نوجوانوں کے ذہنوں میں اسلامی قوانین کے حوالے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں، جن میں ایک اہم سوال دیت کے قانون سے متعلق ہے۔ یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کی دیت میں اختلاف کیوں ہے؟ عصرِ حاضر میں، جہاں عالمگیریت اور مغربی افکار کے زیرِ اثر روایتی اور مذہبی قوانین کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اسلامی شریعت کے سماجی قوانین اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں۔ حجاب، وراثت، اور گواہی جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ ایک اہم سوال دیت کے قانون سے متعلق بھی اٹھایا جاتا ہے۔
نوجوان نسل، جو مساوات اور انسانی حقوق کے جدید تصورات سے متاثر ہے، اکثر یہ سوال پوچھتی ہے کہ کیا یہ قانون عورت کے ساتھ ناانصافی نہیں؟ اور کیا یہ اس تصور کو تقویت نہیں دیتا کہ اسلام میں عورت کا درجہ مرد سے کمتر ہے؟ یہ اعتراضات محض علمی سوالات نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی کشمکش کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسلامی قوانین کو فرسودہ اور غیر منصفانہ ثابت کرنا ہے۔ اس شبہہ کا جواب دینے کے لیے محض جذباتی ردِ عمل کافی نہیں، بلکہ اس قانون کی گہری حکمت اور اس کے سماجی و معاشی فلسفے کو سمجھنا ناگزیر ہے۔
یہ مقالہ اسی شبہہ کا عقلی، منطقی اور شواہد پر مبنی جواب دینے کی کوشش کرے گا، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ دیت کا یہ قانون نا انصافی پر نہیں، بلکہ ایک وسیع تر عدل اور خاندان کے تحفظ کے اصول پر مبنی ہے۔
اسلامی قانون میں دیت کا اصول
اس سے پہلے کہ ہم اس قانون کی حکمت پر گفتگو کریں، یہ جاننا ضروری ہے کہ عورت اور مرد کی دیت میں اختلاف کا اصول اسلامی شریعت میں ایک طے شدہ امر ہے۔ اس کی بنیاد قرآنِ مجید کے عمومی اشاروں کے بعد نبی اکرم (ص) کی سنت اور ان مستند روایات پر ہے جن پر تمام اسلامی مکاتبِ فکر کے فقہاء کا اجماع (اتفاق رائے) ہے۔
یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ ائمہ معصومین (ع) کے دور میں بھی جب اس پر سوالات اٹھائے گئے تو ان کا جواب اس حکم کی بنیاد کی طرف متوجہ کرنا ہوتا تھا۔ اس کی بہترین مثال مشہور محدث ابان بن تغلب کی روایت ہے، جنہوں نے امام صادق (ع) سے عورت کی انگلیوں کی دیت کے بارے میں سوال کیا تھا۔ جب امام (ع) نے وضاحت فرمائی کہ تین انگلیوں کی دیت تیس اونٹ ہے جبکہ چار انگلیوں کی دیت بیس اونٹ ہو جاتی ہے، تو وہ حیرت سے پکار اٹھے کہ یہ کیسا انصاف ہے! امام (ع) نے ان کے قیاس اور عقلی استدلال کو رد کرتے ہوئے فرمایا: "اے ابان! ٹھہرو۔ یہ رسول اللہ (ص) کا حکم ہے۔ عورت کی دیت ایک تہائی (ثلث) تک مرد کے برابر ہے، لیکن جب یہ حد ایک تہائی سے بڑھ جائے تو نصف پر واپس آ جاتی ہے۔ اے ابان! جب سنت (یعنی منصوص شرعی حکم) میں قیاس کو داخل کیا جائے تو دین تباہ ہو جاتا ہے۔” [۱]۔
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ اس حکم کی بنیاد وحی الٰہی پر غیر متزلزل ایمان اور اطاعت پر ہے۔ تمام شیعہ اور سنی فقہاء کا اس اصول پر اتفاق ہے [۲]۔ اب ہم اس حکم کی اصل حکمت اور فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیا دیت میں فرق نا انصافی ہے؟
