قرآن مجید انسانیت کے لئے ہدایت اور دینی ثقافت کا سرچشمہ ہے، لیکن شیطان نے گمراہی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس نے قسم کھائی ہے کہ وہ انسانوں کو راہِ راست سے ہٹائے گا، سوائے مخلص بندوں کے۔ شیطان نے قرآن کی متشابہات آیات کو ہتھیار بنا کر لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کیا ہے، اور اس طرح دین میں فتنہ برپا کر دیا ہے۔ یہ ایک خطرناک فتنہ ہے جو مسلمانوں کے عقائد اور ثقافت کو تباہ کرنے کی سازش کے تحت پھیلایا جا رہا ہے۔
قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نزولِ قرآن کے آغاز ہی سے شیطان اس پر تل گیا تھا۔ اس نے اپنی تمام تر کوششیں صرف کر دیں کہ دنیا پرست انسانوں اور انسان نما شیطانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو قرآن سے جدا کر دے اور دین میں فتنہ برپا کرے۔
شیطان سے اس کے علاوہ کوئی امید بھی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس نے قسم کھائی تھی کہ:
”قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ”[1] تو پھر تیری عزت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا، علاوہ تیرے ان بندوں کے جنھیں تو نے خالص بنا لیا ہے. شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کو معارف قرآن سے محروم کرنے کے لئے اپنے بنائے ہوئے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر، قرآن کریم کی آیات متشابہ کو اپنا حربہ قرار دیا ہے۔
اپنے دوستوں اور دنیا پرستوں کو محکمات کی طرف متوجہ کئے بغیر، متشابہات قرآن کی پیروی کی تشویق و ترغیب کرتا ہے تاکہ ان کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو بھی شک و تردد اور گمراہی کی طرف کھینچ لائے۔
خداوند متعال محکمات و متشابہات سے آیات قرآن کی تقسیم کے بعد فرماتا ہے:
”فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ”[2] جن لوگوں کا وجود سر سے پاؤں تک انحراف، گمراہی، پلیدی اور خود پرستی ہے، جن کے دل بیمار ہیں اور شیطانی وسوسوں سے متاثر ہیں وہ قرآن کے محکمات اور دین کے بدیہی اور واضح و روشن عقائد کو چھوڑ دیتے ہیں اور آیات متشابہ کے ظاہر سے سہارا لیکر کوشش کرتے ہیں کہ معارف قرآن میں تحریف اور غلط تفسیر کر کے لوگوں کو گمراہ کریں۔
ایسے انسان شیطان کے پالے ہوئے چیلے ہیں کہ اس کا مقصد پورا کرنے میں اس کی مدد کرتے ہیں۔
قرآن ایسے لوگوں کو مختلف عنوانوں جیسے ”فِی قُلُوبِهِم زَیغ” یا ”فِی قُلُوبِهِم مَرَض” سے یاد کرتا ہے اور لوگوں کو ان کی پیروی کرنے سے ڈراتا ہے۔
جس بات کی تحقیق یہاں پر کی جا رہی ہے، وہ قرآن کی روشنی میں دینی ثقافت اور مکتب فکر کی مخالفت کرنے والوں کے اہداف اور ان کے شیطانی حربوں کو واضح کرنا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے کہ بہت سے لوگ ”ابْتِغَاءَ الفِتنَةِ” فتنہ جوئی کے مقصد کے تحت، قرآن کے متشابہات کو اپنی فکر و عمل کا معیار قرار دیتے ہیں اور متشابہات کو ہتھکنڈا بنا کر ظاہر قرآن کو چھوڑ کر آیات کی من مانی تاویل اور غلط تفسیر کر کے دین میں فتنے پھیلاتے ہیں۔
