صدیق اکبر و فاروق اعظم امام علی (ع) کے خصوصی القاب

صدیق اکبر و فاروق اعظم امام علی (ع) کے خصوصی القاب

2026-09-03

7 مشاہدات

کپی کردن لینک

صدیق اکبر و فاروق اعظم جیسے اسلامی القابات محض شناختی نام نہیں بلکہ نظریاتی اور ایمانی مراتب کے عکاس ہوتے ہیں۔ ان میں ”صدیق اکبر“ و ”فاروق“ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ عام تاثر میں یہ القابات بالترتیب پہلے اور دوسرے خلیفہ سے منسوب ہیں، لیکن یہ تحقیقی مقالہ اس کے برعکس، خود اہل سنت کے مستند علمی ذخیرے (کتب احادیث، تاریخ اور علم رجال) کی بنیاد پر ثابت کرتا ہے کہ یہ دونوں معزز خطابات درحقیقت امام علی بن ابی طالب (ع) کے خصوصی القاب ہیں۔

اس تحقیق کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ”صدیق اکبر“ کا لقب خود امام علی (ع) نے بیان فرمایا جسے اہل سنت محدثین نے ”صحیح“ قرار دیا، جبکہ نبی اکرم (ص) نے ”صدیقوں“ کی تعداد کو محدود فرما کر اس کی مزید وضاحت کر دی۔ اس کے بالمقابل، یہ مقالہ ان متبادل روایات کا تنقیدی جائزہ پیش کرے گا جنہیں ابن الجوزی، ذہبی اور ابن حجر عسقلانی جیسے اکابر سنی علماء نے ”جعلی“ اور "باطل“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ آخر میں، لقب ”فاروق“ کی تاریخی اصلیت سے بھی پردہ اٹھایا جائے گا۔ یہ مقالہ قارئین کو محض سنی سنائی باتوں کے بجائے، مستند حوالوں کی روشنی میں تاریخی حقیقت تک پہنچنے میں مدد دے گا۔

امام علی (ع) بحیثیت صدیق اکبر

اہل سنت کے ذخیرۂ احادیث میں ایسی مستند روایات موجود ہیں جو واضح طور پر یہ ثابت کرتی ہیں کہ ”صدیق اکبر“ کا لقب امیر المومنین علی بن ابی طالب (ع) کا خصوصی خطاب ہے۔

۱. امام علی (ع) کا اپنا اعلان اور محدثین کی تصدیق

سب سے قوی دلیل وہ روایت ہے جس میں امام علی (ع) نے خود اپنے اس صدیق اکبر کے مقام کو بیان فرمایا۔ یہ روایت اہل سنت کی متعدد معتبر کتب میں نقل ہوئی ہے۔ عباد بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت علی (ع) نے فرمایا:

”أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ لَا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلَّا كَذَّابٌ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ“

”میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول (ص) کا بھائی ہوں، اور میں ہی صدیق اکبر ہوں۔ میرے بعد اس (لقب) کا دعویٰ کوئی نہیں کرے گا سوائے ایک بہت بڑے جھوٹے (کذاب) کے۔ میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی۔“

یہ واضح اعلان کہ ”میرے بعد اس کا دعویٰ صرف کذاب ہی کرے گا“ صدیق اکبر کے لقب کو امام علی (ع) کی ذات تک محدود کر دیتا ہے۔ یہ روایت اہل سنت کی ان کتابوں میں موجود ہے جنہیں علمی دنیا میں مستند مانا جاتا ہے[۱]۔

اس روایت کی اہمیت صرف اس کے متن میں نہیں بلکہ اس کی سند میں ہے۔ سنن ابن ماجہ کے محقق بوصیری نے واضح لکھا ہے: "ھذا إسناد صحيح۔ رجاله ثقات” (اس کی سند صحیح ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ یعنی قابل بھروسہ ہیں)۔ اسی طرح امام حاکم نیشابوری، جو اہل سنت کے امام الحدیث مانے جاتے ہیں، نے اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا: "صحيح علي شرط الشيخين” (یہ روایت امام بخاری اور امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے)۔ اگرچہ ذہبی نے تلخیص میں اس پر کچھ کلام کیا ہے، لیکن حاکم اور بوصیری جیسے ائمہ کی تصحیح اس روایت کے استناد کے لیے کافی ہے۔

