ماہ رمضان انسان کی روحانی تعمیر کا مہینہ ہے۔ رمضان المبارک کے اس مہینے کے ابتدائی ایام میں جہاں ہم غفلت سے بیداری اور رضائے الٰہی کی طلب کرتے ہیں، وہیں رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا ہمیں ایک عملی میدان کی طرف لے آتی ہے۔ رمضان المبارک کی اس دعا کا مرکزی خیال "قوت اور توانائی” کا حصول ہے، لیکن یہ قوت محض جسمانی نہیں بلکہ وہ روحانی طاقت ہے جو انسان کو احکاماتِ الٰہی پر عمل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ رمضان المبارک کی یہ دعا ذکرِ خدا کی مٹھاس اور شکرگزاری کے حقیقی مفہوم کو اجاگر کرتی ہے۔
ماہ رمضان کے چوتھے دن کی دعا
اللَّهُمَّ قَوِّنِي فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ أَمْرِكَ وَ أَذِقْنِي فِيهِ حَلاَوَةَ ذِكْرِكَ وَ أَوْزِعْنِي فِيهِ لِأَدَاءِ شُكْرِكَ بِكَرَمِكَ وَ احْفَظْنِي فِيهِ بِحِفْظِكَ وَ سِتْرِكَ يَا أَبْصَرَ النَّاظِرِينَ۔
ترجمہ: ”خدایا! مجھے طاقت دے تاکہ اِس دن اچھی طرح تیرے حکم کی پیروی کروں، خدایا اس دن اپنی یاد کی مٹھاس سے ہمیں سرشار رکھ، اور اس دن (اور ماہ) اپنے کرم سے شکرگزاری کی توفیق دے، خدایا میری حفاظت کر اور میرے عیوب چھپالے، اے دیکھنے والوں میں سب سے زیادہ دیکھنے والے۔“
اطاعتِ الٰہی کے لیے روحانی اور جسمانی قوت
رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں خدا سے طاقت طلب کی گئی ہے: اللَّهُمَّ قَوِّنِي فِيهِ عَلَى إِقَامَةِ أَمْرِكَ (خدایا مجھے اپنے احکامات کے نفاذ کے لیے قوت دے)۔ یہاں ایک اہم نکته سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عبادت کی طاقت، بازو کی طاقت سے مختلف ہے۔ جسم اور روح کے مرکب ہونے کے ناطے انسان کو خدا کی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے صرف جسمانی صحت نہیں بلکہ مضبوط قوتِ ارادی اور ایمانی طاقت درکار ہوتی ہے۔
تاریخ میں اس کی بہترین مثال امیر المومنین حضرت علی (ع) کی ذات ہے۔ جنگِ خیبر میں آپ (ع) نے قلعہ کا وہ دروازہ اکھاڑ پھینکا جسے کئی مرد مل کر بھی نہیں ہلا سکتے تھے، حالانکہ عام حالات میں آپ (ع) خشک روٹی بھی مشکل سے توڑتے تھے۔ جب آپ (ع) سے اس طاقت کا راز پوچھا گیا تو فرمایا: ”یہ جسمانی طاقت نہیں بلکہ ربانی و ملکوتی طاقت تھی“[1]۔
لہٰذا، ہم خدا سے وہی طاقت مانگتے ہیں جو دعائے کمیل میں طلب کی گئی ہے: ”قَوّ عَلی خِدمَتِکَ جَوارحی“ (میرے اعضا و جوارح کو اپنی خدمت کے لیے مضبوط بنا دے)۔ یہی وجہ ہے کہ بسا اوقات ایک بوڑھے شخص کی عبادت کی طاقت جوانوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
ذکرِ خدا کی حلاوت اور مٹھاس
ماہِ رمضان المبارک کا روحانی سفر جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے، بندہ مومن کی کیفیات میں گہرائی آتی جاتی ہے۔ چوتھے دن کی دعا اس سفر کا ایک اہم پڑاؤ ہے، جہاں انسان محض جسمانی مشقت سے نکل کر روحانی لطف اور قلبی سکون کی وادی میں قدم رکھنے کی خواہش کرتا ہے۔
دعا کا دوسرا اہم اور لطیف ترین جزو ذکر کی مٹھاس ہے: وَ أَذِقْنِي فِيهِ حَلاَوَةَ ذِكْرِكَ (اور مجھے اس میں اپنے ذکر کی مٹھاس چکھا دے)۔ چوتھے دن کی دعا کا یہ جملہ انسانی نفسیات اور روحانیت کا نچوڑ ہے۔ ذکرِ خدا محض زبان کی ورزش یا تسبیح کے دانوں کو گھمانے کا نام نہیں، بلکہ یہ روح کی وہ غذا ہے جس کے بغیر دل مردہ ہو جاتا ہے۔
