حضرت صالح (ع)، اللہ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں جنہیں قوم ثمود کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہیں شرک و بت پرستی سے روکا، لیکن قوم نے سرکشی کی اور بالآخر عذاب الٰہی کا شکار ہوئی۔ یہ مقالہ قرآن مجید، احادیث اہل بیت (ع) اور تفاسیر کی روشنی میں حضرت صالح (ع) کی زندگی، ان کی قوم کی خصوصیات، اونٹنی کے معجزے اور قوم ثمود پر نازل ہونے والے عذاب کا جائزہ پیش کرتا ہے۔
شخصیتِ حضرت صالح (ع)
حضرت صالح (ع) اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ پیغمبروں میں سے ہیں جنہیں قومِ ثمود کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا۔ آپ (ع) نے اپنی قوم کو شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکال کر توحید کی روشنی کی طرف بلایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت نوح (ع) اور حضرت ہود (ع) کے بعد آپ (ع) کا ذکر فرمایا ہے اور ان القابات سے آپ (ع) کی تعریف کی ہے جن سے اپنے دیگر انبیاء و مرسلین کی شان بیان کی جاتی ہے۔ اللہ نے آپ (ع) کو منتخب فرمایا اور دیگر انبیاء (ع) کی طرح تمام جہانوں پر فضیلت عطا کی۔[1]
جب قومِ ثمود اپنے پروردگار کو فراموش کر بیٹھی اور فساد و سرکشی میں حد سے تجاوز کر گئی، تو اللہ عزوجل نے حضرت صالح (ع) کو ان کی طرف بھیجا۔ آپ (ع) اپنی قوم میں ایک معزز، صاحبِ وقار اور عقل و فہم میں مشہور خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔[2] آپ نے اپنی قوم کو دینِ توحید اور بت پرستی ترک کرنے کی دعوت دی اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے معاشرے میں عدل و احسان کا رویہ اپنائیں، زمین میں سرکشی، اسراف اور فساد سے باز رہیں اور انہیں عذابِ الٰہی سے خبردار کیا۔[3]
حضرت صالح (ع) کا نسب پانچ واسطوں سے حضرت نوح (ع) تک پہنچتا ہے۔ آپ (ع) جابر بن ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح (ع) کے فرزند ہیں۔ مورخین نے آپ (ع) کی ولادت کا زمانہ ہبوطِ آدم (ع) کے دو ہزار نو سو تہتر (2973) سال بعد کا بتایا ہے اور بعثت کے وقت آپ(ع) کی عمر مبارک 16 سال تھی۔
قرآنِ کریم میں نو (9) مرتبہ حضرت صالح (ع) کا نامِ مبارک آیا ہے، جن میں سورہ اعراف، سورہ ہود اور دیگر سورتیں شامل ہیں۔ آپ (ع) کا ذکر اکثر حضرت نوح (ع) اور حضرت ہود (ع) کے بعد کیا گیا ہے۔ یہ امر آپ (ع) کی دعوت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، یہ ایک قابلِ ذکر حقیقت ہے کہ تورات میں ان عظیم پیغمبر کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔[4]
قومِ ثمود اور اُن کی عظیم تہذیب
ثمود، عرب کے قدیم اور اصلی قبائل میں سے ایک قوم تھی جو "وادی القریٰ” (موجودہ مدینہ اور شام کے درمیانی علاقے) میں آباد تھی۔ یہ قومِ عاد کے بعد خطے کی حکمران بنی۔ قرآنِ کریم ان کی مادی ترقی اور تعمیراتی مہارتوں کا نقشہ کھینچتا ہے۔ وہ ایک عظیم تہذیب کے بانی تھے:
فنِ تعمیر میں مہارت: اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ وہ ہموار میدانوں میں وسیع و عریض اور شاندار محلات تعمیر کرتے اور سخت موسمی حالات، طوفانوں اور سیلابوں سے بچنے کے لیے پہاڑوں کو اندر سے تراش کر انتہائی محفوظ اور مضبوط گھر بناتے تھے "تَتَّخِذُونَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتًا"[5]۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موسمی تبدیلیوں کے مطابق اپنی رہائش گاہیں تبدیل کرتے تھے۔ گرمیوں میں میدانوں کے پرتعیش گھروں میں رہتے اور سردیوں میں پہاڑوں کے محفوظ ٹھکانوں میں پناہ لیتے۔[6]