فتنہ کیا ہے اور فتنہ پرور کون ہے؟
علم لغت کے ماہرین خصوصاً جو لوگ کوشش کرتے ہیں کہ لغت کو اپنے اصلی اور حقیقی معنی پر واپس لے جائیں اور لغت کے اصلی معنی کے پیش نظر الفاظ کے معنی کریں، انہوں نے کہا ہے کہ: ‘فتنہ در اصل کسی چیز کو آگ کے اوپر گرم کرنے کے معنی میں ہے۔
جس وقت کسی شئ کو گرم کرنے یا جلانے یا پگھلانے کے لئے آگ کے اوپر رکھتے ہیں تو عرب اس معنی کو ”فَتَنَہُ” سے تعبیر کرتے ہیں یعنی اس نے اس چیز کو گرم کیا۔
قرآن میں بھی مادۂ فتنہ اسی لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ فرماتا ہے: ”یَومَ هُم عَلَی النَّارِ یُفتَنُونَ”[3] یعنی جس دن انہیں جہنم کی آگ پر تپایا جائے گا۔
اس بنا پر فتنہ کے اصل لغوی معنی جلانے اور پگھلانے کے ہیں، لیکن جیسا کہ اہل لغت کہتے ہیں کبھی کبھی ایک لغوی معنی کے لوازم کے پیش نظر، وہ معنی اس کے لوازم یا ملزومات میں بھی سرایت کر جاتا ہے اور لازمۂ معنی کے غلبہ نیز لازمۂ معنی میں اس لغت کے استعمال کے سبب دھیرے دھیرے وہ لازم لغت کے لئے دوسرے اور تیسرے معنی کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
لفظ فتنہ کی بھی یہی صورت ہے، جیسا کہ کہا گیا فتنہ در اصل گرم ہونے کے معنی میں ہے، لیکن گرم ہونے کا بھی ایک لازمہ ہے وہ یہ کہ اگر یہ گرم ہونا اور آگ میں قرار پانا انسان کے متعلق واقع ہو جیسے آیۂ ”یَومَ هُم عَلی النَّارِ یُفتَنُونَ”[4] تو انسان اضطراب کی حالت پیدا کرتا ہے۔ اضطراب بھی کبھی ظاہری اور بدنی ہوتا ہے جیسے یہ کہ جسم کے جلنے اور گرم ہونے سے متعلق ہو اور کبھی باطنی اور روحی امور سے پیدا ہوتا ہے۔
لہذا اضطراب حقیقت میں فتنہ اور گرم ہونے کے معنی میں ہے، پھر لفظ کے معنی میں توسیع کے پیش نظر ان چیزوں پر بھی فتنہ کا اطلاق کیا جاتا ہے جو معنوی اور باطنی اضطراب کا باعث ہوتی ہیں۔ چونکہ روحی اور باطنی اضطراب کی ایک قسم، وہ اضطراب و تشویش ہے جو کہ اعتقادات کے سلسلہ میں پیش آتی ہے، لہذا وہ چیز جو ایسے اضطرابوں کا باعث ہوتی ہے اسے بھی ”فتنہ” کہا گیا ہے۔
جس وقت دین میں فتنہ کہا جاتا ہے، وہ اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ بہت سے لوگ کوشش کرتے ہیں کہ وہمی اور باطل خیالات اور وسوسوں سے دیندار افراد کو ان کے ایمان و اعتقادات میں اضطراب و تزلزل سے دوچار کر دیں اور انہیں دین حق اور دینی اعتقادات سے پھیر دیں۔
امتحان کو بھی فتنہ کہا گیا ہے، اس لئے کہ وہ بھی اضطراب اور تشویش کا باعث ہوتا ہے۔ چونکہ انسان امتحان کے وقت نتیجہ کے لئے مضطرب اور پریشان ہوتا ہے، وہ روحی آرام اور قلبی سکون نہیں رکھتا۔ لفظ فتنہ قرآن میں بھی کئی آیتوں میں امتحان سے پیدا شدہ اسی اضطراب کے معنی میں آیا ہے۔
قرآن فرماتا ہے: ”إنّمَا أَموَالُکُم وَ أَولادُکُم فِتنَة”[5] تمھارے اموال اور اولاد تمھارے امتحان اور آزمائش کا وسیلہ ہیں۔ یا فرماتا ہے: ”وَ نَبلُوکُم بِالشَّرِّ وَ الخَیرِ فِتنَةً”[6] ہم تمہیں خیر و شر اور نعمت و نقمت سے آزماتے ہیں۔ نیز کبھی خود عذاب اور تکلیف پر فتنہ کا اطلاق ہوا ہے۔
