رحلت پیغمبر ﷺ اور علی (ع) کی جانشینی سے مشرکین کا مایوس ہونا

رحلت پیغمبر ﷺ اور علی (ع) کی جانشینی سے مشرکین کا مایوس ہونا

کپی کردن لینک

اسلام کی عالمی تحریک ابتدا ہی سے قریش اور جزیرہ نما عرب کے عام بت پرستوں کی شدید مخالفت اور جنگ کا سامنا کرتی رہی۔ وہ مختلف سازشوں کے ذریعے اس تحریک کو روکنے کی کوشش میں لگے رہے، لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ ان کی آخری امید یہ تھی کہ رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد اس عظیم تحریک کی بنیادیں کمزور ہو جائیں گی۔

وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد یہ دعوت بھی اسی طرح ختم ہو جائے گی جیسے پہلے کے کچھ انبیاء کی تعلیمات ان کی وفات کے بعد مدھم پڑ گئیں۔ تاہم، ان کی یہ امید بھی اس وقت ناکام ہوگئی جب رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد علی (ع) بطور جانشین پیغمبر ﷺ منتخب ہوئے۔

قرآن مجید جس نے اپنی بہت سی آیات میں ان کی سازشوں اور منصوبوں سے پردہ اٹھایا تھا اس دفعہ بت پرستوں کی آخری خیالی امید یعنی رحلت پیغمبر ﷺ کے بارے میں درج ذیل آیت میں اشارہ فرماتا ہے:

’’أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ قُلْ تَرَبَّصُوا۟ فَإِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُتَرَبِّصِينَ أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَٰمُهُم بِهَٰذَا أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ‘‘۔[1]

”کیا یہ لوگ کہتے ہیں: یہ شاعر ہے، ہم اس کے بارے میں گردش زمانہ (رحلت پیغمبر ﷺ) کے منتظر ہیں؟ کہدیجئے: انتظار کرو کہ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ کیا ان کی عقلیں انہیں ایسا کرنے کو کہتی ہیں یا یہ سرکش لوگ ہیں؟

مشرکین کی جانب سے ایجاد ہونے والی مشکلات

مناسب ہے کہ یہاں پر بت پرستوں کی طرف سے رسالتماب ﷺ کے ساتھ چھیڑی گئی بعض جنگوں اور روڑے اٹکانے کی منحوس حرکتوں کی ایک فہرست بیان کی جائے اور اس کے بعد دیکھا جائے کہ خدائے متعال نے ان کی آخری امیدوں کو کیسے ناکام بنایا اور آغوش پیغمبر ﷺ میں حضرت علی (ع) جیسے لائق و شائستہ شخص کو جانشین پیغمبر ﷺ کی حیثیت سے منتخب کرکے ان کی سازشوں کو خاک میں ملادیا۔

1۔ تہمت کا حربہ

کفار مکہ نے پیغمبر ﷺ پر شاعر، کاہن، دیوانہ اور جادوگر ہونے کی تہمتیں لگا کر یہ کوشش کی کہ پیغمبر ﷺ کے ارشادات کے اثرات کم کریں، لیکن سماج کے مختلف طبقوں میں اسلام کی نمایاں ترقی نے ثابت کردیا کہ آپ کی مقدس ذات ان تہمتوں سے بالاتر تھی۔

2۔ آپ ﷺ کے ساتھیوں کو آزار پہچانا

کفار مکہ کا ایک اور منصوبہ پیغمبر ﷺ کے ساتھیوں کو آزار پہنچانا اور انہیں جسمانی اذیتیں دینا اور قتل کرنا تھا تاکہ آپ کے ارشادات و ہدایت کے وسیع اثرات کو روک سکیں۔ لیکن پیغمبر ﷺ کے حامیوں کی ہر ظلم و جبر اور اذیت و آزار کے مقابلے میں استقامت و پامردی نے قریش کے سرداروں کو اپنے منحوس مقاصد تک پہنچنے میں ناکام بنا دیا۔ آنحضرت کے حامیوں کی آپ کے تئیں والہانہ عقیدت و اخلاص نے دشمنوں کو حیرت زدہ کردیا، حتی ابو سفیان کہتا تھا:

”میں نے قیصر وکسریٰ کو دیکھا ہے لیکن ان میں سے کسی کو اپنے پیروکاروں کے درمیان محمد ﷺ جیسا با عظمت نہیں دیکھا جن کے ساتھیوں نے ان کے مقاصد کی راہ میں اس قدر جاںبازی اور فداکاری کا ثبوت دیا ہے‘‘۔[2]

3۔ عرب کے بڑے داستان گو کو دعوت

قرآن مجید کے روحانی اور جذباتی اثرات سے کفار قریش حیرت زدہ تھے اور تصور کرتے تھے کہ قرآن مجید کی آیات کو سننے کے لئے لوگوں کا پروانہ وار دوڑنا اس سبب سے ہے کہ قرآن مجید میں گذشتہ اقوام کی داستانیں اورکہانیاں بیان ہوئی ہیں۔ اس لئے کفار مکہ نے دنیائے عرب کے سب سے مشہور داستان گو ”نصر بن حارث“ کو دعوت دی کہ وہ خاص موقعوں پر مکہ کی گلی کوچوں میں ’’ایران“ اور ”عراق“ کے بادشاہوں کے قصے سنائے تاکہ اس طرح لوگوں کو رسول کی طرف مائل ہونے سے روک سکیں! یہ منصوبہ اس قدر احمقانہ تھا کہ خود قریش یہ داستانیں سننے سے تنگ آچکے تھے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔

4۔ قرآن مجید سننے پر پابندی

قریش کا ایک اور منحوس منصوبہ قرآن مجید سننے پر پابندی عائد کرنا تھا اس شمع الٰہی کے پروانوں کی استقامت سے ان کا یہ منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔ قرآن مجید کی زبر دست شیرینی اور دلکشی نے مکہ کے لوگوں کو اس قدر فریفتہ بنا دیا تھا کہ وہ رات کے اندھیرے میں گھروں سے نکل کر پیغمبر ﷺ کے گھر کے اطراف میں چھپ جاتے تھے تاکہ جب پیغمبر ﷺ نماز شب اور تلاوت قرآن مجید کے لئے اٹھیں تو وہ قرآن کی تلاوت سن سکیں۔

قریش کے کفار صرف لوگوں کو قرآن سننے سے ہی منع نہیں کرتے تھے بلکہ لوگوں کو پیغمبر ﷺ سے ملنے جلنے سے منع کرتے تھے۔ جب عرب کی بعض بزرگ شخصیتیں جیسے، اعشی و طفیل بن عمر پیغمبر ﷺ سے ملنے کے لئے مکہ میں آئے تو قریش نے مختلف ذرائع سے ان کو

5۔ اقتصادی پابندی

کفار قریش نے ایک دستور کے ذریعے لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ کسی کو بنی ہاشم یا محمد ﷺ کے طرفداروں کے ساتھ لین دین کرنے کا حق نہیں ہے۔ جس کی بنا پر پیغمبر ﷺ اپنے ساتھیوں اور اعزّہ کے ساتھ ”شعب ابی طالب (ع) ‘‘ میں پورے تین سال تک انتہائی سخت اور قابل رحم زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ لیکن قریش کے بعض سرداروں کے اقدام اور بعض معجزات کے رونما ہونے کی وجہ سے یہ بائیکاٹ ختم ہوگیا۔

