قرآن کے الٰہی مصدر ہونے پر مستشرقین کے شکوک و شبہات کا جائزہ

قرآن کے الٰہی مصدر ہونے پر مستشرقین کے شکوک و شبہات کا جائزہ

کپی کردن لینک

مستشرقین کی جانب سے قرآن کریم کے الہامی اور وحیانی ہونے پر شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے جن واقعات کو کثرت سے استعمال کیا گیا ہے، ان میں سرِ فہرست بحیرا راہب اور مستشرقین کے شبہات کا معاملہ ہے۔ بالخصوص دائرۃ المعارف اسلام (لائیڈن) میں شامل مقالہ "بحیرا” اس دعوے کو تقویت دیتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے بچپن میں شام کے سفر کے دوران اس مسیحی راہب سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں انہی تعلیمات کو قرآن کی صورت میں پیش کیا۔

یہ مقالہ مستشرقین  کے اس دعوے کا رد پیش کرتا ہے۔ اس تحریر میں واضح کیا گیا ہے کہ بحیرا کی داستان نہ صرف تاریخی اور سندی اعتبار سے کمزور اور ناقابل اعتبار ہے، بلکہ اس میں شدید داخلی تضادات بھی موجود ہیں۔ مزید برآں، قرآن اور مسیحی تعلیمات (بالخصوص توحید، نبوت اور دیگر معارف) کے مابین گہرے اور بنیادی فرق اس امکان کو مکمل طور پر مسترد کر دیتے ہیں کہ قرآن کسی انسانی یا مسیحی ذریعے سے ماخوذ ہو سکتا ہے۔ یہ مقالہ ثابت کرتا ہے کہ بحیرا کا واقعہ ایک افسانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا جسے مستشرقین نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے علمی بنیاد فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

مستشرقین کے شبہات

بحیرا راہب اور مستشرقین کے شبہات کا موضوع اسلامی علم الکلام اور تاریخِ قرآن کے مباحث میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جب مغربی اہل علم (مستشرقین) نے اسلامی علوم پر تحقیق کا آغاز کیا تو ان کی بنیادی توجہ قرآن کریم کے مصدر اور منبع کو الہامی ثابت کرنے کے بجائے انسانی قرار دینے پر مرکوز رہی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے قرآنی معارف دو بنیادی ذرائع سے حاصل کیے: "داخلی مصادر” اور "خارجی مصادر”۔

داخلی مصادر سے مستشرقین کی مراد جزیرۃ العرب کا جغرافیائی، سماجی اور ثقافتی ماحول، زمانہ جاہلیت کے شعراء (جیسے امیہ بن ابی الصلت) کے افکار اور دینِ حنیف (ابراہیمی) کی باقیات تھیں [۱]۔

البتہ مستشرقین کا زیادہ زور "خارجی مصادر” یعنی یہودیت اور مسیحیت پر رہا ہے۔ اس ضمن میں بھی دو نظریات پیش کیے گئے:

۱. تحریری مصادر: مستشرقین کا یہ دعویٰ کہ آپ (ص) نے پرانے عہد نامے (عہد عتیق) اور نئے عہد نامے (عہد جدید) کا مطالعہ کیا تھا۔

۲. زبانی مصادر: چونکہ پیغمبر اکرم (ص) کا "اُمّی” (غیر تعلیم یافتہ) ہونا تاریخی طور پر ثابت شدہ تھا اور اس دور میں ان کتابوں کا عربی ترجمہ بھی دستیاب نہ تھا، اس لیے مستشرقین کی بڑی تعداد نے زبانی مصادر کے نظریے پر توجہ مرکوز کی۔