۲. منبر بصرہ سے تاریخی اعلان

ایک اور موقع پر امام علی (ع) نے اس لقب صدیق اکبر کا اعلان بھرے مجمع میں، تقابلی انداز میں کیا۔ ابن قتیبہ دینوری اپنی مشہور تصنیف میں نقل کرتے ہیں کہ معاذہ بنت عبداللہ عدویہ کہتی ہیں:

"سمعت علي بن أبي طالب علي منبر البصرة وهو يقول أنا الصديق الأكبر آمنت قبل ان يؤمن أبو بكر وأسلمت قبل أن يسلم أبو بكر

"میں نے علی بن ابی طالب (ع) کو بصرہ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: میں صدیق اکبر ہوں۔ میں اس وقت ایمان لایا جب ابوبکر ایمان نہیں لائے تھے، اور میں اس وقت اسلام لایا جب ابوبکر اسلام نہیں لائے تھے۔”

یہ روایت، جو معتبر کتب میں[۲] بھی موجود ہے، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ امام علی (ع) اپنے اس لقب صدیق اکبر کو بیان کرنا ضروری سمجھتے تھے اور اسے اپنی ایمانی سبقت کی دلیل کے طور پر پیش فرماتے تھے۔[۳]

۳. فرمان نبوی (ص) صدیق صرف تین ہیں

خود پیغمبر اکرم (ص) نے بھی اس معاملے کو واضح فرما دیا تھا کہ صدیق کا حقیقی مرتبہ کس کو حاصل ہے۔ اہل سنت کے مفسرین اور محدثین نے نبی اکرم (ص) سے یہ حدیث کثرت سے نقل کی ہے:

"الصديقون ثلاثة: حبيب النجار مؤمن آل ياسين، وحزبيل مؤمن آل فرعون، وعلي بن أبي طالب الثالث، وهو أفضلهم

"صدیق (سچائی کے علمبردار) تین لوگ ہیں: حبیب نجار (جو آلِ یاسین کا مؤمن تھا)، حزبیل (جو آلِ فرعون کا مؤمن تھا)، اور علی بن ابی طالب (ع) جو تیسرے ہیں، اور وہ ان سب (پہلے دونوں) سے افضل ہیں۔” یہ حدیث درجنوں کتب میں موجود ہے۔[۴]

اس حدیث میں ایک انتہائی اہم نکتہ پوشیدہ ہے۔ نبی اکرم (ص) نے ‘الصدیقون’ (تمام صدیقوں) کو ‘ثلاثۃ’ (تین) کے عدد میں محصور (یعنی محدود) کر دیا ہے۔ اگر ابوبکر کا لقب بھی ‘صدیق’ ہوتا جو نبی (ص) نے عطا فرمایا ہوتا، تو زبانِ رسالت سے یہ جملہ کبھی ادا نہ ہوتا۔ اس صورت میں ‘صدیقون اربعۃ’ (صدیق چار ہیں) کہا جاتا اور چوتھے فرد کے طور پر ان کا نام بھی شامل ہوتا۔ نبی اکرم (ص) کا صدیقوں کی تعداد کو تین پر محدود کرنا اور پھر ان میں سب سے افضل امام علی (ع) کو قرار دینا، اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ کم از کم رسالت مآب (ص) کی نظر میں، ابوبکر اس لقب کے حاملین میں شامل نہ تھے۔

