تاریخ کے افق پر بعض شخصیات محض اپنے عہد کی پیداوار نہیں ہوتیں، بلکہ اپنے علم، عمل، عزیمت اور استقامت سے خود ایک عہد کی تعمیر کرتی ہیں۔ آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری قمی (رح) (۱۹۱۲ء-۱۹۸۰ء) کا وجودِ مسعود ایسی ہی ایک یگانہ روزگار ہستی کا مظہر تھا، جن کی حیاتِ مبارکہ میں نجف اشرف کی روحانیت، گوپالپور کی علمی میراث، لکھنؤ کی تہذیب اور اترولہ کی خدمتِ خلق ایک اکائی کی صورت میں ڈھل گئی تھیں۔
آپ کی زندگی کی داستان صبر و استقامت کا ایسا مرقع ہے جس میں مشکلات کی کانٹوں بھری راہوں پر عزم و ہمت کے قدم کبھی نہیں لرزے۔ تنگیِ حالات، محدود وسائل، بدلتے سیاسی منظرنامے اور فکری زوال کی آندھیاں — کوئی رکاوٹ آپ کی علمی و تبلیغی مساعی کو روک نہ سکی۔ یہ سوانحی خاکہ، جو بڑی حد تک آپ ہی کی خود نوشت سوانح "سرگذشت” پر مبنی ہے، اسی بحر العلوم شخصیت کے فکری ابعاد، عملی جدوجہد اور لازوال ورثے کی پرتوں کو کھولنے کی ایک کاوش ہے تاکہ جو نسلیں علم و دین کے سفر پر روانہ ہوں، ان کے قدم کبھی بھٹکنے نہ پائیں۔
ولادت، خانوادہ اور علمی میراث
شبِ پندرہ رمضان المبارک، سنہ ۱۳۳۰ ہجری (مطابق ۲۹ اگست ۱۹۱۲ء) کو نجف اشرف کی مقدس سرزمین پر ایک ایسے چراغ نے آنکھ کھولی، جس کی روشنی آنے والے عشروں تک برصغیر کے فکری و دینی اُفق کو منور کرتی رہی۔ مقام اور زمان، دونوں کا تقدس گویا اس بات کی بشارت تھا کہ اس نومولود کا رشتہ اہل بیت اطہار (ع) کی نسبت، امام حسن (ع) کی کرم گستری اور باب العلم کے شہر کی فقاہت سے ہمیشہ جڑا رہے گا۔
آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کا تعلق ہندوستان کے صوبہ بہار کے ضلع سیوان کے قصبے گوپالپور کے ایک ایسے علمی خانوادے سے تھا جس نے نسلوں تک تشیع کی فکری آبیاری کی تھی۔ آپ کے والدِ ماجد، مجتہد العصر آیت اللہ العظمیٰ سید راحت حسین رضوی (رح)، برصغیر میں علم و اجتہاد کے امین اور اپنے زمانے کے جلیل القدر فقہاء و مفسرین میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کے لیے نام کا انتخاب بھی اُس عہد کے عظیم فقیہ، آیت اللہ سید کاظم طباطبائی یزدی (رح) نے اپنی دعا اور بصیرت سے تجویز کیا—ایک ایسا نام جو آنے والے وقتوں میں دین و فقہ کی محافل میں عزت و احترام کی علامت بنا۔
ایک خانوادے کی متعدد قندیلیں
آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کا خانوادہ علم و تقویٰ کا ایک ایسا گلشن تھا جس کی ہر شاخ پر معرفت کے پھول کھلے تھے۔ آپ کے والد آیت اللہ العظمیٰ سید راحت حسین رضوی (رح) (ولادت ۱۲۹۷ھ) خود علم کا ایک سمندر تھے۔ آپ نے کجھوہ، مظفرپور اور پھر لکھنؤ کے سلطان المدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے نجف اشرف کا رخ کیا، جہاں آخوند خراسانی اور سید کاظم یزدی جیسے آسمانِ فقاہت کے ستاروں سے نو برس تک کسبِ فیض کیا۔ ہندوستان واپسی پر آپ کی تصانیف— "انوار القرآن”، "مرشد امت”، اور "الاثنا عشریہ”— علمی حلقوں میں چراغِ ہدایت بنیں۔