اس زبانی نظریے کو ثابت کرنے کے لیے مستشرقین  کی طرف سے دو شخصیات کا نام بطور خاص لیا جاتا ہے: ایک حضرت خدیجہ (ع) کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل، اور دوسرے بحیرا نامی مسیحی راہب۔ مستشرقین کا دعویٰ ہے کہ آپ (ص) نے اپنے تجارتی اسفار کے دوران یہودیت اور مسیحیت کے علماء سے گہرا ربط رکھا [۲]۔ بحیرا کے متعلق مستشرقین کا خاص دعویٰ یہ ہے کہ "پیغمبر اسلام (ص) نے اس سفر میں بحیرا سے تعلیمات حاصل کیں، انہیں اپنے قوی حافظے میں محفوظ رکھا اور تیس سال گزرنے کے بعد انہی تعلیمات کو اپنی وحی اور قرآن کی بنیاد بنا دیا” [۳]۔

مستشرقین کے دعوے اور ان کی نوعیت

مستشرقین نے بحیرا کے واقعے کو قرآن کے الہامی مصدر کو رد کرنے کے لیے ایک ٹھوس ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ مستشرقین کا اصرار ہے کہ یہ ملاقات محض ایک مختصر ملاقات نہیں تھی بلکہ ایک باقاعدہ تعلیمی عمل تھا۔

مونٹگمری واٹ (Montgomery Watt)، جو ایک مشہور مستشرق ہے، اگرچہ یہ مانتا ہے کہ آپ (ص) "اُمّی” تھے اور آپ (ص) نے یہودیت و مسیحیت کی رسمی تعلیم نہیں پائی تھی، لیکن اس کا اصرار ہے کہ یہ معارف آپ (ص) تک زبانی طور پر پہنچے [۴]۔ وہ اپنی کتاب "محمد در مکہ” میں اس ملاقات کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے کہ جب ابوطالب کا قافلہ صومعہ کے قریب رکا تو "سرجیوس” (جسے بعض لوگ بحیرا کہتے ہیں) نے آپ (ص) کی ذہانت کو بھانپ لیا اور آپ (ص) کے ساتھ مذہبی امور پر بار بار گفتگو کی، اور آپ (ص) کو بت پرستی کے بطلان پر قائل کیا [۵]۔

کلود ژیلیو (Claude Gilliot) نے دائرۃ المعارف قرآن (لائیڈن) میں "تعلیم دہندگانِ پیغمبر” (Informants) کے عنوان سے ایک مقالہ لکھا۔ اس میں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ پیغمبر (ص) نے یہ تعلیمات معاشرے کے "محروم” یا غریب طبقے (غلام، غیر عرب، یہودی یا مسیحی) سے حاصل کیں۔ وہ بحیرا کی داستان کو مسیحی ذرائع سے نقل کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ "اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ تمام مکی سورتیں ان اصولوں پر مشتمل ہیں جو خدا کے متلاشیوں کے اس گروہ سے حاصل کی گئیں” [۶]۔

دیگر مستشرقین جیسے آرفنگ بوڈلی (Bodlly) [۷]، کنستان ویرژیل گیورکیو (Constant Virgil Gheorghiu) [۸]اور (ابتدائی طور پر) کیرن آرمسٹرانگ [۹] نے بھی اس واقعے کو ایک تاریخی حقیقت کے طور پر قبول کیا ہے۔

مستشرقین  کے ان دعووں کا خلاصہ یہ ہے کہ بحیرا، جو مبینہ طور پر نسطوری یا آریوسی عقیدے کا حامل تھا (یعنی تثلیث کا منکر تھا)، اس نے توحید کے وہ بنیادی تصورات آپ (ص) کے ذہن میں ڈالے جو بعد میں اسلام کی شکل اختیار کر گئے۔

دائرۃ المعارف اسلام اور بحیرا کی داستان

دائرۃ المعارف اسلام (The Encyclopedia of Islam) کو مغرب میں اسلام پر تحقیق کے حوالے سے ایک بنیادی مرجع سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقالہ "بحیرا” میں اس واقعے کو جس انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ مستشرقین کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔

مقالہ نگار، ابن سعد، ابن ہشام اور طبری کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ روایات مستند ہیں [۱۰]۔ وہ بتاتا ہے کہ نو یا بارہ سال کی عمر میں جب محمد (ص) ابوطالب کے ساتھ شام کے سفر پر تھے تو بحیرا نے آپ (ص) کو پہچان لیا۔ اس پہچان کی وجوہات معجزاتی بتائی گئیں، جیسے بادل کا سایہ کرنا یا درخت کا جھک جانا۔

لیکن اس مقالے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ مصنف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مسلمانوں نے (دوسری اور تیسری صدی ہجری میں) اس واقعے کو خود پیغمبر اسلام (ص) کی رسالت کی وثاقت اور سچائی کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا۔ گویا مسلمان یہ کہنا چاہتے تھے کہ ایک مسیحی عالم نے بھی آپ (ص) کی نبوت کی گواہی دی تھی۔ مقالہ نگار کے مطابق، اسلام نے اپنے بانی کے بارے میں ایک "تحریری وعدے” (یعنی بائبل میں واضح پیشگوئی) کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس زبانی گواہی کا سہارا لیا۔

اس کے برعکس، مقالہ نگار یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ مسیحی مخالف اسلامی لٹریچر میں بحیرا کو ایک "بدعتی راہب” کے طور پر پیش کیا گیا جس نے محمد (ص) کی "جھوٹی مقدس کتاب” (یعنی قرآن) گھڑنے میں مدد کی۔

داستانِ بحیرا کا تاریخی اور سندی جائزہ

مستشرقین کے دعوؤں کے برعکس، جب اسلامی علوم کی رو سے اس واقعے کا جائزہ لیا جاتا ہے، تو اس کی سند اور متن دونوں انتہائی کمزور نظر آتے ہیں۔

۱. اہل سنت کے منابع میں اسناد کا ضعف

یہ درست ہے کہ یہ واقعہ اہل سنت کے ابتدائی تاریخی منابع میں مذکور ہے [۱۱]۔ لیکن ان منابع میں موجودگی اس کے مستند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔

خود اہل سنت کے مایہ ناز محدثین اور محققین نے اس روایت پر شدید جرح کی ہے۔

امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد اسے "غریب” (عجیب/کمزور) قرار دیا ہے اور اس کی سند میں عبدالرحمٰن بن غزوان پر کلام کیا ہے۔

امام ذہبی، جو اسماء الرجال کے امام مانے جاتے ہیں، نے اس واقعے کے بارے میں واضح طور پر کہا: "میرا گمان ہے کہ یہ گھڑا ہوا (موضوع) ہے اور اس کا کچھ حصہ جھوٹ ہے” [۱۲]۔

ان کے علاوہ ابن کثیر، دمیاطی اور مغلطای جیسے مؤرخین نے بھی اس کی صحت پر شک کا اظہار کیا ہے [۱۳]۔

۲. شیعہ منابع اور جدید محققین کا نقطہ نظر

اگرچہ شیخ صدوق اور ابن شہر آشوب جیسے بعض قدیم شیعہ علماء نے اس واقعے کو نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی اسے اہل سنت کے منابع سے ہی لیا ہے۔ جب اسناد کی تحقیق کی جاتی ہے تو یہ روایات "مقطوع” (سند میں انقطاع) اور "مرفوعہ” (سند کا آخری راوی مذکور نہ ہونا) نکلتی ہیں، جو قابل اعتبار نہیں ہوتیں [۱۴]۔

جدید شیعہ اور اہل سنت محققین کی اکثریت اس واقعے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

علامہ سید ہاشم معروف الحسنی اس واقعے کو صریحاً دشمنانِ اسلام کی گھڑی ہوئی داستان قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پیغمبر (ص) کی رسالت میں تشکیک پیدا کرنا تھا۔ وہ اس جعل سازی کا ذمہ دار کعب الاحبار، ابوہریرہ اور وہب بن منبہ جیسے افراد کو ٹھہراتے ہیں، جو اسرائیلیات اور مسیحی روایات کو اسلامی لٹریچر میں داخل کرنے کے لیے مشہور تھے [۱۵]۔

