عباسیوں کی دعوت کا آغاز اور شیعیت کا فروغ

کپی کردن لینک

دوسری صدی میں عباسیوں کی دعوت کا آغاز ہوا، جس نے اسلامی سرزمینوں میں تشیع کو فروغ دیا۔ اس دوران، عباسیوں کی دعوت کے نتیجے میں بنی امیہ کے مظالم سے نجات ملی اور ایک نئی علمی تحریک شروع ہوئی۔ ائمہ معصومین (ع) کی کوششوں سے عباسیوں کی دعوت نے تشیع کے لیے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔

عباسیوں کی دعوت کا آغاز

سن ١١١ھ سے عباسیوں کی دعوت شروع ہو گئی۔[1] یہ دعوت ایک طرف تو اسلامی سرزمینوں میں تشیع کے پھیلنے کا سبب بنی تو دوسری طرف سے بنی امیہ کے مظالم سے نجات ملی جس کے نتیجہ میں شیعہ راحت کی سانس لینے لگے۔ ائمہ معصومین (ع) نے اس زمانے میں شیعہ فقہ و کلام کی بنیاد ڈالی اور تشیّع کے لئے ایک دور کا آغاز ہوا۔

کلّی طور پر امویوں کے زمانے میں فرزندان علی (ع) اور فرزندان عبّاس کے درمیان دو گانگی کا وجود نہیں تھا۔ کوئی اختلاف ان کے درمیان نہیں تھا جیسا کہ سیّد محسن امین کی نظر یہی ہے۔[2] اسی سبب سے داعیان فرزندان عبّاس لوگوں کو آل محمّد (ص) کی خشنودی کی طرف دعوت دیتے تھے اور خاندان پیغمبر (ص) کی مظلومیت بیان کرتے تھے۔

ابو الفرج اصفہانی کہتا ہے: ولید بن یزید کے قتل اور بنی مروان کے درمیان اختلاف کے بعد بنی ہاشم کے مبلّغین مختلف جگہوں پر تشریف لے گئے اور انہوں نے جس چیز کا سب سے پہلے اظہار کیا وہ حضرت علی (ع) اور ان کے فرزندوں کی فضیلت تھی۔ وہ کہتے تھے کہ بنی امیہ نے اولاد علی (ع) کو کس طرح قتل کیا اور ان کو کس طرح دربدر کیا ہے۔[3] جس کے نتیجہ میں اس دور میں شیعیت قابل ملاحظہ حد تک پھیلی یہاں تک امام مہدی (عج) سے مربوط احادیث مختلف مقامات پر لوگوں کے درمیان کافی تیزی سے منتشر ہوئی۔

داعیان عباسی کی زیادہ تر فعالیت و سرگرمی کا مرکز خراسان تھا اس بنا پر وہاں شیعوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا۔ یعقوبی نقل کرتا ہے: ١٢١ھ میں زید کی شہادت کے بعد شیعہ خراسان میں جوش و حرکت میں آگئے اور اپنی شیعیت کو ظاہر کرنے لگے۔ بنی ہاشم کے بہت سے مبلّغین ان کے پاس جاتے تھے اور خاندان پیغمبر (ص) پر بنی امیہ کی طرف سے ہونے والے مظالم کو بیان کرتے تھے۔ خراسان کا کوئی شہر بھی ایسا نہیں تھا کہ جہاں ان مطالب کو بیان نہ کیا گیا ہو۔[4]

مسعودی نے بھی اس طرح کے مطلب کو نقل کیا ہے ۔ وہ لکھتا ہے کہ ١٢٥ھ میں یحییٰ بن زید کے زنجان میں قتل ہونے کے بعد لوگوں نے اس سال پیدا ہونے والے تمام لڑکوں کا نا م یحییٰ رکھا۔[5]

اگرچہ خراسان میں عباسیوں کا زیادہ نفوذ تھا۔ چنانچہ ابو الفرج اصفہانی، عبداللہ بن محمد بن علی ابی طالب کے حالات زندگی میں کہتا ہے: خراسان کے شیعوں نے گمان کیا کہ عبداللہ اپنے باپ محمّد حنفیہ کے وارث ہیں کہ جو امام تھے اور محمد بن علی بن عبداللہ بن عبّاس کو اپنا جانشین قرار دیا اور محمد کے جانشین ابراہیم ہوئے اور وراثت کے ذریعہ امامت عباسیوں تک پہنچ گئی۔[6] یہی وجہ ہے کہ عباسیوں کی فوج میں اکثر خراسانی تھے۔[7]

