قرآن مجید کی حفاظت اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہر مومن کی زندگی کا اہم حصہ ہے۔ اہل بیت (ع) نے حفظ قرآن کے بعد اسے فراموش نہ کرنے کی خاص اہمیت پر زور دیا ہے۔
قرآن مجید کو سہواً بھولا دینا
بہت سی احادیث میں قرآن مجید کو یاد کرنے اور حفظ کرنے کے بعد اسے لاپروائی سے فراموش نہ کرنے کی تأکید کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے:
جو شخص قرآن مجید کے ایک سورہ کو فراموش کرتا ہے وہ سورہ قیامت کے دن اس کے پاس آئے گا یہاں تک کہ بہشت کے درجات میں سے ایک درجے پر پہنچ کر کہے گا: سلام ہو تم پر۔ وہ شخص جواب دے گا: تم پر بھی سلام ہو۔ تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں وہی سورہ ہوں جسے تو نے ضائع کیا اور چھوڑ دیا۔ اگر تم میرے ساتھ تمسک رکھتے تو میں تمہیں اس درجہ تک پہنچاتا، پھر اشارہ کر کے اس مقام کو دکھائے گا۔ [1]
امام جعفر صادق (ع) کا قرآن مجید کو فراموش کرنے کی بات سن کر لرز جانا قرآن مجید کے سیکھے ہوئے مطالب کو یاد رکھنے کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی وجہ سے قرآن مجید کا فراموش کرنا ایک بڑا اہم خسارہ اور قابل توجہ نقصان ہے جسے کسی بھی صورت میں آسانی کے ساتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری احادیث میں بھی اس نکتے کی تأکید کی گئی ہے۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
جو شخص قرآن مجید کے ایک سورے کو سیکھ کر اسے فراموش کر جاتا یا اسے ضائع کر دیتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا وہ بہشت میں داخل ہو گا تووہ سورہ بہترین شکل میں اوپر سے اس پر ایک نظر ڈال کر اس سے کہے گا: کیا مجھے پہچانتے ہو؟ وہ شخص جواب دے گا: نہیں۔ سورہ کہے گا: میں وہی سورہ ہوں جس پر تم نے عمل نہیں کیا اور ترک کیا۔ اگر مجھ پر عمل کرتے تو میں آج تمہیں اس مقام تک پہنچاتا۔ اس کے بعد اس بلند مقام کی طرف اشارہ کرے گا۔ [2]
اسی طرح فرماتے ہیں:
جو شخص قرآن مجید کے ایک سورہ کو فراموش کرے وہ سورہ (بہشت میں) خوبصورت شکل میں اس کے روبرو ایک بلند درجہ پر مجسم ہو کر ظاہر ہوگا اور جب وہ اسے دیکھے گا تو کہے گا: تم کون ہو؟ کتنے خوبصورت ہو! کاش میرے لئے ہوتے۔ جواب دے گا: کیا مجھے نہیں پہچانتے ہو؟ میں فلاں سورہ ہوں۔ اگر تم نے مجھے فراموش نہ کیا ہوتا، تو میں تمہیں اس بلند جگہ پر لاتا۔ [3]
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص لاپروائی کی وجہ سے سیکھا ہوا قرآن اسے بھول جائے وہ آخرت میں پشیمان ہوگا اور بہشت کے بلند درجات حاصل کرنے سے محروم ہوگا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کے سیکھے ہوئے مطالب کا تحفظ کرنا مستحب موکد ہےخواہ یہ قرآن مجید کی قرائت کی صورت میں ہو یا حفظ کی صورت میں۔
البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کی دشواریوں اور مشکلات کی وجہ سے قرآن مجید کے سیکھے ہوئے مطالب کو محفوظ نہ رکھ سکے تو وہ گناہ کا مرتکب ہو یا عذاب کا مستحق ہو کیونکہ حضرت امام صادق (ع) کی حدیث میں بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی کی دشواریوں اور مشکلات کی وجہ سے قرآن مجید کو بھول جائے تو بھی وہ بہشت میں داخل ہوگا لیکن بہشت کے بلند درجات تک پہنچنے سے محروم ہوگا۔
