ماہ رمضان کے دوسرے دن کی دعا: رضائے الٰہی کا حصول

ماہ رمضان کے دوسرے دن کی دعا: رضائے الٰہی کا حصول

کپی کردن لینک

ماہِ رمضان المبارک کا ہر نیا سورج رحمتوں کا ایک تازہ پیغام لے کر طلوع ہوتا ہے اور جہاں پہلا دن غفلت کی نیند سے بیداری کا درس دیتا تھا، وہیں دوسرے دن کی دعا انسان کو اپنی روحانی منزل کے حتمی تعین کی دعوت دیتی ہے۔ اس بابرکت مہینے کے دوسرے دن کی دعا کا مرکزی اور بنیادی محور صرف اور صرف ”رضائے الٰہی“ کا حصول اور ”قرآن مجید“ سے مضبوط تمسک ہے جو بندے کو کامیابی کا حقیقی راستہ دکھاتا ہے۔

ماہ رمضان کے دوسرے دن کی دعا

اللَّهُمَّ قَرِّبْنِي فِيهِ إِلَى مَرْضَاتِكَ وَ جَنِّبْنِي فِيهِ مِنْ سَخَطِكَ وَ نَقِمَاتِكَ وَ وَفِّقْنِي فِيهِ لِقِرَاءَةِ آيَاتِكَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! مجھے اس روز اپنی خوشنودی سے قریب تر فرما، اور مجھے اپنی ناراضگی اور انتقام سے دور رکھ، اور مجھے اپنی آیات کی قرائت کی توفیق عطا فرما، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تجھے تیری رحمت کا واسطہ۔“

رضائے الٰہی: انسانی زندگی کی معراج

ماہِ رمضان المبارک کی دوسرے دن کی دعا کا آغاز ایک ایسے عظیم ترین اور بلند مقصد کے تعین سے ہوتا ہے جو انسانی زندگی کا حاصل ہے: اللَّهُمَّ قَرِّبْنِي فِيهِ إِلَى مَرْضَاتِكَ (اے اللہ! مجھے اپنی رضا سے قریب کر دے)۔ جب بندہ دوسرے دن کی دعا کے ان الفاظ کو ادا کرتا ہے، تو درحقیقت وہ اپنی زندگی کے رخ کو دنیوی خواہشات سے موڑ کر خالقِ حقیقی کی خوشنودی کی طرف کر لیتا ہے، کیونکہ انسانی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ وہی لمحات ہیں جو اس کے خالق کی خوشنودی کے لیے صرف ہوں۔

”مقامِ رضا“ وہ بلند درجہ ہے جس تک رسائی ہر کسی کے لیے آسان نہیں، دوسرے دن کی دعا میں پوشیدہ خلوصِ نیت اور اس کے سائے میں کی جانے والی مسلسل جدوجہد ہی انسان کو اس مقامِ عروج پر پہنچا سکتی ہے جہاں اس کی اپنی مرضی خدا کی مرضی میں فنا ہو جاتی ہے۔ جہاں رب خود اپنے بندے سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے: ”اپنے رب کی طرف پلٹ آ اس عالم میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے“[1]۔

اس مقام کی سب سے روشن اور عملی تصویر ہمیں میدانِ کربلا میں نظر آتی ہے، جہاں سید الشہداء امام حسین (ع) نے مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود تسلیم و رضا کا وہ بے مثال نمونہ پیش کیا جو دوسرے دن کی دعا کی حقیقی روح ہے۔

آپ کے لبوں پر سخت ترین حالات میں بھی صرف دعا اور مناجات رہی، جس نے ثابت کیا کہ رضا کا تعلق حالات سے نہیں بلکہ دل کی کیفیت سے ہے۔ بنیادی طور پر انسان کے اعمال کی دو ہی سمتیں ہوتی ہیں: ایک وہ جو خدا کو راضی کرتے ہیں اور قربت کا باعث بنتے ہیں، اور دوسرے وہ جو خدا سے دوری کا سبب بنتے ہیں۔ دوسرے دن کی دعا ہمیں پہلے راستے کے انتخاب کی ترغیب دیتی ہے اور ہر اس عمل سے روکتی ہے جو اللہ کی ناراضگی کا باعث بنے۔

