حدیث بساط: فضیلت امیر المؤمنین (ع) پر ایک روشن دلیل

حدیث بساط: فضیلت امیر المؤمنین (ع) پر ایک روشن دلیل

کپی کردن لینک

حدیث بساط اسلامی تاریخ اور علم حدیث میں فضیلت امیر المؤمنین (ع) کے باب میں ایک غیر معمولی روایت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ واقعہ، جسے "قالی پرندہ” (اڑنے والا قالین) کا معجزہ بھی کہا جاتا ہے، نہ صرف حضرت علی (ع) کے منفرد مقام و مرتبے کو آشکار کرتا ہے بلکہ پیغمبر اکرم (ص) کی جانب سے آپ (ع) کی ولایت و امامت پر بار بار تاکید کرنے کا ایک عملی نمونہ بھی پیش کرتا ہے۔ یہ روایت، جو شیعہ اور سنی دونوں مکاتب فکر کی متعدد کتب میں مختلف اسناد اور تعبیرات کے ساتھ نقل ہوئی ہے، ایک ایسے معجزاتی سفر کا بیان ہے جس میں امیر المؤمنین (ع) کا مرکزی کردار روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔

حدیث بساط کا واقعہ: جابر بن عبداللہ انصاری کی زبانی

حدیث بساط کا سب سے مفصل اور قدیم ترین بیان وہ ہے جو امام محمد باقر (ع) اور امام سجاد (ع) کے واسطے سے صحابی رسول حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) سے نقل ہوا ہے۔ یہ طریقِ اول، جو علی بن اسباط (تیسری صدی ہجری) کی کتاب ‘الاصول الستۃ عشر‘ میں موجود ہے، واقعے کی مکمل تصویر کشی کرتا ہے۔ تفصیلی واقعہ کے لیے اصل منابع کی طرف رجوع فرمائیں جس کا خلاصہ یہ ہے:

"جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ایک روز وہ اور سلمان فارسی مسجد میں تھے کہ رسول خدا (ص) تشریف لائے۔ آپ (ص) نے پہلے حضرت علی (ع) کو بلوایا اور ان سے طویل، خفیہ سرگوشی (مناجات) فرمائی۔

پھر آپ (ص) نے ابوبکر، عمر اور عبدالرحمن بن عوف کو طلب فرمایا۔ اس کے بعد حضرت ام سلمہ کے گھر سے خیبری بساط (قالین) منگوایا گیا۔ آپ (ص) کے حکم پر تینوں افراد اور سلمان قالین کے کونوں پر، اور حضرت علی (ع) درمیان میں بیٹھ گئے۔ نبی اکرم (ص) نے علی (ع) کو مخصوص کلمات تعلیم دیے اور فرمایا کہ یہ فضیلت صرف علی (ع) کے لیے خاص ہے۔ حضرت علی (ع) کے کلمات ادا کرتے ہی قالین پرواز کر گیا اور انہیں اصحاب کہف کے غار تک لے گیا۔

وہاں، رسول خدا (ص) کے حکم کے مطابق، سلمان نے پہلے، پھر ابوبکر، پھر عمر اور عبدالرحمن نے سلام کیا، لیکن اصحاب کہف میں سے کسی نے جواب نہ دیا۔

آخر میں، سلمان نے حضرت علی (ع) سے (بحیثیت امیرِ سفر) سلام کرنے کی درخواست کی۔ حضرت علی (ع) نے آہستہ سے سلام کیا تو غار کا دروازہ کھل گیا اور اندر سے جواب آیا۔ اصحاب کہف نے کہا:

«و علیک السلام یا علی و رحمة الله و برکاته…»۔ انہوں نے آپ (ع) کو «وصی محمد (ص)» اور «إمام المتقین» (متقین کے پیشوا) کہہ کر پکارا اور گواہی دی: «قد شهدنا لابن عمک بالنبوة و لک بالولایة و الإمامة» (ہم آپ کے چچا زاد بھائی کی نبوت اور آپ کی ولایت و امامت کی گواہی دیتے ہیں)۔

جب حضرت علی (ع) نے دوبارہ سلام کیا، تو انہوں نے جواب دیا: «و علیک السلام و رحمة الله و برکاته یا مولانا و إمامنا» (سلام ہو آپ پر اے ہمارے مولا اور ہمارے امام)۔

انہوں نے واضح کیا کہ ولایت صرف آپ (ع) کے لیے ہے، نہ کہ آپ کے ساتھیوں کے لیے («أن الولایة لک دونهم») اور یہ آیت پڑھی: «وَ سَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ»[۱] (اور جنہوں نے ظلم کیا وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف پلٹائے جائیں گے)۔

یہ تمام واقعہ ظہر سے عصر کے درمیان پیش آیا۔ واپسی پر جب رسول خدا (ص) کو ماجرا سنایا گیا تو آپ (ص) نے اس معجزے کو حجت قرار دیا۔ آپ (ص) نے حاضرین کو حکم دیا کہ وہ علی (ع) کی بیعت کریں اور ان کی اطاعت کریں، اور آیتِ اولی الامر کی تلاوت فرمائی: «یَا أَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا أَطِیعُوا اللَّهَ وَ أَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ أُوْلِی الأَمْرِ مِنْکُمْ.»[۲] (اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، اور رسول کی اور اپنے میں سے اولی الامر کی اطاعت کرو)۔