واضح ہے کہ زیر بحث آیۂ کریمہ ”هُوَ الَّذِی أَنزَلَ عَلَیکَ الکِتَابَ مِنهُ آیَات مُحکَمَات هُنَّ أُمُّ الکِتَابِ وَ أُخَرُ مُتَشَابِهَات فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ” میں فتنہ سے مراد دین میں فتنہ پیدا کرنا ہے، اس لئے کہ متشابہات کی پیروی، امتحان و آزمائش سے کوئی تناسب نہیں رکھتی اور جو لوگ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں وہ دوسروں کو شکنجہ اور عذاب دینے کی کوشش نہیں کرتے نیز گرم کرنے اور جلانے کے معنی میں بھی نہیں ہے، بلکہ ان کی فتنہ پروری اس سبب سے ہے کہ وہ اس بات کے درپے ہوتے ہیں کہ آیات متشابہ کو ہتھکنڈا بنا کر لوگوں کے دینی عقائد و افکار میں اضطراب و تزلزل پیدا کریں اور انہیں گمراہ اور دینی ثقافت سے دور کریں۔
دین میں فتنہ اور قرآن کا موقف
دین میں فتنہ اس معنی میں کہ جس کی توضیح دی گئی، پوشیدہ مقابلہ اور فریب و حیلہ کی قسم سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ کام ظاہری ایمان کے لباس میں اصل دین کو ختم کرنے کے مقصد سے کیا جاتا ہے۔ ایسے فتنہ گر افراد نفاق کا چہرہ اختیار کر کے اپنی شیطانی فکروں کو اس طرح پوشیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے مخالف دین مقاصد کی تشخیص عام لوگوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اسی وجہ سے قرآن نے دین میں فتنہ کو سب سے بڑا گناہ شمار کیا ہے اور لوگوں کو دنیا و آخرت کے اس سب سے بڑے خطرے کی طرف توجہ دلا کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے مادی و معنوی وجود کا دفاع کریں۔
دشمن، اسلام اور مسلمین سے مقابلہ کے لئے عام طور سے دو اہم حربے استعمال کرتا ہے۔ یہاں پر ہم قرآن اور دینی ثقافت کے دشمنوں کے حربوں اور ہتھکنڈوں کی توضیح کے ضمن میں، دشمنوں کی سازشوں کے مقابلہ میں قرآن کے موقف سے واقف ہوں گے۔
1۔ فوجی فتنہ
اسلام اور مسلمانوں کے مقابلہ میں دشمنوں کا ایک عام ہتھکنڈا علنی اور ظاہری جنگ و مبارزہ ہے یعنی وہ لوگ کوشش کرتے ہیں کہ مسلمان ممالک اور ان کے افراد پر فوجی حملہ اور ان کو قتل و غارت کر کے اپنے مقاصد تک پہنچیں۔
اس صورت میں اگر چہ ممکن ہے کہ وہ کچھ مسلمانوں کو شہید کردیں اور اسلامی ملک کے لئے نقصانات کا سبب بنیں، لیکن وہ اس طرح اپنے مقاصد تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے اور نہ صرف مسلمان راہ دین میں قتل ہونے سے نقصان نہیں اٹھاتے بلکہ اپنے دین و اعتقاد میں اور زیادہ محکم و راسخ ہو جاتے ہیں۔ دینی مکتب فکر میں اس دنیا کی زندگی کا مقصد، برحق دینی اعتقادات اور عبادت و بندگی کے سائے میں انسان کا تکامل اور قرب الٰہی کی منزل تک پہنچنا ہے کہ جس کی معراج کا جلوہ، راہ خدا میں شہادت کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔
دشمنوں کی اس اسٹراٹجی strategy اور لشکر کشی کے مقابلہ میں قرآن کا موقف بھی یہ ہے کہ: "وَ قَاتِلُوهُم حَتَّیٰ لاتَکُونَ فِتنَة وَ یَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلّٰهِ”[7] تم لوگ ان کفار سے جہاد کرو یہاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے اور سارا دین صرف اللہ کے لئے رہ جائے۔
