ماہ رمضان المبارک کے نصف حصے کا اختتام اس بات کی نوید ہے کہ اب ہم تزکیہ نفس کے مراحل میں پختگی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پندرھویں دن کی دعا میں بندہ اپنے رب سے ایسی اطاعت کا طلبگار ہے جس میں "خشوع” ہو، اور ایسے سینے کی کشادگی مانگتا ہے جس میں "انابت” (رجوع) کا نور ہو۔ یہ دعا انسان کو ظاہری عبادت سے نکال کر باطنی عجز و انکساری کی دنیا میں لے جاتی ہے۔
ماہ رمضان کے پندرھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ طاعَةَ الْخاشِعينَ وَ اشْرَحْ فيهِ صَدْرى بِاِنابَةِ الْمُخْبِتينَ بِأَمانِكَ يا أَمانَ الْخآئِفينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! اس مہینے میں مجھے عجز و انکسار والوں کی سی اطاعت عطا فرما، اور خاکسار اطاعت شعاروں کی سی توبہ کرنے کے لیے میرا سینہ کشادہ فرما، تیری امان کے واسطے، اے خوفزدہ ہونے والوں کی امان۔“
طاعتِ خاشعین: روح کی عاجزی
ماہِ رمضان المبارک کا نصف اول مکمل ہو چکا ہے اور اب ہم نصف آخر کے آغاز پر کھڑے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنا محاسبہ کرتا ہے کہ پچھلے پندرہ دنوں میں اس نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ پندرھویں دن کی دعا اس روحانی سفر کا ایک اہم موڑ ہے، جہاں بندہ مومن اپنے رب سے ظاہری عبادات کے بجائے باطنی کیفیات کا سوال کرتا ہے۔
یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ سجدہ صرف سر جھکانے کا نام نہیں، بلکہ دل جھکانے کا نام ہے۔ پندرھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے تین ایسی لطیف کیفیات مانگتے ہیں جو عبادت کی جان ہیں: خشوع والی اطاعت، شرحِ صدر کے ساتھ انابت، اور خوف کے عالم میں خدا کی امان۔
دعا کے پہلے اور انتہائی اہم حصے میں خشوع والی اطاعت مانگی گئی ہے: أَللّهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ طاعَةَ الْخاشِعـينَ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں خشوع کرنے والوں جیسی اطاعت نصیب فرما)۔ پندرھویں دن کی دعا میں لفظ ”طاعت“ کے ساتھ ”خاشعین“ کی شرط لگا کر عبادت کا معیار بہت بلند کر دیا گیا ہے۔
یہاں "رزق” کا لفظ استعمال ہوا ہے جس سے مراد صرف روٹی، کپڑا یا مال و دولت نہیں ہے، بلکہ ہدایت، توفیقِ عبادت اور اچھی حالت بھی بہترین رزق ہے۔ پندرھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ”خشوع“ (دل کا جھکنا) بھی اللہ کا ایک رزق ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ یہ صرف ان خوش نصیبوں کو ملتا ہے جن کے دل نرم ہوں۔
"خشوع” اس کیفیت کا نام ہے جب انسان کسی عظیم ہستی کے سامنے اپنی بے بسی اور کممائیگی کا اعتراف کرتا ہے، اس کی عظمت کا رعب دل پر طاری ہوتا ہے اور یہ کیفیت اس کے اعضاء و جوارح سے ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی نگاہیں جھک جاتی ہیں، آواز دھیمی ہو جاتی ہے اور دل لرزنے لگتا ہے۔ قرآن کریم نے مومن کی کامیابی کی ضمانت ہی خشوع میں رکھی ہے: ”یقیناً صاحبانِ ایمان کامیاب ہو گئے، جو اپنی نمازوں میں گڑگڑانے والے (خاشع) ہیں“[1]۔
پندرھویں دن کی دعا ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ اگر ہماری نماز میں خشوع نہیں، تو وہ صرف ایک "ایکسرسائز” (Exercise) ہے۔ امام موسیٰ کاظم (ع) فرماتے ہیں: ”خدا کی قسم ہمارے شیعہ وہی لوگ ہیں جن کی صفت اللہ نے عبادت، انکساری اور نرم دلی بیان کی ہے“[2]۔ خشوع کے دو پہلو ہیں: ایک دل کا خشوع (خوف اور عظمت) اور دوسرا اعضاء کا خشوع (سکون اور ٹھہراؤ)۔
پندرھویں دن کی دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ خشوع صرف دل تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ اس کا اثر لازمی طور پر اعضاء پر بھی ہوتا ہے۔ اگر دل میں آگ لگی ہو تو اس کی تپش باہر محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر دل خدا کے سامنے جھکا ہو تو جسم اکڑا ہوا نہیں رہ سکتا۔ رسول اکرم (ص) نے ایک شخص کو نماز میں اپنی داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ”اگر اس کا دل خاشع ہوتا تو اس کے اعضاء بھی خاشع ہوتے“[3]۔ پس، پندرھویں دن کی دعا ہمیں ”مشینی عبادت“ سے نکال کر ”باطنی عبادت“ کی طرف لے جاتی ہے۔
شرحِ صدر اور انابت: نور کی وسعت
دعا کا دوسرا اہم اور عارفانہ جزو سینے کی کشادگی (شرح صدر) ہے: وَ اشْرَحْ فيهِ صَدْرى بِاِنابَةِ الْمُخْبِتينَ (اور میرا سینہ کشادہ کر دے ان لوگوں کی طرح جو خدا کی طرف عاجزی سے جھکتے ہیں)۔ پندرھویں دن کی دعا یہاں ظرف کی وسعت کی بات کرتی ہے۔
"شرح صدر” (سینے کا کھل جانا) ایک عظیم نعمت ہے۔ انسانی دل علم اور نور کا برتن ہے۔ اگر برتن چھوٹا ہو تو اس میں سمندر نہیں سما سکتا۔ اسی طرح اگر دل تنگ ہو تو اس میں اللہ کی معرفت اور محبت نہیں سما سکتی۔ اللہ نے اپنے حبیب (ص) پر اس نعمت کو بطورِ احسان جتایا: ”کیا ہم نے آپ کے سینہ کو وسیع اور کشادہ نہیں کیا؟“[4]۔ پندرھویں دن کی دعا میں ہم اسی وسعتِ قلبی کے طلبگار ہیں تاکہ ہم دین کی گہری باتوں اور آزمایشوں کو برداشت کر سکیں۔
شرح صدر وہ نور ہے جو دل کو وسیع کر دیتا ہے تاکہ وہ حقائق کو قبول کر سکے۔ جب کسی کا سینہ کھل جاتا ہے تو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ نہیں کرتا، وہ لوگوں کو معاف کر دیتا ہے اور دنیا کی مصیبتیں اسے چھوٹی لگتی ہیں۔ رسول اللہ (ص) سے پوچھا گیا کہ شرح صدر کی علامت کیا ہے؟ آپ نے اس کی تین نشانیاں بتائیں:
-
انسان ہمیشہ رہنے والے گھر (آخرت) کی طرف متوجہ ہو جائے۔
-
دھوکے کے گھر (دنیا) سے دامن چھڑائے اور اس کی محبت دل سے نکال دے۔
-
موت آنے سے پہلے اس کی تیاری کرے[5]۔
پندرھویں دن کی دعا میں شرح صدر کے ساتھ ”انابت“ اور ”مخبتین“ کا ذکر ہے۔ "انابت” کا مطلب ہے بار بار پلٹنا۔ جیسے پنڈولم اپنی مرکز کی طرف پلٹتا ہے، ویسے ہی مومن کا دل دنیا میں بھٹکنے کے بعد بار بار اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔
لفظ "مخبتین” (عاجزی کرنے والے) بہت خوبصورت لفظ ہے۔ یہ "خبت” سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے ”ہموار اور نشیبی زمین“۔ پہاڑ کی چوٹی پر پانی نہیں ٹھہرتا، وہ بہہ جاتا ہے۔ لیکن جو زمین نشیبی اور ہموار ہوتی ہے، پانی وہیں جمع ہوتا ہے اور اسے سیراب کرتا ہے۔
پندرھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ جو لوگ تکبر کی وجہ سے اپنی ناک اونچی رکھتے ہیں (پہاڑ کی طرح)، رحمت کا پانی ان پر نہیں ٹھہرتا۔ لیکن جو لوگ اللہ کے سامنے ”خبت“ (ہموار زمین) بن جاتے ہیں، یعنی مٹ جاتے ہیں، اللہ کی رحمت وہیں جمع ہوتی ہے۔ لہٰذا، پندرھویں دن کی دعا میں ہم ”مخبتین“ جیسی انابت مانگ رہے ہیں، یعنی ایسا جھکاؤ جس میں میں اور تو کا فرق مٹ جائے۔
خوفزدہ دلوں کی امان
دعا کا اختتام خدا کی امان طلب کرنے پر ہوتا ہے: بِأَمانِكَ يا أَمانَ الْخآئِفينَ (اپنی امان کے ذریعے، اے ڈرنے والوں کی پناہ گاہ)۔ پندرھویں دن کی دعا کا یہ آخری حصہ امید اور خوف کا سنگم ہے۔
جب انسان کے دل میں ”خشوع“ (پہلا حصہ) اور ”انابت“ (دوسرا حصہ) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، تو وہ اپنے گناہوں اور اللہ کی جلالت سے ڈرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ میرا دامن خالی ہے اور منزل بہت کٹھن ہے۔ ایسے میں اسے صرف خدا کی ذات ہی سکون اور پناہ دے سکتی ہے۔ انسان جب ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے — دوستوں سے، مال سے، طاقت سے — تو وہ پکار اٹھتا ہے: ”یا امان الخائفین“۔
پندرھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ خوفزدہ ہونا بری بات نہیں، اگر وہ خوف خدا کا ہو۔ کیونکہ خدا کا خوف انسان کو باقی تمام خوفوں سے نجات دلا دیتا ہے۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے ہر چیز کے شر سے امان دے دیتا ہے۔ دعا کا یہ حصہ اس یقین کا اظہار ہے کہ اللہ ہی خوفزدہ دلوں کا واحد سہارا، واحد پناہ گاہ اور واحد امید ہے۔
یہ امان صرف آخرت کے عذاب سے نہیں، بلکہ دنیا کی وحشتوں اور بے سکونی سے بھی نجات دلاتی ہے۔ پندرھویں دن کی دعا کا یہ آخری جملہ مومن کو یہ تسلی دیتا ہے کہ اگر تمہارا ڈر سچا ہے تو میرا امن بھی سچا ہے، اور جو میری پناہ میں آ گیا اسے کائنات کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے پندرھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت کی قبولیت کا معیار "تعداد” نہیں بلکہ "کیفیت” (خشوع) ہے۔ جب تک دل نرم نہیں ہوگا، اعضاء کی عبادت بے روح رہے گی۔ اسی طرح شرح صدر کے بغیر انسان حق بات کو قبول نہیں کر سکتا۔ پس ہمیں چاہیے کہ ہم خدا سے وہ نور مانگیں جو ہمارے سینوں کو کھول دے اور ہمیں "مخبتین” (عاجز بندوں) کی صف میں شامل کر دے۔
حوالہ جات
[1] سورہ مومنون، آیت 1-2۔
[2] مجلسی، بحار الانوار، ج 23، ص 224۔
[3] ری شہری، میزان الحکمہ، ج 3، ص 39۔
[4] سورہ الم نشرح، آیت 1۔
[5] طبرسی، مجمع البیان، ج 4، ص 363۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ ری شہری، محمد، میزان الحکمہ، قم، دار الحدیث، 1416ق۔
3۔ طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، 1372ش۔
4۔ فیض کاشانی، محسن، تفسیر الصافی، تہران، مکتبہ الصدر، 1415ق۔
5۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
6۔ مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1374ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