ڈاکٹر صبحی صالح، ایک مشہور نواندیش سنی عالم، یہ عقلی دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہوتا تو مکہ کے مشرکین اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اسے پیغمبر (ص) کے خلاف سب سے بڑے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے۔ لیکن تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے آپ (ص) کو یہ طعنہ دیا ہو کہ "تم تو وہی باتیں دہرا رہے ہو جو بحیرا راہب سے سیکھ کر آئے تھے” [۱۶]۔

جبکہ قرآن اس سے کہیں کمتر الزام کا جواب دیتا ہے۔ جب مشرکین نے کہا کہ آپ (ص) مکہ میں موجود ایک "جبر” نامی رومی لوہار سے سیکھتے ہیں، تو قرآن نے فوراً اس کا رد کیا: "ہم جانتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اسے ایک انسان سکھاتا ہے۔ اس کی زبان جس کی طرف وہ نسبت کرتے ہیں عجمی (غیر عربی) ہے اور یہ (قرآن) واضح عربی زبان ہے” [۱۷]۔ اگر بحیرا جیسا بڑا الزام موجود ہوتا تو قرآن یقیناً اس کا جواب دیتا یا مخالفین اسے ضرور اچھالتے۔

عقلی اور منطقی دلائل سے دعوے کا بطلان

اگر ایک لمحے کے لیے مستشرقین کے بیان کردہ اس واقعے کی تاریخی سند کو درست مان بھی لیا جائے، تب بھی یہ دعویٰ کہ قرآن اس ایک ملاقات کا نتیجہ ہے، عقلی اور منطقی اعتبار سے بالکل ناممکن ہے۔

۱. ملاقات کا دورانیہ اور نوعیت

روایات کے مطابق، آپ (ص) کی عمر اس وقت نو یا بارہ سال تھی۔ یہ ایک تجارتی قافلہ تھا جو ایک مختصر پڑاؤ کے لیے رکا تھا۔ ایک نو سالہ بچہ، جو اُمّی ہو (لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو)، وہ ایک یا دو گھنٹے کی ملاقات میں ایک راہب سے توحید، نبوت، معاد، شریعت، اخلاقیات اور پچھلی قوموں کے واقعات پر مبنی ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات کیسے سیکھ سکتا ہے؟ اور اگر سیکھ بھی لیا، تو اسے تیس سال تک اپنے حافظے میں من و عن محفوظ کیسے رکھا اور پھر اسے ایک معجزاتی کلام کی صورت میں پیش کر دیا؟ [۱۸]۔ مستشرقین  کا یہ دعویٰ انسانی صلاحیتوں اور نفسیات کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

۲. بحیرا کی اپنی علمی حیثیت

اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ بحیرا راہب کے پاس واقعی ایسا علم تھا جو قرآن جیسے انقلاب آفریں اور آفاقی پیغام کی بنیاد بن سکتا تھا، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تاریخ اس بحیرا کے بارے میں بالکل خاموش کیوں ہے؟ اس نے محمد (ص) کے علاوہ کسی اور کو یہ علم کیوں نہیں سکھایا؟ وہ خود کیوں گمنامی میں مر گیا اور اس کی تعلیمات کا کوئی اور نمونہ دنیا میں کیوں موجود نہیں؟ [۱۹]۔