غضبِ الٰہی سے دوری اور اس کے اسباب

ماہ رمضان المبارک کی اس دعا کا دوسرا حصہ خدا کی ناراضگی سے پناہ مانگنے پر مشتمل ہے: وَ جَنِّبْنِي فِيهِ مِنْ سَخَطِكَ وَ نَقِمَاتِكَ۔ یہاں "سخط” سے مراد ناراضگی اور "نقمات” سے مراد غضب یا انتقام ہے۔ اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ان اسباب کو پہچانے جو اس ناراضگی کا باعث بنتے ہیں۔

امیر المومنین حضرت علی (ع) نے خدا کے غضب کا سبب بننے والی پانچ چیزوں کی نشاندہی فرمائی ہے:

1. والدین کو تکلیف پہنچانا: جو اولاد اپنے والدین کی نافرمانی کرتی ہے، وہ خدا کے غضب کو دعوت دیتی ہے۔

2. قطعِ رحمی: رشتہ داروں سے تعلق توڑنا۔

3. نماز میں تاخیر: اول وقت میں نماز ادا نہ کرنا اور سستی برتنا۔

4. حقوق اللہ کی عدم ادائیگی: جیسے زکوٰۃ اور خمس وغیرہ روک لینا۔

5. امید توڑنا: کسی ایسے شخص کو مایوس کر دینا جس نے آپ سے امید باندھ رکھی ہو[2]۔

پس، اس دعا کی قبولیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان تمام امور سے سختی سے پرہیز کرے۔

قرآنِ مجید: ہدایت اور شفاء کا سرچشمہ

ماہ رمضان کے دوسرے دن کی دعا کے اس تیسرے حصے میں قرآن کی تلاوت کی توفیق مانگی گئی ہے: وَ وَفِّقْنِي فِيهِ لِقِرَاءَةِ آيَاتِكَ۔ ماہِ رمضان المبارک کو "بہارِ قرآن” کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کلامِ الٰہی کے نزول کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو صرف ایک منٹ میں انسان قرآن کی ایک مختصر سورت یا کوئی آیت یاد کر سکتا ہے، اور یہی لمحات جمع ہو کر انسان کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا پہاڑ بنا سکتے ہیں۔

قرآنِ کریم قیامت تک کے لیے ایک زندہ معجزہ ہے۔ یہ گمراہوں کے لیے نشانِ منزل، بیمار دلوں کے لیے شفاء اور معاشرتی بگاڑ کا بہترین علاج ہے۔ جو لوگ قرآن سے تعلق جوڑ لیتے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والی تجارت کی خوشخبری دی ہے: ”یقیناً جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور انہوں نے نماز قائم کی ہے اور جو کچھ ہم نے بطور رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خفیہ اور اعلانیہ خرچ کیا ہے، یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کسی طرح کی تباہی (خسارہ) نہیں ہے“[3]۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآن کی تلاوت محض الفاظ کی ادائیگی نہیں، بلکہ یہ انسان کے کردار کو سنوارتی ہے اور اسے انفاق اور نماز کی طرف لے جاتی ہے۔ مزید برآں، دوسرے دن کی دعا میں تلاوت کی توفیق مانگنے کا ایک گہرا نفسیاتی اور روحانی پہلو بھی ہے۔

انسانی دل لوہے کی طرح زنگ آلود ہو جاتا ہے، خصوصاً جب وہ گناہوں اور غفلت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہو۔ رسول اللہ (ص) کا فرمان ہے کہ دلوں کے زنگ کو دور کرنے والی چیز ”تلاوتِ قرآن“ اور ”موت کی یاد“ ہے۔ ماہِ رمضان میں چونکہ شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں اور رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، لہٰذا دلوں کا زنگ دھونے کے لیے یہ بہترین موسم ہے۔ جب ایک روزہ دار بھوک اور پیاس کی حالت میں، خشک ہونٹوں کے ساتھ اللہ کا کلام پڑھتا ہے، تو وہ الفاظ صرف زبان تک محدود نہیں رہتے بلکہ دل کی گہرائیوں میں اتر کر اسے منور کر دیتے ہیں۔