اس جنگ میں مسلمانوں کا نعرہ بھی یہ ہے کہ: "هَل تَرَبَّصُونَ بِنَا ِلاَّ ِحْدَیٰ الحُسنَیَینِ وَ نَحنُ نَتَرَبَّصُ بِکُم أَن یُّصِیبَکُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِن عِندِهِ أَو بِأَیدِینَا فَتَرَبَّصُوا إنّا مَعَکُم مُتَرِبِّصُونَ”[8] اے رسول ! آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم ہمارے لئے دو نیکیوں کامیابی اور شہادت میں سے ایک کے علاوہ انتظار کر رہے ہو اور ہم تمھارے بارے میں اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ خدا اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے تمھیں عذاب میں مبتلا کردے لہذا اب عذاب کا انتظار کرو ہم بھی تمھارے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔
2۔ ثقافتی فتنہ
اسلام اور مسلمانوں سے مقابلہ اور ان کے دین میں فتنہ ایجاد کرنے کے لئے دشمنوں کا دوسرا اہم ہتھکنڈا، ثقافتی اور فکری کام ہیں، ان میں سے اہم یہ ہے کہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے انہیں شبہات میں مبتلا کرنا ہے۔
واضح ہے کہ جو ہتھکنڈے اور آلات و وسائل اس قسم کے حملہ میں استعمال کئے جاتے ہیں، وہ نیز اس کے طریقے اور نتائج فوجی حملہ سے بالکل مختلف ہیں۔ اگر فوجی حملہ میں دشمن ترقی یافتہ اسلحوں کے ساتھ مسلمانوں کے جسم کو پاش پاش کرنے اور قتل و غارت کے لئے میدان میں آتا ہے تو دوسری قسم میں قلم اور بیان کے اسلحوں کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ ان کے افکار و عقائد کو گمراہ اور فاسد کر دے۔
اگر فوجی حملہ میں دشمن پوری سنگدلی کے ساتھ مسلمان سپاہیوں سے روبرو ہوتا ہے تو ثقافتی حملہ میں خوشروئی، دلسوزی اور خیر خواہی کی صورت میں وارد ہوتا ہے۔ اگر فوجی حملہ میں مسلمان واضح طور پر دشمن کو پہچانتے ہیں تو ثقافتی حملہ میں دشمن شناسی کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر فوجی حملہ میں دشمن زمین کے اندر بارودی سرنگیں بچھا کر اور نت نئے ترقی یافتہ جنگی اسلحوں کو استعمال کر کے کوشش کرتا ہے کہ خاکی جسموں کو نابود کر دے تو ثقافتی حملہ میں اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ شیطانی جال بچھا کر اور بے بنیاد شبہے پیش کرکے روحوں اور فکروں کو چھین لے اور انسانوں کو اندر سے کھوکھلا کر کے انہیں اپنے منافع کی طرف کھینچ لائے۔
اگر فوجی حملہ میں دشمن طاقت رکھتا ہے کہ صرف چند مسلمان مجاہدین کو پست مادی دنیا سے خارج کر دے تو ثقافتی حملہ میں شیاطین گھات میں بیٹھے ہیں تاکہ مسلمان قوم کے عظیم سرمائے ان معصوم جوانوں کو، جو کہ دینی علوم و معارف سے کافی آگاہی نہیں رکھتے، گمراہی اور بے دینی کے گڑھے میں ڈھکیل دیں۔
اگرچہ دشمن اس دین ستیز ہتھکنڈے سے بھی کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے اور مسلمان قوم خصوصاً مسلمان تعلیم یافتہ جوانوں کا طبقہ، کہ جس نے فوجی حملوں میں بھی کامیابی اور سرفرازی حاصل کی ہے، اس بات سے زیادہ ہوشیار ہے کہ دشمن کے فوجی میدان کو ثقافتی حملہ کے میدان میں بدلنے سے غافل رہے.