قرآن اور مسیحی معارف میں بنیادی تضادات

سب سے مضبوط اور فیصلہ کن دلیل قرآن کریم کے اپنے متن اور اس وقت کی مسیحی تعلیمات کے مابین گہرا بنیادی فرق ہے۔ مستشرقین کا یہ دعویٰ کہ قرآن بحیرا (جو آریوسی یا نسطوری تھا) سے ماخوذ ہے، اس لیے بھی باطل ہے کہ قرآن نے توحید اور مسیحیت کے بارے میں جو تصور پیش کیا، وہ ان تمام فرقوں کے عقائد کے خلاف ایک انقلابی چیلنج تھا۔ لہٰذا مستشرقین کے دعوے باطل و بیہودہ ہیں۔

عقیدہ توحید: قرآن کا تصورِ توحید (قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ) مطلق اور غیر مبہم ہے۔ یہ نہ صرف تثلیث (Trinity) کو واضح طور پر رد کرتا ہے، بلکہ حضرت عیسیٰ (ع) کی ابنیت (Sonship) کا بھی سختی سے انکار کرتا ہے۔ اگر آپ (ص) نے کسی مسیحی راہب سے سیکھا ہوتا تو کم از کم مسیح (ع) کے مقام پر کوئی مفاہمت پائی جاتی، لیکن قرآن اس معاملے میں سب سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتا ہے۔ اس لیے مستشرقین کے دعوے غلط ہیں۔

تصورِ نبوت: قرآن نے انبیاء (ع) کا جو تقدس اور احترام بحال کیا، وہ بائبل کے تصور سے یکسر مختلف ہے۔ بائبل (عہد عتیق) میں حضرت نوح (ع) کو شراب پینے، حضرت لوط (ع) کو سنگین گناہوں، اور حضرت داؤد (ع) کو کبیرہ گناہوں میں ملوث دکھایا گیا ہے [۲۰]۔ اس کے برعکس، قرآن نے ان تمام انبیاء (ع) کی تطہیر کی اور انہیں معصوم اور پاک باز ہستیوں کے طور پر پیش کیا [۲۱]۔ جو کتاب خود بائبل کی "تصحیح” کر رہی ہو، وہ اس سے ماخوذ کیسے ہو سکتی ہے؟ اس بنا پر مستشرقین کے الزامات صحیح نہیں ہیں۔

اعجازِ قرآن: قرآن کا چیلنج [۲۲] کہ اس جیسی ایک سورت بھی بنا لاؤ، اس کی لسانی اور علمی برتری کا ثبوت ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک اُمّی تاجر، ایک شامی راہب سے سنے ہوئے قصوں کو ایسی فصیح و بلیغ عربی زبان میں پیش کر دے کہ عرب کے تمام شعراء اور خطیب اس کے سامنے عاجز آ جائیں۔ لہٰذا مستشرقین کے دعوے باطل و بیہودہ ہیں۔

نتیجہ

بحیرا راہب اور مستشرقین کے شبہات پر مبنی یہ دعویٰ کہ پیغمبر اکرم (ص) نے قرآن کے معارف بحیرا نامی راہب سے حاصل کیے، ہر اعتبار سے ایک بے بنیاد اور کمزور الزام ہے۔ مستشرقین  کے یہ شبہات سندی اعتبار سے ضعیف، ناقابل اعتبار اور حتیٰ کہ موضوع (گھڑا ہوا) ہے۔ تاریخی اعتبار سے اس کی کوئی تائید نہیں ملتی کیونکہ پیغمبر (ص) کے بدترین دشمنوں (مشرکینِ مکہ) نے بھی کبھی آپ (ص) پر یہ الزام نہیں لگایا۔ عقلی اعتبار سے بھی یہ ناممکن ہے کہ ایک نو سالہ بچہ، ایک مختصر ملاقات میں، ایک مکمل اور پیچیدہ مذہبی نظام سیکھ لے اور تیس سال بعد اسے دنیا کے سامنے پیش کر دے۔ متنی اعتبار سے بھی قرآن کا مواد (خاص طور پر توحید اور نبوت کے مسائل) اس وقت کی مسیحی تعلیمات کی مکمل ضد اور نفی کرتا ہے۔ قرآن بائبل سے ماخوذ نہیں بلکہ اس پر ناقد اور اس کا مصحح (درست کرنے والا) ہے۔ اس داستان کی اصل حیثیت ایک افسانے سے زیادہ نہیں، جسے بعض متعصب مستشرقین نے قرآن کے الہامی مصدر پر حملہ کرنے کے لیے ایک علمی نظریے کا روپ دینے کی کوشش کی۔


