شیطان کے ہتھکنڈے انسان کے اخلاقی اور روحانی سفر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں جس کا مقصد انسان کو راہِ حق سے بھٹکانا ہے۔ قرآن نے اسے «عَدُوٌّ مُبِينٌ» کہا ہے، شیطان انسان کا وہ ازلی دشمن ہے جس نے انسان کو راہِ حق سے بھٹکانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ اس کا ہدف محض گمراہ کرنا نہیں، بلکہ انسان کے اخلاقی وجود کو تباہ کرنا ہے۔ اسلامی تعلیمات، بالخصوص احادیثِ معصومین (ع)، اس پوشیدہ دشمن کی حکمت عملیوں، اس کے حملوں کے طریقوں اور اس کے تسلط کی کمزوریوں کا ایک جامع نقشہ پیش کرتی ہیں۔ شیطان کے خلاف یہ علمی و روحانی آگاہی ہی اس کے خلاف دفاع کا پہلا اور مؤثر ترین قدم ہے۔ یہ احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ شیطان کس طرح ہماری روزمرہ کی عادات، نفسیاتی کمزوریوں اور روحانی غفلتوں سے فائدہ اٹھا کر ہمارے اخلاقی نظام پر حملہ آور ہوتا ہے۔
روحانی قلعہ اور عبادات کا کردار
شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے حملوں کا پہلا ہدف انسان کا تعلق اپنے رب سے کمزور کرنا ہے۔ عبادات اور اذکار وہ قلعہ ہیں جو اس تعلق کو محفوظ رکھتے ہیں۔
اللہ کا نام برکت کی ڈھال
شیطان کے ہتھکنڈے کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کے ہر بابرکت کام، حتیٰ کہ رزق میں بھی شریک ہو جائے۔ اس شراکت کو روکنے کا آسان ترین طریقہ اللہ کا ذکر ہے۔
حدیث (۱) پیغمبر اکرم (ص): اِذَا وُضِعَتِ المائِدَةُ حَفَّتْهَا اَرْبَعَةُ آلفِ مَلَکٍ، فَاِذَا قَالَ العَبدُ: بِسْمِ اللّهِ قَالَتِ المَلائِکَةُ: بَارَکَ اللّهُ عَلَیْکُمْ فِی طَعَامِکُمْ ثُمَّ یَقُولُونَ لِلشَّیْطَانِ اُخْرُجْ یَا فَاسِقُ، لا سُلْطَانَ لکَ عَلَیْهِمْ
"جب دسترخوان بچھایا جاتا ہے تو چار ہزار فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں۔ جب بندہ ‘بسم اللہ’ کہتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: ‘اللہ تمہارے کھانے میں برکت عطا فرمائے!’ پھر وہ شیطان سے کہتے ہیں: ‘اے فاسق! نکل جا، تجھے ان پر کوئی تسلط حاصل نہیں’۔” [۱]
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ‘بسم اللہ’ کہنا محض ایک رسم نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی اعلان ہے جو شیطان کے ہتھکنڈے کو دسترخوان سے بے دخل کر دیتا ہے اور کھانے کو فرشتوں کی دعا اور الٰہی برکت کا مورد بناتا ہے۔
شیطان کی شراکت داری سے گریز
اللہ کا نام نہ لینا شیطان کو انسان کے ہر عمل میں شریک ہونے کی کھلی دعوت ہے۔
حدیث (۲) امام صادق (ع): إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ وَ لَمْ یُسَمَّ کَانَ لِلشَّیْطَانِ فِی وُضُوئِهِ شِرْکٌ وَ إِنْ أَکَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ لَبِسَ وَ کُلُّ شَیْءٍ صَنَعَهُ یَنْبَغِی أَنْ یُسَمِّیَ عَلَیْهِ فَإِنْ لَمْ یَفْعَلْ کَانَ لِلشَّیْطَانِ فِیهِ شِرْکٌ
"جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور ‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’ نہیں کہتا تو شیطان اس کے وضو میں شریک ہوتا ہے۔ اور اگر وہ کھائے، پیے یا پہنے اور ہر وہ کام جس پر اللہ کا نام لینا چاہیے، وہ کرے اور اللہ کا نام نہ لے تو شیطان اس میں شریک ہو جاتا ہے۔” [۲]
وضو جیسی خالص عبادت میں شیطان کی شراکت کا مطلب یہ ہے کہ وہ عمل اپنی روحانی تاثیر کھو دیتا ہے۔ یہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ غفلت شیطان کے ہتھکنڈے کے داخلے کا دروازہ ہے۔
نماز شب شیطان کی سب سے بڑی ناگواری
رات کا وہ پہر جب شیطان انسان کو غفلت کی نیند سلاتا ہے، اسی وقت بیدار ہو کر عبادت کرنا شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے منصوبوں پر کاری ضرب ہے۔
حدیث (۳) پیغمبر اکرم (ص): صَلاةُ اللَّیْلِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ وَ حُبُّ المَلائِکَةِ وَ سُنَّةُ الْاَنْبِیَاءِ وَ نُورُ المَعْرِفَةِ وَ اَصْلُ الْایمَانِ وَ رَاحَةُ الْاَبْدَانِ وَ کَرَاهِیَةٌ لِلشَّیْطَانِ وَ سِلاحٌ عَلَى الْاَعْدَاءِ وَ اِجَابَةٌ لِلدُّعَاءِ وَ قَبُولُ الْاَعْمَالِ وَ بَرَکَةٌ فِی الرِّزْقِ
"نماز شب پروردگار کی خوشنودی، فرشتوں کی محبت، انبیاء کی سنت، معرفت کا نور، ایمان کی جڑ، بدنوں کی راحت، شیطان کی ناپسندیدگی، دشمنوں کے خلاف ہتھیار، دعا کی قبولیت، اعمال کی قبولیت اور رزق میں برکت کا موجب ہے۔” [۳]
ان تمام فضائل میں "کَرَاهِیَةٌ لِلشَّیْطَانِ” (شیطان کی ناپسندیدگی) کا ذکر خاص اہمیت کا حامل ہے۔ شیطان کو سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب بندہ اپنی راحت قربان کر کے اللہ سے مناجات کرتا ہے، کیونکہ یہ عمل انسان کے اخلاص اور مضبوط ارادے کی دلیل ہے۔
نماز شیطان کے حملوں سے بچاؤ کا قلعہ
حدیث (۴) امام علی علیه السلام: الصَّلاةُ حِصْنٌ مِنْ سَطَوَاتِ الشَّیْطَانِ "نماز شیطان کے حملوں سے بچاؤ کا ایک مضبوط قلعہ ہے۔”[۴]
نماز وہ روحانی قلعہ ہے جس میں پناہ لے کر انسان شیطان کے ہتھکنڈے اور ہر وسوسے اور حملے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ جو اس قلعے کو مضبوط رکھتا ہے، دشمن اس پر غالب نہیں آ سکتا۔
اخلاقی میدانِ جنگ اور شیطان کے نفسیاتی ہتھیار
شیطان کے ہتھکنڈے کا اصل ہدف انسان کے اخلاق کو بگاڑنا ہے تاکہ وہ معاشرے میں فساد برپا کر سکے۔ اس کے لیے وہ مخصوص نفسیاتی ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
حسد اور بغض
حدیث (۵) امام صادق (ع): یَقُولُ إِبْلِیسُ لِجُنُودِهِ: أَلْقُوا بَیْنَهُمُ الحَسَدَ وَالبَغْیَ، فَإِنَّهُمَا یَعْدِلانِ عِنْدَ اللّهِ الشِّرْکَ
"شیطان اپنے لشکروں سے کہتا ہے: ‘لوگوں کے درمیان حسد اور بغاوت (ظلم و تجاوز) ڈال دو، کیونکہ یہ دو چیزیں اللہ کے نزدیک شرک کے برابر ہیں’۔” [۵]
یہ شیطان کے ہتھکنڈے کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ حسد انسان کو اللہ کی تقسیم سے ناخوش کرتا ہے اور بغض اسے اللہ کے بندوں پر ظلم پر اکساتا ہے۔ یہ دونوں اعمال توحید کی روح کے منافی ہیں، اسی لیے شیطان انہیں شرک کے ہم پلہ قرار دیتا ہے۔ یہ وہی حسد تھا جس نے خود شیطان کو راندۂ درگاہ کیا تھا۔