اللہ تعالیٰ نے آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کو ایسے بھائیوں سے بھی نوازا جو خود بھی علم، زہد اور خدمتِ خلق کے پیکر تھے۔ آپ کے برادرِ اکبر، مولانا سید محمد صاحب رضوی (رح)، سادگی، خلوص اور درویشی کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے بہار کے موضع پکھناری سادات پور سہسرام رُہتاس میں امام جمعہ و جماعت اور مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ آپ کو "علوم عرب” جیسے دقیق متون پر گہرا عبور حاصل تھا۔ آپ کی سادہ زیستی ایک نمونہ عمل تھی۔ جو کچھ ملتا، غرباء میں بانٹ دیتے اور خود فاقہ کر لیتے۔ طب یونانی اور فنِ حرب جیسے قدیم فنون میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ آپ کی خطابت سادہ مگر پُر اثر ہوتی۔ جب آپ میر انیسؔ کے مرثیے اپنے مخصوص گوپالپوری لہجے میں ترنم سے پڑھتے تو محفل پر وجد طاری ہو جاتا۔ آپ کی زندگی دین کی خدمت میں ہی گزری اور ۱۹۷۸ء میں دورانِ سفر دل کا دورہ پڑنے سے آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کا وجود اس بات کا ثبوت تھا کہ رضوی خانوادے میں علم و عمل کی روایت کس قدر گہری اور مستحکم تھی۔
ہجرت اور آزمائش
آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری نے آنکھ ایک پُرسکون نجف میں نہیں، بلکہ جنگِ عظیم اول کی تباہ کاریوں، سیاسی انتشار اور بقا کی لڑائی کا میدان بنے نجف میں کھولی۔ سنہ ۱۳۳۴ ہجری (دسمبر ۱۹۱۵ء) میں جب جنگ کے شعلوں نے عراق کو لپیٹ میں لے لیا تو ترک حکام نے ہندوستانیوں (جو برطانوی رعایا تھے) کو دشمن سمجھنا شروع کر دیا۔ نجف دوہری جنگ کا شکار تھا۔ ایک طرف ترک افواج اور برطانوی سلطنت کی عالمی جنگ، اور دوسری طرف مقامی عرب قبائل اور ترک حکام کے درمیان شدید کشیدگی۔ جب ترکوں نے اہلِ نجف کو جبراً اپنی فوج میں بھرتی کرنا چاہا تو اہلِ نجف نے بغاوت کر دی، جسے کچلنے کے لیے ترک کلکٹر نے ظلم کی انتہا کر دی۔
آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کے والد آیت اللہ راحت حسین رضوی (رح) نے اپنی خود نوشت میں ان حالات کی دل دہلا دینے والی تصویر کشی کی ہے۔ یہ ہجرت کوئی آسان مرحلہ نہ تھا۔ یہ ایک ایسا سفر تھا جس نے کم سِن سید علی رضوی (رح) کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے بھوک کی شدت، گولیوں کی بوچھاڑ، خوف و ہراس کی راتیں اور اپنے والد کی ثابت قدمی کا مشاہدہ کیا۔ ایک رات جب کم سِن سید علی رضوی (رح) گوپالپوری بھوک سے بے تاب تھے تو گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ آپ کی والدہ نے کونے میں پڑے کچھ چاول ابال کر کھلائے، تب جاکر بچے کو قرار آیا۔ گھر کی چھت سے ہندوستانیوں کے جلتے ہوئے گھروں کو دیکھنا اور راتوں کو توپوں کی گھن گرج میں تہہ خانے میں پناہ لینا اُن کے بچپن کا حصہ تھا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صبر، استقامت، نامساعد حالات میں توکل علی اللہ اور علم دوستی کا جوہر انہیں اپنے والد سے اسی دور میں ورثے میں ملا، جس نے مستقبل میں ان کی اپنی شخصیت کو جلا بخشی اور انہیں دین و ملت کی خدمت کے لیے ایک مضبوط چٹان بنا دیا۔
علمی سفر — تشنگیٔ علم
وطن واپسی کے بعد آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی ابتدائی تعلیم کا آغاز اپنے والد ماجد کے زیر سایہ گوپالپور میں ہوا۔ بعد ازاں آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ کا رُخ کیا—وہ شہر جو اس زمانے میں تشیع کا علمی و فکری مرکز تھا۔ یہاں آپ نے دو عظیم دینی اداروں "سلطان المدارس” اور "جامعہ ناظمیہ” میں داخلہ لیا۔ سلطان المدارس سے آپ نے "صدر الافاضل” کی سند حاصل کی اور جامعہ ناظمیہ سے "ضمیمہ ممتاز الافاضل” کی ڈگری کے ساتھ اپنی رسمی تعلیم مکمل کی۔
