ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے، جو کہ "عتق من النار” (جہنم سے آزادی) کا عشرہ ہے۔ بیسویں دن کی دعا کا مرکزی موضوع جنت کا حصول اور جہنم سے پناہ ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین بنیادی چیزوں کی درخواست کرتا ہے: جنت کے دروازے کھولنا، جہنم کے دروازے بند کرنا، اور قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق۔ یہ دعا انسان کو ابدی کامیابی اور سکونِ قلب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
ماہ مبارک کے بیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ أَبْوابَ الْجِنانِ وَ أَغْلِقْ عَنّى فيهِ أَبْوابَ النّيرانِ وَ وَفِّقْنى فيهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ يا مُنْزِلَ السَّكينَةِ فى قُلُوبِ الْمُؤْمِنينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! آج میرے لیے جنت کے دروازے کھول دے، اور آج مجھ پر جہنم کے دروازے بند فرما دے، اور آج مجھے قرآن پڑھنے کی توفیق دے، اے ایمانداروں کے دلوں کو تسلی بخشنے والے۔“
جنت کا حصول: ایمان اور ولایت کی شرط
ماہِ رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مکمل ہو کر تیسرا اور آخری عشرہ (عشرہ نجات) شروع ہو چکا ہے۔ بیسویں دن کی دعا ایک انتہائی اہم موڑ پر آتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب شبِ قدر کی راتیں اپنے جوبن پر ہوتی ہیں اور مومنین اپنے مقدر کے فیصلوں پر مہر لگوانے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ بیسویں دن کی دعا محض الفاظ کی تکرار نہیں، بلکہ یہ ایک ”فیصلہ کن گھڑی“ کی دعا ہے۔ اس دعا میں ہم اللہ سے اپنی ابدی منزل (جنت)، اپنے خوف (جہنم)، اپنے دستورِ حیات (قرآن) اور اپنی قلبی کیفیت (سکینہ) کا تعین کرتے ہیں۔
دعا کے پہلے اور انتہائی پرامید حصے میں جنت کے دروازے کھلنے کی درخواست کی گئی ہے: أَللّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ أَبْوابَ الْجِنانِ (اے اللہ! میرے لیے اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دے)۔ بیسویں دن کی دعا یہاں ایک بہت لطیف نکتہ بیان کرتی ہے کہ جنت کے دروازے بند ہیں اور انہیں کھولنے کے لیے ”کنجی“ کی ضرورت ہے۔
جنت اللہ کا حتمی وعدہ ہے، لیکن یہ وعدہ ہر کسی کے لیے نہیں، بلکہ صرف مومنین کے لیے ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنت کا وعدہ کیا ہے“[1]۔ سوال یہ ہے کہ مومن کون ہے؟ مومن وہ ہے جو خدا اور اس کے رسول (ص) کی اطاعت کرے۔ اور رسول اللہ (ص) کی اطاعت کا تقاضا ہے کہ آپ (ص) کے ولی اور وصی، علی ابن ابی طالب (ع) کی ولایت کو قبول کیا جائے۔
بیسویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جنت میں جانے کا راستہ ”بابِ ولایت“ سے ہو کر گزرتا ہے۔ رسول خدا (ص) نے فرمایا: ”جو شخص پل صراط سے تیز ہوا کی مانند گزرنا چاہتا ہے… اسے چاہیے کہ وہ میرے ولی، وصی اور خلیفہ علی ابن ابی طالب کی ولایت قبول کرے“[2]۔ پس جنت میں داخلے کی کنجی ولایتِ علی (ع) ہے۔ جو شخص اس کنجی کے بغیر آئے گا، اس کے لیے بیسویں دن کی دعا کے باوجود دروازے نہیں کھلیں گے۔