جابر کہتے ہیں: ‘ہم نے علی (ع) کی بیعت کی۔’ تب رسول خدا (ص) نے مرتے دم تک ولایت علی (ع) سے متمسک رہنے کی تاکید فرمائی۔”[۳]

حدیث بساط سے آشکار ہونے والی فضیلت امیر المؤمنین (ع)

مذکورہ بالا حدیث بساط کا ہر حصہ فضیلت امیر المؤمنین حضرت علی (ع) کے ایک نئے باب کو کھولتا ہے۔ یہ محض ایک ہوائی سفر نہیں تھا، بلکہ ایک مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا الٰہی امتحان اور حجت کا قیام تھا۔

پہلا پہلو: معجزاتی طاقت کا مظہر

نبی اکرم (ص) حضرت علی (ع) کو ایسے کلمات تعلیم فرماتے ہیں جن کی تاثیر پہاڑوں کو حرکت دینے اور مُردوں کو زندہ کرنے جیسی ہے۔ جب ایک صحابی نے پوچھا کہ کیا یہ طاقت صرف علی (ع) کے لیے خاص ہے، تو آپ (ص) نے واضح طور پر فرمایا: "ہاں، اسے علی (ع) کی خصوصیات میں سے جانو۔” یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فضیلت امیر المؤمنین (ع) محض انتظامی یا علمی نہیں، بلکہ تکوینی اور معجزاتی بھی ہے۔

دوسرا پہلو: اصحاب کہف کی گواہی (مرکزی فضیلت)

اس واقعے کا نقطہ عروج اصحاب کہف کا ردعمل ہے۔ حدیث بساط کا یہ سفر اس لیے ترتیب دیا گیا تھا تاکہ ایک ایسی جماعت سے گواہی لی جائے جو دنیاوی سیاست اور گروہی تعصبات سے پاک ہو۔ اصحاب کہف، جو صدیاں قبل اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے سو گئے تھے، انہیں اس مقصد کے لیے بیدار کیا گیا۔

جب دیگر جلیل القدر صحابہ (ابوبکر، عمر، عبدالرحمن بن عوف) نے باری باری بلند آواز سے سلام کیا، تو انہیں مکمل خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ خاموشی خود ایک واضح جواب تھی کہ ان کا سلام قبولیت کے لائق نہیں سمجھا گیا۔

تیسرا پہلو: صرف علی (ع) کو جواب ملنا

اس کے برعکس، جیسے ہی امیر المؤمنین (ع) نے ‘آہستہ’ آواز میں سلام کیا، نہ صرف غار کا دروازہ کھل گیا بلکہ اندر سے واضح جواب آیا۔ یہ اس بات کا معجزاتی اعلان تھا کہ اصحاب کہف کے نزدیک، جو اللہ کے مقرب بندے تھے، پیغمبر (ص) کے نمائندے اور وصی صرف علی (ع) ہیں۔

چوتھا پہلو: ولایت و امامت کا واضح اقرار

اصحاب کہف نے صرف سلام کا جواب نہیں دیا، بلکہ انہوں نے واضح الفاظ میں فضیلت امیر المؤمنین (ع) کا اقرار کیا۔ انہوں نے آپ (ع) کو "وصی محمد (ص)”، "ہمارے مولا اور ہمارے امام” کہہ کر پکارا اور واضح طور پر اعلان کیا: "ہم آپ کی ولایت و امامت کی گواہی دیتے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ "ولایت صرف آپ کے لیے ہے نہ کہ ان کے لیے” (یعنی جو دیگر افراد موجود تھے)۔ یہ ایک ایسی گواہی تھی جس کا انکار ممکن نہ تھا۔

پانچواں پہلو: واپسی پر پیغمبر (ص) کا اقدام

جب یہ گروہ واپس پلٹا، تو رسول خدا (ص) نے اس واقعے کو ایک عام معجزہ قرار دے کر ختم نہیں کیا۔ آپ (ص) نے اسے ایک ‘حجت’ اور ‘دلیل’ قرار دیا۔ آپ (ص) نے فوراً ان تمام افراد سے، جنہوں نے یہ معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، حضرت علی (ع) کی بیعت کرنے کا حکم دیا اور قرآن کی آیت ‘اولی الامر’ [۴] کی تلاوت فرما کر اس کا مصداق حضرت علی (ع) کو قرار دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حدیث بساط کا مقصد محض فضیلت امیر المؤمنین (ع) کا اظہار نہیں تھا، بلکہ آپ (ع) کی خلافت بلافصل اور امامت پر نص قائم کرنا تھا۔