بہرحال اہل بیت (ص) کا لوگوں کے درمیان ایک خاص مقام تھا چنانچہ عباسیوں کی کامیابی کے بعد شریک بن شیخ مہری نامی شخص نے بخارا میں خانوادہ پیغمبر (ص) پر عباسیوں کے ستم کے خلاف قیام کیا اور کہا: ہم نے ان کی بیعت اس لئے نہیں کی ہے کہ بغیر دلیل کے ستم کریں اور لوگوں کا خون بہائیں اور خلاف حق کام انجام دیں چنانچہ یہ ابومسلم کے ذریعہ قتل کردیا گیا۔[8]

امام محمد باقر (ع) کی امامت کا دوسرا دور اور امام صادق (ع) کی امامت کا پہلا دور، عباسیوں کی دعوت و تبلیغ اور علویوں کے قیام سے متصل ہے۔ علویوں میں جیسے زید بن علی، یحییٰ بن زید، عبد اللہ بن معاویہ کہ جو جعفر طیّار کے پوتے ہیں۔[9] عباسیوں کی دعوت میں رہبری کا دعوی کرنے والے ابو مسلم خراسانی کا خراسان میں قیام جو لوگوں کو بنی امیہ کے خلاف ابھار رہے تھے۔[10]

دوسری طرف بنی امیہ آپس میں اپنے طرفداروں کے درمیان مشکلات و اختلافات کا شکار تھے اس لئے کہ بنی امیہ کے طرفداروں میں مصریوں اور یمنیوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف تھا، جس کی وجہ سے عباسیوں کی دعوت کو ایسے مواقع ملے کہ وہ اپنے اثرات کو وسیع کریں۔

ان مشکلات کی وجہ سے بنی امیہ شیعوں سے غافل ہو گئے، اور اس دوران عباسیوں کی دعوت نے شیعہ تحریک کو تقویت دی، جس پر شیعوں نے سکون کا سانس لیا اور شدید تقیہ کی حالت سے باہر آئے تاکہ اپنے رہبروں سے رابطہ برقرار کریں اور دوبارہ منظم ہوں۔ یہ وہ دور تھا کہ جس میں لوگ امام باقر (ع) کی طرف متوجہ ہوئے اور ان نعمتوں سے بہرہ مند ہوئے۔

امام باقر (ع) کا علمی کردار اور شیعیت کا فروغ

حضرت امام باقر (ع) نے عباسیوں کی دعوت کے عروج کے دوران، مکتب اہل بیت (ع) کو زندہ رکھنے کے لئے قیام کیا اور لوگوں کی ہدایت کے لئے مسجد نبی (ص) میں درسی نششتیں اور جلسے تشکیل دیئے جو کہ لوگوں کے رجوع کرنے کا محل قرار پایا، ان کی علمی اور فقہی مشکلات کو حل کرتے تھے۔

قیس بن ربیع نقل کرتے ہیں کہ میں نے ابواسحاق سے نعلین پر مسح کرنے کے متعلق سوال کیا اس نے کہا: میں بھی تمام لوگوں کی طرح نعلین پر مسح کرتا تھا یہاں تک کہ بنی ہاشم کے ایک شخص سے ملاقات کی کہ میں نے ہرگز اس کے مثل نہیں دیکھا تھا اور اس سے نعلین پر مسح کرنے کے بارے میں معلوم کیا تو اس نے مجھے اس کام سے منع کیا اور فرمایا: امیر المومنین (ع) نعلین پر مسح نہیں کرتے تھے اور میں بھی ایسا نہیں کرتا ہوں۔ قیس بن ربیع کہتے ہیں: یہ بات سننے کے بعد میں نے بھی نعلین پر مسح کرنا ترک کردیا۔

خوارج میں سے ایک شخص امام محمد باقر (ع) کی خدمت میں آیا اور حضرت کو مخاطب کر کے کہا: اے ابا جعفر! کس کی عبادت کرتے ہیں؟ حضرت (ع) نے فرمایا: خدا کی عبادت کرتا ہوں۔ اس شخص نے کہا: کیا اس کو دیکھا ہے؟ فرمایا: ہاں لیکن دیکھنے والے اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے بلکہ بہ چشم قلب اور حقیقت ایمان سے اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

