مقدسات اہل سنت کی توہین، بالخصوص خلفاء، صحابہ کرام، اور ازواج النبی (ص) کو "سبّ” (دشنام) دینے کا شرعی حکم، شیعہ فقہ میں ایک اہم اور حساس موضوع ہے۔ اسلامی فقہ میں "سبّ” یا "شتم” سے مراد کسی شخص کی تحقیر، تذلیل اور توہین کی نیت سے گالی دینا، برا بھلا کہنا، یا بازاری اور توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا ہے۔
زیر نظر مقالہ اسی فقہی سوال کا جائزہ لیتا ہے۔ اس مقالے کا واحد محور یہ ہے کہ آیا شیعہ فقہ میں دیگر مسلمانوں کے مقدسات کی "تذلیل و توہین” کی اجازت ہے یا نہیں؟ بنیادی فقہی اصول یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کی توہین، اس کی آبروریزی، اور اسے گالی دینا حرام ہے۔ یہ حکم اس وقت مزید سنگین ہو جاتا ہے جب اس کا نشانہ اربوں مسلمانوں (اہل سنت) کے نزدیک قابل احترام شخصیات ہوں، کیونکہ مقدسات اہل سنت کی توہین کا عمل نہ صرف انفرادی گناہ ہے بلکہ امت مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔
سبّ (دشنام) سے ممانعت
شیعہ فقہ کے بنیادی مآخذ قرآن کریم کے بعد سنتِ نبوی (ص) اور سیرت و ارشاداتِ ائمہ اہل بیت (ع) ہیں۔ جب ہم مقدسات اہل سنت کی توہین کے اس موضوع کا جائزہ لیتے ہیں، تو ہمیں ائمہ (ع) کی طرف سے "سبّ” اور "دشنام طرازی” کی سخت ممانعت ملتی ہے۔
الف) حضرت علی (ع) کی سیرت (واقعہ جنگِ صفین)
مقدسات اہل سنت کے اس موضوع پر سب سے واضح اور مستند حوالہ نہج البلاغہ میں ملتا ہے۔ جنگِ صفین کے دوران، جب حضرت علی (ع) نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اہل شام (معاویہ کے لشکر) کو گالیاں دیتے ہوئے سنا، تو آپ نے انہیں اس عمل سے سختی سے روکا۔
"إِنِّي أَكْرَهُ لَكُمْ أَنْ تَكُونُوا سَبَّابِينَ، وَلَكِنَّكُمْ لَوْ وَصَفْتُمْ أَعْمَالَهُمْ، وَذَكَرْتُمْ حَالَهُمْ، كَانَ أَصْوَبَ فِي الْقَوْلِ وَأَبْلَغَ فِي الْعُذْرِ” "میں تمہارے لیے اس بات کو سخت ناپسند کرتا ہوں کہ تم گالیاں دینے والے (سبّاب) بنو۔ لیکن اگر تم (گالیوں کے بجائے) ان کے اعمال کا تذکرہ کرتے اور ان کی حالت بیان کرتے، تو یہ بات کہنے میں زیادہ درست اور عذر تمام کرنے میں زیادہ بہتر ہوتی۔”[۱]
یہ تاریخی واقعہ شیعہ فقہ کے لیے ایک بنیادی ستون ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی، اپنے بدترین مخالفین کے لیے بھی، "سبّ” (گالی) دینا ائمہ (ع) کے نزدیک ناپسندیدہ اور ممنوع تھا۔
ب) امام جعفر صادق (ع) کے ارشادات
ائمہ اہل بیت (ع)، بالخصوص امام صادق (ع)، نے اپنے پیروکاروں کو تقویٰ، حسنِ اخلاق، اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ بہترین رویہ رکھنے کی تلقین کی۔
۱۔ ایک مشہور روایت میں امام صادق (ع) نے فرمایا: "کُونُوا لَنَا زَیْناً وَ لَا تَکُونُوا عَلَیْنَا شَیْناً” "ہمارے لیے زینت (باعثِ فخر) بنو، ہمارے لیے باعثِ ننگ و عار نہ بنو۔”[۲]
فقہاء اس حدیث کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ مقدسات اہل سنت کی توہین، دشنام طرازی اور بد اخلاقی واضح طور پر ائمہ (ع) کے لیے "شین” (باعثِ عار) ہے اور اس سے مکتبِ اہل بیت (ع) کی بدنامی ہوتی ہے۔
۲۔ امام صادق (ع) نے اس قرآنی آیت سے استدلال کرتے ہوئے "سبّ” سے منع فرمایا:
"وَلاَ تَسُبُّواْ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ فَيَسُبُّواْ اللّهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ"[۳] "اور (اے ایمان والو!) تم ان (معبودوں) کو گالی مت دو جن کی یہ لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں، ورنہ وہ لوگ جہالت کے سبب، زیادتی کرتے ہوئے اللہ کو گالی دیں گے۔”
