ماہ رمضان کے بارھویں دن کی دعا: عدل کی راہ

ماہ رمضان کے بارھویں دن کی دعا: عدل کی راہ

کپی کردن لینک

ماہ رمضان المبارک کا روحانی سفر انسان کو باطنی اور ظاہری دونوں اعتبار سے سنوار رہا ہے۔ بارھویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے ایسی زینت طلب کرتا ہے جو دنیوی زیورات سے ماوریٰ ہے۔ وہ "ستر اور عفاف” کی زینت، "قناعت اور کفایت” کا لباس، اور "عدل و انصاف” کی شاہراہ کا متلاشی ہے۔ یہ دعا ایک متوازن اور پرسکون اسلامی زندگی کا مکمل منشور پیش کرتی ہے۔

ماہ رمضان کے بارھویں دن کی دعا

أَللّـهُمَّ زَيِّنّى فيهِ بِالسِّتْرِ وَ الْعَفافِ وَ اسْتُرْنى فيهِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ وَ الْكَفافِ وَ احْمِلْنى فيهِ عَلَى الْعَدْلِ وَ الاِنْصافِ وَ آمِنّى فيهِ مِنْ كُلِّ ما أَخافُ بِعِصْمَتِكَ يا عِصْمَةَ الْخآئِفينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! مجھے اس مہینے میں پردے اور پاکدامنی سے مزیّن فرما، اور مجھے کفایت شعاری اور اکتفا کا جامہ پہنا دے، اور مجھے اس مہینے میں عدل و انصاف پر آمادہ کر دے، اور اس مہینے کے دوران مجھے ہر اس شے سے امان دے جس سے میں خوفزدہ ہوتا ہوں، (تجھے تیری حفاظت کا واسطہ) اے خوفزدہ بندوں کی امان۔“

ستر اور عفاف: بہترین زینت

ماہِ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ (عشرہ مغفرت) اپنی رحمتیں لٹا رہا ہے۔ بارھویں دن کی دعا انسان کی ظاہری اور باطنی شخصیت کو سنوارنے کا ایک مکمل اور جامع منشور ہے۔ یہ دعا انسان کو دنیا کی جھوٹی چمک دمک سے ہٹا کر حقیقی عزت اور سکون کا راستہ دکھاتی ہے۔ بارھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے چار ایسی صفات مانگتے ہیں جو ایک مومن کی شخصیت کا زیور ہیں: عیبوں کی پردہ پوشی اور پاکدامنی، قناعت اور کفایت، عدل و انصاف، اور خوف سے امان۔

دعا کے پہلے اور خوبصورت ترین حصے میں باطنی خوبصورتی کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ زَيِّنّى فيهِ بِالسِّتْرِ وَ الْعَفافِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں پردہ پوشی اور پاکدامنی کی زینت سے آراستہ کر دے)۔ بارھویں دن کی دعا یہاں ایک بہت لطیف نکتہ بیان کرتی ہے کہ انسان کی اصل زینت مہنگے کپڑے یا زیورات نہیں، بلکہ ”ستر“ اور ”عفاف“ ہے۔

یہاں "ستر” سے مراد صرف جسمانی لباس نہیں بلکہ دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی اور اپنے عیوب پر پردہ ڈالنا ہے۔ انسان خطاکار ہے، اگر اللہ ہمارے عیب ظاہر کر دے تو معاشرے میں ہمارا جینا محال ہو جائے۔ بارھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی صفت ”ستار العیوب“ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے بھی ایک دوسرے کے عیبوں کو چھپائیں۔

خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے عیبوں کی اصلاح میں اتنا مشغول ہو جائے کہ اسے دوسروں کے عیب نظر ہی نہ آئیں۔ امیر المومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: ”کتنا خوش بخت ہے وہ شخص کہ جو اپنے ہی عیوب پر نظر رکھتا ہے اور دوسروں کے عیوب سے اسے کوئی سروکار نہیں ہے“[1]۔