غصہ شیطان کی آتشی فطرت کا مظہر
غصہ وہ لمحہ ہے جب انسان کی عقل مغلوب اور شیطان کے ہتھکنڈے غالب آ جاتے ہیں۔
حدیث (۶) پیغمبر اکرم (ص): اِنَّ الغَضَبَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَ اِنَّ الشَّیْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَ اِنَّمَا تُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَاِذَا غَضِبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّ
"بلاشبہہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے۔ اس لیے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے وضو کرنا چاہیے۔” [۶]
یہ حدیث غصے کی فطرت اور اس کے علاج کو واضح کرتی ہے۔ غصہ چونکہ شیطان کی آتشی فطرت سے ہے، اس لیے اس کا روحانی علاج پانی (وضو) سے تجویز کیا گیا، جو اس شیطان کے ہتھکنڈے کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔
زبان نور یا نطقِ شیطان
انسان کی زبان اس کے باطن کی عکاس ہوتی ہے۔
حدیث (۷) امام على (ع): عَلَى لِسَانِ المُؤْمِنِ نُورٌ یَسْطَعُ وَعَلَى لِسَانِ المُنَافِقِ شَیْطَانٌ یَنْطِقُ
"مومن کی زبان پر نور (الٰہی) ہوتا ہے جو چمکتا ہے اور منافق کی زبان پر شیطان ہوتا ہے جو بولتا ہے۔” [۷]
جب انسان کی زبان جھوٹ، غیبت، فتنے اور فساد کا آلہ بن جائے تو گویا وہ شخص خود نہیں بول رہا ہوتا، بلکہ شیطان کے ہتھکنڈے اس کی زبان استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ شیطان کے ہتھکنڈے کے اخلاقی تسلط کی انتہا ہے۔
شیطان کے تزویراتی اہداف
شیطان کے ہتھکنڈے ہر انسان پر اس کی عمر، علم اور حالت کے مطابق حملہ کرتے ہیں۔
نوجوانی میں شادی شیطان کی شکست
نوجوانی جذبات کے طوفان کا دور ہے، جو شیطان کے لیے بہترین موقع ہوتا ہے۔ نکاح اس طوفان کے آگے بند باندھ دیتا ہے۔
حدیث (۸) پیغمبر اکرم (ص): مَا مِنْ شَابٍّ تَزَوَّجَ فِی حَدَاثَةِ سِنِّهِ اِلاَّ عَجَّ شَیْطَانُهُ: یَا وَیْلَهُ، یَا وَیْلَهُ! عَصَمَ مِنِّی ثُلُثَیْ دِینِهِ، فَلْیَتَّقِ اللّهَ العَبْدُ فِی الثُّلُثِ البَاقِی
"جو کوئی جوان بھی کم عمری (نوجوانی) میں شادی کرتا ہے تو اس کا شیطان چیخ اٹھتا ہے: ‘ہائے افسوس، ہائے افسوس! اس نے اپنا دو تہائی دین مجھ سے محفوظ کر لیا’۔ بندے کو چاہیے کہ باقی ایک تہائی دین کے لیے اللہ کا تقویٰ اختیار کرے۔” [۸]
یہ حدیث شادی کو "دو تہائی دین کا محافظ” قرار دیتی ہے، کیونکہ یہ شیطان کے ہتھکنڈے میں سب سے بڑے ہتھیار (جنسی بے راہ روی) کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔ یہ شیطان کے لیے ایک تزویراتی شکست ہے۔
بے ادب عالم شیطان کی بڑی امید
علم کے ساتھ اگر ادب اور عاجزی نہ ہو تو وہ تکبر کا باعث بنتا ہے، جو شیطان کا اصل وصف ہے۔
حدیث (۹) امام صادق (ع): اِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَطْمَعُ فِی عَالِمٍ بِغَیْرِ اَدَبٍ اَکْثَرُ مِنْ طَمَعِهِ فِی عَالِمٍ بِاَدَبٍ، فَتَاَدَّبُوا وَ اِلاَّ فَاَنْتُمْ اَعْرَابٌ