6۔ پیغمبر اکرم ﷺ کو قتل کرنے کی سازش

قریش کے سرداروں نے یہ فیصلہ کیا کہ مختلف قبیلوں سے تعلق رکھنے والے قریش کے چالیس جوان رات کے اندھیرے میں پیغمبر ﷺ کے گھر پر حملہ آور ہوں اور آپ کو آپ کے بستر پر ہی ٹکڑے ٹکڑے کرڈالیں۔ لیکن خداوند کریم نے پیغمبر ﷺ کو دشمنوں کی اس سازش سے آگاہ کردیا اور پیغمبر ﷺ نے خدا کے حکم سے حضرت علی (ع) کو اپنے بستر پر سلا کر خود مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ پیغمبر ﷺ کی مدینہ کی طرف ہجرت اور ’’اوس و خزرج‘‘ جیسے قبیلوں کا اسلام کی طرف مائل ہونا اس بات کا باعث بنا کہ مسلمانوں کو ایک امن کی جگہ مل گئی اور بکھرے ہوئے مسلمان ایک پرامن جگہ پر جمع ہوکر دین کا دفاع کرنے کے لائق ہوگئے۔

7۔ خونی جنگیں

مسلمانوں کے مدینہ منورہ میں اکٹھا ہونے اور حکومت اسلامی کی تشکیل کو دیکھتے ہوئے جزیرہ نمائے عرب کے بت پرست خوفزدہ ہوگئے اور اس دفعہ یہ فیصلہ کیا کہ ہدایت کی شمع فروزاں کو جنگ اور قتل و غارت کے ذریعے ہمیشہ کے لئے بجھا دیں۔ اسی غرض سے کفار نے مسلمانوں سے بدر، احد، خندق اور حنین کی خونی جنگیں لڑیں۔ لیکن خدا کے فضل و کرم سے یہ جنگیں مسلمانوں کی فوجی طاقت میں اضافے کا باعث بنیں اور انہوں نے بت پرستوں کو عرب میں ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا۔

مشرکین کی آخری امید، رحلت پیغمبر ﷺ

دشمنوں نے اپنے ناپاک عزائم کے سلسلے میں آخری امید رحلت پیغمبر ﷺ سے باندھی تھی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ رحلت پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہی اس تحریک کی بنیادیں اکھڑ جائیں گی اور اسلام کا بلند پایہ محل زمین بوس ہوجائے گا۔ اس مشکل کو دور کرنے اور اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے دو راستے موجود تھے۔

پہلا راستہ: فکری و عقلی نشو نما

امت اسلامیہ کی فکری و عقلی نشو و نما اس حد تک پہنچ جائے کہ مسلمان رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد اسلام کی اس نئی تحریک کی عہد رسالت کی مانند ہدایت و رہبری کرسکیں اور اسے ہر قسم کے انحراف سے بچاتے ہوئے ”صراط مستقیم“ پر آگے بڑھائیں۔

رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد امت کی ہمہ جہت قیادت کی سخت ضرورت تھی کیونکہ ابھی جو بد قسمتی سے امت کے افراد میں سازگار حالات نہیں پائے جاتے تھے۔ جن کی طرف یہاں مختصر طور پر اشارہ کرنا لازمی ہے۔

ایک ملت کی مختلف میدانوں میں ترقی اور بنیادی انقلاب کا پیدا ہونا چند روز یا چند سالوں میں ممکن نہیں ہوتا اور مختصر مدت میں ایسے مقاصد تک نہیں پہنچا جاسکتا ہے بلکہ انقلاب کی بنیادوں کو استحکام بخشنے اور اسے لوگوں کے دلوں کی گھرائیوں میں اتارنے کیلئے ایسے ممتاز اور غیر معمولی فرد یا افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اس تحریک کے بانی کی رحلت کے بعد امور کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

اور انتہائی ہوشیاری اور پیہم تبلیغ کے ذریعے سماج کو ہر قسم کے غلط رجحانات سے بچا سکیں تاکہ پرانی نسل کی جگہ ایک ایسی نئی نسل لے لے جو ابتداء سے ہی اسلامی آداب و اخلاق کے ماحول میں پلی ہو۔ ورنہ دوسری صورت میں رحلت پیغمبر ﷺ کے ساتھ ہی بہت سے لوگ اپنی پرانی روش کی طرف پلٹ جائیں گے۔