حوالہ جات

[۱] سلطانی رنانی، بررسی دیدگاہ مستشرقان در مورد مصادر وحی قرآنی، ۱۴۴-۱۳۱۔
[۲] جان بی. ناس، تاریخ جامع ادیان، ۷۱۴۔
[۳] محلاتی، درس‌هایی از تاریخ تحلیلی اسلام، ۲۵۷۔
[۴] واٹ، پیامبر و سیاستمدار، ۶۱۹۔
[۵] مونٹگمری، محمد در مکہ، ۳۹۔
[۶] Encyclopedia of Quran, v:2, p:517۔
[۷] بودلی، الرسول حیات محمد، ۱۰۴۔
[۸] کنستان ویرژیل گیوکیو، ۵۳-۵۲۔
[۹] آرمسٹرانگ، زندگی نامه محمد، ۱۰۱-۹۹۔
[۱۰] ابی سعد، طبقات الکبری، ۱/ ۱۱۲۳۔
[۱۱] ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ص۱۹۱-۱۹۴؛ ابن سعد، طبقات، ج۱، ص۱۱۶۔
[۱۲] حلبی، السیرۃ الحلبیہ، ۱/ ۱۲۰ بحوالہ الصحیح من السیرہ، ۱/ ۹۳۔
[۱۳] عاملی، الصحیح من سیرۃ النبویہ، ۱/ ۹۳۔
[۱۴] محلاتی، درس‌هایی از تاریخ تحلیلی اسلام، ۲۷۷۔
[۱۵] حسنی، سیرۃ المصطفی، ۲/ ۵۴-۵۵۔
[۱۶] صبحی، مباحث فی علوم القرآن، ۴۰-۴۵۔
[۱۷] سورہ نحل آیت ۱۰۳۔
[۱۸] محلاتی، درس‌هایی از تاریخ تحلیلی اسلام،۲۸۰۔
[۱۹] محلاتی، درس‌هایی از تاریخ تحلیلی اسلام، ۲۸۰۔
[۲۰] ملاحظہ ہو: سفر پیدائش، باب ۱۹۔
[۲۱] معرفت، شبہات و ردود، ۱۴۲۳: ۱۳۔
[۲۲] سورہ بقرہ آیت ۲۲-۲۳۔