لیکن آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی علمی جستجو محض رسمی نصاب تک محدود نہ تھی۔ آپ کی علمی شخصیت کی تعمیر میں اس دور کے جید اساتذہ کی صحبت نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ نے ان سے انفرادی طور پر بھی استفادہ کیا:
فلسفہ و منطق: مولانا مظاہر حسین سے ’’شرح مطالع‘‘ جیسے دقیق فلسفیانہ متون پڑھے، جس نے آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی عقلی استدلال کی قوت کو جلا بخشی۔
بلاغت و حدیث: مفتی سید محمد علی سے ’’نہج البلاغہ‘‘ کا درس لیا۔ امام علی (ع) کے خطبات کے عمیق معانی نے آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی خطابت اور فکری گہرائی کو وہ بنیاد فراہم کی جو عمر بھر آپ کی پہچان رہی۔
اصولِ فقہ: آیت اللہ سبط حسین جونپوری اور مفتی احمد علی سے ’’قوانین الاصول‘‘ جیسے پیچیدہ فقہی موضوعات سیکھے، جس نے آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کے اندر اجتہاد کی صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔
علمِ ہیئت و فلسفہ: مولانا کاظم حسین لکھنوی کے ہمراہ پٹنہ کا سفر کیا تاکہ ’’تشریح الافلاک‘‘ اور ’’حمد اللہ‘‘ جیسے دقیق مضامین کو مکمل کرسکیں۔ اس سے آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی شخصیت کی ہمہ جہتی کا اندازہ ہوتا ہے۔
آپ نے بیماری کی حالت میں بھی علومِ اہلِ بیت (ع) سے اپنی روح کو سیراب کرنا ترک نہیں کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ اپنے آبائی وطن گوپالپور تشریف لائے اور اپنے والد کی مشہور تفسیر "انوار القرآن” کی تدوین و اشاعت کا فریضہ انجام دیا۔
زہر کی آگ میں کندن — آزمائش کا عہد
سال ۱۹۳۷ء آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی زندگی میں ایک کڑے امتحان کا سال تھا۔ لکھنؤ میں دورانِ تعلیم آپ کا علمی ستارہ عروج پر تھا، لیکن یہی روشنی کچھ حاسد اور ناصبی ہم جماعتوں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ انہوں نے علم کے اس ابھرتے ہوئے چراغ کو بجھانے کی گھناؤنی سازش کی اور آپ کو کھانے میں ’’پارے کا زہر‘‘ دے دیا۔
یہ ایک مہلک وار تھا جس نے آپ کو گیارہ سال کے لیے بسترِ علالت پر پہنچا دیا۔ شدید کمزوری اور جسمانی اذیت نے آپ کی امیدِ زیست تقریباً ختم کر دی تھی، مگر جو لوگ یہ سمجھے تھے کہ سید علی (رح) کے عزم کو زہر کی خوراک ختم کر دے گی، وہ نہیں جانتے تھے کہ اصل طاقت جسم میں نہیں، ارادے میں ہوتی ہے۔ یہ آزمائش بظاہر جسم کو گھلا گئی، مگر آپ کے باطن کو کندن بنا گئی۔ یہی وہ دور تھا جب آپ نے جسمانی کمزوری کو روحانی طاقت اور علمی ریاضت سے شکست دی۔ آپ نے اپنے والدِ ماجد کی شہرۂ آفاق تفسیر ’’انوار القرآن‘‘ کی تدوین اور اشاعت میں شب و روز خود کو مصروف رکھا۔ بسترِ علالت ہی آپ کی درسگاہ اور خانقاہ بن گیا۔ آپ نے تکلیف کو حوصلے کی روشنی میں ڈھال کر ثابت کر دیا کہ جب ارادہ مضبوط ہو، تو زہر بھی علم کی روشنی کے سامنے دم توڑ دیتا ہے اور آزمائشیں ان ہی کے حصے میں آتی ہیں جو ان کا سامنا کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔
قلم اور منبر کا ورثہ
آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کا علمی جوہر کئی صورتوں میں ظاہر ہوا: تصنیف و تالیف، خطابت اور ادارہ سازی۔