دوسرا لفظ ”عفاف“ ہے، جس کا مطلب ہے عفت، پاکدامنی اور نفس کو ہر قسم کی آلودگی سے پاک رکھنا۔ عفاف صرف جنسی پاکیزگی کا نام نہیں، بلکہ پیٹ کا عفاف (حرام کھانے سے بچنا)، آنکھ کا عفاف (حرام دیکھنے سے بچنا) اور زبان کا عفاف (غیبت سے بچنا) بھی اس میں شامل ہے۔ بارھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ جب معاشرے کا ہر فرد دوسروں کی پردہ پوشی (ستر) اور اپنی ذاتی اصلاح (عفاف) شروع کر دے تو ایک مثالی اور پاکیزہ معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو فرشتے کی طرح پاک بنا دیتی ہیں۔

قناعت اور کفایت: عزت کا لباس

دعا کا دوسرا اہم اور معاشی جزو قناعت ہے: وَ اسْتُرْنى فيهِ بِلِباسِ الْقُنُوعِ وَ الْكَفافِ (اور مجھے قناعت اور کفایت کے لباس سے ڈھانپ دے)۔ بارھویں دن کی دعا میں قناعت کو ”لباس“ کہا گیا ہے، کیونکہ جس طرح لباس جسم کے عیب چھپاتا ہے، اسی طرح قناعت انسان کی محتاجی اور حرص کے عیب کو چھپا لیتی ہے۔

”قناعت“ وہ دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی (القناعۃ کنز لا یفنی)۔ اگر انسان اپنی بے جا خواہشات کی پیروی کرے تو وہ حرص کے ایسے اندھے کنویں میں گر جاتا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔ بارھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنی خواہشات کو ضروریات کے تابع کر لیں تو ہم بادشاہ ہیں۔ ”کفاف“ کا مطلب ہے ایسی سادہ اور متوازن زندگی جہاں نہ اتنی دولت ہو کہ انسان سرکش ہو جائے اور طغیان کرے، اور نہ اتنی غربت ہو کہ وہ ذلیل ہو جائے اور کفر تک پہنچ جائے۔ یعنی رزق اتنا ہو جو زندگی گزارنے کے لیے ”کافی“ ہو۔

امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کی دی ہوئی تقسیم پر قانع ہو جائے تو وہ غم، سختی اور تکلیف سے نجات پا جاتا ہے“[2]۔ بارھویں دن کی دعا دراصل ذہنی سکون کا نسخہ ہے۔ آج کل ڈپریشن اور بے چینی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں اور ناشکری کرتے ہیں۔ امیر المومنین (ع) کے نزدیک ”کفایت شعار سے بڑھ کر کوئی شخص عزت دار نہیں ہے“[3]۔ قناعت انسان کو دنیا کی غلامی اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے آزاد کر کے حقیقی عزت عطا کرتی ہے۔

عدل و انصاف: میانہ روی کا نام

تیسرا تقاضا عدل و انصاف ہے: وَ احْمِلْنى فيهِ عَلَى الْعَدْلِ وَ الاِنْصافِ (اور مجھے عدل و انصاف پر آمادہ کر/چلنے کی توفیق دے)۔ بارھویں دن کی دعا میں عدل کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔

یہاں عدل سے مراد صرف عدالتوں والا انصاف نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں "میانہ روی” اور اعتدال ہے۔ معاشی زندگی میں افراط (فضول خرچی) و تفریط (کنجوسی) سے بچنا ہی عدل ہے۔ اگر آمدنی کم ہو تو عقلمندی اسی میں ہے کہ اخراجات کو محدود کیا جائے۔ بارھویں دن کی دعا ہمیں متوازن لائف اسٹائل اپنانے کی دعوت دیتی ہے۔

عدل کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ انسان اپنے ساتھ انصاف کرے۔ اپنے جسم کو حرام سے بچائے اور اپنی روح کو گناہوں اور خطاؤں کے بوجھ سے آزاد رکھے۔ اسی طرح انصاف کا تقاضا ہے کہ انسان جو چیز اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔

امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: ”جو شخص معاشی زندگی میں اعتدال اور آمدنی و خرچ کا صحیح حساب کتاب نہ رکھتا ہو، اس شخص میں کسی طرح کا کوئی خیر نہیں ہے“[4]۔ اسی طرح امام صادق (ع) نے ضمانت دی ہے کہ ”جو شخص اعتدال کو اپنائے میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ وہ کبھی بھی فقیر نہیں ہو گا“[5]۔ بارھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ معاشی بحرانوں کا حل زیادہ کمانے میں نہیں، بلکہ ”عدل“ اور ”مینجمنٹ“ میں ہے۔

خوف سے امان اور اللہ کی پناہ

دعا کا آخری اور پرسکون حصہ خوف سے نجات کا ہے: وَ آمِنّى فيهِ مِنْ كُلِّ ما أَخافُ (اور مجھے ہر اس چیز سے امان دے جس سے میں ڈرتا ہوں)۔ بارھویں دن کی دعا انسان کے نفسیاتی خوف کا علاج کرتی ہے۔

انسان کی زندگی مختلف قسم کے خوف (غربت کا خوف، بیماری کا خوف، دشمن کا خوف، مستقبل کا خوف، موت کا خوف) میں گھری ہوئی ہے۔ یہ تمام خوف درحقیقت دنیوی محبت اور خدا پر عدم یقین کا نتیجہ ہیں۔ جب انسان خدا کی ذات کو اپنا محافظ اور وکیل مان لیتا ہے تو اسے سکون مل جاتا ہے۔ جو خدا سے ڈرتا ہے، اللہ اسے ہر چیز کے خوف سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

بارھویں دن کی دعا کا اختتام اس یقین پر ہوتا ہے کہ اے اللہ! تو ہی ڈرنے والوں کی پناہ گاہ اور حفاظت کرنے والا (بِعِصْمَةِ الْخآئِفينَ) ہے، لہٰذا ہمیں اپنی حفاظت (عصمت) میں لے لے۔ لفظ ”عصمت“ یہاں بہت اہم ہے، یعنی اللہ ہمیں گناہوں سے بھی بچائے اور خوف سے بھی۔ جب بندہ بارھویں دن کی دعا کے ان کلمات کو ادا کرتا ہے تو وہ خود کو اللہ کے محفوظ قلعے میں محسوس کرتا ہے جہاں دنیا کی کوئی آفت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

خلاصہ یہ کہ بارھویں دن کی دعا ایک بہترین شخصیت سازی (Personality Development) کا کورس ہے۔ یہ ہمیں باطنی خوبصورتی (ستر و عفاف)، ذہنی سکون (قناعت)، سماجی توازن (عدل) اور نفسیاتی تحفظ (امان) فراہم کرتی ہے۔

نتیجہ

ماہ رمضان المبارک کے بارھویں دن کی دعا ایک "لائف اسٹائل” دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی خوبصورتی مہنگے لباس میں نہیں بلکہ "پاکدامنی” میں ہے۔ حقیقی امیری بینک بیلنس میں نہیں بلکہ "قناعت” میں ہے۔ اور حقیقی سکون دنیا کے پیچھے بھاگنے میں نہیں بلکہ "میانہ روی” اور خدا کی "حفاظت” میں ہے۔

حوالہ جات

[1] نوری، مستدرک الوسائل، ج 1، ص 116۔
[2] مجلسی، بحار الانوار، ج 68، ص 349۔
[3] آمدی، غرر الحکم، ح 9028۔
[4] عاملی، وسائل الشیعہ، ج 17، ص 66 (قدیمی حوالہ ج 2 ص 43)۔
[5] عاملی، وسائل الشیعہ، ج 17، ص 64۔

فہرست منابع

1۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1366ش۔
2۔ عاملی، حر، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت، 1409ق۔
3۔ کشمیری، محمد علی، درج گہر (ترجمہ نہج البلاغہ)، (قدیمی اشاعت)۔
4۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
5۔ نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، موسسہ آل البیت، 1408ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