فہرست منابع

۱. آرمسٹرانگ، کارن۔ زندگی‌نامہ محمدؐ۔ مترجم: کیانوش حشمتی۔ تہران: انتشارات حکمت، ۱۳۸۳ش۔
2. ابنِ سعد۔ الطبقات الکبری۔ مترجم: محمود مهدوی دامغانی۔ تہران، ۱۳۶۹ش۔
3. ابنِ ہشام۔ السیرۃ النبویۃ۔ مترجم: سید ہاشم رسولی۔ تہران: انتشارات کتابچی، پانچویں اشاعت، ۱۳۷۵ش۔
4. امینی، عبدالحسین۔ الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الأدب۔ قم: مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۶ق۔
5. بودلی، آرفنگ۔ الرسول: حیاۃ محمدؐ۔ مترجم: عبد الحمید حوده السحار۔ مصر: دارالکتب العربیہ، بلا تاریخ۔
6. بحرانی، ہاشم بن سلیمان۔ البرہان فی تفسیر القرآن۔ تحقیق: واحد تحقیقات اسلامی بنیاد بعثت۔ قم: مؤسسہ بعثت، ۱۴۱۵ق۔
7. حسنی، ہاشم معروف۔ سیرۃ المصطفیؐ: نگرشی نوین بر زندگانی رسول اکرمؐ۔ مترجم: حمید ترقی۔ تہران: حکمت، ۱۳۷۳ش۔
8. حلبی، علی بن ابراہیم۔ السیرۃ الحلبیۃ۔ بیروت: دارالکتب العلمیہ، ۱۹۷۱م۔
9. حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ۔ المستدرک علی الصحیحین۔ تحقیق: مصطفی عبدالقادر عطا۔ بیروت: دارالکتب العلمیہ، دوسری اشاعت، ۱۴۲۲ق۔
10. حسکانی، عبیداللہ بن عبداللہ۔ شواہد التنزیل لقواعد التفضیل۔ تحقیق: محمدباقر محمودی۔ تہران: وزارتِ فرهنگ و ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ق۔
11. جان بی. ناس۔ تاریخِ جامع ادیان۔ مترجم: علی‌اصغر حکمت۔ تہران: شرکت انتشارات علمی و فرهنگی، ساتویں اشاعت، ۱۳۷۳ش۔
12. رفیعی علویجہ، سید علیرضا اور مرتضوی‌نیا، محمدباقر۔ دلالتِ حدیثِ کسرِ اصنام بر افضلیت و امامتِ امیرالمؤمنینؑ با تکیه بر منابع اہل سنت۔ صفحات ۱۱۹–۱۴۶، ۱۴۰۳ش۔
13. سلطانی رنانی، مهدی۔ بررسی دیدگاه مستشرقان در مورد مصادر وحی قرآنی، قرآن‌پژوهی خاورشناسان، شمارہ ۴، بہار و تابستان، ۱۳۸۷ش۔
14. صبحی، الصالح۔ مباحث فی علوم القرآن۔ قم: منشورات الرضی، چاپ پنجم، ۱۳۶۱ش۔
15. عاملی، جعفر مرتضی۔ الصحیح من سیرۃ النبی الأعظمؐ۔ قم: دارالحدیث، ۱۴۲۶ق۔
16. طبرسی، احمد بن علی۔ الاحتجاج علی اہل اللجاج۔ تحقیق: محمدباقر خرسان۔ مشہد: نشر مرتضی، ۱۴۰۳ق۔
17. عرفان، ولیم مونٹگمری وات۔ محمدؐ در مکہ۔ آکسفورڈ، ۱۹۰۳م۔
18. کونستان، ویرژیل گیوکیو۔ محمدؐ: وہ پیامبر جسے ازسرِنو پہچاننا چاہیے۔ مترجم: مہرداد صمدی۔ تہران: انتشارات دریا، بلا تاریخ۔
19. مجلسی، محمدباقر۔ بحارالأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہارؑ۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، دوسری اشاعت، ۱۴۰۳ق۔
20. معرفت، محمدهادی۔ شبهات و ردود حول القرآن الکریم۔ قم: مؤسسہ التمہید، ۱۴۲۳ق۔
21. محلاتی، رسولی۔ درس‌هایی از تاریخِ تحلیلی اسلام۔ تہران: وزارتِ فرهنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
22. مونٹگمری وات، ویلیام۔ محمدؐ، پیغمبر و سیاست‌دان۔ دارالترجمه ایران۔ تہران: کتابفروشی اسلامیہ، ۱۳۴۴ش۔
23. روبن، اُوری۔ انسائیکلوپیڈیا آف قرآن: محمدؐ، جلد ۳، صفحات ۴۴۰–۴۵۷۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مامورزاده، فریحه و روشن‌ضمیر، محمد ابراهیم، بررسی مقاله «بحیرا» در دائرة المعارف اسلام [اسلامی دائرۃ المعارف میں "بحیرا” مقالے کا تجزیاتی مطالعہ]، قرآن‌پژوهی خاورشناسان، پاییز و زمستان ۱۳۹۷ش، شماره ۲۵، رتبه: ب/ISC، ص۱۲۵–۱۴۶۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