روایات میں آیا ہے کہ جب امام صادق (ع) سے عرض کیا گیا کہ ایک شخص مسجد میں اعلانیہ آپ کے دشمنوں پر سبّ و شتم کرتا ہے، تو امام (ع) نے اس عمل سے سختی سے منع کیا اور فرمایا کہ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ لوگ ہمارے (یعنی ائمہ کے) خلاف زبان درازی کریں گے۔ فقہاء اس سے یہ اصول اخذ کرتے ہیں کہ "سبّ” کا عمل "تسبیب” (یعنی بالواسطہ طور پر اپنے ہی مقدسات کی توہین کا سبب بننا) کی وجہ سے بھی حرام ہے۔
"سبّ” کا فقہی تجزیہ اور حرمت کے عناوین
شیعہ فقہاء جب کسی عمل کے حکم کا تعین کرتے ہیں، تو وہ اس عمل پر لاگو ہونے والے مختلف "عناوین” کا جائزہ لیتے ہیں۔ مقدسات اہل سنت کی توہین بالخصوص خلفاء، صحابہ اور ازواج النبی (ص) کو "سبّ” (دشنام) کرنا بیک وقت کئی حرام عناوین کے تحت آتا ہے:
۱۔ عنوانِ اولی: سبّ المسلم (مسلمان کو گالی دینا)
بنیادی حکم (عنوانِ اولی) یہ ہے کہ کسی بھی مسلمان کو گالی دینا ("سباب المسلم فسوق")، اس کی تحقیر کرنا، اور اس کی آبروریزی کرنا حرام ہے۔ یہ ایک متفقہ اصول ہے۔
۲۔ عنوانِ ثانوی: فتنہ انگیزی و تفرقہ
یہ اس موضوع کا اہم ترین فقہی پہلو ہے۔ جب "سبّ” کا عمل مقدسات اہل سنت کی توہین اور عام مومن کے بجائے دیگر اسلامی فرقوں کے پیشواؤں اور قابل احترام شخصیات (جیسے خلفاء، صحابہ و ازواج النبی (ص)) کے لیے ہو، تو یہ محض انفرادی گناہ نہیں رہتا، بلکہ یہ "فتنہ” اور "تفرقہ بین المسلمین” کا عنوان اختیار کر لیتا ہے۔
فتنہ انگیزی: قرآن مجید میں "الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ"[۴] (فتنہ قتل سے زیادہ سنگین ہے) فرمایا گیا ہے۔ ایسا عمل جو اربوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرے اور مقدسات اہل سنت کی توہین اسلامی معاشروں میں تصادم، نفرت اور قتل و غارت کا سبب بنے، وہ بلاشبہ "فتنہ انگیزی” کے حرام عنوان کے تحت آتا ہے۔
تفرقہ بین المسلمین: قرآن نے "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"[۵] (اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو) کا واضح حکم دیا ہے۔ جو عمل بھی مسلمانوں کے درمیان ناقابلِ مصالحت خلیج پیدا کرے، وہ اس قرآنی حکم کے صریح خلاف ورزی ہے۔
۳۔ وہنِ مذہب (مذہب کی توہین کا باعث بننا)
جب کوئی شخص جو خود کو شیعہ کہلاتا ہو، وہ دیگر فرقوں کے مقدسات کو گالی دیتا ہے اور مقدسات اہل سنت کی توہین کرتا ہے، تو وہ پوری دنیا کو یہ تاثر دیتا ہے کہ (نعوذ باللہ) مکتبِ اہل بیت (ع) گالی گلوچ اور دشنام طرازی کا مذہب ہے۔ یہ عمل "وہنِ مذہب” (مذہب کی ساکھ کو کمزور کرنا) کہلاتا ہے، اور تمام فقہاء کے نزدیک "وھنِ مذہب” حرامِ قطعی ہے۔
"سبّ” (دشنام) پر معاصر مراجع عظام کے فتاویٰ
موجودہ دور کے پیچیدہ حالات، میڈیا کے پھیلاؤ، اور بین المسلمین فتنہ انگیزی کی کوششوں کے پیش نظر، جید شیعہ مراجع عظام نے "سبّ” اور "توہین” کے اس عمل اور مقدسات اہل سنت کی توہین پر واضح اور دو ٹوک فقہی مؤقف بیان کیا ہے۔ ذیل میں ان فتاویٰ کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے:
الف) آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (حفظہ اللہ)
سب سے مشہور اور واضح فتویٰ آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے ۲۰۱۰ میں سامنے آیا، جب انہوں نے اہل سنت کے مقدسات کی توہین کو واضح طور پر حرام قرار دیا۔