یہاں ایک اور قابلِ توجہ علمی نکتہ یہ ہے کہ امام جلال الدین سیوطی [۵] اور قندوزی حنفی [۶] یہی "الصدیقون ثلاثۃ” والی روایت امام بخاری کی "تاریخ” کے حوالے سے نقل کرتے ہیں۔ لیکن جب آج امام بخاری کی ‘تاریخ کبیر’ اور ‘تاریخ صغیر’ کے مروجہ نسخوں میں اس روایت کو تلاش کیا جاتا ہے، تو وہ وہاں نہیں ملتی۔ یہ صورتحال اس شبہہ کو تقویت دیتی ہے کہ امیرالمومنین (ع) کے فضائل کو چھپانے کی کوشش میں علمی ورثے کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔

القاب صدیق اکبر و فاروق اعظم اور جعلی روایات

جب مستند روایات امام علی (ع) کو "صدیق اکبر” ثابت کرتی ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر ابوبکر کو "صدیق” اور عمر کو "فاروق” کہنے کی بنیاد کیا ہے؟ اس کی بنیاد وہ روایات ہیں جو بعد کے ادوار میں وضع کی گئیں، لیکن قابلِ تحسین بات یہ ہے کہ خود اہل سنت کے ہی عظیم محدثین اور ناقدینِ رجال نے ان روایات کا پردہ چاک کیا اور انہیں علمی بنیادوں پر مسترد کر دیا۔

اس سلسلے کی سب سے مشہور روایت شبِ معراج سے منسوب کی گئی ہے، جسے ابو درداء سے روایت کیا جاتا ہے کہ نبی (ص) نے فرمایا:

"رأيت ليلة أسري بي في العرش فرندة خضراء فيها مكتوب بنور أبيض: لا إله إلا الله محمد رسول الله أبو بكر الصديق عمر الفاروق۔”

"میں نے شبِ معراج میں عرش پر ایک سبز لوح دیکھی جس پر سفید نور سے لکھا تھا: لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، ابوبکر صدیق، عمر فاروق۔”

یہ روایت بظاہر تو بہت بڑی فضیلت بیان کر رہی ہے، لیکن علمِ حدیث کی کسوٹی پر یہ ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ اہل سنت کے مشہور عالم، امام ابن الجوزی، جو جعلی احادیث (موضوعات) پر اپنی کتاب کے لیے مشہور ہیں، [۷] اس روایت کو نقل کرنے کے بعد دو ٹوک فیصلہ سناتے ہیں:

"هذا حديث لا يصحّ، والمتّهم به عمر بن إسماعيل

"یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور اس (کے گھڑنے) کا ملزم عمر بن اسماعیل ہے۔”

اس کے بعد وہ اس راوی پر ائمہ رجال کی جرح (تنقید) نقل کرتے ہیں: "یحییٰ بن معین (جو علم رجال کے امام ہیں) نے اس کے بارے میں کہا: اس کی بات کوئی حیثیت نہیں رکھتی، وہ کذّاب (بہت جھوٹا)، دجال، برا اور خبیث آدمی ہے۔ امام نسائی اور امام دارقطنی نے کہا: وہ متروک الحدیث ہے (یعنی اس کی احادیات کو مکمل طور پر ترک کر دیا گیا ہے)۔”

امام ابن الجوزی اسی کتاب میں ایک اور سند [۸] سے نقل کر کے لکھتے ہیں: "ھذا باطل موضوع” (یہ باطل اور من گھڑت ہے) اور اس کے راوی علی بن جمیل کے بارے میں کہتے ہیں کہ "کان یضع الحدیث” (وہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا)۔ ایک تیسری سند [۹] پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کے راوی ابوبکر صوفی اور محمد بن مجیب دونوں "کذابان” (بہت بڑے جھوٹے) ہیں، جیسا کہ یحییٰ بن معین نے کہا۔

یہاں تک کہ ابن کثیر دمشقی بھی، جو عام طور پر خلفاء کے فضائل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، اس روایت کے بارے میں محتاط انداز میں کہتے ہیں: "یہ ایک ضعیف حدیث ہے، اس کی سند میں وہ شخص ہے جس پر کلام کیا گیا ہے، اور یہ (روایت) منکرات (ناقابل قبول باتوں) سے خالی نہیں ہے۔”[۱۰]

اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ روایات جو ابوبکر کو "صدیق” اور عمر کو "فاروق” کا لقب عرش پر لکھا ہوا دکھاتی ہیں، وہ خود اہل سنت کے مستند محدثین کے نزدیک باطل، من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔

لقب فاروق کا حقیقی مصداق اور تاریخی پس منظر

جب یہ ثابت ہو گیا کہ "فاروق” کا لقب عمر کے لیے کسی مستند نبوی (ص) روایت سے ثابت نہیں، تو یہ سوال پیدا ہوتا کہ یہ لقب انہیں کب اور کس نے دیا؟ اس کا جواب بھی اہل سنت کی بنیادی تاریخی کتب میں موجود ہے، جو حیران کن حد تک واضح ہے۔

۱. ‘فاروق’ لقب اہل کتاب کا عطیہ

اہل سنت کے معتبر ترین مؤرخین، بشمول محمد بن سعد (کاتب الواقدی) [۱۱]، ابن عساکر [۱۲]، ابن الاثیر [۱۳] اور امام طبری [۱۴]، سب نے امام زہری (ابن شہاب) کا یہ مشہور قول نقل کیا ہے:

"قال بن شهاب بلغنا أن أهل الكتاب كانوا أول من قال لعمر الفاروق وكان المسلمون يأثرون ذلك من قولهم ولم يبلغنا أن رسول الله صلي الله عليه وسلم ذكر من ذلك شيئا

"ابن شہاب زہری نے کہا: ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ اہل کتاب (یہودی و نصاریٰ) وہ پہلے لوگ تھے جنہوں نے عمر کو ‘فاروق’ کہا۔ اور مسلمان ان (اہل کتاب) کی اس بات سے متاثر ہو گئے (اور یہی کہنے لگے)۔ اور ہم تک یہ بات ہرگز نہیں پہنچی کہ رسول اللہ (ص) نے اس (لقب) کے بارے میں کچھ بھی فرمایا ہو۔”

یہ ایک تاریخی شہادت ہے جو امام زہری جیسے مؤرخ دے رہے ہیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اس لقب کی جڑیں نبوی (ص) دور میں نہیں، بلکہ اس کا منبع ”اہل کتاب“ تھے۔ ابن کثیر نے بھی [۱۵] عمر کے القابات میں ”الملقب بالفاروق“ لکھنے کے بعد فوراً لکھا: ”قيل لقبه بذلك أهل الكتاب“ کہا گیا ہے کہ انہیں یہ لقب اہل کتاب نے دیا۔

۲. امام علی (ع) بحیثیت فاروقِ امت

اس کے بالکل برعکس، جس طرح ”صدیق اکبر“ کا لقب امام علی (ع) کے لیے خاص ہے، اسی طرح ‘فاروق’ (حق و باطل میں فرق کرنے والا) کا لقب بھی آپ (ع) ہی کے لیے نبی اکرم (ص) نے بیان فرمایا۔ منابع اس کی تائید کرتے ہیں کہ نبی (ص) نے حضرت علی (ع) کو “فاروق ہذہ الامۃ“ (اس امت کا فاروق) قرار دیا۔

”هذا (علی) فاروقُ هذه الأمّةِ یفرقُ بینَ الحقِّ و الباطلِ“[۱۶]

حضرت علی (ع) کی پوری زندگی اس لقب کی عملی تفسیر ہے۔ آپ (ع) ہی وہ ‘فاروق’ ہیں جنہوں نے جنگ بدر میں شرک کے بڑے بڑے سرداروں کو جہنم واصل کر کے توحید و شرک کے درمیان پہلا عملی امتیاز قائم کیا۔ آپ (ع) ہی وہ ‘فاروق’ ہیں جنہوں نے اپنے دورِ خلافت میں جنگ جمل میں ناکثین (عہد توڑنے والے)، جنگ صفین میں قاسطین (ظالم) اور جنگ نہروان میں مارقین (دین سے خارج ہونے والے خوارج) کے خلاف لڑ کر امت کو حق و باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ کر دکھائی۔

