ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا: خواب غفلت سے بیداری

ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا: خواب غفلت سے بیداری

کپی کردن لینک

ماہِ رمضان محض دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرنے یا رسم و رواج کے طور پر کھانے پینے سے رکے رہنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ روح کی بیداری، قلب کی صفائی اور نفس کے تزکیے کا ایک مقدس اور بابرکت موسم ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو بندے کو اپنے خالق کے مزید قریب ہونے، اپنی باطنی دنیا کو ایمان کے نور سے روشن کرنے اور گزشتہ زندگی کی لغزشوں پر سچے دل سے نادم ہو کر توبہ کرنے کا سنہری موقع عطا کرتا ہے۔ اس عظیم روحانی سفر کا آغاز انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اور پہلے دن کی دعا اس سفر کے لیے ایک ”روحانی منشور“ کی حیثیت رکھتی ہے۔

ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا

اللَّهُمَّ اجْعَلْ صِيَامِي فِيهِ صِيَامَ الصَّائِمِينَ وَ قِيَامِي فِيهِ قِيَامَ الْقَائِمِينَ وَ نَبِّهْنِي فِيهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغَافِلِينَ‏ وَ هَبْ لِي جُرْمِي فِيهِ يَا إِلَهَ الْعَالَمِينَ وَ اعْفُ عَنِّي يَا عَافِياً عَنِ الْمُجْرِمِينَ‏۔
ترجمہ: ”اے معبود! میرا آج کا روزہ حقیقی روزے داروں جیسا قرار دے، اور میری عبادت کو سچے عبادت گزاروں جیسی قرار دے، اور مجھ کو ہوشیار کر دے غافلوں کی نیند سے، اور میرے گناہ کو بخش دے اے عالمین کے معبود، اور مجھ کو معاف کر دے اے گنہگاروں کے معاف کرنے والے۔“

حقیقی روزہ اور قیام: ظاہر سے باطن کا سفر

ماہ رمضان کے پہلے دن کی دعا کے ابتدائی فقرات (اجْعَلْ صِيَامِي فِيهِ صِيَامَ الصَّائِمِينَ) اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ اعمال و عبادات کے دو رُخ ہیں: ایک ظاہری ڈھانچہ اور دوسرا باطنی روح۔ انسان خود دو عناصر کا مرکب ہے؛ ایک اس کا حیوانی وجود اور دوسرا اس کا روحانی وجود۔ ماہ رمضان المبارک میں روزے کا بنیادی مقصد حیوانی خواہشات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر روح کو تقویت فراہم کرنا ہے، خصوصاً ماہ رمضان المبارک کے مقدس اوقات میں جب ماحول بھی ذکر و دعا سے لبریز ہوتا ہے۔

پہلے دن کی دعا میں جب بندہ اپنے رب سے ”حقیقی روزے داروں“ جیسا روزہ مانگتا ہے، تو اس کا ایک گہرا اور لطیف مفہوم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم محض ”ظاہری روزے“ کی بھوک اور پیاس تک محدود نہیں رہنا چاہتے، بلکہ پہلے دن کی دعا کے وسیلے سے ہم ”حقیقتِ روزہ“ تک رسائی حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کا پیٹ ہی نہیں، بلکہ اس کی آنکھ، کان، زبان اور دل بھی روزہ رکھتے ہیں۔

اگر انسان روزہ رکھ کر بھی اپنی روح کو ذکرِ الٰہی اور جلوۂ ربانی سے محروم رکھے، اور اس کے اندر کی حیوانیت اسی طرح دندناتے ہوئے گناہوں اور نافرمانیوں میں ملوث رہے، تو ایسا روزہ ایک بے جان جسم اور بے روح عمل کی مانند ہے۔ پہلے دن کی دعا ہمیں اسی غفلت سے خبردار کرتی ہے کہ کہیں ہمارا روزہ صرف فاقہ کشی نہ بن جائے۔

لہٰذا، ماہِ رمضان المبارک میں تمام عبادات—چاہے وہ روزے ہوں، نمازیں ہوں یا تلاوتِ قرآن—کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ نورِ تجلی اور وہ الٰہی جوہر جو انسان کے خاکی وجود میں پنہاں ہے، وہ بیدار اور توانا ہو جائے۔ پہلے دن کی دعا دراصل اسی سوئے ہوئے نور کو جگانے کی فریاد ہے، تاکہ انسان کی روح مادیت کی زنجیروں کو توڑ کر اپنے اصل مرکز یعنی ”ذاتِ الٰہی“ کی طرف مائلِ پرواز ہو جائے اور قربت کی بلندیوں کو چھو لے۔

خوابِ غفلت سے بیداری اور اس کی اہمیت

روزے اور نماز کی معراج اور ان کی اصل حقیقت تک رسائی کے لیے جس بنیادی چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، وہ ”غفلت کی گہری نیند سے بیداری“ ہے۔ یہی وہ مرکزی اور حساس نکتہ ہے جس کی طرف پہلے دن کی دعا ہمیں بار بار متوجہ کرتی ہے۔ پہلے دن کی دعا کے یہ پُراثر الفاظ (وَ نَبِّهْنِي فِيهِ عَنْ نَوْمَةِ الْغَافِلِينَ) دراصل ایک روحانی جھنجھوڑ ہے کہ اے رب! مجھے ان غافلوں کی نیند سے جگا دے جو مقصدِ حیات کو بھلا بیٹھے ہیں۔

غفلت انسان کے لیے ایک ”روحانی موت“ کا درجہ رکھتی ہے، جبکہ ماہِ رمضان المبارک میں دل کی بیداری ایک ”حیاتِ نو“ کی مانند ہے۔ پہلے دن کی دعا ہمیں اسی نئی زندگی کی طرف بلاتی ہے۔ جب تک انسان غفلت اور لاپرواہی کی چادر اوڑھ کر سویا رہے گا، وہ کائنات اور اپنے وجود کے حقائق کا ادراک ہرگز نہیں کر سکتا، چاہے وہ ظاہری طور پر بھوکا پیاسا ہی کیوں نہ رہے۔

ایسا سویا ہوا انسان ماہِ رمضان المبارک کی انمول ساعتوں اور بے پناہ رحمتوں سے بھی پوری طرح فیض یاب ہونے سے قاصر رہتا ہے۔ لہٰذا، پہلے دن کی دعا کا واضح، روشن اور حتمی پیغام یہی ہے کہ اپنی غفلتوں کو ترک کریں، ہوشیاری کا دامن تھامیں اور بیدار مغزی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں، کیونکہ یہی بیداری روزے کی قبولیت کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔

غفلت کے اسباب و علامات

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں غفلت کے چند بنیادی اسباب اور علامات کی نشاندہی ضروری ہے تاکہ انسان ان سے بچ سکے:

1.حالات سے عبرت نہ لینا: پیغمبر اکرم (ص) کا ارشاد ہے کہ ”غافل ترین شخص وہ ہے جو دنیا کے بدلتے حالات سے عبرت حاصل نہ کرے“[1]۔

2.عمر کا ضیاع: امیر المومنین حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: ”غفلت کے لیے کیا یہی کافی نہیں کہ انسان اپنی عمر کو ایسی جگہ برباد کرے جو اس کی نجات کا باعث نہ ہو“[2]۔

3.دنیوی چکا چوند: قرآن کریم واضح کرتا ہے کہ مال اور اولاد کی محبت انسان کو خدا کی یاد سے غافل کر دیتی ہے[3]۔ اسی طرح نعمتوں کی کثرت اور آسائشیں بھی بسا اوقات انسان کو اپنے مقصدِ تخلیق سے دور کر دیتی ہیں[4]، یہاں تک کہ ماہ رمضان المبارک جیسے خاص موسمِ رحمت میں بھی دل سخت اور بے حس رہ جاتا ہے اگر وہ بیدار نہ ہو۔

غفلت کے تباہ کن اثرات

غفلت انسانی شخصیت اور آخرت دونوں کے لیے زهرِ قاتل ہے۔ روایات میں اس کے سنگین نتائج بیان کیے گئے ہیں:

•قساوتِ قلبی: امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: ”غفلت سے بچو کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتا ہے“[5]۔ ماہ رمضان المبارک میں دل کی نرمی اور رقت قلبی بہت ضروری ہے۔

•بصیرت کا خاتمہ: حضرت علی (ع) کا فرمان ہے کہ غفلت کا بڑھنا عقل کو اندھا کر دیتا ہے[6] اور ”جس پر غفلت حاوی ہو جائے اس کا دل مر جاتا ہے“[7]۔ پس ماہ رمضان المبارک ہمیں بصیرت اور حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

•ہلاکت اور گھاٹا: جو شخص غفلت میں پڑا رہتا ہے، وہ درحقیقت اپنی بربادی کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوتا ہے اور ایسا شخص سراسر گھاٹے میں ہے[8]، خواہ وہ ماہ رمضان المبارک کے ان مقدس ایام میں محض رسم کے طور پر روزہ رکھے مگر روحانی زندگی سے محروم رہے۔

بارگاہِ الٰہی میں طلبِ مغفرت

پہلے دن کی دعا کے اختتام پر بندہ انتہائی عاجزی اور انکساری کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے اور اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کرتا ہے (وَ هَبْ لِي جُرْمِي فِيهِ)۔ یہ لمحہ ایک گنہگار بندے کے لیے امید کی کرن ہے، کیونکہ ماہِ رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ کریمانہ اور رحمت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہوتا ہے، اور وہ سچے دل سے توبہ کرنے والوں کو فوراً اپنی آغوشِ رحمت میں لے لیتا ہے۔ پہلے دن کی دعا ہمیں اسی امید اور یقین کا دامن تھامنے کی تلقین کرتی ہے۔

تاہم، یہاں ایک نہایت اہم اور نازک نکتہ پیشِ نظر رہنا ضروری ہے، جس کی طرف پہلے دن کی دعا کا مفہوم بھی بالواسطہ اشارہ کرتا ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق (حقوق اللہ) تو اپنی شانِ کریمی سے معاف کر سکتا ہے، لیکن حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کا معاملہ الگ ہے۔ اگر کسی بندے کے ساتھ زیادتی، حق تلفی یا ظلم ہوا ہو، تو اس کی معافی متعلقہ شخص سے مانگنا ناگزیر ہے، تب ہی توبہ مکمل ہوتی ہے۔

پہلے دن کی دعا کی حقیقی روح بھی یہی ہے کہ انسان اپنے معاملات کو خدا اور بندوں دونوں کے ساتھ صاف کرے۔ الغرض، ماہِ رمضان المبارک کا یہ پہلا دن ہمیں شدت سے اس جانب متوجہ کرتا ہے کہ ہم پہلے دن کی دعا کے وسیلے سے اپنے نامۂ اعمال کو گناہوں کی سیاہی اور ماضی کی کوتاہیوں سے مکمل طور پر پاک کر لیں، تاکہ ہم رحمتِ الٰہی کے گھنے سائے میں آسکیں اور مغفرت کی اس عام فضا سے بھرپور اور دائمی فائدہ اٹھا سکیں۔

نتیجہ

پہلے دن کی دعا ہمیں ایک جامع لائحہ عمل دیتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ روزے کی قبولیت صرف بھوکا رہنے میں نہیں، بلکہ اسے ”حقیقی روزے داروں کا روزہ“ بنانے میں ہے۔ پہلے دن کی دعا کا بنیادی مقصد ہمیں جہل، خود بینی اور دنیاوی آسائشوں کے نشے میں پیدا ہونے والی غفلت سے بیدار کرنا ہے۔ جب انسان بیدار ہوتا ہے، تو اسے اپنی کوتاہیوں کا احساس ہوتا ہے اور وہ بارگاہِ الٰہی میں استغفار کرتا ہے۔ پس، پہلے دن کی دعا کا حتمی پیغام یہی ہے: خوابِ غفلت چھوڑیں، حقائق کا ادراک کریں اور حقیقی بندگی کا آغاز کریں۔

حوالہ جات

[1] مجلسی، بحار الانوار، ج 77، ص 112۔
[2] آمدی، غرر الحکم، مادہ غفل۔
[3] سورہ منافقون، آیت 9۔
[4] سورہ تکاثر، آیت 1۔
[5] مجلسی، بحار الانوار، ج 78، ص 164۔
[6] آمدی، غرر الحکم، مادہ غفل۔
[7] آمدی، غرر الحکم، مادہ غفل۔
[8] شریف رضی، نہج البلاغہ، حکمت 208۔

فہرست منابع

قرآن کریم۔
1۔ آمدی، عبد الواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، 1366ش۔
2۔ حویزی، عبد علی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، 1415ق۔
3۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغہ، قم، انتشارات ہجرت، 1414ق۔
4۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