فتویٰ کا متن (ترجمہ): "برادرانِ اہل سنت کے مقدسات کی توہین، بشمول نبی اکرم (ص) کی زوجہ محترمہ (جناب عائشہ) پر تہمت لگانا اور اسی طرح دیگر صحابہ کرام کی توہین کرنا، حرام شرعی ہے۔”[۶]
آیت اللہ خامنہ ای نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ جو بھی عمل، چاہے وہ شیعوں کی طرف سے ہو یا سنیوں کی طرف سے، امت میں تفرقہ ڈالنے کا سبب بنے، وہ دشمنِ اسلام (استکبارِ عالمی) کی خدمت ہے اور شرعاً حرام ہے۔ یہاں حرمت کا حکم صرف اخلاقی نہیں، بلکہ "حرام شرعی” ہے، جو "فتنہ انگیزی” اور "تفرقہ” کے عناوینِ ثانویہ کے تحت آتا ہے۔
ب) آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دام ظلہ)
آیت اللہ سیستانی، جو نجف اشرف میں مرجعیت کا مرکز ہیں، اتحادِ بین المسلمین کے سب سے بڑے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا مؤقف اس حوالے سے انتہائی واضح ہے۔
فتویٰ (استفتاء کا جواب): "اہل سنت کے مقدسات (خلفاء، صحابہ، ازواج النبی (ص)) کو دشنام اور گالی دینا، ائمہ اہل بیت (ع) کے ان ارشادات کے صریحاً خلاف ہے جو انہوں نے اپنے پیروکاروں اور شاگردوں کو دیے۔”[۷]
آیت اللہ سیستانی کا فقہی مؤقف صرف سیاسی یا سفارتی نہیں، بلکہ خالصتاً ائمہ (ع) کی تعلیمات پر مبنی ہے۔ ان کا مشہور قول، جو ان کے فقہی مؤقف کا عکاس ہے، یہ ہے: "لا تقولوا إخواننا أهل السنة، بل قولوا أنفسنا أهل السنة” "یہ نہ کہو کہ اہل سنت ہمارے بھائی ہیں، بلکہ یہ کہو کہ وہ ہماری جان (ہمارا نفس) ہیں۔”
یہ فقہی مؤقف "سبّ” اور مقدسات اہل سنت کی توہین کے عمل کو امت کے اپنے ہی وجود پر حملہ قرار دیتا ہے، جو مقدسات اہل سنت کی توہین کی حرمت کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔
ج) آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی (دام ظلہ)
آپ سے جب مقدسات اہل سنت کی توہین کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح جواب دیا: فتویٰ: "ہر وہ کام جس سے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا ہو، بالخصوص موجودہ حالات میں، اور کفر و الحاد کے مقابلے میں، اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔… کسی بھی حال میں دیگر فرقوں کے مقدسات کی توہین جائز نہیں ہے۔”[۸]
آیت اللہ مکارم شیرازی کے نزدیک "تفرقہ” اور "اختلاف” کو کلیدی طور پر حرام کا عنوان دیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک، اگر کوئی عمل (خواہ وہ فی نفسہ مستحب ہی کیوں نہ ہو) مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرے، تو وہ "عنوانِ ثانوی” کے تحت حرام ہو جائے گا۔ "سبّ” کا عمل تو ویسے بھی اخلاقی طور پر مذموم ہے، اور جب یہ تفرقہ کا باعث بنے تو اس کی حرمت قطعی ہو جاتی ہے۔
د) آیت اللہ العظمیٰ وحید خراسانی (دام ظلہ)
آپ نے بھی مقدسات اہل سنت کی توہین کے مسئلہ پر واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے فرمایا: فتویٰ: "دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ دشمنی نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے مقدسات کی توہین نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے بزرگوں پر لعن اور سبّ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کو اہل بیت (ع) اور ان کے معارف سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔”[۹]
آیت اللہ وحید خراسانی ایک انتہائی اہم فقہی نکتہ بیان کرتے ہیں۔ وہ حرمت کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ عمل "تبلیغِ دین” میں رکاوٹ بنتا ہے۔ جب کوئی شیعہ "سبّ” کرتا ہے، تو وہ اہل سنت کو مکتبِ اہل بیت (ع) سے متنفر کر دیتا ہے۔ یہ عمل "صد عن سبیل اللہ” (اللہ کے راستے سے روکنا) کے زمرے میں آتا ہے اور "وہنِ مذہب” کا باعث بنتا ہے، اس لیے یہ جائز نہیں ہے۔