اس کے علاوہ تمام الٰہی تحریکوں میں اسلام ایسی خصوصیت کا حامل تھا جس میں اس تحریک کے استحکام کے لئے ممتاز افراد کی اشد ضرورت تھی۔ دین اسلام ایسے لوگوں کے درمیان وجود میں آیا تھا جو دنیا کی پسماندہ ترین قوم شمار ہوتے تھے اور اس معاشرے کے لوگ سماجی و اخلاقی قواعد و ضوابط کے لحاظ سے انتہائی محرومیت کی حالت میں زندگی بسر کرتے تھے۔

مذہبی آداب و رسوم کے طور پر وہ اپنے آبا و اجداد سے وراثت میں ملی ہوئی، کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں جانتے تھے۔ حضرت موسی (ع) اور حضرت عیسی (ع) کے دین نے ان کی سرزمین پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا اور حجاز کے اکثر لوگ اس سے محروم تھے اور اس کے مقابلہ میں جاہلیت کے عقائد اور رسم و رواج ان کے دلوں میں راسخ ہوکر ان کی روح میں آمیختہ ہوچکے تھے۔

ممکن ہے کہ ایسے معاشروں میں مذہبی اصلاح زیادہ مشکل نہ ہو لیکن اس کا تحفظ اور اس کی بقا، ایسے لوگوں میں جن کی روح میں منفی عوامل نفوذ کرچکے ہوں، انتہائی مشکل کام ہوتا ہے اس کے لئے مسلسل ہوشیاری اور تدبیر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہر قسم کے انحرافات اور رجعت پسندی کو روکا جاسکے۔

”احد“ اور ”حنین“ کے دل دوز حوادث کے مناظر، جب گرما گرم جنگ کے دوران تحریک کے حامی رسالتماب ﷺ کو میدان کارزار میں تنہا چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے اس بات کے واضح گواہ ہیں کہ تحریک کے مؤمن افراد، جو اس کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینے پر حاضر تھے، بہت کم تھے اور معاشرے کے زیادہ تر لوگ فکری و عقلی رشد و بلوغ کے لحاظ سے اس مقام پر نہیں پہنچے تھے کہ پیغمبر ﷺ نظام کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دیتے اور دشمن کی آخری امید یعنی پیغمبر ﷺ کی رحلت کے انتظار، کو ناکام بنا دیتے۔

دوسرا راستہ: ایک لائق رہبر کی موجودگی

یہ وہی امت ہے جو رحلت پیغمبر ﷺ کے بعد اختلاف و تفرقہ کا مرکز بن گئی اور رفتہ رفتہ 72 فرقوں میں بٹ گئی۔
جو باتیں ہم نے اوپر بیان کیں اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ رحلت پیغمبر ﷺ کے وقت فکری اور عقلی رشد کے لحاظ سے امت اسلامیہ اس حد تک نہیں پہنچی تھی کہ دشمنوں کے منصوبے ناکام ہوجاتے اس لئے کسی دوسری چارہ جوئی کی ضرورت تھی کہ ہم ذیل میں اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

تحریک کو استحکام بخشنے کے لئے آسان اور سادہ طریقہ یہ ہے کہ تحریک کے اصول و فروع پر ایمان و اعتقاد کے لحاظ سے پیغمبر ﷺ جیسا ایک لائق و شائستہ شخص تحریک کی قیادت و رہبری کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتخاب کیا جائے اور وہ قوی ایمان، وسیع علم اور عصمت کے سائے میں انقلاب کی قیادت کو سنبھال کر اس کو استحکام اور تحفظ بخشے۔

حجة الوداع کے موقع پر جانشین کا انتخاب

یہ وہی مطلب ہے جس کے صحیح اور مستحکم ہونے کا دعویٰ شیعہ مکتب فکر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے تاریخی شواہد بھی موجود ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے حجة الوداع سے واپسی کے دوران 18 ذی الحجة کو خدا کے حکم سے اس گتھی کو سلجھا دیا اور خدا کی طرف سے اپنا جانشین اور ولی مقرر فرما کر اپنی رحلت کے بعد اسلام کو استحکام اور تحفظ بخشا۔