قرآن مجید کو عمداً بھولا دینا
یہی بات دوسری احادیث میں بھی واضح طور پر بیان ہوئی ہے:
ابی کہمس کہتا ہے: میں نے امام صادق (ع) سے ایک شخص کے بارے میں، جس نے قرآن مجید کو پڑھنے کے بعد بھلا ڈالا تھا تین بار سوال کیا: کیا اس کے ساتھ اس کام کے لئے سخت برتاؤ کیا جائے گا؟
حضرت نے فرمایا: نہیں۔ [4]
لیکن اگر فراموشی قرآن مجید سے لاپروائی کے نتیجے میں ہو، خاص کر اگر قرآن مجید کے ساتھ اس کا برتاؤ بے احترامی اور ہتک حرمت شمار ہوتا ہو تو یہ کام حرام ہے اور عذاب الٰہی کا سبب ہوگا۔ اس بات کو پیغمبر اکرم ﷺ کی حدیث سے سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ نے فرمایا:
’’مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ مُتَعَمِّداً لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَجْذُوماً وَ مَغْلُولًا‘‘[5]
جو شخص قرآن مجید کو سیکھنے کے بعد عمداً بھلا ڈالے (اس پر عمل نہ کرے) تو وہ قیامت کے دن کٹے اور بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ خداوند متعال سے ملاقات کرے گا۔
لفظ ’’متعمداً‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ عذاب اس شخص سے مربوط ہے جس کا قرآن کو ترک کرنا حافظہ کی کمزوری اور دوسری پریشانیوں کی وجہ سے نہ ہو بلکہ قرآن مجید سے لاپروائی برتنے کے سبب ہو۔ دوسری احادیث میں بھی اس مطلب کی تائید کی گئی ہے۔
پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا:
گناہ میرے سامنے قرار پائے تو میں نے قرآن مجید کو حفظ کر کے اسے ترک کرنے والے سے بدتر کسی گنہگار کو نہیں پایا۔ [6]
اس حدیث میں ترک سے مراد عمداً اور غفلت و تساہل سے ترک کرنا ہے جس کا قرینہ وہ روایات ہیں جوغیر عمدی طور پر ترک کرنے کو جائز اور بے اشکال قرار دیتی ہیں۔
ممکن ہے اس سے مراد آیات قرآن کو عمل اور احکام کی پابندی کی منزل میں مہجور اور متروک کرنا ہو۔ اس لحاظ سے حدیث کا یہ مفہوم ہو گا کہ آگاہی اور اس پر عمل کے بعد قرآن مجید کے احکام سے لاپروائی برتنا سب سے بڑے محرمات الٰہی میں سے ایک ہے۔ آیتِ شریفہ: ’’اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا‘‘[7] اسی مطلب کی اور وضاحت کرتی ہے۔
قرآن حفظ کرنے سے گریز کا شبہ
ممکن ہے بعض لوگ یہ خیال کریں کہ قرآن کو بھولنے کی مشکل میں گرفتار ہونے سے بچنے کے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم سرے سے قرآن مجید کو حفظ ہی نہ کریں۔ اس طرح یہ لوگ اپنے آپ کو قرآن مجید کی خدمت سے شرف یابی اور اسے سیکھنے اور حفظ کرنے کی نعمت سے محروم کرلیں۔ اس فکر کی بنیاد صحیح نہیں ہے کیونکہ اگر قرآن مجید کا سیکھنا صحیح نیت سے ہو تو بیشک یہ عمل نہ صرف انسان کو گناہ سے بچاتا ہے بلکہ انسان میں خدا کی نافرمانی کے مواقع کو کم کرتا ہے۔
یعنی جس شخص نے قرآن سیکھا ہے وہ اس شخص کی بنسبت گناہ میں کم گرفتار ہوگا جس نے قرآن مجید کو نہیں سیکھا ہے۔ اگرچہ قرآن مجید کو نہ سیکھنے والے شخص کے لئے قرآن مجید کو بھول جانے کا مسئلہ پیش ہی نہیں آتا۔ لیکن ایسے شخص کے شیطان کے مختلف پھندوں میں پھنسنے اور گناہ کے مرتکب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