ہ) آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی (دام ظلہ)
آپ نے مقدسات اہل سنت کی توہین کے اس عمل کو واضح گناہ قرار دیا: فتویٰ: "صحابہ کو سبّ کرنا، اہل سنت کے مقدسات کی اہانت کرنا، اور دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے عقائد کی توہین اور ظالمانہ تحقیر کرنا حرام ہے، اور امت مسلمہ کے اتحاد کی بنیاد کو کمزور کرنا اور تفرقہ کی آگ بھڑکانا ایک بڑا گناہ ہے۔”[۱۰]
و) دیگر مراجع کے متفقہ بیانات
تقریباً تمام دیگر جید مراجع، جیسے آیت اللہ نوری ہمدانی، آیت اللہ موسوی اردبیلی، اور آیت اللہ شبیری زنجانی، سب اس بات پر متفق ہیں کہ ہر وہ عمل جو مسلمانوں کے درمیان "تفرقہ”، "فتنہ”، "اختلاف” اور "دشمنی” کا باعث بنے، اس سے سختی سے اجتناب واجب ہے۔ اسی بنیاد پر، مقدسات اہل سنت کی توہین، جو فتنہ انگیزی کی ایک واضح شکل ہے، ان کے نزدیک بھی سختی سے ممنوع اور حرام ہے۔ ان فقہاء کے نزدیک مقدسات اہل سنت کی توہین سے پرہیز کرنا شرعی طور پر ضروری ہے تاکہ امت مسلمہ میں انتشار پیدا نہ ہو، اور مقدسات اہل سنت کی توہین کے ذریعے دشمنانِ اسلام کو فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملے۔
نتیجہ
شیعہ فقہ کی رو سے مقدسات اہل سنت کی توہین قطعی طور پر حرام ہے۔ خلفاء، صحابہ اور ازواج النبی (ص) کو "سبّ” کرنا (یعنی گالی دینا، دشنام طرازی کرنا، یا توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا) مقدسات اہل سنت کی توہین کی واضح ترین شکل ہے، اور یہ عمل شرعاً جائز نہیں۔ لہٰذا، جو بھی شخص مقدسات اہل سنت کی توہین کے اس عمل (سبّ) کا ارتکاب کرتا ہے، وہ نہ صرف ایک انفرادی گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، بلکہ وہ ائمہ اہل بیت (ع) کی واضح تعلیمات کی خلاف ورزی کرتا ہے، امت مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچاتا ہے، اور مقدسات اہل سنت کی توہین کے ذریعے مکتبِ تشیع کی بدنامی کا سبب بننے کا بھی مجرم ہوتا ہے۔
حوالہ جات
[۱] سید رضی، نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۶۔
[۲] کلینی، کافی، کتاب الاِشرۃ۔
[۳] سورہ انعام، آیت ۱۰۸۔
[۴] سورہ بقرہ آیت ۱۹۱۔
[۵] سورہ آل عمران آیت ۱۰۳۔
[۶] دفتر استفتائات رہبر معظم، ۲۰۱۰۔
[۷] دفتر آیت اللہ سیستانی۔
[۸] دفتر آیت اللہ مکارم شیرازی۔
[۹] دفتر آیت اللہ وحید خراسانی۔
[۱۰] دفتر آیت اللہ جوادی آملی۔
فہرست منابع
۱. قرآن کریم
1. دفاتر استفتائات آیات عظام مکارم شیرازی، وحید خراسانی، جوادی آملی، نوری ہمدانی و شبیری زنجانی۔
2. ماخوذ از: ویبسائٹسِ رسمی دفاتر مراجع تقلید.
3. دفتر استفتائات آیت اللہ العظمیٰ خامنہای۔ منبع: Khamenei.ir۔
4. دفتر استفتائات آیت اللہ العظمیٰ سیستانی۔ منبع: Sistani.org۔
5. کلینی، محمد بن یعقوب۔ الکافی، تحقیق و تصحیح: علیاکبر غفاری و محمد آخوندی۔ تہران: دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔۔
6. سید رضی، محمد بن حسین۔ نہج البلاغہ، تحقیق: صبحی صالح۔ قم: ہجرت، چاپ اول، ۱۴۱۴ھ۔۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
بی آزار شیرازی، عبدالکریم، اثرات معکوس اهانت به مقدسات دیگر مذاهب [دیگر مذاہب کے مقدسات کی توہین کے منفی اثرات]، مطالعات تقریبی مذاهب اسلامی، زمستان ۱۳۸۹ش، شماره ۲۲، رتبه: ISC، ص۹۱–۱۰۰۔