علی (ع) پر اعتراض کیا اس نے مجھ پر اعتراض کیا ہے جو علی (ع) سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہوا، علی (ع) مجھ سے ہیں اور میں علی (ع) سے ہوں، وہ میری سرشت سے خلق ہوئے ہیں اور میں سرشت ابراہیم سے، اگرچہ میں ابراہیم سے افضل ہوں۔ اے بریدہ! کیا تم نہیں جانتے کہ علی (ع) ایک کنیزسے زیادہ کے مستحق ہیں اور وہ میرے بعد تمہارے ولی ہیں۔[4]

ابن شہر آشوب نے بھی اس طرح کی حدیث محدثان اہل سنت سے نقل کی ہے جیسے ترمذی، ابو نعیم، بخاری و موصلی وغیرہ۔[5]

حضرت علی (ع)، حلال زادگی کا معیار

حضرت علیؑ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ رسول اسلام (ص) کے زمانہ میں اصحاب سے ہٹ كر بھی اگر کسی کو پہچاننا چاہتے تھے کہ کون حرام زادہ ہے اور کون حرام زادہ نہیں ہے تو اس کو علی بن ابی طالب (ع) کے بغض سے پہچانتے تھے، جنگ خیبر کے بعد لوگ اپنے بچوں کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے جاتے تھے۔

جب راستہ میں حضرت علی (ع) کو دیکھتے تھے اور وہ ہاتھوں سے حضرت علی (ع) کی طرف اشارہ کرتے تھے اور بچہ سے پوچھتے تھے کہ اس شخص کو دوست رکھتے ہو۔ اگر بچہ نے کہا: ہاں تو اس کا بوسہ لیتے تھے اور اگر وہ کہتا تھا، نہیں، تو اس کو زمین پر اتار دیتے اور کہتے کہ اپنی ماں کے پاس چلے جانا۔

عبادہ بن صامت کا بھی کہنا ہے: ہم اپنی اولاد کو بھی حضرت علی بن ابی طالب (ع) کی محبت پر آزماتے تھے۔ اگر دیکھتے تھے کہ ان میں سے کوئی ایک بھی حضرت علی (ع) کو دوست نہیں رکھتا تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ نجات یافتہ نہیں ہو سکتا۔[6]

پیغمبر اکرم (ص) کی عمر کے آخری سال گزر نے کے ساتھ ساتھ حضرت علیؑ کا مقام وصایت اور آپ کی جانشینی کا مسئلہ اس قدر عام ہوا کہ لقب وصی، آپ سے مخصوص ہو گیا۔ جس کو دوست و دشمن سبھی قبول کرتے تھے۔ خاص کر رسول اکرم (ص) نے تبوک جانے سے پہلے حضرت علی (ع) سے فرمایا:

اے علی! تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لئے تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ حجة الوداع کے موقع پر بھی پیغمبر (ص) نے منیٰ و عرفات کے میدان میں اپنی تقریروں کے ذریعہ لوگو ں کے کانوں تک یہ بات پہنچا دی تھی کہ میرے بارہ جانشین ہوں گے جو سب کے سب بنی ہاشم سے ہوں گے۔[7]

حیات پیامبر (ص) میں حضرت علی (ع) كی بیعت

بالآخر مکہ سے واپسی پر غدیر خم کے میدان میں خدا کا حکم آیا کہ تمام مسلمانوں کے درمیان علی (ع) کی جانشینی کا اعلان کر دیں۔ رسول اکرم (ص) نے، مسلمانوں کو ٹھہرنے کا حکم دیا اور اونٹ کے کجاؤں کے منبر پر تشریف لے گئے اور مفصل تقریر کے بعد فرمایا: من کنت مولاه فهٰذا علی مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله

اس کے بعد لوگوں کو حکم دیا کہ علی (ع) کی بیعت کریں۔ اس مطلب کی تفصیل علامہ امینی نے الغدیر کی پہلی جلد میں بیان کی ہے، رسول خدا (ص) نے مسلمانوں میں اعلان کر دیا کہ کون میرا جانشین ہے۔ اسی بنا پر لوگوں کو یقین تھا کہ پیغمبر (ص) کی وفات کے بعد حضرت علی (ع) ان کے جانشین ہوں گے، زبیر بن بکار اس سلسلے میں لکھتا ہے:

تمام مہاجرین اور انصار کو اس بارے میں بالکل شک نہیں تھا کہ رسول خد (ص) کی وفات کے بعد حضرت علی (ع) خلیفہ اور صاحب الامر ہوں گے۔[8]

ولایت حضرت علی (ع) کے ادبی شواہد

یہ مطلب زمانۂ سقیفہ کے اشعار سے بخوبی آشکار ہے اور یہ اشعار اس مطلب پر دلیل ہیں جب کہ ان اشعار میں مختصر سی تحریف ہوئی ہے عتبہ بن ابی لہب نے سقیفہ کے واقعہ کے بعد اور ابوبکر کے خلیفہ بن جانے کے بعد اس طرح اشعار پڑھے ہیں۔

ما کنت احسب ان الأمر منصرف / عن هاشم ثم منها عن ابی حسن

میں نے اس بات کا گمان بھی نہیں کیا تھا کہ خلافت کو بنی ہاشم اور ان کے درمیان ابوالحسن یعنی حضرت علی (ع) سے چھین لیں گے۔

ما فیه ما فیهم لا یمترون به / و لیس فی القوم ما فیه من الحسن

جو کچھ ان کے پاس ہے اور جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس کے بارے میں فکر نہیں کرتے حالانکہ قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کی نیکیاں ان کے برابر ہوں

ان اشعار کے کہنے کے بعد حضرت علی (ع) نے اس سے سفارش کی کہ دوبارہ ایسا نہیں کرنا اس لئے ہمارے لئے دین کی سلامتی سب سے زیادہ اہم نکلے۔[9]

خلافت کے موقع پر وہ اختلاف جو سقیفہ کی بنا پر قریش و انصار کے درمیان پیدا ہوا اور عمرو عاص نے انصارکے خلاف گفتگو کی نعمان بن عجلان جو انصار کے شعراء میں سے ایک تھے، انہوں نے عمرو عاص کے جواب میں اشعار کہے جو حضرت علی (ع) کے حق کی وضاحت کرتے ہیں۔

فقل لقریشٍ نحن اصحاب مکة / و یوم حنین والفوارس فی بدر

قریش سے کہو ہم فتح مکہ کے لشکر، جنگ حنین اور بدر کے سواروں میں سے ہیں

وکان هوانا فی علیّ و انه / لاهل لها یا عمرو من حیث لاتدری

ہم علی کے طرفدار تھے اور وہ اس کے اہل تھے لیکن اے عمرو! تو اس بات کو نہیں سمجھتا۔[10]

حسان بن ثابت نے بھی فضل بن عباس کے شکریہ کی وجہ سے کہ جنہوں نے حضرت علی (ع) کے حکم سے انصار کا دفاع کیا، ان اشعار کو پڑھا:

جزیٰ اللّه عنا و الجزا بکفّه / ابا حسن عنا و من کان کابی حسن

خدا ہماری طرف سے ابوالحسن کو جزائے خیر دے کیوں کہ جزا اسی کے ہاتھ میں ہے اور کون ہے جو کہ علی کے مانند ہے[11]

ابو سفیان بھی شروع میں (سقیفہ کی) خلافت کا مخالف تھا اور حضرت علی کی طرف سے دفاع کرتا تھا، تقریر کے علاوہ جو اس نے سلسلہ میں کہے ہیں وہ ذیل کے اشعار کہ جس کی نسبت اس کی طرح دی گئی ہے:

بنی هاشم لاتطمعوا الناس فیکم / و لا سیّما تیم بن مرّة او عدی[12]

اے بنی ہاشم! تم اس بات کی اجازت نہ دو کہ دوسرے تمھارے کام میں لالچ کریں بالخصوص تیم بن مرہ یا عدی۔

فما الأمر الأ فیکم و الیکم / و لیس لها الّا ابوالحسن علیّ

خلافت فقط تمہارا حق ہے اور صرف ابوالحسن علی اس کے اہل اور سزاوار ہیں۔[13]

فضیلت حضرت علی (ع) کا اعتراف

عام مسلمان اس بات کا گمان نہیں کرتے تھے کہ پیغمبر (ص) کے بعد کوئی بھی آنحضرت کی جانشینی اور خلافت کے بارے میں حضرت علی (ع) سے جھگڑا کرے گا کیونکہ حضرت علیؑ کا مقام سب پر واضح تھا، جیسا کہ معاویہ نے محمد بن ابی بکر کے خط کے جواب میں تحریر کیا:

رسول (ص) کے زمانہ میں میں اور تمہارے باپ ابوطالب کے بیٹے کی اطاعت کو اپنے اوپر لازم سمجھتے تھے اور ان کے فضل کو اپنے اوپر آشکار جانتے تھے۔ پیغمبر (ص) کی رحلت کے بعد تمہارے باپ اور عمر سب سے پہلے وہ شخص تھے کہ جنہوں نے علی (ع) کے مرتبہ کو گھٹایا اور لوگوں سے اپنی بیعت لی۔[14]

یہی وجہ ہے وہ لوگ جو پیغمبر (ص) کی زندگی کے آخری مہینوں میں مدینہ میں نہیں تھے انہیں بعد وفات پیغمبر (ص) بعض انجام دی جانے والی سازشوں کا علم نہیں تھا، جیسے خالد بن سعید اور ابو سفیان، پیغمبر (ص) کی وفات کے بعد جب مدینہ آئے تو انہوں دیکھا کہ ابوبکر پیغمبر (ص) کی جگہ بیٹھے ہیں تو ان لوگوں کو بہت تعجب ہوا۔[15]

حتیٰ کہ جب ابو سفیان سفر سے واپس آیا اور ان حالات کو دیکھا تو عباس بن عبدالمطلب اور حضرت علی (ع) کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ اپنا حق لینے کے لئے قیام کریں لیکن انہوں نے اس کی بات کو قبول نہیں کیا، البتہ ابو سفیان کی نیت میں خلوص نہیں تھا۔[16]

حضرت علی (ع) كی خلیفہ اول پر برتری

اگرچہ پیغمبر اکرم (ص) کے اکثر صحابہ نے ابو بکر کی خلافت کو قبول کرلیا لیکن حضرت علیؑ کا مقام اور فضلیت و برتری کو نہیں بھولے۔ جب آپ مسجد میں ہوتے تھے شرعی مسائل میں آپ کے علاوہ کوئی فتویٰ نہیں دیتا تھا۔ کیونکہ آپ کو رسول (ص) اکرم کی صاف و صریح حدیث کی بنا پر امت میں سب سے زیادہ صحیح فیصلہ کرنے والا جانتے تھے۔[17]

عمر کا کہنا تھا کہ خدا نہ کرے کوئی مشکل پیش آئے اور ابوالحسن نہ ہوں۔[18] نیز اصحاب پیغمبر (ص) سے کہتے تھے؛ جب تک علی (ع) مسجد میں موجود ہیں، ان کے علاوہ کوئی بھی فتویٰ دینے کا حق نہیں رکھتا۔[19]

اگرچہ علی (ع) نے پیغمبر کی وفات کے بعد سیاسی اقتدار حاصل نہیں کیا لیکن آپ کے فضائل و مناقب کو یہی اصحاب پیغمبر (ص) بیان کرتے ہیں، ابن حجر ہیثمی جو اہل سنت کے متعصب عالموں میں سے ہیں انہوں نے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد تیس افراد بتائی ہے۔[20]

لیکن ابن شہر آشوب نے حدیث غدیر کے اصحاب میں راویوں کی تعداد اسی (٨٠) بیان کی ہے۔[21] لیکن علامہ امینی نے حدیث غدیر کے راویوں کی تعداد جو صحابہ سے نقل ہوئی ہے ایک سو دس ذکر کی ہے۔[22]

حدیث غدیر کے راویوں کے درمیان وہ لوگ جو علی (ع) سے دشمنی رکھتے تھے جیسے ابوبکر، عمر، عثمان، طلحہ، عبدالرحمن بن عوف، زید بن ثابت، اسامہ بن زید، حسان بن ثابت، خالد بن ولید، اور عائشہ کا نام لیا جا سکتا ہے۔

حتیٰ کہ یہی صحابہ جو حضرت علی (ع) کے موافق بھی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود کبھی آپ کی طرف سے آپ کے دشمن کے مقابلے میں دفاع بھی کرتے تھے جیسے سعد بن وقاص۔

یہ ان چھ لوگوں میں سے تھے جو عمر کے مرنے کے بعد انتخاب خلافت کے لئے چھ رکنی کمیٹی بنی تھی اور انہوں نے علی (ع) کے مقابلے میں عثمان کو ووٹ دیا نیز خلافت کے مسئلہ میں حضرت علی (ع) کی طرفداری اور حمایت بھی نہیں کی اور بے طرفی اختیار کی، وہ باتیں جو ان کے اور معاویہ کے درمیان ہوئیں تو انہوں نے معاویہ سے کہا:

تو نے اس شخص سے جنگ و جدال کیا ہے جو خلافت کے لئے تجھ سے زیادہ سزاوار تھا، معاویہ نے کہا: وہ کیسے؟ اس نے جواب دیا: میرے پاس دلیل یہ ہے کہ ایک تو رسول (ص) نے علی (ع) کے بارے میں فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی (ع) مولا ہیں۔[23]

 

خاتمہ

اصحاب میں حضرت علیؑ کا مقام ہر دور میں تسلیم کیا گیا، چاہے وہ نبی اکرم (ص) کی حیاتِ مبارکہ ہو یا ان کے بعد۔ اگرچہ بعض اصحاب نے خلافت کے مسئلے میں ان کی حمایت نہیں کی، لیکن ان کی فضیلت کا اعتراف سبھی نے کیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اصحاب کے درمیان حضرت علیؑ کا مقام ناقابل انکار رہا ہے۔

 

حوالہ جات

[1]۔ مسعودی، مروج الذھب، ص٤٤٦۔

[2]۔ ابوالفرج اصفہانی، مقتل الطالبین، ص٤١۔

[3]۔ یوسفی غروی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، ج١، ص٤١٠۔

[4]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد، ج٩، ص١٧٣۔

[5]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ص١١ ٢۔٢١٢۔

[6]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ص٢٠٧۔

[7]۔ مرتضیٰ عاملی، الغدیر و المعارضون، ص٦٢۔٦٦۔

[8]۔ زبیر، الاخبار الموفقیات، ص٥٨۔

[9]۔ زبیر، الاخبار الموفقیات، ص٥٨۔

[10]۔ زبیر، الاخبار الموفقیات، ص٥٩٢۔

[11]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ص١٢٦

[12]۔ تیم ابو بکر کا اور عدی عمر کا قبیلہ تھا۔

[13]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٢٨۔

[14]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج٢، ص٣٩٦۔

[15]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٢٦۔

[16]۔ ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج٣، ص١٢؛ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٢٦۔

[17]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ص٩٧

[18]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٨۔

[19]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج١، ص١٨۔

[20]۔ ہیثمی مکی، الصواعق المحرقہ، ص١٢٢۔

[21]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج٣، ص٢٥و٢٦۔

[22]۔ امینی، الغدیر،ج١، ص١٤۔٦١۔

[23]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج٢، ص١٠٩؛ اخطب خوارزمی، المناقب، ص٥٩۔٦٠۔

 

منابع و مصادر

1۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبة الله، شرح نہج البلاغہ، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۳۷۸ق۔

2۔ ابن اثیر، عزالدین ابی الحسن علی بن ابی الکرم، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۰۹ق۔

3۔ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، مؤسسة انتشارات علامہ، ١۴٠٠ھ۔

4۔ ابن واضح، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۴ق۔

5۔ امینی، عبد الحسین، الغدیر، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ١٣٦٦ش۔

6۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۷۴ء۔

7۔ خوارزمی، اخطب، المناقب، نجف، المطبعة الحیدریہ، ۱۳۸۵ق۔

8۔ زبیر بن بکار، الاخبار الموفقیات، قم، منشورات شریف الرضی، ١٤١٦ ق ۔

9۔ مرتضیٰ عاملی، سید جعفر، الغدیروالمعارضون، بیروت، دار السیر، ١٤١٧ق۔

10۔ مسعودی، علی بن حسین، مُروجُ الذَّهَب و مَعادنُ الجَوهَر، بیروت، منشورات الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۸۹ء۔

11۔ ہیثمی مکی، ابن حجر، الصَّواعِق‌ُ المُحْرِقَة فِی‌ الرَّدِّ عَلی‌ اَهْل‌ِ البِدَع‌ِ وَ الزَّنْدَقَة، قاہرہ، مکتبہ القاہرہ، ۱۹۹۷ء۔

12۔ ہیثمی، نورالدین علی بن ابی بکر، مجمع الزوائد، بیروت، دار الفکر للطباعةوالنشر التوزیع، ١۴١۴ق۔

13۔ یوسفی غروی، محمد ہادی، موسوعة التاریخ الاسلامی، قم، مجمع الفکرالاسلامی، طبع اول، ١۴١٧ق۔

 

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، مترجم: سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