قیاس سے اس کی معرفت نہیں ہو سکتی، حو اس کے ذریعہ اس کو درک نہیں کیا جا سکتا، وہ لوگوں کی شبیہ نہیں ہے، وہ خارجی شخص امام (ع) کی بارگاہ سے یہ کہتا ہوا نکلا کہ خدا خوب جانتا ہے کہ رسالت کو کہاں قرار دے۔ عمرو بن عبید، طاؤس یمانی، حسن بصری، ابن عمر کے غلام نافع، علمی و فقہی مشکلات کے حل کے لئے امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔[11]

امام محمد باقر (ع) جس وقت مکہ میں آتے تھے تو لوگ حلال و حرام کو جاننے کے لئے امام (ع) کے پاس آتے تھے اور حضرت (ع) کے پاس بیٹھنے کی فرصت کو غنیمت شمار کرتے تھے اور اپنے علم و دانش میں اضافہ کرتے تھے۔ سرزمین مکہ پر آپ کے حلقہ درس میں طالب علموں کے علاوہ اس زمانہ کے دانشمند بھی شریک ہوا کرتے تھے۔[12]

جس وقت ہشام بن عبد الملک حج کے لئے مکہ آیا اور حضرت (ع) کے حلقۂ درس کو دیکھا تو اس پر یہ بات گراں گزری۔ اس نے ایک شخص کو امام (ع) کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ امام (ع) سے یہ سوال کرے کہ لوگ محشر میں کیا کھائیں گے؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: محشر میں درخت اور نہریں ہوں گی جس سے لوگ میوہ کھائیں گے اور نہر سے پانی پئیں گے یہاں تک کہ حساب و کتاب سے فارغ ہوجائیں۔

ہشام نے دوبارہ اس شخص کو بھیجا کہ وہ امام (ع) سے سوال کرے کہ کیا محشر میں لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ملے گی؟ امام (ع) نے فرمایا: جہنم میں بھی لوگوں کو کھانے پینے کی فرصت ہوگی اور اللہ سے پانی اور تمام نعمتوں کی درخواست کریں گے۔

زُرارہ کا بیان ہے امام باقر (ع) کے ہمراہ کعبہ کے ایک طرف بیٹھا ہوا تھا۔ امام (ع) رو بقبلہ تھے اور فرمایا: کعبہ کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔ اس وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ کعب الاحبار کا کہنا ہے کہ کعبہ بیت المقدس کو ہر روز صبح کو سجدہ کرتا ہے۔ حضرت نے فرمایا: تم کیا یہ کہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: کعب سچ کہتا ہے، امام (ع) ناراض ہو گئے اور فرمایا: تم اور کعب دونوں جھوٹ بولتے ہو۔[13]

حضرت (ع) کے محضر اقدس میں بزرگ علماء، فقہا اور محدّثین نے تربیت پائی ہے جیسے زرارہ بن اعین کہ جن کے بارے میں امام صادق (ع) نے فرمایا ہے: اگر زُرارہ نہ ہوتے تو میر ے والد کی احادیث کے ختم ہو جانے کا احتمال تھا۔[14]

محمد بن مسلم نے امام محمد باقر (ع) سے تیس ہزار حدیثیں سنی تھیں۔ جو عباسیوں کی دعوت کے دور میں شیعہ علمی ورثہ کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔ [15] ابو بصیر جن کے بارے میں امام صادق (ع) نے فرمایا: اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت پرانے ہو جاتے یا قطع ہو جاتے [16] اور دوسرے بزرگ جیسے یزید بن معاویہ عجلی، جابر بن یزید، حمران بن اعین اور ہشّام بن سالم حضرت (ع) کے مکتب کے تربیت یافتہ تھے، شیعہ علماء کے علاوہ بہت سے علمائے اہل سنّت بھی امام (ع) کے شاگرد تھے۔

سبط ابن جوزی کہتا ہے: جعفر اپنے باپ کے حوالے سے حدیث پیغمبر (ص) نقل کرتے تھے، اسی طرح تابعین کی کچھ تعداد نے جیسے عطا بن ابی رباح، سفیان ثوری، مالک بن انس (مالکی فرقہ کے رہنما)، شعبہ اور ابو ایوب سجستانی نے حضرت (ع) کی طرف سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[17]

خلاصہ یہ کہ حضرت (ع) کے مکتب سے علم فقہ و حدیث کے ہزاروں علماء و ماہرین نے کسب فیض کیا اور ان کی حدیثیں تمام جگہ پھیلیں۔ بزرگ محدّث جابر جعفی نے ستّر ہزار حدیثیں حضرت (ع) سے نقل کی ہیں۔[18] حضرت (ع) نے ١١٤ھ میں ساتویں ذی الحجہ کو شہادت پائی۔[19]

امام صادق (ع) کا علمی انقلاب

امام صادق (ع) کو عباسیوں کی دعوت کے دوران ایک مناسب سیاسی موقع فراہم ہوا تھا کہ جس میں انہوں نے اپنے والد کی علمی تحریک کو آگے بڑھایا اور ایک عظیم یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی کہ جس کی آواز پورے آفاق میں گونج گئی۔ شیخ مفید لکھتے ہیں: حضرت (ع) سے اتنی مقدار میں علوم نقل ہوئے کہ زبان زد خلائق تھے۔ امام (ع) کی شہرت تمام جگہ پھیل گئی تھی، خاندان پیغمبر (ص) میں سے کسی فرد سے اتنی مقدار میں علوم نقل نہیں ہوئے ہیں۔[20]

امیر علی، حضرت (ع) کے بارے میں لکھتے ہیں: علمی مباحث اور فلسفی مناظروں نے تمام مراکز اسلامی میں عمومیت پیدا کرلی تھی اور اس سلسلے میں جو رہنمائی اور ہدایت دی جاتی تھی وہ فقط اس یونیورسٹی کی مرہون منت تھی جو مدینہ میں  حضرت امام صادق (ع) کے زیر نظر تھی۔[21]اس بنا پر علم و دانش کے چاہنے والے اور معارف محمدی (ص) کے تشنہ لب افراد مختلف اسلامی سرزمینوں سے امام (ع) کی طرف آتے اور علوم و حکمت کے چشمہ سے بہرہ مند ہوتے تھے، سید الاہل کہتے ہیں:

کوفہ، بصرہ، واسط اور حجاز کے ہر قبیلہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو جعفر بن محمد کی خدمت میں بھیجا۔ عرب و عجم کے اکثر بزرگان بالخصوص اہل قم حضرت کے علم کدے سے شرفیاب ہوئے ہیں۔[22]

مرحوم محقق، المعتبر میں لکھتے ہیں: امام صادق (ع) کے زمانے میں اس قدر علوم منتشر ہوئے کہ عقلیں حیران ہیں۔ رجال کی ایک جماعت میں چار ہزار افراد نے حضرت (ع) سے روایتیں نقل کی ہیں اور ان کی تعلیمات کے ذریعہ کافی لوگوں نے مختلف علوم میں مہارت پیدا کی، یہاں تک کہ حضرت کے جوابات اور لوگوں کے سوالات سے چار سو کتابیں معرض وجود میں آگئیں کہ جن کو اصول اربعۃ مائۃ کا نام دیا گیا۔[23]

شہید اوّل بھی کتاب ذکریٰ میں فرماتے ہیں: امام صادق (ع) کے جوابات لکھنے والے عراق و حجاز اور خُراسان کے چار ہزار افراد تھے۔[24] حضرت (ع) کے مکتب کے برجستہ ترین دانشمند جو مختلف علوم منقول و معقول کے ماہر تھے جیسے ہشّام بن حکم، محمد بن مسلم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم، مومن طاق مفضل بن عمر، جابر بن حیا ن وغیرہ۔

ان کی تصنیف جو اصول اربعۃ مائۃ کے نام سے مشہور ہے جو کافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب اور استبصار کی اساس و بنیاد ہے۔

امام صادق (ع) کے شاگرد اور ان کا علمی کردار

امام صادق (ع) کے شاگرد صرف شیعہ ہی نہیں تھے بلکہ اہل سنّت کے بزرگ دانشوروں نے بھی حضرت (ع) کی شاگردی اختیار کی تھی۔ ابن حجر ہیثمی  اس بارے میں لکھتے ہیں: فقہ و حدیث کے بزرگ ترین پیشوا جیسے یحییٰ بن سعد، ابن جریح مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبی و ایوب سجستانی وغیرہ نے حضرت (ع) سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[25]

ابو حنیفہ حنفی فرقہ کے پیشوا کہتے ہیں: ایک مدت تک جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمد کی۔ میں ان کو ہمیشہ تین حالتوں میں سے کسی حالت میں ضرور دیکھتا تھا یا نماز میں مشغول ہوتے تھے یا روزہ دار ہوا کرتے تھے یا تلاوت قرآن کریم میں مصروف رہتے تھے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ انہوں نے بغیر وضو کے حدیث نقل کی ہو۔[26]علم و عبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے برتر نہ آنکھوں نے دیکھا اور نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی کے بارے میں دل میں ایسا تصور پیدا ہوا۔ [27]

آپ کے درس میں صرف وہی لوگ شریک نہیں ہوئے کہ جنہوں نے بعد میں مذاہب فقہی کی بنیاد رکھی بلکہ دور و دراز کے رہنے والے فلسفہ کے طالب علم آپ کے درس میں حاضر ہوتے تھے۔ انہوں نے اپنے امام (ع) سے علوم حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن ایسی درسگاہیں تشکیل دیں کہ جس میں مسلمان ان کے گرد جمع ہوتے تھے اور یہ لوگ معارف اہل بیت (ع) سے لوگوں کو سیراب کرتے تھے اور تشیع کو فروغ دیتے تھے۔

جس وقت ابان بن تغلب مسجد بنی (ص) میں تشریف لاتے تو لوگ اس ستون کو کہ جس سے پیغمبر (ص) تکیہ لگاتے تھے ان کے لئے خالی کر دیتے تھے اور وہ لوگوں کے لئے حدیث نقل کرتے تھے۔ امام صادق (ع) نے ان سے فرمایا: آپ مسجد نبوی میں بیٹھ کے فتویٰ دیجیے۔ میں دوست رکھتا ہوں کہ میرے شیعوں کے درمیان آپ جیسے شخص دیکھنے میں آئیں۔

ابان پہلے شخص ہیں جنہوں نے علوم قرآن کے بارے میں کتاب تالیف کی ہے اور علم حدیث میں بھی انہیں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ آپ مسجد نبوی (ص) میں تشریف فرما ہوتے اور لوگ آ کر آپ سے طرح طرح کے سوالات کرتے تھے اور مختلف جہت سے ان کے جوابات دیتے تھے۔ مزید احادیث اہل بیت (ع) کو بھی ان کے درمیان بیان کرتے تھے۔[28] ذہبی، میزان الاعتدال میں ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ابان کے مثل افراد جو تشیع سے متہم ہیں اگر ان کی حدیث رد ہو جائے تو کافی آثار نبوی (ص) ختم ہو جائیں گے۔[29]

ابو خالد کابلی کا بیان ہے: ابو جعفر مومن طاق کو مسجد نبی (ص) میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ مدینہ کے لوگوں نے ان کے اطراف میں ہجوم کر رکھا تھا، لوگ ان سے سوال کر رہے تھے اور وہ جواب دے رہے تھے۔[30]

شیعیت اس دور میں اس قدر پھیلی کہ بعض لوگوں نے اپنی اجتماعی حیثیت کے چکر میں اپنی طرف سے حدیث جعل کرنا شروع کردیا اور احادیثِ ائمہ طاہرین (ع) کی بیجا تاویل کرنے لگے۔ نیز اپنے نفع میں روایات ائمہ کی تفسیر کرنے لگے، جیسا کہ امام صادق (ع) نے اپنے صحابی فیض ابن مختار سے اختلاف احادیث کے بارے میں فرمایا: وہ ہم سے حدیث اور اظہار محبت میں رضائے خدا طلب نہیں کرتے بلکہ دنیا کے طالب ہیں اور ہر ایک اپنی ریاست کے چکر میں لگا ہوا ہے۔[31]

 

خاتمہ

بالآخر، یہ کہا جا سکتا ہے کہ عباسیوں کی دعوت ایک تاریخی سنگ میل تھی جس نے تشیع کو فروغ دیا اور اموی مظالم سے نجات دلائی۔ اس دور میں، عباسیوں کی دعوت کے زیر اثر ائمہ معصومین (ع) نے شیعہ فقہ و کلام کو استحکام بخشا اور ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اس طرح، عباسیوں کی دعوت نے اسلامی تاریخ پر ایک انمٹ نقش چھوڑا۔

 

حوالہ جات

 