اس کا واقعہ یوں ہے، کہ پیغمبر ﷺ نے 10 ہجری میں حج بجا لانے کے لئے مکہ کی طرف عزیمت فرمائی، چونکہ یہ حج رحلت پیغمبر ﷺ سے قبل آپ کا آخری حج تھا اس لئے یہ حجة الوداع کے نام سے مشہور ہوا۔ پیغمبر ﷺ کے ساتھ شوق سے یا احکام حج کو پیغمبر ﷺ سے سیکھنے کے لئے جن لوگوں نے اس سفر میں آپ کا ساتھ دیا ان کی تعداد کے بارے میں مؤرخین نے ایک لاکھ بیس ہزار تک کا تخمینہ لگایا ہے۔

حج کی تقریبات ختم ہوئیں اور پیغمبر ﷺ راہی مدینہ ہوئے جوق در جوق لوگ آپ کو الوداع کررہے تھے لیکن مکہ میں آپ سے ملحق ہونے والوں کے علاوہ سب آپ کے ہمسفر تھے۔ کاروان، جحفہ سے تین کلو میٹر کی دوری پر ”غدیر خم“ کے ایک صحرا میں پہنچا، اچانک وحی الٰہی نازل ہوئی اور پیغمبر ﷺ کو رکنے کا حکم ملا۔ پیغمبر ﷺ نے بھی حکم دیا کہ سب حجاج رک جائیں تاکہ پیچھے رہنے والے لوگ بھی پہنچ جائیں۔

پیغمبر ﷺ کی طرف سے ایک تپتے ریگستان میں دپہر کو تمازتِ آفتاب میں رکنے کے حکم پر لوگ تعجب میں تھے۔ اور سرگوشیاں کررہے تھے کہ ضرور خدا کی طرف سے کوئی خاص حکم پہنچا ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ خدا کی طرف سے پیغمبر ﷺ کو امر ہوا ہے کہ وہ ان نامساعد اور دشوار حالات میں لوگوں کو روک کر فرمان الٰہی پہنچائیں۔

پیغمبر ﷺ کو یہ فرمان الٰہی درج ذیل آیہ شریفہ کے ذریعے ملا:

’’يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ‘‘[3]

”اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس حکم کو پہنچا دیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا آپ خدا کی رسالت کو نہیں بجا لائے اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“

اس آیہ شریفہ کے مضمون پر غور کرنے سے ہمیں مندرجہ ذیل نکات کی طرف ہدایت ملتی ہے:

اولاً: جس حکم الہی کو پہنچانے کی ذمہ داری پیغمبر ﷺ کو ملی تھی وہ اتنا اہم اور عظیم تھا کہ اگر پیغمبر ﷺ (بفرض محال) اسے پہنچانے سے ڈرتے اور نہ پہنچاتے تو گویا آپ نے اپنی رسالت کا کام ہی انجام نہیں دیا ہوتا۔

دوسرے الفاظ میں ’’مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ‘‘ (جو آپ پر نازل کیا گیا ہے) کا مقصود قرآن مجید کی تمام آیات اور احکام اسلامی نہیں ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر پیغمبر ﷺ احکام الٰہی نہ پہنچاتے تو اپنی رسالت کو انجام ہی نہ دیا ہوتا اور اس قسم کے بدیہی امر کے بارے میں کچھ کہنے اور آیت نازل کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، بلکہ اس کا مقصد ایک خاص موضوع کو پہنچانا ہے کہ اس کا پہنچانا رسالت پہنچانے کے برابر شمار ہوتا ہے اور جب تک اسے نہ پہنچایا جائے، رسالت کی عظیم ذمہ داری اپنے کمال تک نہیں پہنچتی۔

اس بنا پر اس ماموریت کا مسئلہ اسلام کے اہم اصولوں میں سے ایک ہونا چاہئے جو اسلام کے دوسرے اصول و فروع سے پیوستہ ہو اور خدا کی وحدانیت اور پیغمبر ﷺ کی رسالت کی طرح یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہو۔

ثانیاً: سماجی حالات اور ان کے محاسبات کے پیش نظر پیغمبر ﷺ یہ گمان کرتے تھے کہ اس ماموریت کو انجام دینے کی صورت میں ممکن ہے لوگوں کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان پہنچے، اس لئے خدائے تعالیٰ نے آپ کے ارادہ کو قوت بخشنے کے لئے فرمایا:

’’وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ‘‘

”خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا“

اب یہ دیکھنا ہے کہ مفسرین اسلام نے اس آیت کے موضوع کے بارے میں جو احتمالات بیان کئے ہیں (جیسے کہ فخر رازی نے 10 احتمالات بیان کئے ہں جن میں سے ایک احتمال یا ماخذ تک درست نہیں ہے)[4] ان میں سے کون سا احتمال اس آیہ شریفہ کے مضمون سے قریب تر ہے۔ شیعہ محدثین کے علاوہ اہل سنت محدثین کے تیس افراد نے لکھا ہے کہ یہ آیہ شریفہ غدیر کے دن نازل ہوئی ہے، جس دن خدا نے پیغمبر ﷺ کو مامور کیا کہ علی (ع) کو ”مؤمنین کے مولا“ کے طور پر پہچنوائیں۔

امت پر پیغمبر ﷺ کی جانشینی کے عنوان سے امام (ع) کی قیادت کا مسئلہ ہی اتنا ہی اہم اور سنجیدہ تھا کہ اس کا پہنچانا رسالت کی تکمیل کا باعث اور نہ پہنچانا رسالت کے نقصان اور رسول کی زحمتوں کے تباہ ہو جانے کا سبب شمار ہوتا۔

اسی طرح پیغمبر ﷺ کا اجتماعی محاسبات کے پیش نظر خوف و تشویش سے دوچار ہونا بجا تھا، کیونکہ حضرت علی (ع) جیسے صرف 33 سالہ شخص کا جانشین اور وصی قرار پانا اس گروہ کے لئے انتہائی سخت اور دشوار تھا جو عمر کے لحاظ سے آپ (ع) سے کہیں زیادہ بڑے تھے۔

اس کے علاوہ ایسے افراد بھی مسلمانوں کی صفوں میں موجود تھے جن کے اسلاف مختلف جنگوں میں حضرت علی (ع) کے ہاتھوں قتل ہوچکے تھے اور قدرتی طور وہ کینہ توز ایسے شخص کی حکومت کی شدید مخالفت کرتے۔

اس کے علاوہ حضرت علی (ع) پیغمبر ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد بھی تھے، اور تنگ نظر لوگوں کی نظر میں ایسے شخص کو خلافت کے عہدے پر مقرر کرنا اس کا سبب ہو تاکہ وہ اس عمل کو کنبہ پروری تصور کرتے۔

خاتمہ

ان تمام سخت حالات کے باوجود خدائے متعال کا حکیمانہ ارادہ یہی تھا کہ رحلت پیغمبر ﷺ سے پہلے ہی ان کا جانشین مقرر ہو کر اسلامی تحریک کو تحفظ بخشے اور اپنے نبی ﷺ کی عالمی رسالت کا رہبر و راہنما مقرر کرکے اسے تکمیل تک پہنچائے۔

حوالہ جات

[1]۔ سورہ طور، آیت30-32۔
[2]۔ ابن ہشام، سیرہ ابن ہشام، ج1، ص386 اور 410۔
[3]۔ سورہ مائدہ، آیت67۔
[4]۔ رازی، مفاتيح الغيب، ج3، ص635۔

فہرست منابع

1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابن ہشام، عبدالملک، سیرہ ابن ہشام، بیروت، دار إحياء التراث العربي، بیروت ۱۳م۔
3۔ رازی، فخرالدين، مفاتيح الغيب (تفسیر کبیر)، بیروت، دار احياء التراث العربى،1420ھ ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، امت کی رہبری؛ ترجمہ سید احتشام عباس زیدی، اٹھارویں فصل، قم، مؤسسه امام صادق علیه السلام، ۱۳۷۶ ھ ش۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