اس شبہہ کا تفصیلی اور اطمینان بخش جواب سمجھنے کے لیے ہمیں چند بنیادی تصورات کو واضح کرنا ہوگا جو اسلامی قانون سازی کی روح ہیں:
۱۔ دیت کا حقیقی تصور
سب سے بڑی اور بنیادی غلط فہمی دیت کو "جان کی قیمت” یا "خون بہا” سمجھنا ہے۔ اسلام کی نظر میں انسانی جان، خواہ وہ مرد کی ہو یا عورت کی، انمول اور مقدس ہے۔ اس کی کوئی مادی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ قرآنِ مجید ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے [۳]، جو مرد اور عورت دونوں کی جان کی حرمت کو یکساں طور پر بیان کرتا ہے۔
دیت دراصل مقتول کی جان کی قیمت نہیں، بلکہ اس کے قتل یا زخمی ہونے کی صورت میں اس کے خاندان کو پہنچنے والے ایک بہت بڑے معاشی نقصان کا ازالہ ہے۔ یہ ایک سماجی اور معاشی قانون ہے جس کے دو بنیادی مقاصد ہیں:
پہلا مجرم کے لیے سزا: یہ مجرم کے لیے ایک مالی سزا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسی غفلت اور لاپرواہی سے باز رہے۔
دوسرا متاثرہ خاندان کی مدد: اس کا سب سے اہم مقصد متاثرہ خاندان کو مالی طور پر سہارا دینا ہے تاکہ وہ اپنے کفیل یا خاندان کے ایک اہم فرد کے دنیا سے چلے جانے کے بعد معاشی طور پر تباہ حال نہ ہو جائیں۔ یہ قانون دورِ جاہلیت کے انتقامی سلسلوں کو روکنے کا بھی ایک ذریعہ تھا، جہاں ایک قتل کے بدلے کئی قتل ہوتے تھے۔
لہٰذا دیت کا تعلق انسان کی روحانی یا انسانی قدر سے نہیں، بلکہ معاشرے اور خاندان پر اس کے معاشی اثرات سے ہے۔ جب ہم دیت کو اس کے درست تصور یعنی "معاشی نقصان کی تلافی” کے طور پر دیکھتے ہیں تو یہ اعتراض خود بخود ختم ہو جاتا ہے کہ "مرد کا خون عورت سے زیادہ قیمتی ہے”۔ یہ ایک بے بنیاد اور غلط الزام ہے جو دیت کے فلسفے کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے [۴]۔
۲۔ خاندان میں مرد اور عورت کے معاشی کردار کا فرق
اسلامی نظامِ حیات ایک متوازن اور فطری اصولوں پر مبنی نظام ہے جس میں خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی کی حیثیت حاصل ہے۔ اس خاندانی نظام کے استحکام کے لیے مرد اور عورت کے درمیان فرائض کی ایک واضح تقسیم کی گئی ہے جو ان کی فطری صلاحیتوں اور نفسیاتی ساخت کے عین مطابق ہے۔
اسلامی قانون کے تحت خاندان کی معاشی کفالت کی تمام تر ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے۔ قرآن مرد کو "قوام” یعنی خاندان کا محافظ اور کفیل قرار دیتا ہے [۵]، جس کا مطلب برتری نہیں بلکہ ذمہ داری کا بوجھ ہے۔ بیوی، بچوں، اور بعض صورتوں میں والدین اور دیگر رشتہ داروں کا نان و نفقہ، رہائش، لباس اور علاج معالجے کا انتظام کرنا مرد کا شرعی فریضہ ہے۔ اس کے برعکس، عورت اس ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ اس کا مہر، وراثت اور ذاتی کمائی صرف اسی کی ملکیت ہے، اور وہ اسے اپنے خاندان پر خرچ کرنے کی پابند نہیں۔
اب اس اصول کی روشنی میں دیت کے فرق کی حکمت کو سمجھیں:
جب ایک مرد، جو اپنے خاندان کا واحد یا بنیادی معاشی سہارا ہے، قتل ہو جاتا ہے یا کسی حادثے میں مستقل طور پر معذور ہو جاتا ہے، تو اس کا پورا خاندان (جس میں اس کی بیوی، بیٹیاں، بہنیں اور ماں بھی شامل ہیں) معاشی طور پر بے سہارا ہو جاتا ہے۔ اس کے جانے سے پیدا ہونے والا معاشی خلا بہت بڑا اور تباہ کن ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس، عورت کی بنیادی ذمہ داری گھر کا انتظام، بچوں کی پرورش اور نسلوں کی تربیت ہے۔ یہ کام اگرچہ معاشی سرگرمیوں سے ہزار گنا زیادہ اہم اور معاشرے کی بنیاد ہے، لیکن یہ براہِ راست مالی آمدنی کا ذریعہ شمار نہیں ہوتا۔