جب انسان خدا کے ساتھ انسیت پیدا کر لیتا ہے تو اسے عبادت ایک بوجھ نہیں بلکہ ایک لذت محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح ایک پیاسا انسان ٹھنڈے پانی کے پیالے سے لطف اندوز ہوتا ہے، اسی طرح ایک عاشقِ الٰہی ذکرِ خدا سے سکون پاتا ہے۔ تاہم، چوتھے دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ یہ نعمت اور یہ ذائقہ ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ جس طرح بخار میں مبتلا شخص کو شہد بھی کڑوا لگتا ہے، اسی طرح گناہوں میں ملوث بیمار دل کو ذکرِ الٰہی کی مٹھاس محسوس نہیں ہوتی۔
روایات میں ہے کہ وہ عالم جو علم رکھنے کے باوجود عمل نہیں کرتا، اس کی کم از کم سزا یہ ہے کہ: ”پروردگار اس کے دل سے اپنی مناجات کی مٹھاس چھین لیتا ہے“[2]۔ یہ ایک بہت بڑی محرومی ہے۔
چوتھے دن کی دعا دراصل ایک طبیب کی طرح ہمارے روحانی مرض کی تشخیص کرتی ہے۔ اگر ہمیں نماز میں، قرآن کی تلاوت میں یا دعا مانگتے وقت اکتاہٹ محسوس ہو اور لطف نہ آئے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا روحانی ذائقہ بگڑ چکا ہے۔ پس، ذکر کی حلاوت کا دارومدار انسان کے عمل، پرہیزگاری اور اخلاص پر ہے۔ چوتھے دن کی دعا ہمیں اسی کھوئی ہوئی مٹھاس کو واپس پانے کا راستہ دکھاتی ہے۔
شکرگزاری کا حقیقی مفہوم
تیسرا تقاضا شکر ادا کرنے کی توفیق ہے: وَ أَوْزِعْنِي فِيهِ لِأَدَاءِ شُكْرِكَ (اور مجھے توفیق دے کہ میں تیرا شکر ادا کروں)۔ چوتھے دن کی دعا میں شکر کا جو مفہوم بیان ہوا ہے وہ روایتی معنوں سے بہت بلند ہے۔ عام طور پر شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمد للہ” کہنا سمجھا جاتا ہے، لیکن چوتھے دن کی دعا جس شکر کی طرف اشارہ کر رہی ہے، وہ ”عملی شکر“ ہے۔
حقیقی شکر یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی اطاعت میں استعمال کیا جائے اور گناہ سے بچا جائے۔ اگر اللہ نے آنکھ دی ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ اسے نامحرم، فحاشی اور حرام مناظر سے بچایا جائے اور اسے قرآن کی تلاوت اور قدرت کے نظاروں میں استعمال کیا جائے۔ کان کا شکر یہ ہے کہ غیبت، چغلی اور حرام آوازوں (جیسے موسیقی یا گالی گلوچ) سے پرہیز کیا جائے اور اسے حق بات سننے کے لیے وقف کیا جائے۔ زبان کا شکر یہ ہے کہ اس سے جھوٹ، تہمت اور دل آزاری والے کلمات نہ نکلیں، بلکہ یہ ذکر اور اصلاح کے لیے کھلے۔
چوتھے دن کی دعا ہمیں یہ باور کراتی ہے کہ اگر ہم اللہ کی دی ہوئی طاقت کو اس کی نافرمانی میں استعمال کر رہے ہیں، تو ہم ناشکرے ہیں۔ نعمت کا صحیح مصرف ہی اصل شکر ہے۔ مزید برآں، شکر کی توفیق مانگنا اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم اپنی مدد آپ کے تحت شکر بھی ادا نہیں کر سکتے۔
اگر ہمیں شکر کرنے کی توفیق مل جائے تو یہ بذاتِ خود ایک اور نعمت ہے جس پر دوبارہ شکر واجب ہو جاتا ہے۔ یوں چوتھے دن کی دعا مومن کو مسلسل شکر کے دائرے میں رکھتی ہے، جس کا وعدہ اللہ نے قرآن میں کیا ہے کہ ”اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا“۔
حفاظت، پردہ پوشی اور انجام
دعا کے آخری حصے میں خدا کی حفاظت اور پردہ پوشی کی درخواست کی گئی ہے: وَ احْفَظْنِي فِيهِ بِحِفْظِكَ وَ سِتْرِكَ (اور مجھے اپنی حفاظت اور پردہ پوشی میں محفوظ رکھ)۔ چوتھے دن کی دعا کا یہ حصہ انسان کی کمزوری اور اللہ کی شانِ کریمی کا اظہار ہے۔ انسان فطرتاً کمزور ہے اور ہر لمحہ نفسانی خواہشات اور شیطانی وسوسوں کے نرغے میں رہتا ہے۔ ماہِ رمضان میں اگرچہ شیاطین قید ہوتے ہیں، لیکن نفسِ امارہ کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
جب انسان اپنے معاملات خدا کے سپرد کر دیتا ہے تو وہ اسے اپنی ”حفاظت“ کے قلعے میں لے لیتا ہے، جہاں شیطان کا تیر اثر نہیں کرتا۔ لیکن چوتھے دن کی دعا میں صرف حفاظت نہیں، بلکہ ”ستر“ (پردہ پوشی) بھی مانگی گئی ہے۔ خدا "ستار العیوب” ہے، وہ ہماری خطاؤں، گناہوں اور باطنی غلاظتوں پر پردہ ڈالتا ہے۔ اگر ہمارے گناہوں کی بو ظاہر ہو جائے تو کوئی دوست ہمارے پاس بیٹھنا گوارا نہ کرے۔ یہ اس کی رحمت ہے کہ وہ ہمارے عیب چھپاتا ہے اور خوبیاں ظاہر کرتا ہے۔
چوتھے دن کی دعا ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ عزت اور آبرو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اگر انسان مسلسل گناہ کرے اور ڈھٹائی کا مظاہرہ کرے، تو وہ خود اپنے آپ کو رسوا کر لیتا ہے اور اللہ کی پردہ پوشی کی چادر کو پھاڑ دیتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں اس پردہ پوشی کی قدر کرنی چاہیے۔
اس دعا کا اختتام اس یقین پر ہوتا ہے کہ خدا سب سے زیادہ دیکھنے والا ہے (يَا أَبْصَرَ النَّاظِرِينَ)، اور وہی ہمیں گناہوں کی دلدل سے بچا سکتا ہے۔ وہ ہماری نیتوں کو بھی دیکھتا ہے اور ہماری کوششوں کو بھی۔ چوتھے دن کی دعا کے یہ آخری کلمات انسان کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ میرا رب مجھے دیکھ رہا ہے، وہ میری تڑپ سے واقف ہے، اور وہی میری حفاظت کرنے پر قادر ہے۔ الغرض، چوتھے دن کی دعا ذکر کی مٹھاس، عمل کے ذریعے شکر اور اللہ کی امان میں آنے کا ایک مکمل روحانی نصاب ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے چوتھے دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دین پر چلنے کے لیے ہمیں خدا کی دی ہوئی طاقت درکار ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کو خدا کے تابع کر دیتا ہے تو اسے عبادت میں لذت محسوس ہوتی ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) سے منسوب ایک حدیثِ قدسی میں ہے: ”پروردگار فرماتا ہے کہ اگر میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرا بندہ اپنے وقت کو زیادہ تر میرے لیے مخصوص رکھتا ہے اور میری ہی فکر میں لگا رہتا ہے، تو میں اس کے جذبات اور خواہشات کو اپنی جانب موڑ دیتا ہوں تاکہ وہ مجھ سے راز و نیاز اور مناجات کی لذت سے آشنا رہے“[3]۔
حوالہ جات
[1] مجلسی، بحار الانوار، ج 21، ص 26۔
[2] کلینی، الکافی، ج 1، ص 46۔
[3] مجلسی، بحار الأنوار، ج 90، ص 162۔
فہرست منابع
1۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
2۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