زراعت اور خوشحالی: وہ زراعت کے فن میں بھی ماہر تھے۔ انہوں نے چشمے جاری کیے، کھجوروں کے وسیع باغات لگائے اور سرسبز کھیتیاں آباد کیں۔[7] اس معاشی خوشحالی نے انہیں غرور اور تکبر میں مبتلا کر دیا۔
معاشرتی انحطاط: ان کا معاشرتی نظام قبائلی تھا، جس میں طاقتور سرداروں کی حکومت تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ وہ توحید کے راستے سے بھٹک گئے اور بت پرستی اختیار کر لی۔ ان کے شہر میں سات ایسے گروہ تھے جو اصلاح کے بجائے زمین میں فساد پھیلانے کے لیے مشہور تھے۔[8] یہی گروہ حضرت صالح (ع) کی دعوت کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔
حضرت صالح (ع) کی دعوت اور قوم کا مکالمہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (ع) کو اس سرکش قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ (ع) نے ایک سو بیس سال تک صبر و استقامت کے ساتھ انہیں اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی، لیکن چند افراد کے سوا کسی نے آپ (ع) کی بات نہ مانی۔
امام محمد باقر (ع) سے ایک تفصیلی حدیث مروی ہے جس سے ان کی سرکشی کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ (ع) نے اپنی قوم سے فرمایا: "اے میری قوم! میں طویل عرصے سے تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہوں۔ آج میرے پاس دو تجاویز ہیں: یا تو تم مجھ سے کچھ مانگو اور میں اپنے رب سے دعا کر کے اسے پورا کروں، یا میں تمہارے خداؤں (بتوں) سے سوال کرتا ہوں، اگر وہ جواب دیں تو میں چلا جاؤں گا۔”
قوم نے اسے ایک منصفانہ چیلنج سمجھا۔ وہ اپنے ستر بتوں کو لے کر شہر سے باہر ایک میدان میں جمع ہوئے۔ حضرت صالح (ع) نے ان کے سب سے بڑے بت کو پکارا، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آپ (ع) نے یکے بعد دیگرے سب کو پکارا، مگر وہ بے جان پتھر خاموش رہے۔ اپنی اس واضح ناکامی پر شرمندہ ہونے کے بجائے، انہوں نے معاملے کو الٹا کر دیا اور کہا: "اے صالح! اب تم اپنے رب سے دعا کرو۔ اگر وہ ہماری خواہش پوری کر دے تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے۔”
ان کے ستر سرداروں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا: "اس پہاڑ کی چٹان سے ہمارے لیے ایک سرخ رنگ، گھنے بالوں والی، دس ماہ کی حاملہ اور چوڑے شانوں والی اونٹنی نکالو۔” یہ مطالبہ ان کے تکبر اور ہٹ دھرمی کا مظہر تھا، کیونکہ وہ ایک ایسی چیز مانگ رہے تھے جو انسانی قدرت سے باہر تھی۔[9]
ناقۂ حضرت صالح ایک زندہ معجزہ
حضرت صالح (ع) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ دعا کے فوراً بعد پہاڑ میں ایک شدید لرزش پیدا ہوئی اور ایک ہولناک آواز کے ساتھ چٹان پھٹ گئی۔ اس کے اندر سے بالکل ویسی ہی اونٹنی برآمد ہوئی جس کا انہوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اس نے پیدا ہوتے ہی اپنے بچے کو بھی جنم دیا۔ یہ ایک ایسا کھلا اور ناقابلِ تردید معجزہ تھا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ کچھ لوگوں کے دلوں پر اس کا اثر ہوا، لیکن اکثریت نے اسے "جادو” اور "دھوکہ” قرار دے کر رد کر دیا۔ ان میں سے چونسٹھ افراد تو شہر واپس پہنچنے سے پہلے ہی مرتد ہو گئے۔