"بلاشبہہ شیطان بے ادب عالم سے زیادہ طمع رکھتا ہے بہ نسبت با ادب عالم کے۔ ادب سیکھو، ورنہ تم (تہذیب سے عاری) بیابانی ہو۔” [۹]
شیطان کو جاہل سے اتنی امید نہیں ہوتی جتنی متکبر عالم سے ہوتی ہے، کیونکہ اس کا تکبر اسے حق قبول کرنے سے روک دیتا ہے اور وہ اپنے علم کو گمراہی پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
شیطانی ولایت اور اس کی علامات
کچھ اعمال اور اخلاقی حالات ایسے ہیں جو انسان کو اللہ کی ولایت سے نکال کر شیطان کی ولایت میں داخل کر دیتے ہیں۔
حق و باطل کی اصل کشمکش
حدیث (۱۰) پیغمبر اکرم (ص): یَا اَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا هُوَ اللّهُ وَ الشَّیْطَانُ وَ الحَقُّ وَ البَاطِلُ وَالْهُدَى وَ الضَّلالَةُ وَ الرُّشْدُ وَ الغَیُّ وَ العَاجِلَةُ وَ الْآجِلَةُ وَ العَاقِبَةُ وَ الحَسَنَاتُ وَ السَّیِّئَاتُ فَمَا کَانَ مِنْ حَسَنَاتٍ فَلِلّهِ وَ مَا کَانَ مِنْ سَیِّئَاتٍ فَلِلشَّیْطَانِ لَعَنَهُ اللّهُ
"اے لوگو! بلاشبہہ صرف اللہ ہے اور شیطان ہے، حق ہے اور باطل ہے، ہدایت ہے اور گمراہی ہے، رشد ہے اور بھٹکنا ہے، دنیا ہے اور آخرت ہے، انجام ہے، نیکیاں ہیں اور برائیاں ہیں۔ جو کچھ نیکیوں میں سے ہے وہ اللہ کے لیے ہے اور جو کچھ برائیوں میں سے ہے وہ ملعون شیطان کی طرف سے ہے۔” [۱۰]
یہ حدیث کائنات کی بنیادی تقسیم واضح کرتی ہے۔ ہر نیکی کا سرچشمہ اللہ اور ہر برائی کی تحریک شیطان ہے۔ انسان اپنے انتخاب سے یا اللہ کا نمائندہ بنتا ہے یا شیطان کا۔
لمبی امیدیں: شیطان کا دھوکہ
حدیث (۱۱) پیغمبر اکرم (ص): إِذَا اسْتُحِقَّتْ وَلایَةُ اللّهِ وَالسَّعَادَةُ جَاءَ الْاَجَلُ بَیْنَ العَیْنَیْنِ وَ ذَهَبَ الْاَمَلُ وَرَاءَ الظَّهْرِ وَ إِذَا اسْتُحِقَّتْ وَلایَةُ الشَّیْطَانِ وَالشَّقَاوَةُ جَاءَ الْاَمَلُ بَیْنَ العَیْنَیْنِ وَ ذَهَبَ الْاَجَلُ وَرَاءَ الظَّهْرِ
"جب کوئی اللہ کی دوستی اور سعادت کا مستحق ہوتا ہے تو موت اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے اور آرزوئیں اس کے پس پشت چلی جاتی ہیں۔ اور جب وہ شیطان کی دوستی اور بدبختی کا مستحق ہوتا ہے تو آرزوئیں اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہیں اور موت اس کے پس پشت چلی جاتی ہے۔” [۱۱]
شیطان کے ہتھکنڈے کی ولایت کی سب سے بڑی علامت موت کو بھلا کر لامتناہی دنیوی آرزوؤں میں گم ہو جانا ہے۔ یہ غفلت ہی شیطان کا سب سے مؤثر جال ہے۔
سود خوری شیطانی دیوانگی
حدیث (۱۲) امام صادق (ع): آکِلُ الرِّبَا لا یَخْرُجُ مِنَ الدُّنْیَا حَتَّى یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطَانُ ”
سود خور دنیا سے نہیں جاتا یہاں تک کہ شیطان اسے دیوانہ (اور مخبوط الحواس) بنا دیتا ہے۔” [۱۲]
سود خوری انسان کو حرص اور لالچ میں اس قدر اندھا کر دیتی ہے کہ وہ اخلاقی طور پر دیوانہ ہو جاتا ہے۔ یہ حالت قرآن کے مطابق شیطان کے چھو لینے (تَخَبُّط) کا نتیجہ ہے۔
دوسروں کے عیب تلاشنا
حدیث (۱۳) امام صادق(ع): اِذَا رَأَیْتُمُ العَبْدَ مُتَفَقِّدًا لِذُنُوبِ النَّاسِ نَاسِیًا لِذُنُوبِهِ فَاعْلَمُوا أَنَّهُ مُکِرَ بِهِ
"جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ وہ لوگوں کے گناہوں کی ٹوہ میں لگا ہوا ہے اور اپنے گناہوں کو بھلائے ہوئے ہے، تو جان لو کہ وہ (شیطان کی طرف سے) فریب دیا گیا ہے۔” [۱۳]
یہ شیطان کے ہتھکنڈے کا سب سے بڑا فریب (مَکَر) ہے کہ انسان خود احتسابی چھوڑ کر دوسروں کی عیب جوئی میں مبتلا ہو جائے اور خود کو پارسا سمجھتا رہے۔
بے شرمی: شیطان کی شراکت داری
حدیث (۱۴) پیغمبر اکرم (ص): اِذَا رَاَیْتُمُ الرَّجُلَ لا یُبَالِی مَا قَالَ وَ لا مَا قِیلَ لَهُ فَهُوَ شِرْکُ الشَّیْطَانِ
"جب تم کسی آدمی کو دیکھو کہ اسے اس بات کی پرواہ نہیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور نہ اس کی پرواہ ہے کہ اس کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے، تو وہ شیطان کا شریک ہے۔” [۱۴]
جب انسان سے حیا ختم ہو جائے اور اسے اپنی بات اور اپنی عزت کی پرواہ نہ رہے، تو وہ اخلاقی طور پر شیطان کے ہتھکنڈے کا شریک کار بن جاتا ہے۔
شیطان کے خلاف فیصلہ کن ہتھیار
معصومین (ع) نے ہمیں شیطان کے ہتھکنڈے کے خلاف فیصلہ کن اور کاری ضرب لگانے والے اعمال بھی سکھائے ہیں۔
شیطان کو ناکام بنانے والے چار اعمال
حدیث (۱۵) پیغمبر اکرم (ص): اَلا اُخْبِرُکُمْ بِشَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ فَعَلْتُمُوهُ تَبَاعَدَ الشَّیْطَانُ مِنْکُمْ کَمَا تَبَاعَدَ المَشْرِقُ مِنَ المَغْرِبِ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: اَلصَّوْمُ یُسَوِّدُ وَجْهَهُ وَ الصَّدَقَةُ تَکْسِرُ ظَهْرَهُ وَ الحُبُّ فِی اللّهِ وَ المُوَازَرَةُ عَلَى العَمَلِ الصَّالِحِ یَقْطَعَانِ دَابِرَهُ وَ الْاِسْتِغْفَارُ یَقْطَعُ وَتِینَهُ
"کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے انجام دو تو شیطان تم سے اتنا ہی دور ہو جائے گا جتنا مشرق مغرب سے دور ہے؟ عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: روزہ شیطان کا منہ کالا کرتا ہے، صدقہ اس کی کمر توڑ دیتا ہے، اللہ کے لیے محبت اور نیک کام میں مدد اس کی جڑ کاٹ دیتے ہیں، اور استغفار اس کی شہ رگ کاٹ دیتا ہے۔” [۱۵]
یہ حدیث شیطان کے ہتھکنڈے کے خلاف ایک مکمل دفاعی پیکج ہے: روزہ (نفس پر کنٹرول)، صدقہ (مال کی محبت کا علاج)، اللہ کے لیے محبت (معاشرتی اتحاد) اور استغفار (شیطان کی تمام پرانی محنت پر پانی پھیر دینا)۔
نیکی میں جلدی کرنا
شیطان کے ہتھکنڈے میں سے ٹال مٹول (تسویف) ہے۔
حدیث (۱۶) پیغمبر اکرم (ص): یَا عَلِیُّ اِذَا حَضَرَ وَقْتُ صَلاتِکَ فَتَهَیَّ لَهَا وَ اِلاَّ شَغَلَکَ الشَّیْطَانُ وَ اِذَا نَوَیْتَ خَیْرًا فَعَجِّلْ وَ اِلاَّ مَنَعَکَ الشَّیْطَانُ عَنْ ذَلِکَ
"اے علی! جب تمہاری نماز کا وقت آئے تو اس کے لیے تیار ہو جاؤ، ورنہ شیطان تمہیں (کسی اور کام میں) مصروف کر دے گا۔ اور جب تم کسی نیکی کا ارادہ کرو تو جلدی کرو، ورنہ شیطان تمہیں اس سے روک دے گا۔” [۱۶]
نیکی کے ارادے کو مؤخر کرنا شیطان کے ہتھکنڈے کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اس ارادے کو کمزور کر دے یا اسے مکمل طور پر ختم کر دے۔