لیکن قرآن کریم نے ثقافتی حملہ کے میدان میں مسلمانوں کی شکست کے عظیم خطرے اور اس سے پیدا ہونے والے آثار و نتائج کے نا قابل تلافی ہونے کی طرف توجہ دلائی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کو تنبیہ کر کے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام قوتوں کے ساتھ دین اور خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں اٹھ کھڑے ہوں۔
ثقافتی حملے کے متعلق قرآن کی تنبیہ
چونکہ فوجی حملہ کے برخلاف ثقافتی حملہ کے برے نتائج و خطرات لوگوں کے دینی افکار و اعتقادات کو متأثر کرتے ہیں اور غفلت کی صورت میں مسلمانوں کی دنیا و آخرت کی سعادت نیز انسانیت خطرے میں پڑجاتی ہے، لہذا قرآن بھی حد سے زیادہ حساسیت کے ساتھ اسے قابل توجہ قرار دیکر اس سے ہوشیار کرتا ہے۔
مسلمان اہل فہم و بصیرت پر یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ظاہری جنگ اور فوجی فتنہ کے محاذ پر شکست کے آثار و نتائج، بہ نسبت ثقافتی حملہ سے غفلت کے آثار و نتائج کے بہت کم ہیں، اس لئے کہ فوجی حملہ میں مسلمانوں کی چند دنوں کی زندگی معرض خطر میں پڑتی ہے لیکن ثقافتی فتنہ اور حملہ میں دین و عقائد اور مسلمانوں کی دنیا و آخرت کی سعادت نہایت خطرے سے دو چار ہوجاتی ہے۔
اسی وجہ سے قرآن نے بھی دین میں فتنہ اور ثقافتی حملہ کو فوجی چڑھائی سے زیادہ بڑا سمجھ کر مسلمانوں کو اس سے غفلت کرنے سے ڈرایا ہے اور فوجی جنگ اور فتنہ کی اہمیت اور اس کے خطرے کو ثقافتی حملہ کے مقابلہ میں کم سمجھا ہے۔
قرآن کریم فرماتا ہے: "وَ اقْتُلُوهُم حَیثُ ثَقِفتُمُوهُم وَ أَخرِجُوهُم مِن حَیثُ أَخرَجُوکُم وَ الفِتنَةُ أَشَدُّ مِنَ القَتلِ”[9] اور ان مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کردو اور جس طرح انہوں نے تم کو آوارہ وطن کردیا ہے تم بھی انہوں نکال باہر کردو اور فتنہ پردازی تو قتل سے بھی بدتر ہے۔
البتہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن اور دینی ثقافت کے مخالفین، صدر اسلام اور آیات قرآن کے نزول کے زمانہ میں زیادہ تر جنگ کے میدانوں میں ظاہری مقابلوں اور فوجی حملوں کے ساتھ اس بات کے درپے تھے کہ اسلام اور مسلمین کو نا بود کر دیں، لیکن ان سب کے باوجود قرآن کی حساسیت اور تشویش دینی اور ثقافتی فتنہ کے خطرے کے متعلق فوجی حملے کے خطرے سے زیادہ ہے۔
قرآن فرماتا ہے: "وَالفِتنَةُ أکبَرُ مِنَ القَتلِ”[10] فتنہ فکر شرک اور اس کا گناہ فوجی حملہ اور قتل و غارت سے زیادہ خطرناک ہے۔
خاتمہ
آیات قرآن کے مطابق، شیطان کا ہدف انسانوں کو دینِ حق سے دور کرنا اور گمراہی میں ڈالنا ہے، جس کا اہم وسیلہ دین میں فتنہ ایجاد کرنا ہے۔ حقیقت میں دین میں فتنہ قتل و غارت سے بڑھ کر ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے عقائد اور آخرت کو تباہ کر دیتا ہے۔
حوالہ جات
[1] سورۃ ص، آیۃ ۸۲، ۸۳
[2] سورۃ آل عمران، آیۃ ۷
[3] سورۃ ذاریات، آیۃ ۱۳۔
[4] سورۃ ذاریات، آیۃ ۱۳۔
[5] سورۃ انفال، آیۃ ۲۸۔
[6] سورۃ انبیاء، آیۃ ۳۵
[7] سورۃ انفال، آیۃ ۳۹۔
[8] سورۃ توبۃ، آیۃ ۵۲۔
[9] سورۃ بقرۃ، آیۃ ۱۹۱
[10] سورۃ بقرۃ، آیۃ ۲۱۷
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مصباح یزدی، محمد تقی، قرآن نہج البلاغہ کے آئینہ میں؛ مترجم: فیضی ہندی، ہادی حسن، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ص۱۴۰ الی۱۴۹۔