یہاں ”توفیق“ کا لفظ انتہائی اہم ہے۔ توفیق سے مراد صرف وقت کا مل جانا نہیں، بلکہ دل کا مائل ہونا اور اسباب کا مہیا ہونا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے پاس وقت تو ہوتا ہے مگر قرآن کھولنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ دوسرے دن کی دعا دراصل اللہ سے یہ التجا ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنے کلام کی ایسی محبت ڈال دے کہ ہم اسے پڑھے بغیر چین نہ پائیں۔ قرآن محض ایک کتاب نہیں بلکہ ”خالق کا مخلوق کے نام خط“ ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ محبوب کا خط آئے اور محب اسے پڑھے بغیر رکھ دے؟ ماہِ رمضان اس خط کو بار بار پڑھنے اور سمجھنے کا نام ہے۔

پھر یہ بھی یاد رہے کہ قرآن کی تلاوت کے درجات ہیں۔ ایک درجہ الفاظ کی درست ادائیگی (تجوید) ہے، دوسرا درجہ اس کے معانی پر غور و فکر (تدبر) ہے، اور تیسرا اور سب سے بلند درجہ اس پر عمل کرنا ہے۔ دوسرے دن کی دعا میں جب ہم ”آیات کی قرات“ کی توفیق مانگتے ہیں تو اس میں یہ تینوں درجات شامل ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ رمضان میں صرف قرآن ختم کرنے کی دوڑ میں نہ لگیں بلکہ قرآن کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کریں۔ ایک آیت جو سمجھ کر اور حضور قلب کے ساتھ پڑھی جائے، وہ بغیر سمجھے پڑھے جانے والے پورے قرآن سے بہتر اثر ڈال سکتی ہے۔

رمضان المبارک میں قرآن کی تلاوت کا اجر بھی عام دنوں سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ اللہ کا اپنے بندوں پر خاص کرم ہے کہ وہ کم عمل پر زیادہ اجر عطا کرتا ہے۔ یہ قرآن قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کرے گا۔ یہ قبر کی تنہائی میں انسان کا بہترین ساتھی اور وحشت میں دلی سکون کا باعث بنے گا۔

لہٰذا، دوسرے دن کی دعا ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ ہم اس عظیم نعمت کی ناقدری نہ کریں، بلکہ اپنی زندگی کے ہر دن، خصوصاً ماہِ رمضان کے ہر لمحے کو قرآن کے نور سے منور کریں، تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل ہو سکیں جن کے بارے میں قرآن خود گواہی دے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو راتوں کو اٹھ کر اپنے رب کا کلام ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے۔

نتیجہ

ماہِ رمضان کے دوسرے دن کی دعا ہمیں ایک نہایت متوازن اور پاکیزہ زندگی کا ڈھانچہ فراہم کرتی ہے جس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مومن کی زندگی کا محور ذاتی خواہشات نہیں بلکہ ”رضائے الٰہی“ ہونا چاہیے۔ دوسرے دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ رضا کے حصول کے لیے ان تمام راستوں جیسے والدین کی نافرمانی یا حقوق العباد کی پامالی سے بچنا لازم ہے جو خدا کے غضب کا باعث بنتے ہیں۔ اس سفر میں استقامت کے لیے دوسرے دن کی دعا ”قرآنِ مجید“ کا سہارا لینے کی تلقین کرتی ہے کیونکہ یہی وہ مضبوط رسی ہے جسے تھام کر انسان دنیا و آخرت کی سرخروئی پا سکتا ہے۔

حوالہ جات

[1] سورہ فجر، آیت 28۔
[2] فشارکی اصفہانی، عنوان الکلام، ص 44۔
[3] سورہ فاطر، آیت 29۔

فہرست منابع

1۔ قرآن کریم۔
2۔ فشارکی اصفہانی، محمد باقر، عنوان الکلام، (قدیمی اشاعت)۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