مزید برآں، جنت کے دروازے ”اعمال“ سے بھی کھلتے ہیں۔ بیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ سخاوت، حسنِ اخلاق، اور والدین کی خدمت جنت کے حصول کا آسان ذریعہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ ”جنت سخی کے قریب اور کنجوس سے دور ہے“۔ جب بندہ روزہ رکھ کر اپنی خواہشات کو مارتا ہے اور افطار کے وقت دوسروں کا خیال رکھتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت کے خصوصی دروازے (جیسے باب الریان) کھول دیتا ہے۔
جہنم سے نجات: ہولناک عذاب سے پناہ
دعا کا دوسرا اہم اور لرزہ خیز جزو جہنم کے دروازے بند ہونے کی درخواست ہے: وَ أَغْلِقْ عَنّى فيهِ أَبْوابَ النّيرانِ (اور مجھ پر اس مہینے میں جہنم کے دروازے بند کر دے)۔ بیسویں دن کی دعا میں لفظ ”اغلق“ (بند کر دے/Lock کر دے) استعمال ہوا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ گناہوں کی وجہ سے جو دروازے ہم نے خود اپنے لیے کھول لیے ہیں، اللہ انہیں اپنی رحمت سے بند کر دے۔
جہنم کا تصور ہی انسان کو لرزا دیتا ہے۔ قرآن نے جہنم کی ہولناکیوں کا نقشہ کھینچا ہے: ”ان کے پیچھے جہنم ہے اور انہیں پیپ دار پانی (صدید) پلایا جائے گا“[3]۔ وہاں کھانے کے لیے ”زقوم“ کا درخت ہوگا جو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح پیٹ میں جوش کھائے گا، جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے[4]۔ بیسویں دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ یہ آگ مذاق نہیں ہے۔
جہنم کے قیدیوں کے لیے آگ کا لباس ہوگا اور لوہے کے گرز ہوں گے جس سے ان کی کھالیں ادھیڑ دی جائیں گی[5]۔ وہاں موت آئے گی مگر وہ مریں گے نہیں، بلکہ ہر لمحہ عذابِ نو کا ذائقہ چکھیں گے۔ بیسویں دن کی دعا ہمیں یہ فکر دیتی ہے کہ عقل مند انسان وہ ہے جو اپنی اور اپنے اہل و عیال کی فکر کرے اور انہیں اس آگ سے بچائے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے[6]۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ جہنم کے دروازے ”گناہوں“ سے کھلتے ہیں۔ جھوٹ، غیبت، تہمت، سود، اور حقوق العباد کی پامالی—یہ سب جہنم کی چابیاں ہیں۔ بیسویں دن کی دعا دراصل گناہوں سے بچنے کی توفیق مانگنے کا نام ہے۔ ہم اللہ سے کہہ رہے ہیں: ”یا رب! مجھے ایسے اعمال سے بچا لے جو مجھے جہنم کی طرف لے جاتے ہیں“۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہو جائے[7]۔
تلاوت قرآن: تدبر اور عمل
تیسرا تقاضا قرآن کی تلاوت کی توفیق ہے: وَ وَفِّقْنى فيهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْآنِ (اور مجھے اس میں قرآن پڑھنے کی توفیق عطا فرما)۔ بیسویں دن کی دعا کا یہ حصہ رمضان کی اصل روح یعنی ”قرآن“ سے جڑنے کا پیغام ہے۔
رمضان قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، لیکن بیسویں دن کی دعا میں ہم صرف ”پڑھنا“ نہیں بلکہ ”تلاوت“ کی توفیق مانگ رہے ہیں۔ تلاوت کا لفظی مطلب ہے ”پیچھے چلنا“۔ یعنی ایسی پڑھائی جس میں قاری قرآن کی پیروی کر رہا ہو۔ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے اور اسے ترتیل (ٹھہر ٹھہر کر) کے ساتھ پڑھنے کا حکم ہے[8]۔ لیکن تلاوت کا حق صرف الفاظ کی ادائیگی نہیں بلکہ تدبر (غور و فکر) اور عمل ہے۔