اصولی طور پر اگر انسان مختلف میدانوں میں دینی معارف اور علوم کو صحیح نیت سے سیکھے تو یہ کسی صورت انسان کے لئے زوال کا سبب نہیں بن سکتا بلکہ یقینا اسے نجات اور کامیابی کے راستے سے ہمکنار کرتا ہے۔ اس بات کو ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے حضرت ابوذر سے خطاب میں پا سکتے ہیں۔
ابوذر پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض پرداز ہوئے:
یا رسول اللہ! میں ڈرتا ہوں کہ کہیں قرآن مجید کو سیکھنے کے بعد اس پر عمل نہ کرسکوں۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
خداوند متعال اس دل پر عذاب نہیں کرے گا جس نے قرآن مجید کو جگہ دے رکھی ہے۔ [8]
قرآن مجید کی فراموشی کے مختلف عوامل و اسباب ہوسکتے ہیں۔ ان عوامل میں سے بعض اختیاری اور بعض غیر اختیاری ہو سکتے ہیں۔ بہر صورت یہ ایک قسم کی محرومیت ہے۔ مناسب ہے کہ انسان اس محرومیت سے بچنے کی کوشش کرے اور ساتھ اس دعا کو پڑھے جسے حضرت علی (ع) نے پیغمبر اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے اور وہ دعا یوں ہے:
’’اللّهُمَّ ارحَمْني بتَركِ مَعاصِيكَ أبدا ما أبقَيتَني، وَ ارحَمْني مِن تَكَلُّفِ ما لا يَعنِيني، و ارزُقْني حُسنَ النَّظَرِ فيما يُرضِيكَ، و ألزِمْ قَلبي حِفظَ كتابِكَ كما عَلَّمتَني، و ارزُقْني أن أتلُوَهُ علَى النَّحوِ الذي يُرضيكَ عَنِّي۔ اللّهُمّ نَوِّرْ بكتابِكَ بَصَري، و اشرَحْ بهِ صَدري، و أطلِقْ بهِ لِساني، و استَعمِلْ بهِ بَدَني، و قَوِّني بهِ على ذالكَ، و أعِنِّي علَيهِ، إنّهُ لا يُعينُ علَيهِ إلاّ أنتَ، لا إله إلاّ أنتَ‘‘[9]
خاتمہ
حفظ قرآن ایک عظیم نعمت ہے، لہٰذا اس کی حفاظت اور دہرائی انتہائی ضروری ہے۔ قرآن کو یاد رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہم دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
[1]۔ کلینی، کافی، ج2، ص609۔
[2]۔ کلینی، کافی، ج2، ص608۔
[3]۔ کلینی، کافی، ج2، ص607۔608۔
[4]۔ کلینی، کافی، ج2، ص608۔
[5]۔ صدوق، ثواب الاعمال، ص282؛ طوسی، الامالی، ص513۔
[6]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص190۔
[7]۔ سورہ فرقان، آیت 30۔
[8]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج89، ص184۔
[9]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص209۔
فہرست منابع
1۔ قرآن مجید۔
2۔ ابنبابویه، محمد بن علی، ثواب الاعمال، بیروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، 1410ق۔
3۔ طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، قم، دار الثقافة، 1414ق۔
4۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1407ق۔
5۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، قم، موسسة الوفاء، 1403ق۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)
ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص139 تا 143، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