یہ اونٹنی محض ایک جانور نہیں تھی، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک حجت اور آزمائش تھی۔ اس کی خصوصیات بھی معجزاتی تھیں:
پانی کی تقسیم: اللہ کے حکم سے پانی کی تقسیم کا ایک نظام قائم ہوا۔ ایک دن پوری وادی کا پانی صرف اونٹنی پیتی اور اگلے دن تمام قوم ثمود اور ان کے جانور پیتے تھے۔
دودھ کی فراوانی: جس دن وہ پانی پیتی، بدلے میں اتنا دودھ دیتی کہ قوم کا ہر چھوٹا بڑا شخص سیراب ہو جاتا۔ یہ ان کے لیے ایک عظیم نعمت تھی۔
روشن نشانی: قرآن نے اسے "النَّاقَةَ مُبْصِرَةً"[10] یعنی "آنکھیں کھول دینے والی نشانی” قرار دیا ہے۔ اس کا وجود ہی حضرت صالح (ع) کی سچائی کی واضح دلیل تھا۔
حضرت صالح (ع) نے اپنی قوم کو سختی سے خبردار کیا: "هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَکُمْ آیَةً فَذَرُوهَا تَأْکُلْ فِی أَرْضِ اللَّهِ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ"[11] "یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے، پس اسے اللہ کی زمین میں چرنے کے لیے چھوڑ دو اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا، ورنہ تمہیں دردناک عذاب آ پکڑے گا۔”
ناقہ کا قتل اور عذاب کا اعلان
کچھ عرصہ تو قوم ثمود اس نظام پر کاربند رہی، لیکن ان کے سرکش سرداروں کے دلوں میں حسد اور بغض کی آگ بھڑکتی رہی۔ وہ اس خدائی نشانی کو اپنی راہ میں رکاوٹ سمجھتے تھے۔ بالآخر انہوں نے اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور اعلان کیا کہ جو یہ کام کرے گا اسے بھاری انعام دیا جائے گا۔
قوم کا سب سے بدبخت اور شقی القلب شخص، قدار بن سالف، جو ایک نیلی آنکھوں والا، سرخ و سفید رنگ کا زنا زادہ شخص تھا، اس کام کے لیے آگے آیا۔ جب اونٹنی پانی پی کر واپس آ رہی تھی، تو اس نے گھات لگا کر اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔ اونٹنی تکلیف سے زمین پر گر گئی اور اس نے دم توڑ دیا۔ اس کا بچہ چیختا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر بھاگ گیا اور تین بار آسمان کی طرف فریاد بلند کی۔ اس گھناؤنے جرم میں صرف قاتل ہی نہیں، بلکہ پوری قوم برابر کی شریک تھی، کیونکہ انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر کی اور بعد میں اس کا گوشت آپس میں تقسیم کر کے کھایا۔
اس کھلی نافرمانی کے بعد حضرت صالح (ع) نے ان پر عذاب کا حتمی اعلان کر دیا: "اب تم اپنے گھروں میں تین دن تک مزید لطف اٹھا لو۔ یہ ایک ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہو سکتا۔” آپ (ع) نے انہیں عذاب کی آنے والی نشانیاں بھی بتا دیں:
پہلا دن: صبح ان کے چہرے خوف سے زرد پڑ جائیں گے۔
دوسرا دن: ان کے چہرے غصے اور وحشت سے سرخ ہو جائیں گے۔
تیسرا دن: ان کے چہرے مایوسی اور ہلاکت کی علامت کے طور پر سیاہ ہو جائیں گے۔
جب یہ نشانیاں یکے بعد دیگرے پوری ہونے لگیں، تب بھی ان سرکشوں نے توبہ اور معافی کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ اپنے تکبر پر قائم رہے اور کہا: "اگر ہم سب ہلاک بھی ہو جائیں، تب بھی ہم صالح کی بات اور اس کے خدا کو تسلیم نہیں کریں گے۔”
قومِ ثمود پر عذاب کی ہولناک کیفیت
تیسرے دن کی مہلت ختم ہوتے ہی آدھی رات کو اللہ کا قہر نازل ہوا۔ قرآن مجید نے اس عذاب کی شدت اور ہولناکی کو مختلف الفاظ سے بیان کیا ہے، جو اس کے مختلف پہلوؤں کو ظاہر کرتے ہیں:
1. الصَّیْحَہ (ایک ہولناک چیخ): عذاب کا آغاز حضرت جبرائیل(ع) کی ایک ایسی فلک شگاف چیخ سے ہوا جس نے ان کے کانوں کے پردے پھاڑ دیے، ان کے دل چیر دیے اور جگر پاش پاش کر دیے "وَأَخَذَتِ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ"۔[12]
2. الرَّجْفَہ (شدید زلزلہ): چیخ کے ساتھ ہی زمین شدید زلزلے سے لرز اٹھی، جس سے ان کی عالیشان عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔[13]
3. الصَّاعِقَہ (ذلت آمیز کڑک): یہ عذاب ایک ذلت آمیز کڑک اور آسمانی بجلی کی شکل میں بھی تھا جس نے انہیں ان کے تکبر کا بدلہ دیا "فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ"۔[14]
یہ عذاب اتنا مکمل اور ہمہ گیر تھا کہ چند لمحوں میں پوری قوم نیست و نابود ہو گئی۔ ان کا نام و نشان ایسے مٹا دیا گیا کہ قرآن کہتا ہے: "کَأَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیهَا"[15]، "گویا وہ اس سرزمین میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔” جس قوم کو اپنی تعمیرات اور طاقت پر ناز تھا، اللہ نے اسے صفحۂ ہستی سے مٹا کر آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ اس تباہی سے صرف حضرت صالح (ع) اور وہ چند لوگ محفوظ رہے جو ان پر ایمان لائے تھے۔
نتیجہ
قوم ثمود، قوم عاد کے بعد ایک عظیم تہذیب کی مالک تھی جسے ہموار زمینوں پر مضبوط محلات، سرسبز باغات اور خوشحال زندگی میسر تھی۔ حضرت صالح (ع) نے اس عرب قوم کو توحید کی دعوت دی، بت پرستی سے روکا اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرنے کی تلقین کی۔ لیکن اس قوم نے اپنی حجت اور الٰہی معجزے کے مقابلے میں سرکشی کی اور اپنی دولت و خوشحالی کے نشے میں چور ہو کر حق کو جھٹلا دیا۔ آخرکار، اللہ نے اس قوم کو ذلت اور رسوائی کے ساتھ اپنے قہر و عذاب کا نشانہ بنایا تاکہ یہ تمام مادی اور سرکش تہذیبوں کے لیے ایک عبرت بن جائے۔ حضرت صالح (ع) کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اور نجات اللہ کی اطاعت اور اس کے بھیجے ہوئے نمائندوں کی پیروی میں ہے، نہ کہ مادی ترقی اور دنیوی طاقت کے غرور میں۔
حوالہ جات
[1] طباطبائی، المیزان، ج10، ص330۔
[2] سورہ ہود، آیت62؛ سورہ نمل، آیت49۔
[3] طباطبائی، المیزان، ج10، ص329۔
[4] طباطبائی، ج10، ص318۔
[5] سورہ اعراف، آیت74۔
[6] مکارم، تفسیر نمونہ، ج6، ص283۔
[7] سورہ شعراء، آیت148۔
[8] سورہ نمل، آیت48۔
[9] کلینی، الروضہ من الکافی، ج8، ص187، ح213۔
[10] سورہ اسراء، آیت59۔
[11] سورہ اعراف، آیت73۔
[12] سورہ ہود، آیت94۔
[13] سورہ اعراف، آیت78۔
[14] سورہ فصلت، آیت17۔
[15] سورہ ہود، آیت95۔
فہرست منابع
قرآن کریم
۱. جوادی آملی، عبدالله، تفسیر تسنیم، چاپ اول، قم، نشر اسراء، ۱۳۹۵ش.
۲. طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، چاپ دوم، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۸۹ق.
۳. کلینی، محمد بن یعقوب، الروضه من الکافی، چاپ دوم، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۸۴ش.
۴. مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، چاپ پنجاه و ششم، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۸۸ش.
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
محمود شریفی. «بررسی پیامبری حضرت صالح (علیه السلام) در قوم ثمود.» فرهنگ زیارت زمستان 1397 – شماره 37 (12 صفحه – از 51 تا 62)۔