بہت سے لوگ قرآن پڑھتے ہیں لیکن قرآن ان پر لعنت کرتا ہے، کیونکہ وہ اس کے احکامات کے خلاف چل رہے ہوتے ہیں۔ امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں: ”جو لوگ قرآن مجید کی تلاوت کے حق کے مطابق اس کی تلاوت کرتے ہیں، وہ ہم اہل بیت (ع) ہیں“[9]۔ یعنی اہل بیت (ع) ”قرآنِ ناطق“ (بولتا ہوا قرآن) ہیں۔ بیسویں دن کی دعا ہمیں ”قرآنِ صامت“ (کتاب) اور ”قرآنِ ناطق“ (امام) دونوں سے جوڑتی ہے۔
مزید فرماتے ہیں کہ قرآن کے حقِ تلاوت سے مراد یہ ہے کہ انسان اس کی آیات میں غور و فکر کرے، اس کے احکام پر عمل کرے، اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور اس کی عبرتوں سے سبق حاصل کرے[10]۔ بیسویں دن کی دعا میں مانگی گئی توفیق یہ ہے کہ قرآن ہمارے گلے سے نیچے اتر کر ہمارے دلوں میں جاگزیں ہو جائے اور ہمارے کردار کو بدل دے۔
سکون قلب: مومنین کا انعام
دعا کا اختتام سکونِ قلب (سکینہ) کے نزول کی طرف اشارہ کرتا ہے: يا مُنْزِلَ السَّكينَةِ فى قُلُوبِ الْمُؤْمِنينَ (اے مومنوں کے دلوں میں سکون نازل کرنے والے)۔ بیسویں دن کی دعا کا یہ آخری جملہ انتہائی پرسکون اور امید افزا ہے۔
جب انسان جنت کے راستے (ولایت) پر چلتا ہے، جہنم کے اسباب (گناہ) سے بچتا ہے اور قرآن سے اپنا تعلق جوڑ لیتا ہے، تو اس کے نتیجے میں اللہ اس کے دل میں وہ خاص سکون اور اطمینان (سکینہ) نازل کرتا ہے جو صرف مومنین کا خاصہ ہے۔ دنیا میں پریشانیاں، خوف اور غم ہر وقت حملہ آور ہوتے ہیں، لیکن ”سکینہ“ وہ ڈھال ہے جو دل کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔
قرآن میں اللہ نے جنگِ حنین اور حدیبیہ کے مواقع پر مومنین پر سکینہ نازل کرنے کا ذکر کیا ہے۔ بیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ آج کے دور کے فتنوں اور ڈپریشن میں بھی سکون صرف ”یادِ خدا“ اور ”محبتِ اہل بیت“ سے مل سکتا ہے۔ جس دل میں شک ہو، وہاں سکینہ نہیں آتی۔ سکینہ صرف اس دل میں اترتی ہے جو ایمان اور یقین سے معمور ہو۔
بیسویں دن کی دعا کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت ولایت سے ملتی ہے، جہنم سے نجات ترکِ گناہ میں ہے، ہدایت قرآن میں ہے اور ان سب کا نتیجہ ”دلی سکون“ ہے۔ یہ دعا انسان کو اضطراب سے نکال کر اطمینان کی وادی میں لے آتی ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے بیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ جنت محض بہانوں سے نہیں ملتی بلکہ "حسنِ عمل” اور "ولایت” سے ملتی ہے۔ جہنم سے بچنے کے لیے خواہشاتِ نفسانی کو ترک کرنا ہوگا، اور قرآن سے حقیقی تعلق جوڑنے کے لیے محض تلاوت کافی نہیں بلکہ اس میں "تدبر” اور "عمل” ضروری ہے۔
حوالہ جات
[1] سورہ توبہ، آیت 72۔
[2] حسکانی، شواہد التنزیل، ج 1، ص 59۔
[3] سورہ ابراہیم، آیت 16۔
[4] سورہ دخان، آیت 43-46۔
[5] سورہ حج، آیت 19-21۔
[6] سورہ تحریم، آیت 6۔
[7] سورہ آل عمران، آیت 185۔
[8] سورہ مزمل، آیت 4۔
[9] کلینی، الکافی، ج 1، ص 215۔
[10] مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج 1، ص 432۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ حسکانی، عبید اللہ بن عبد اللہ، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تہران، وزارت ارشاد، 1411ق۔
3۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
4۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