لہٰذا، تحقیقی اور تاریخی شواہد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست ہے کہ ‘فاروق’ کا لقب بھی، ‘صدیق اکبر’ کی طرح، امام علی (ع) کا ہی خصوصی وصف ہے، جسے اہل کتاب نے کسی مصلحت کے تحت عمر سے منسوب کیا اور بعد میں مسلمانوں میں یہ بات مشہور ہو گئی۔

نتیجہ

اسلامی تاریخ کے دو اہم ترین القاب، ”صدیق اکبر“ و ”فاروق اعظم“، جنہیں عام طور پر دیگر شخصیات سے منسوب کیا جاتا ہے، درحقیقت امام علی بن ابی طالب (ع) کے خصوصی خطابات ہیں۔ لٰہذا تاریخی شخصیات اور واقعات کو محض شہرت یا کثرتِ تکرار کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے، علمی تحقیق اور مستند حوالوں کی کسوٹی پر پرکھنے کی اہمیت کو سمجھیں۔ حقائق کا علم، چاہے وہ کتنا ہی غیر مانوس کیوں نہ ہو، فکری پختگی اور نظریاتی استحکام کا باعث بنتا ہے۔ یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ فضائل و مراتب کا تعین عوامی مقبولیت سے نہیں، بلکہ حقیقی اسناد اور نبوی (ص) تصدیقات سے ہوتا ہے، اور اس معیار پر صرف امام علی (ع) ہی ‘صدیق اکبر’ اور ‘فاروقِ حقیقی’ قرار پاتے ہیں۔


حوالہ جات

[۱] ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، ج۱، ص ۴۴؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج۳، ص ۲۶؛ حاکم، المستدرک للحاکم، ج۳، ص ۱۱۲؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۲، ص ۵۶؛ ابن الأثیر، الکامل فی التاریخ، ج۲، ص ۵۷۔
[۲] مزی، تہذیب الکمال، ج ۱۲، ص ۱۸-۱۹۔
[۳] ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج ۷، ص ۳۷۰۔
[۴] ابن مردویہ، مناقب، ص ۳۳۱؛ رازی، التفسیر الکبیر، ج ۲۷، ص ۵۷؛ أبی حیان، تفسیر البحر المحيط، ج ۷، ص ۴۴۲؛ آلوسی، روح المعانی، ج ۱۶، ص ۱۴۵؛ متقی ہندی، کنز العمال، ج ۱۱، ص ۶۰۱؛ مناوی، فیض القدیر، ج ۴، ص ۳۱۳۔
[۵] سیوطی، الدر المنثور، ج ۵، ص ۲۶۲۔
[۶] قندوزی، ینابیع المودۃ، ج ۲، ص ۴۰۰۔
[۷] جوزی، الموضوعات، ج۱، ص ۳۲۷۔
[۸] جوزی، الموضوعات، ج۱، ص ۳۳۶۔
[۹] جوزی، الموضوعات، ج۱، ص ۳۳۷۔
[۱۰] ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج۷، ص۲۳۰۔
[۱۱] ابن سعد، الطبقات الكبری، ج ۳، ص ۲۷۰۔
[۱۲] ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج ۴۴، ص ۵۱۔
[۱۳] ابن اثیر، أسد الغابۃ، ج ۴، ص ۵۷۔
[۱۴] طبری، تاریخ الطبری، ج ۳، ص ۲۶۷۔
[۱۵] ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج ۷، ص ۱۵۰۔
[۱۶] طبرانی، المعجم الكبير، ج۶، ص۲۶۹، ح۶۱۸۴؛ گنجی شافعی، كفايۃ الطالب، ص۱۸۷، باب۴۴؛ ابن عساکر، تاريخ مدينۃ دمشق، ج۱۲، ص۱۳۰؛ متقی الہندی، كنزالعمال، ج۱۱، ص۶۱۶، ح۳۲۹۹۰.۔


فہرست منابع

۱. ابن الأثیر، عز الدین۔ أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ۔ بیروت: دار الفکر، ۱۳۸۵ھ۔
2. ابن الأثیر، عز الدین۔ الکامل فی التاریخ۔ بیروت: دار صادر، ۱۳۸۵ھ۔
3. ابن الجوزی، عبد الرحمن بن علی۔ الموضوعات۔ مدینہ: المکتبۃ السلفیۃ، ۱۳۸۶ھ۔
4. ابن سعد، محمد۔ الطبقات الكبری۔ بیروت: دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۰ھ۔
5. ابن عساکر، علی بن الحسن۔ تاریخ مدینۃ دمشق۔ بیروت: دار الفکر، ۱۴۱۵ھ۔
6. ابن کثیر الدمشقی، اسماعیل بن عمر۔ البدایۃ والنہایۃ۔ بیروت: دار الفکر، ۱۴۰۷ھ۔
7. ابن ماجہ القزوینی، محمد بن یزید۔ سنن ابن ماجہ (تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی)۔ قاہرہ: دار احیاء الکتب العربیہ، ۱۳۷۲ھ۔
8. ابن مردویہ الأصفہانی، أبی بکر أحمد بن موسیٰ۔ مناقب علی بن أبی طالب (ع) وما نزل من القرآن فی علی (ع)، دار الکتب الاسلامیہ ایران، ۱۴۲۳ھ۔
9. أبی حیان الأندلسی، محمد بن یوسف۔ تفسیر البحر المحیط۔ بیروت: دار الفکر، ۱۴۱۲ھ۔
10. آلوسی، شہاب الدین۔ تفسیر الآلوسی (روح المعانی)۔ بیروت: دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
11. حاکم النیشابوری، محمد بن عبد اللہ۔ المستدرک علی الصحیحین۔ بیروت: دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۲۲ھ۔
12. رازی، فخر الدین۔ التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)۔ بیروت: دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ھ۔
13. طبری، محمد بن جریر۔ تاریخ الطبری (تاریخ الرسل والملوک)۔ بیروت: دار التراث، ۱۳۸۷ھ۔
14. سیوطی، جلال الدین۔ الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور۔ بیروت: دار الفکر، ۱۴۱۴ھ۔
15. قندوزی، سلیمان بن ابراہیم۔ ینابیع المودۃ لذوی القربی۔ قم: دار الأسوۃ، ۱۴۱۶ھ۔
16. متقی الہندی، علی بن حسام الدین۔ کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال۔ بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۱ھ۔
17. مناوی، عبد الرؤوف۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۔ مصر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری، ۱۳۵۶ھ۔
18. مزی، یوسف بن عبد الرحمن۔ تہذیب الکمال فی أسماء الرجال۔ بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۰ھ۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

۱. دژآباد، حامد، مصداق یابی صدّیق و بررسی روایات اهل سنت در این رابطه [صدّیق کی مصداق شناسی اور اس سے متعلق اہل سنت کی روایات کا جائزہ]، فصلنامه کلام اسلامی، ج۲۲، شمارہ ۸۶، ۱۳۹۲ش، ص۵۹–۷۶۔
2. مجتبی زاده، حسن، حدیث صدیق اکبر [حدیث صدیق اکبر]، دانشنامه کلام اسلامی، ج۳ (ت–ح)، ص۴۶۴–۴۷۱۔
3. مجتبی زاده، حسن، حدیث فاروق اعظم [حدیث فاروق اعظم]، دانشنامه کلام اسلامی، ج۳ (ت–ح)، ص۵۰۶–۵۱۰۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