تصنیف و تالیف: آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری ایک صاحبِ قلم محقق تھے۔ آپ نے قم المقدسہ میں آیت اللہ العظمیٰ بروجردی (رح) اور آیت اللہ مرعشی نجفی (رح) جیسے مراجع سے اجازۂ اجتہاد حاصل کیا۔ آپ نے تفسیر، فقہ، کلام، اور مناظرے جیسے شعبوں میں گراں قدر تصانیف چھوڑیں۔ آپ کی مشہور تفسیر "رموز التنزیل” تین جلدوں پر مشتمل ہے، جو قرآن کریم کے باطنی اور ظاہری معانی پر ایک گہری نظر کی عکاس ہے۔ "الفرقۃ الناجیۃ” اور "ایمانِ ابوطالبؑ” جیسی کتب شیعہ عقائد کے دفاع میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ کی خود نوشت "سرگذشت” آپ کے باطن کا آئینہ اور عہد کی دستاویز ہے۔
خطابت: آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کی شخصیت کا سب سے توانا پہلو آپ کی بے مثال خطابت تھی۔ آپ کا منبر "قال اللہ و قال الصادق” کی تسبیح کے ساتھ آپ کے قلبِ سلیم کا آئینہ تھا، جہاں سے علم، حکمت، خلوص اور درد مندی کے سوتے پھوٹتے تھے۔ آپ کی زبان مشکل ترین علمی نکات کو عام فہم انداز میں دلوں میں اتار دیتی تھی اور آپ کی مقبولیت کا دائرہ مسالک کی حدود سے ماورا ہو کر انسانیت تک وسیع تھا، جو آپ کے اخلاص کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
شاعری: آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری ایک صاحبِ دیوان شاعر بھی تھے اور "عالیؔ” تخلص کرتے تھے۔ آپ کی شاعری اہل بیت (ع) کی محبت سے لبریز ہے، جو "نور الہام” جیسے مجموعوں میں محفوظ ہے۔ یہ شاعری آپ کے دردمند دل اور لطیف روحانی احساسات کا خوبصورت اظہار ہے۔
اترولہ — ایک نئے مینار کی تعمیر
۱۹۴۵ء میں آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری تبلیغ کی غرض سے اترولہ (ضلع گونڈہ، یوپی) تشریف لے گئے۔ وہاں کے مخلص مومنین، خصوصاً رانی صاحبہ اترولہ، آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری کے خلوص بھرے بیانات اور علمی گہرائی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے آپ سے وہیں مستقل قیام کی پُر زور درخواست کی۔ آپ نے اہلِ اترولہ کے اصرار پر اس سرزمین کو اپنا "وطنِ ثانی” بنا لیا اور اپنی زندگی کے ۳۵ سال وہاں صرف کرکے یہ ثابت کیا کہ ایک سچا عالم محض واعظ نہیں، بلکہ قوم کا معمار ہوتا ہے۔ آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری نے اس علاقے میں جہالت کے اندھیروں کو دور کرنے اور ایک نئی نسل کی فکری تربیت کے لیے "مدرسہ مصطفیٰ دارالعلوم” کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں تھا، بلکہ اس خطے میں امید، علم اور تہذیب کا ایک روشن مرکز تھا، جو آج بھی آپ کے لگائے ہوئے پودے کی صورت میں پھل پھول رہا ہے اور علم کی روشنی پھیلا رہا ہے۔
حاصلِ کلام
بالآخر، علم و عمل کا یہ آفتاب ۲۶ اپریل ۱۹۸۰ء کو اترولہ میں غروب ہو گیا اور آپ نے اسی خاک کو اپنی ابدی آرام گاہ بنا کر اپنے قول و فعل کی وحدت پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔ آیت اللہ سید علی رضوی گوپالپوری (رح) کی زندگی اور خدمات آج بھی اہل علم و عمل کے لیے ایک ایسی قندیل ہے جس کی روشنی وقت کے گرد و غبار میں کبھی ماند نہیں پڑ سکتی۔ آپ کا ورثہ آپ کی کتابوں، آپ کے قائم کردہ ادارے، اور ان ہزاروں شاگردوں اور عقیدت مندوں کے دلوں میں زندہ ہے جنہیں آپ نے علم و عمل کی راہ دکھائی۔
منبع
سید علی رضوی گوپالپوری، عالی،سرگزشت رضا سفر نامۂ عراق، ادارۂ انوار القرآن باقر گنج ساون بہار، ۱۳۶۳ھ۔