حدیث بساط کی شہرت اور اس کی نقل

حدیث بساط کوئی گمنام یا نایاب روایت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شیعہ اور اہل سنت کی بہت سی کتابوں میں نقل ہوا ہے [۵]۔ حدیث بساط کی شہرت کا عالم یہ تھا کہ قاضی سعید قمی (گیارہویں صدی ہجری) جیسے عالم نے لکھا کہ یہ حدیث ‘حد استفاضہ’ (یعنی اس قدر کثرت سے نقل ہوئی ہے) تک پہنچی ہوئی ہے کہ اس کی سند پر بحث کی ضرورت نہیں، البتہ صرف تیمن و تبرک کے لیے اس پر نظر ڈالی جا سکتی ہے [۶]۔ شیخ صدوق (رح) نے بھی اسے صحیح شمار کیا ہے۔ علامہ آقا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب ‘الذریعۃ’ میں متعدد ایسی کتابوں کا ذکر کیا ہے جو صرف ‘شرح حدیث بساط’ کے عنوان سے لکھی گئیں [۷]۔

حدیث بساط کی یہ عظیم فضیلت مختلف راویوں سے نقل ہوئی ہے، جن میں سب سے نمایاں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری اور انس بن مالک ہیں۔ اس کے علاوہ یہ روایت خود اہل بیت (ع) کے طریق سے بھی نقل ہوئی ہے، مثلاً امام حسن (ع) اور امام صادق (ع) سے بھی اس کا ذکر ملتا ہے [۸]۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ حدیث بساط (اڑنے والا قالین) ایک الگ واقعہ ہے اور "حدیث الغمامۃ” (بادل کا واقعہ) ایک الگ واقعہ ہے۔ حدیث غمامہ حضرت سلمان فارسی سے مروی ہے اور اس کا مقصد دیگر انبیاء کے معجزات کا حضرت علی (ع) کے ہاتھ پر ظاہر ہونا تھا، اگرچہ دونوں واقعات میں فضائی سفر مشترک ہے۔

نتیجہ

حدیث بساط فضیلت امیر المؤمنین (ع) پر ایک قاطع اور روشن برہان ہے۔ حدیث بساط کے واقعے کا مرکزی نکتہ اصحاب کہف کا صدیوں بعد بیدار ہو کر، دیگر جلیل القدر صحابہ کی موجودگی میں، صرف حضرت علی (ع) کے سلام کا جواب دینا اور آپ (ع) کی ولایت و امامت کی گواہی دینا ہے۔

یہ واقعہ، جسے پیغمبر اکرم (ص) نے خود ایک حجت کے طور پر پیش کیا اور اس کے فوراً بعد اصحاب سے حضرت علی (ع) کی بیعت کا تقاضا کیا، امامت کے الٰہی منصب کو واضح کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی روایات کی تفصیلات میں کچھ فرق پایا جاتا ہے، لیکن اس کا بنیادی پیغام —کہ علی (ع) کا مرتبہ پیغمبر (ص) کے بعد سب سے ارفع ہے— شیعہ و سنی کتب میں اس کی شہرت سے تقویت پاتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں امیر المؤمنین (ع) کے اس بے مثال مقام کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے جسے خود رسول خدا (ص) نے بیان کیا اور اصحاب کہف جیسے الٰہی شاہدین نے اس کی تصدیق کی۔


حوالہ جات

[۱] سورہ شعراء آیت۲۲۷۔
[۲] سورہ نساء آیت۵۹۔
[۳] کوفی، علی بن اسباط، الاصول‌ الستۃ عشر‌، ص۳۳۶- ۳۳۷/ مجلسی، بحار الانوار، ج۶۰، ص۱۲۴۔
[۴] سورہ نساء آیت ۵۹۔
[۵] ثعلبی، الکشف و البیان، ج۶، ص۱۵۷۔
[۶] قاضی سعید، شرح حدیث بساط، ص۸۹ ـ۹۰۔
[۷] تهرانی، الذریعۃ، ج۱۳، ص۱۹۲۔
[۸] حلی، کشف الیقین، ص۸۔


فہرست منابع

۱. ثعلبی، احمد بن محمد۔ الکشف و البیان عن تفسیر القرآن۔ بیروت: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۲۲ق۔
2. حلی، علی بن یوسف۔ کشف الیقین فی فضائل امیر المؤمنین(ع)۔ تہران: بینا، ۱۴۱۱ق / ۱۹۹۱م۔
3. تهرانی، آقابزرگ۔ الذریعة الی تصانیف الشیعة۔ بیروت: دار الاضواء، دوسری اشاعت، ۱۴۰۳ق۔
4. قاضی سعید قمی۔ شرح حدیث بساط۔ تہران: نشر صادق، ۱۳۸۱ش۔
5. کوفی، علی بن اسباط۔ اصل (نقل از الاصول الستۃ عشر من الاصول الاولیۃ)، تحقیق ضیاء الدین محمودی، قم: دار الحدیث، ۱۴۲۳ق / ۱۳۸۱ش۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

جلالی، مهدی؛ صادقی، علی، ارزیابی حدیث بساط (فرشِ پرندہ کے حدیث کا تجزیاتی مطالعہ)، حدیث‌ پژوهی، بهار و تابستان ۱۳۹۰، شمارہ ۵، رتبه علمی-پژوهشی (ISC)، صفحہ ۱۵۳-۱۸۴۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