[1]۔ احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، ج٢، ص٣١٩۔

[2]۔ سید محسن امین، اعیان الشیعۃ، ج١، ص ١٩۔

[3]۔ ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص٢٠٧۔

[4]۔ احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، ج٢، ص٣۲۶۔

[5]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٣، ص٢٣٦۔

[6]۔ ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص١٣٣۔

[7]۔ مقدسی، احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم، ج٢، ص٤٢٦۔٤٢٧۔

[8]۔ احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، ج٢، ص٣٤٥۔

[9]۔ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ج٢، ص٣٣٢۔

[10]۔ احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، ج٢، ص٣٣٣۔

[11]۔ حیدر، الامام الصادق و المذاھب الاربعۃ، ج١، ص٤٥٢۔٤٥٣۔

[12]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج٢٦، ص٣٥٥۔

[13]۔ حیدر، الامام الصادق و المذاھب الاربعۃ، ج١، ص٤٥٢۔ ٤٥٣۔

[14]۔ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال،ج ١، ص٣٤٥۔

[15]۔ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج١، ص٣٨٦۔

[16]۔ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج١، ص٣٩٨۔

[17]۔ ابن جوزی، تذکرة الخواص، ١٤١٨ھ، ص٣١١۔

[18]۔ مظفر، تاریخ الشیعۃ، ص٢٢۔

[19]۔ کلینی، اصول کافی، ج١، ص٧٢۔

[20]۔ شیخ مفید، الارشاد، ص٥٢٥۔

[21]۔ امیر علی، تاریخ عرب و اسلام، ص٢١٣۔

[22]۔ حیدر، الامام الصادق والمذاہب الاربعة، ص۴۹۰۔

[23]۔ محقق حلی، المعتبر، ص٤۔٥۔

[24]۔ شہید اول، الذكری، ص٦۔

[25]۔ ابن حجر ہیثمی، الصواعق المحرقة، ص٢٠١۔

[26]۔ ابن حجر ہیثمی، الصواعق المحرقة، ج١، ص٨٨۔

[27]۔ حیدر، الامام الصادق و المذاھب الاربعة، ص٥٣۔

[28]۔ حیدر، الامام الصادق و المذاھب الاربعة، ج١، ص٥٥۔

[29]۔ ذہبی، میزان الاعتدال، ج١، ص٤۔

[30]۔ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج٢، ص٥٨١۔

[31]۔ شیخ طوسی، اختیار معرفة الرجال، ج٢، ص٣٤٧۔

 

كتابیات

1. ابن جوزی، عبد الرحمن بن علی، تذکرة الخواص، قم، منشورات شریف الرضی، ۱۳۷۶ش / ۱۴۱۸ق۔

2. ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الصواعق المحرقۃ، بیروت، دار الفکر، طبع اول، ۱۴۰۴ق۔

3. ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم، منشورات شریف الرضی، ۱۳۷۹ق۔

4. ابو الفرج اصفهانی، علی بن حسین، مقاتل الطالبیین، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۶ق۔

5. امیر علی، سید، تاریخ عرب و اسلام، ترجمہ فخر داعی گیلانی، تہران، انتشارات گنجینہ، ۱۳۶۶ش۔

6. امین، سید محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق۔

7. حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۳۹۰ق۔

8. ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد، میزان الاعتدال فی نقد الرجال، بیروت، دار المعرفۃ، ۱۴۰۵ق۔

9. شہید اول، محمد بن مکی، الذکری فی فقه الامامیۃ، قم، مؤسسه آل البیت (ع)، ۱۴۱۹ق۔

10. شیخ طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃ الرجال، قم، مؤسسه آل البیت (ع)، ۱۴۱۱ق۔

11. شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، ترجمہ محمد باقر ساعدی خراسانی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۷۶ش۔

12. کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۶۳ش۔

13. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۳ق۔

14. محقق حلی، نجم الدین جعفر بن حسن، المعتبر فی شرح المختصر، قم، دار المعارف الإسلامیۃ، ۱۴۱۸ق۔

15. مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، بیروت، مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۷ق۔

16. مظفر، محمد حسین، تاریخ الشیعۃ، بیروت لبنان، دارالزہراء، ۱۴۰۸ق۔

17. مقدسی، محمد بن احمد، احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم، ترجمہ دکتر علی نقی منزوی، تهران، شرکت مؤلفان و مترجمان ایران، ۱۳۶۱ش۔

18. یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ الیعقوبی، قم، منشورات شریف الرضی، ۱۴۱۴ق۔

 

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