نتیجہ
معصومین (ع) کی یہ احادیث شیطان کے ہتھکنڈے کا ایک مکمل اور جامع نقشہ پیش کرتی ہیں۔ ان ارشادات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ شیطان کے ہتھکنڈے کا مقابلہ محض عقائد کی درستگی سے نہیں، بلکہ روزمرہ کی زندگی کے ہر پہلو میں ہوشیار رہنے سے ممکن ہے۔ عبادات میں حضورِ قلب اور غصے پر قابو پانے سے لے کر نیکی میں جلدی کرنے تک، ہر عمل شیطان کے ہتھکنڈے کے خلاف ایک مورچہ ہے۔
شیطان کے ہتھکنڈے حسد، غفلت، تکبر اور لمبی آرزوؤں کے ذریعے انسان کے اخلاقی وجود پر حملہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، اللہ کا ذکر (‘بسم اللہ’)، روزہ، صدقہ، استغفار اور موت کی یاد وہ ہتھیار ہیں جو شیطان کے ہتھکنڈے کو رسوا، کمزور اور ناکام بنا دیتے ہیں۔ ان احادیث کی روشنی میں اپنی زندگی کو استوار کرنا ہی شیطان کے ہتھکنڈے کے شر سے محفوظ رہنے اور اللہ کی دائمی ولایت و سعادت حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔
حوالہ جات
[۱] کلینی، کافی، ج ۶، ص ۲۹۲، ح ۱۔
[۲] برقی، محاسن، ج ۲، ص ۴۳۳۔
[۳] دیلمی، ارشاد القلوب، ج ۱، ص ۱۹۱۔
[۴] آمدی، غرر الحکم، ص ۵۶۔
[۵] کلینی، کافى، ج ۲، ص ۳۲۷، ح ۲۔
[۶] پایندہ، نهج الفصاحۃ، ح ۶۶۰۔
[۷] ابن أبى الحدید، شرح نهج البلاغه، ج ۲۰، ص ۲۸۰، ح ۲۱۸۔
[۸] راوندی، نوادر راوندى، ص ۱۱۲۔
[۹] متقی الہندی، کنز العمّال، ح ۴۵۴۰۹۔
[۱۰] کلینی، کافى، ج ۲، ص ۱۶، ح ۲۔
[۱۱] کلینی، کافى، ج ۳، ص ۲۵۸، ح ۲۷۔
[۱۲] مجلسی، بحار الانوار، ج ۱۰۳، ص ۱۲۰، ح ۳۰۔
[۱۳] حر عاملی، علی صحت، جهاد النفس، ح ۲۳۷۔
[۱۴] حر عاملی، علی صحت، جهاد النفس، ح ۶۸۷۔
[۱۵] مہریزی و خوئی، میراث حدیث شیعہ، ج ۲، ص ۲۰، ح ۱۸۔
[۱۶] مجلسی، بحار الأنوار، ج ۷، ص ۲۹۔
فہرست منابع
۱. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ۔ تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیجا: دار احیاء الکتب العربیۃ، ۱۳۷۸ھ۔
2. آمدی، عبدالواحد۔ تصنیف غررالحکم و دررالکلم۔ تحقیق مصطفی درایتی، قم: دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۶۶ش۔
3. برقی، احمد بن محمد۔ المحاسن۔ قم: دار الکتب العلمیۃ، ۱۳۷۱ھ۔
4. پایندہ، ابوالقاسم۔ نہج الفصاحۃ: مجموعہ کلمات قصار حضرت رسول اکرمؐ با ترجمہ فارسی۔ ناشر: دنیای دانش، ۱۳۸۰ش۔
5. دیلمی، حسن بن محمد۔ ارشاد القلوب۔ ترجمہ علی سلگی، قم: ناصر، ۱۳۷۶ش۔
6. راوندی، فضل اللہ۔ النوادر (نوادر الراوندی)، نجف، ۱۳۷۰ھ / ۱۹۵۱ء۔
7. حر عاملی، محمد بن حسن۔ ترجمہ جہاد النفس وسائل الشیعۃ۔ بقلم علی صحت، قم: دفتر نشر فرہنگ اہل بیت، ۱۴۱۴ھ۔
8. کلینی، محمد بن یعقوب۔ الکافی۔ تہران: دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۶۳ش۔
9. مجلسی، محمد باقر۔ بحار الانوار۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
10. متقی الہندی، علی بن حسام۔ کنز العمال فی سنن الاقوال و الافعال۔ بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۱۳ھ۔
11. مہریزی، مہدی؛ صدرایی خویی، علی۔ میراث حدیث شیعہ۔ قم: دار الحدیث، ۱۳۸۰ش۔