چونکہ دیت کا بنیادی مقصد ہی معاشی نقصان کا ازالہ ہے، اور مرد کی عدم موجودگی سے خاندان کو پہنچنے والا معاشی نقصان غالب طور پر عورت کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے مرد کی دیت زیادہ مقرر کی ہے۔ یہ قانون دراصل مرد کی ذات کے لیے نہیں، بلکہ اس کے پیچھے رہ جانے والے خاندان، خصوصاً عورتوں اور بچوں، کے مالی تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو عورت اور مرد کی دیت میں اختلاف کا قانون عورت مخالف نہیں، بلکہ درحقیقت عورت اور خاندان کے وسیع تر مفاد میں ہے [۶]۔
۳۔ اسلام میں عورت کا حقیقی مقام
دیت کے فرق کو عورت کی کمتری کی دلیل کے طور پر پیش کرنا اسلام کے مجموعی نظام، اس کی تاریخ اور اس کی تعلیمات سے مکمل ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مقام اور عزت دی ہے جو اس سے پہلے کسی مذہب یا تہذیب نے نہیں دی تھی۔ روحانی اور انسانی مرتبے میں اسلام مرد اور عورت کو بالکل برابر قرار دیتا ہے۔ اللہ کے نزدیک برتری اور فضیلت کا معیار جنس، رنگ یا نسل نہیں، بلکہ صرف تقویٰ اور نیکی ہے۔
قرآنِ مجید میں درجنوں مقامات پر واضح کیا گیا ہے کہ اجر و ثواب کا دارومدار ایمان اور عملِ صالح پر ہے، اور اس میں مرد و عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ اسلام نے عورت کو ماں کا درجہ دے کر اس کے قدموں تلے جنت قرار دی، بیٹی کو رحمت اور اس کی بہترین پرورش کو جہنم سے نجات کا ذریعہ بتایا، اور بیوی کو نصف ایمان کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا۔ علم حاصل کرنا جس طرح مرد پر فرض ہے، اسی طرح عورت پر بھی فرض قرار دیا گیا [۷]۔ اسلامی تاریخ حضرت خدیجہ(س)، حضرت فاطمہ (س)، حضرت زینب (س)، جیسی عظیم خواتین کی علمی، روحانی اور سماجی خدمات سے بھری پڑی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے کبھی عورت کو کمتر نہیں سمجھا۔ لہٰذا، ایک خالص معاشی قانون کی بنیاد پر عورت کے مجموعی مقام کو کم تر سمجھنا ایک بہت بڑی علمی اور منطقی غلطی ہے۔
۴۔ حقوق و فرائض میں توازن
اسلامی شریعت کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں حقوق اور فرائض کے درمیان ایک گہرا اور منصفانہ توازن پایا جاتا ہے۔ جہاں مرد کو کچھ اضافی حقوق حاصل ہیں، وہیں اس پر اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ دیت کے معاملے میں بھی یہی توازن واضح طور پر نظر آتا ہے۔
اگر ایک مرد کی دیت زیادہ ہے، تو اس پر "عاقلہ” کے نظام کے تحت ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ "عاقلہ” وہ قریبی مرد رشتہ دار ہیں جو کسی شخص سے ہونے والے غلطی سے قتل (قتلِ خطا) کی دیت ادا کرنے میں شریک ہوتے ہیں۔ یعنی مرد نہ صرف اپنے خاندان کا کفیل ہے، بلکہ اپنے قبیلے یا برادری کے دیگر افراد کی مالی غلطیوں کا بوجھ بھی اٹھاتا ہے۔
اس کے برعکس، عورت اس "عاقلہ” کی ذمہ داری سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہے۔ اس پر کسی اور کی دیت ادا کرنے کا کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔
یہ اصول وراثت کے قانون سے بھی مطابقت رکھتا ہے، جہاں مرد کا حصہ بظاہر دگنا ہوتا ہے لیکن اسی حصے سے وہ پورے خاندان کی کفالت کا ذمہ دار ہوتا ہے، جبکہ عورت کا حصہ صرف اسی کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے جہاں مرد کو ایک معاملے میں زیادہ مالی حق دیا ہے، وہیں دوسرے معاملے میں اس پر زیادہ مالی بوجھ بھی ڈالا ہے، جبکہ عورت کو اس بوجھ سے آزاد رکھا ہے۔ یہ اسلامی قانون کے عدل اور توازن کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
نتیجہ
دیت میں عورت اور مرد کی دیت میں اختلاف کا قانون ناانصافی یا عورت کی کمتری پر مبنی نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی حقیقت پسندانہ، منصفانہ اور حکمت پر مبنی سماجی و معاشی قانون ہے۔ اس کی بنیاد انسانی جان کی قیمت پر نہیں، بلکہ خاندان کو پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے پر ہے۔ چونکہ اسلامی نظام میں مرد پر خاندان کی کفالت کی غالب ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اس لیے اس کی موت یا معذوری سے خاندان کو زیادہ شدید مالی دھچکا لگتا ہے۔ اسی مالی نقصان کی تلافی کے لیے اس کی دیت زیادہ رکھی گئی ہے، تاکہ اس کے زیرِ کفالت افراد، خصوصاً عورتوں اور بچوں، کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ یہ قانون عورت کے مقام کو ہرگز کم نہیں کرتا، جہاں وہ مرد کے بالکل برابر ہے، بلکہ یہ خاندان کے مقدس ادارے کو مضبوط کرنے اور اس کے تمام افراد کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی ایک عملی اور جامع تدبیر ہے۔
حوالہ جات
[۱] الحر العاملی، وسائل الشیعہ، ج ۱۹، ص ۲۶۸۔
[۲] نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، ج ۴۳، ص ۳۲؛ ابن قدامہ، المغني، ج ۷، ص ۷۹۷۔
[۳] سورہ مائدہ آیت ۳۲۔
[۴] مکارم شیرازی، دروس خارج فقه، بحث دیات، ص ۵۔
[۵] سورہ نساء آیت ۳۴۔
[۶] جوادی آملی، عبدالله، زن در آئینه جلال و جمال، ص ۴۲۱۔
[۷] مجلسی، بحارالانوار، ج ۶۷، ص ۶۸۔
فہرست منابع
۱۔ قرآن مجید
2۔ ابن قدامه المقدسی، مـوفق الدین، عـبدالله بـن احمد؛ المغنی و الشرح الکبیر؛ بیروت: دار الکتاب العربي، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م۔
3۔ حر عاملی، محمد بن الحسن؛ وسائل الشیعه؛ قم: مؤسسة آلالبيت لاحیاء التراث، ط۔ الثانیه، ۱۴۱۴ق۔
4۔ جوادی آملی، عبدالله، زن در آئینه جلال و جمال، قم، نشر اسراء، ۱۳۷۴ش۔
5۔ مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
6۔ مکارم شیرازی، ناصر، دروس خارج فقه، بحث دیات، روزنامه آموزشی پژوهشی فیضیه، شماره ۱۸، ص ۵۔
7۔ نجفی، محمد بن الحسن؛ جواهر الکلام، في شرح شرايع الاسلام؛ تحقیق عباس قوچانی؛ ط۔ السابعه، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۱م۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مرکز مطالعات و پاسخ گویی به شبهات حوزه علمیه قــم
سید محمد علی ایازی. «بررسی نظریه مشهور در تفاوت دیه زن و مرد.» بانوان شیعه پاییز ۱۳۸۸ – شماره ۲۱ (۴۲ صفحه – از ۲۹ تا ۷۰)۔
ناصریان، سیدعلیرضا؛ «برابری یا عدم برابری دیه زن و مرد» حقوق اشراق زمستان ۱۳۹۸ – شماره ۱ (۱۵ صفحه – از ۲۲ تا ۳۶)۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم