ماہ رمضان کے چھٹے دن کی دعا: گناہ کی ذلت سے پناہ

ماہ رمضان کے چھٹے دن کی دعا: گناہ کی ذلت سے پناہ

2026-02-23

27 مشاہدات

کپی کردن لینک

ماہ رمضان کا سفر تزکیہ نفس کا سفر ہے۔ جیسے جیسے رمضان المبارک کے یہ ایام گزر رہے ہیں، بندہ اپنے رب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک کے چھٹے دن کی دعا ایک بہت ہی حساس اور نازک موضوع کا احاطہ کرتی ہے، اور وہ ہے "گناہ کی ذلت” اور "اطاعت کی عزت”۔ انسان کی اصل عزت مال و دولت میں نہیں بلکہ بندگی میں ہے، اور گناہ انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے سے گرا کر ذلت کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ یہ دعا ہمیں اسی ذلت سے بچنے اور خدا کے غضب سے پناہ مانگنے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔

ماہ رمضان کے چھٹے دن کی دعا

اللَّهُمَّ لاَ تَخْذُلْنِي فِيهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِيَتِكَ وَ لاَ تَضْرِبْنِي بِسِيَاطِ نَقِمَتِكَ وَ زَحْزِحْنِي فِيهِ مِنْ مُوجِبَاتِ سَخَطِكَ بِمَنِّكَ وَ أَيَادِيكَ يَا مُنْتَهَى رَغْبَةِ الرَّاغِبِينَ‏۔
ترجمہ: ”خدایا! اس دن مجھے تیرے حضور سوء ادب کی وجہ سے ذلیل و خوار نہ کر، اور اپنے عذاب کے تازیانے سے میری خبر نہ لے، اس دن مجھے ان تمام چیزوں سے دور رکھ جو تیرے غیظ و غضب کا باعث قرار پاتی ہیں، تیرے احسان کے حق اور ان نعمتوں کے وسیلے سے کہ جسے تو نے مجھے عطا فرمایا ہے، اے وہ خدا جو تمام عقیدت مندوں کی آخری منزل ہے۔“

گناہ: ذلت کا سبب، بندگی: عزت کا معیار

ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ، جو کہ رحمت کا عشرہ ہے، اپنے وسط کی طرف گامزن ہے۔ چھٹے دن کی دعا ایک نہایت حساس اور لرزہ خیز دعا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت کا آئینہ دکھاتی ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب کے سامنے اپنی کمزوری کا اعتراف کرتا ہے اور ان تین خطرناک چیزوں سے پناہ مانگتا ہے جو اس کی دنیا اور آخرت کو تباہ کر سکتی ہیں: گناہوں کی وجہ سے رسوائی، اللہ کے عذاب کے کوڑے، اور وہ اعمال جو اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔

رمضان المبارک کی اس دعا کے پہلے حصے میں گناہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی رسوائی سے پناہ مانگی گئی ہے: اللَّهُمَّ لاَ تَخْذُلْنِي فِيهِ لِتَعَرُّضِ مَعْصِيَتِكَ (اے اللہ! مجھے اس میں اپنی نافرمانی کے ارتکاب کی وجہ سے رسوا نہ کر اور تنہا نہ چھوڑ)۔ چھٹے دن کی دعا کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ عزت اور ذلت کا پیمانہ مال و دولت یا عہدہ نہیں، بلکہ ”اطاعت“ اور ”معصیت“ ہے۔

معصیت اور گناہ انسان کی انسانیت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں اور اس کے روحانی ڈھانچے کو توڑ پھوڑ دیتے ہیں۔ گناہ انسان کی پاک فطرت کو آلودہ کرتے ہیں اور اسے اپنے خالق اور مخلوق دونوں کے سامنے شرمندہ کر دیتے ہیں۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اللہ اسے ”خذلان“ (مدد نہ کرنا/تنہا چھوڑ دینا) کے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب اللہ کسی بندے کو اس کے حال پر چھوڑ دے تو کائنات کی کوئی طاقت اسے عزت نہیں دے سکتی۔ چھٹے دن کی دعا ہمیں اسی ”خذلان“ سے بچنے کا درس دیتی ہے۔

اس کے برعکس اطاعتِ الٰہی عزت کا سرچشمہ ہے۔ امیر المومنین حضرت علی (ع) اپنی مناجات میں فرماتے ہیں: ”خدایا!… میری عزت کے لیے یہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں، اور میرے فخر و مباہات کے لیے یہی بس ہے کہ تو میرا رب ہے“[1]۔

چھٹے دن کی دعا کا فلسفہ یہ ہے کہ گناہ اور تقویٰ میں بنیادی فرق یہی ہے کہ گناہ انسان کو ذلیل کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی صاحبِ ثروت اور بااثر کیوں نہ ہو، جبکہ تقویٰ انسان کو لوگوں کے دلوں میں عزیز بنا دیتا ہے۔ گناہگار شخص دل ہی دل میں خود سے نفرت کرتا ہے اور معاشرے میں بھی اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے، جبکہ پرہیزگار شخص کا رعب اور محبت لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے۔ قرآن کریم کا وعدہ ہے: ”بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بجا لائے، ان کے لیے عنقریب خدائے رحمن (لوگوں کے دلوں میں) محبت قرار دے گا“[2]۔

تنبیہ کے تازیانے

دعا کا دوسرا اہم اور پرجلال جملہ خدا کے عذاب یا تنبیہ سے خوفزدہ کرتا ہے: وَ لاَ تَضْرِبْنِي بِسِيَاطِ نَقِمَتِكَ (اور مجھے اپنے انتقام کے تازیانوں سے نہ مار)۔ چھٹے دن کی دعا میں استعمال ہونے والا لفظ ”سیاط“ (کوڑے/تازیانے) بہت گہرا مفہوم رکھتا ہے۔

یہاں "تازیانے” سے مراد وہ مشکلات، مصائب اور آفات ہیں جو تنبیہ کے طور پر نازل ہوتی ہیں۔ جب کوئی قوم یا فرد سرکشی کی حدیں پار کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جھنجھوڑنے کے لیے تنبیہی عذاب بھیجتا ہے۔ دنیا میں آنے والے زلزلے، سیلاب، وبائی امراض اور قدرتی آفات درحقیقت خدا کے وہ "تازیانے” ہیں جو انسان کو غفلت کی گہری نیند سے بیدار کرنے کے لیے آتے ہیں، تاکہ انسان سمجھ جائے کہ وہ اس کائنات کا مطلق مالک نہیں ہے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو۔

چھٹے دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ تازیانے کبھی کبھی ”باطنی“ بھی ہوتے ہیں۔ دل کا سخت ہو جانا، عبادت میں لذت کا ختم ہو جانا، رزق میں بے برکتی، اور اولاد کا نافرمان ہو جانا—یہ سب بھی خدا کے خفیہ تازیانے ہیں جو گناہوں کی پاداش میں برسائے جاتے ہیں۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے، لیکن وہ ان غیبی کوڑوں کی زد میں ہوتا ہے۔ چھٹے دن کی دعا مانگنے والا بندہ اللہ سے امان طلب کرتا ہے کہ یا رب! مجھے ان تازیانوں کے ذریعے سیدھا نہ کر، بلکہ مجھے اپنی رحمت سے ہدایت دے دے۔ مجھے ایسی نوبت نہ آنے دے کہ تیرا عذاب مجھے بیدار کرے۔

غضبِ الٰہی سے دوری

تیسرے حصے میں ان اسباب سے دوری کی انتہائی عاجزانہ درخواست کی گئی ہے جو خدا کی ناراضگی کا باعث بنتے ہیں: وَ زَحْزِحْنِي فِيهِ مِنْ مُوجِبَاتِ سَخَطِكَ (اور مجھے اس میں اپنے غضب کے اسباب سے دور رکھ)۔ چھٹے دن کی دعا میں لفظ ”زَحْزِحْنِي“ (مجھے دور ہٹا دے/کھسکا دے) استعمال ہوا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ گناہوں کی کشش بہت زیادہ ہے اور انسان کو اس سے بچنے کے لیے اللہ کی خاص مدد درکار ہے جو اسے زبردستی کھینچ کر ان گناہوں سے دور کر دے۔

بعض گناہ اتنے سنگین ہوتے ہیں کہ وہ خدا کے قہر اور غضب کو فوراً بھڑکا دیتے ہیں۔ چھٹے دن کی دعا ہمیں ان گناہوں کی نشاندہی اور ان سے بچنے کی فکر دیتی ہے۔ روایات میں ملتا ہے کہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن پر خدا اپنی عزت و جلال کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ تجھے نہیں بخشا جائے گا، باوجود اس کے کہ وہ ارحم الراحمین ہے[3]۔ مثلاً:

  • ظلم: کمزوروں، یتیموں اور ماتحتوں پر ظلم کرنا۔

  • قطع رحمی: رشتہ داروں سے تعلق توڑنا۔

  • عاق والدین: والدین کو ناراض کرنا۔

  • سود خوری: اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا۔

یہ وہ ”موجباتِ سخط“ (غضب کے اسباب) ہیں جن سے چھٹے دن کی دعا میں پناہ مانگی گئی ہے۔ جب اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے تو پھر کوئی سفارش کام نہیں آتی۔ لہٰذا، انسان کو چاہیے کہ وہ گناہوں کی دلدل سے نکلنے کی شعوری کوشش کرے کیونکہ گناہ اسے خدا کے انتقام کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔

چھٹے دن کی دعا کا اختتام اللہ کی ان نعمتوں اور احسانات کے واسطے سے ہوتا ہے جو اس نے بندوں پر کیے ہیں (بِمَنِّكَ وَ أَيَادِيكَ)، یعنی ہم تیرے غضب سے بچنے کے لیے تیرے ہی احسان اور فضل کا سہارا لیتے ہیں۔ چھٹے دن کی دعا انسان کو خوف اور امید (Fear and Hope) کے درمیان لا کھڑا کرتی ہے، جہاں وہ اپنے گناہوں سے ڈرتا بھی ہے اور اللہ کے فضل کا امیدوار بھی ہوتا ہے۔ جو شخص چھٹے دن کی دعا کو سمجھ کر پڑھتا ہے، وہ اپنی زندگی کا محاسبہ کرتا ہے اور ان تمام راستوں کو ترک کر دیتا ہے جو ذلت اور تباہی کی طرف جاتے ہیں۔

نتیجہ

چھٹے دن کی دعا کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ہم اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں اور خدا کے احسانات (ایادیک) کا واسطہ دے کر اس سے رحم کی بھیک مانگیں۔ خدا اپنے بندوں کو سزا دینے کا خواہشمند نہیں ہوتا، بلکہ وہ تو بہانہ ڈھونڈتا ہے کہ عذاب کو ٹال دے۔ امام موسیٰ کاظم (ع) فرماتے ہیں: ”ہر شب و روز خدا کی جانب سے ایک فرشتہ ندا دیتا ہے: اے خدا کے بندو! خدا کی نافرمانی سے باز آجاؤ، کہ اگر چرنے والے حیوانات، دودھ پینے والے بچوں اور پشت خمیدہ بوڑھوں کا خیال نہ ہوتا تو تم پر اس قدر دردناک عذاب نازل کیا جاتا کہ جس میں پِس کر تم بھوسہ بن جاتے“[4]۔

حوالہ جات

[1] صدوق، الخصال، ج 2، ص 420۔
[2] سورہ مریم، آیت 96۔
[3] مجلسی، آداب و سنن (ترجمہ بحار)، ص 227؛ کلینی، کافی، ج 1، ص 47۔
[4] کلینی، الکافی، ج 2، ص 276۔

فہرست منابع

1۔ صدوق، محمد بن علی، الخصال، قم، جامعہ مدرسین، 1362ش۔
2۔ کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1407ق۔
3۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار (و تراجم)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