انقطاع وحی کا افسانہ اور نزول تدریجی کی حکمت

انقطاع وحی کا افسانہ اور نزول تدریجی کی حکمت

کپی کردن لینک

تاریخِ اسلام اور علومِ قرآن کا ایک نازک اور حساس موضوع انقطاع وحی کا رہا ہے۔ اس سے مراد وہ روایات ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ غارِ حرا میں پہلی وحی (سورہ علق) کے نزول کے بعد ایک ایسا وقفہ آیا جس میں وحی کا سلسلہ مکمل طور پر رُک گیا۔ ان روایات میں نہ صرف اس وقفے کی مدت میں شدید تضاد پایا جاتا ہے (چند ایام سے لے کر تین سال تک)، بلکہ ان میں کچھ ایسے مضامین بھی شامل ہیں جو (نعوذ باللہ) پیغمبر اکرم (ص) کی ذاتِ اقدس پر شدید ذہنی اضطراب، مایوسی اور یہاں تک کہ خودکشی کے ارادے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

اس تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ انقطاع وحی کا یہ تصور، جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے، نہ صرف سندی اعتبار سے کمزور اور مُرسَل روایات پر مبنی ہے، بلکہ یہ متن کے اعتبار سے بھی قرآن، عقل اور عقیدۂ عصمتِ انبیاء کے صریحاً خلاف ہے۔ اس کے برعکس، جسے "انقطاع وحی” سمجھا گیا، وہ دراصل قرآن کے "نزولِ تدریجی” کا ایک فطری اور حکیمانہ حصہ تھا، جس کا مقصد ہی پیغمبر (ص) کے قلبِ مبارک کو مضبوط کرنا (تثبیتِ فؤاد)، تعلیم و تربیت میں تدریج اور امت کی عملی رہنمائی تھا۔

نزول وحی کا آغاز

بعثتِ نبوی (ص) کا آغاز "اِقْرَأْ” کی الٰہی صدا سے ہوا۔ یہ انسانیت کی تاریخ کا سب سے عظیم لمحہ تھا جب زمین کا رابطہ ایک بار پھر آسمان سے مضبوطی سے قائم ہو گیا۔ اس پہلے تجربے کے بعد، پیغمبر اکرم (ص) نے ۲۳ سال تک مسلسل وحیِ الٰہی کو وصول کیا، جس کے مجموعے کا نام قرآنِ مجید ہے۔ لیکن سیرت و تاریخ کی بعض کتابوں میں، اس ۲۳ سالہ سفر کے بالکل آغاز میں، ایک پُراسرار وقفے کا ذکر ملتا ہے جسے اصطلاحاً "انقطاع وحی” یا "فترۃ الوحی” کہا جاتا ہے یا اردو میں بندش وحی کے ایام کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[۱]

یہ موضوع محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ اس کے گہرے کلامی اور عقیدتی اثرات ہیں۔ انقطاع وحی کا روایتی بیانیہ، جو بدقسمتی سے بعض ابتدائی مؤرخین (بالخصوص طبری) اور مفسرین کے ہاں ملتا ہے، ایک ایسی تصویر کشی کرتا ہے جو مقامِ نبوت اور پیغمبرانہ عزم و استقامت کے شایانِ شان نہیں۔ ان روایات کے مطابق، پہلی وحی کے بعد جب جبرائیل (ع) کی آمد کا سلسلہ رُک گیا، تو پیغمبر اکرم (ص) اس قدر شدید غم، خوف اور مایوسی کا شکار ہوئے کہ (نقلِ کفر کفر نہ باشد) آپ (ص) نے بارہا خود کو پہاڑ کی چوٹی سے گرا کر جان دینے کا ارادہ کیا۔ [۲]

یہیں سے سیرت نگاروں اور محققین مفسرین کے درمیان ایک واضح اختلاف جنم لیتا ہے۔ ایک گروہ ان روایات کو، باوجود ان کی سندی کمزوریوں کے، تاریخی حقیقت کے طور پر قبول کرنے پر مائل نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، آیت اللہ جعفر سبحانی جیسے محققین اور متکلمین کا ایک مضبوط گروہ اس پورے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انقطاع وحی کا یہ افسانہ، ضعیف اور مُرسَل روایات، اسرائیلیات کے اثرات اور مقامِ نبوت کی صحیح معرفت نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔

انقطاع وحی کا روایتی بیانیہ اور اس کے تضادات

سیرت و تفسیر کی جن کتب میں انقطاع وحی کے واقعے کو نقل کیا گیا ہے، ان میں اس کی تفصیلات کچھ یوں ملتی ہیں[۳]:

۱. اصل واقعہ: غارِ حرا میں سورہ علق کی ابتدائی آیات کے نزول کے بعد، وحی کا سلسلہ اچانک رُک گیا۔[۴]

۲. کفار کے طعنے: اس وقفے کے دوران، مشرکینِ مکہ، بالخصوص ابولہب کی بیوی اُمِ جمیل، نے پیغمبر اکرم (ص) کو طعنہ دینا شروع کر دیا کہ (نعوذ باللہ) "تیرے رب نے تجھے چھوڑ دیا اور وہ تجھ سے ناراض ہو گیا ہے”[۵]۔

۳. مبینہ ردِ عمل: ان روایات کا سب سے متنازعہ حصہ پیغمبر (ص) کا ردِ عمل ہے۔ یہ روایات دعویٰ کرتی ہیں کہ آپ (ص) اس صورتحال سے اس قدر دل شکستہ اور مضطرب ہوئے کہ آپ (ص) کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے اور آپ (ص) نے خودکشی کا ارادہ کیا۔[۶]

۴. سورۃ الضحیٰ کا نزول: اس طویل اور اذیت ناک انتظار کے بعد، سورۃ الضحیٰ ("وَالضُّحَىٰ… مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ") نازل ہوئی، جس نے آپ (ص) کو تسلی دی کہ آپ کے رب نے آپ کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ ہی وہ ناراض ہوا ہے۔[۷]

یہ بیانیہ، اگرچہ بظاہر ایک مکمل کہانی لگتا ہے، لیکن تحقیقی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا اور اپنے اندر شدید تضادات رکھتا ہے۔

مدت کا شدید تضاد

کسی بھی تاریخی واقعے کی صحت کو پرکھنے کا ایک پیمانہ اس کی تفصیلات میں ہم آہنگی ہے۔ انقطاع وحی یا بندش وحی کے ایام کی روایات اس اولین معیار پر ہی ناکام ہو جاتی ہیں۔ اس وقفے کی مدت کے بارے میں راویوں میں اس قدر اختلاف ہے کہ اس سے اصل واقعے کی حیثیت ہی مشکوک ہو جاتی ہے:

بعض روایات اسے چند ایام (مثلاً ۱۲ یا ۱۵ دن) قرار دیتی ہیں۔ دیگر اسے ۴۰ دن تک لے جاتی ہیں۔ کچھ روایات میں یہ مدت چھ ماہ ہے۔ اور بعض نے اسے ِاشعه سال یا تین سال تک طویل کر دیا ہے[۸]۔

یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ یہ واقعہ کسی مستند اور متواتر ذریعے سے نقل نہیں ہوا، بلکہ یہ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے جس میں ہر راوی نے اپنے گمان کے مطابق کمی بیشی کر دی ہے۔ ایک واقعہ جس کی مدت تین دن اور تین سال کے درمیان معلق ہو، وہ تاریخی اعتبار سے کس قدر مستند ہو سکتا ہے؟

مقام نبوت سے متصادم روایات

ان روایات کا سب سے سنگین پہلو وہ ہے جو انقطاع وحی کے دوران پیغمبر اکرم (ص) کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ روایات، جن کا مرکزی راوی اکثر ابن شہاب الزہری (ایک تابعی) ہے، دعویٰ کرتی ہیں کہ آپ (ص) اس قدر مایوس ہوئے کہ آپ (ص) نے بارہا پہاڑوں کی چوٹیوں پر جا کر خود کو گرا دینے کا ارادہ کیا[۹]۔

یہاں پہنچ کر ہر صاحبِ ایمان اور صاحبِ عقل ٹھٹھک جاتا ہے۔ کیا یہ وہی پیغمبر (ص) ہیں جنہیں اللہ نے اپنی سب سے بڑی اور آخری رسالت کے لیے منتخب کیا؟ کیا وہ ہستی جو "خاتم النبیین” بننے والی تھی، اپنے مشن کے آغاز میں ہی اس قدر کمزور عزم، متزلزل یقین اور شدید مایوسی کا شکار ہو سکتی تھی؟

یہ تصویر اس نبی (ص) کی نہیں ہو سکتی جسے قرآن نے "خُلقِ عظیم” کا مالک کہا ہو، اور جسے ہر مشکل میں "فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ"[۱۰] (پس آپ ثابت قدم رہیں جیسا آپ کو حکم دیا گیا ہے) کا درس دیا گیا ہو۔ یہ بیانیہ نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ یہ عصمتِ انبیاء کے بنیادی اسلامی عقیدے سے براہِ راست متصادم ہے۔

انقطاع وحی کی روایات کا جائزہ

محققین نے ان روایات پر محض جذباتی نہیں بلکہ ٹھوس علمی اور تحقیقی نقد کیا ہے۔ یہ تنقید دو بنیادی محوروں پر قائم ہے: سند کا ضعف اور متن کا بطلان۔

الف. سند کا ضعف (کمزور اسناد)

انقطاع وحی اور بالخصوص پیغمبر (ص) کے (نعوذ باللہ) خودکشی کے ارادے سے متعلق روایات کا ایک بڑا حصہ "ابن شہاب الزہری” نامی تابعی سے مروی ہے۔

روایت کا مُرسَل ہونا: الزہری ایک تابعی تھے، وہ صحابی نہیں تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ اس واقعے کے عینی شاہد نہیں تھے۔ جب وہ یہ واقعہ بیان کرتے ہیں تو وہ اس صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے جس سے انہوں نے یہ بات سنی۔ اصولِ حدیث کی رو سے ایسی روایت "مُرسَل” (منقطع السند) کہلاتی ہے۔ مُرسَل روایت، خاص طور پر جب وہ عقیدے کے ایسے نازک اور حساس معاملے سے متعلق ہو، حجت اور قابلِ اعتبار نہیں سمجھی جاتی۔

الزہری کا پس منظر: بعض محققین الزہری کے اموی دربار سے روابط اور ان کی شخصیت پر بھی سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن صرف سند کا مرسل ہونا ہی ان روایات کو مسترد کرنے کے لیے ایک کافی علمی دلیل ہے۔[۱۱]

ب. متن کا بطلان اور عقلی دلائل

اگر ان روایات کی کمزور سند سے صرفِ نظر کر بھی لیا جائے، تب بھی ان کا "متن” انہیں ناقابلِ قبول بنا دیتا ہے۔

۱۔ عصمت انبیاء کے بنیادی عقیدے سے ٹکراؤ

یہ اس بحث کا سب سے وزنی اور بنیادی نکتہ ہے۔

مایوسی کفر ہے: قرآنِ مجید اللہ کی رحمت سے مایوسی کو گمراہی اور کفر قرار دیتا ہے ("إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِن رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ"[۱۲]۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ نبی (ص) جو پوری دنیا کو اس مایوسی سے نکالنے آیا تھا، وہ خود اپنے مشن کے آغاز میں ہی اس کا شکار ہو جائے؟

شیطانی وسوسہ: خودکشی کا خیال، شکوک و شبہات اور شدید اضطراب، یہ سب شیطانی وساوس کی علامات ہیں۔ جب کہ انبیاءِ کرام (ع)، بالخصوص منصبِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد، اس قسم کے شیطانی تسلط اور وساوس سے مکمل طور پر معصوم اور محفوظ ہوتے ہیں۔ ان کا قلب، وحیِ الٰہی کا مرکز ہوتا ہے، شیطانی وساوس کی آماجگاہ نہیں بن سکتا[۱۳]۔

یقین کا تزلزل: پہلی وحی کا تجربہ، جبرائیلِ امین (ع) کا دیدار، اور اللہ کے کلام کو سننا، ایک ایسا غیر معمولی تجربہ تھا جو پیغمبر (ص) کے قلبِ مبارک میں یقینِ کامل پیدا کرنے کے لیے کافی تھا۔ اس کے بعد کسی بھی قسم کا "وقفہ” انہیں اس قسم کے اضطراب میں مبتلا نہیں کر سکتا جو ان روایات میں بیان ہوا ہے۔

۲۔ اسرائیلیات اور مستشرقین کا فکری حملہ

تاریخِ طبری اور دیگر کتب میں بہت سی ایسی روایات شامل ہو گئی ہیں جو "اسرائیلیات” (یہودی و عیسائی روایات) یا من گھڑت افسانوں سے متاثر ہیں۔ انبیاءِ کرام (ع) کو (نعوذ باللہ) گناہوں میں ملوث، کمزور اور شکوک و شبہات کا شکار دکھانا، یہ اسرائیلی روایات کا خاصہ رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ انقطاع وحی کی اس ڈرامائی تصویر کشی میں بھی وہی ذہنیت کارفرما ہو، جس کا مقصد مقامِ نبوت کی عظمت کو کم کرنا تھا۔ مستشرقین نے بھی ان ہی روایات کو اسلامی مآخذ سے اٹھا کر اسلام اور پیغمبرِ اسلام (ص) کے خلاف بطورِ ثبوت پیش کیا ہے۔[۱۴]

۳۔ سورۃ الضحیٰ کا حقیقی مفہوم

روایتی بیانیہ سورۃ الضحیٰ کو پیغمبر (ص) کی ذاتی مایوسی کا جواب قرار دیتا ہے۔ لیکن تحقیقی نظریہ یہ ہے کہ اس سورت کا شانِ نزول بالکل مختلف ہے۔ یہ سورت آپ (ص) کی (مبینہ) مایوسی کا علاج نہیں تھی، بلکہ یہ کفار کے طعنوں کا دندان شکن جواب تھی۔ جب کفار نے ایک فطری وقفے کو بنیاد بنا کر پروپیگنڈا کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرما کر اپنے حبیب (ص) کی شان بلند کی اور دشمنوں کو جواب دیا کہ "آپ کے رب نے آپ کو ہرگز نہیں چھوڑا”۔ یہ سورت پیغمبر (ص) کی دلجوئی سے زیادہ، آپ (ص) کی حمایت کا عوامی اعلان تھی۔[۱۵]

انقطاع وحی کا متبادل اور نزول تدریجی کی حکمتیں

اگر انقطاع وحی کا افسانہ غلط ہے، تو پھر وحی کے درمیان آنے والے وقفوں کی حقیقت کیا تھی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وقفے "انقطاع” نہیں تھے، بلکہ "تدریج” کا حصہ تھے۔ یہ کوئی خرابی یا بھول نہیں تھی، بلکہ یہ عین حکمتِ الٰہی تھی۔ قرآنِ مجید خود مشرکین کے اس اعتراض کو نقل کرتا ہے: "وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً"[۱۶] (اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نازل نہیں کر دیا گیا؟)

اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اس کا جواب خود دیتا ہے: "كَذَٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا"[۱۷] (ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ ہم اس کے ذریعے آپ (ص) کے دل کو مضبوط کریں، اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھوایا ہے)۔

"تثبیتِ فؤاد” (دل کو مضبوط کرنے) اور "ترتیل” (ٹھہر ٹھہر کر نازل کرنے) کو نزولِ تدریجی کی سب سے بڑی حکمت ہے[۱۸]۔ اس تدریجی نزول (بشمول اس کے وقفوں) کی متعدد حکمتیں تھیں:

۱۔ پیغمبر (ص) کے قلب کی روحانی تقویت (تثبیت فؤاد)

یہ اس حکمت عملی کا سب سے اہم پہلو تھا۔

بھاری ذمہ داری: رسالت کا بوجھ انتہائی سنگین تھا۔ پیغمبر اکرم (ص) کو روزانہ کی بنیاد پر شدید مخالفت، ذہنی اذیت، اور سماجی بائیکاٹ کا سامنا تھا۔

مسلسل کمک: اگر قرآن ایک ہی بار نازل ہو جاتا، تو یہ روحانی تعلق ایک ہی بار قائم ہو کر ختم ہو جاتا۔ لیکن تدریجی نزول کا مطلب یہ تھا کہ پیغمبر (ص) کا رابطہ عالمِ بالا سے، اور حضرت جبرائیل (ع) سے، مسلسل ۲۳ سال تک قائم رہا۔

وقفوں کی حکمت: وحی کے درمیان آنے والے "وقفے” (جسے غلط طور پر انقطاع وحی کہا گیا)، دراصل پیغمبر (ص) کے اندر پچھلی وحی کو جذب کرنے اور اگلی وحی کے استقبال کے لیے روحانی تشنگی پیدا کرتے تھے۔ جب بھی آپ (ص) پر مشکلات کا ہجوم ہوتا، وحی کی ایک نئی قسط نازل ہوتی اور یہ نیا نزول، آپ (ص) کے قلبِ مبارک کے لیے تسکین، تقویت اور تازہ توانائی کا باعث بنتا تھا[۱۹]۔

۲۔ تعلیم و تربیت اور نفاذ احکام میں آسانی

قرآن صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہِ حیات تھا جو ایک جاہل اور وحشی معاشرے کو صفر سے اٹھا کر تہذیب کے عروج تک لے جانے والا تھا۔

تدریجی نفاذ: اگر تمام احکامات (نماز، روزہ، زکوٰۃ، جہاد، شراب کی حرمت، سود کی ممانعت) ایک ہی دن نازل کر دیے جاتے، تو اس نوزائیدہ مسلم معاشرے کے لیے ان سب کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ناممکن ہو جاتا۔

فطری عمل: تدریجی نزول نے اس بات کو ممکن بنایا کہ عقائد پہلے مضبوط کیے جائیں، پھر بتدریج عبادات اور اس کے بعد معاشرتی و معاشی احکامات نافذ کیے جائیں (جیسے شراب کی حرمت تین مراحل میں ہوئی)۔ اس سے تعلیم و تربیت کا عمل فطری اور مؤثر طریقے سے انجام پایا۔[۲۰]

نتیجہ

انقطاع وحی کا روایتی بیانیہ، جس میں پیغمبر اکرم (ص) کو (نعوذ باللہ) مایوس، مضطرب اور شکوک و شبہات کا شکار دکھایا گیا ہے، علمی اور عقلی کسی بھی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ یہ نظریہ نہ صرف "مُرسَل” اور ضعیف روایات پر مبنی ہے، بلکہ یہ "عصمتِ انبیاء” کے بنیادی عقیدے اور قرآن کی بیان کردہ پیغمبر (ص) کی "ثابت قدمی” کے بھی صریحاً خلاف ہے۔ اس کے برعکس، محققین علماء کا پیش کردہ نظریہ، جو قرآن کی آیت "لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ” پر مبنی ہے، ایک انتہائی مضبوط، منطقی اور شانِ نبوت کے عین مطابق تصویر پیش کرتا ہے۔ اس لیے ہمیں سیرتِ نبوی (ص) کا مطالعہ کرتے وقت ایسی کمزور اور مقامِ نبوت کے منافی روایات پر تنقیدی نگاہ رکھیں، اور قرآن کے اپنے بیان کردہ اصول "نزولِ تدریجی” پر بھروسہ کریں۔ یہ فکری تفریق ہمارے ذہن میں پیغمبرِ اکرم (ص) کے اس حقیقی تصور کو واضح کرتی ہے جو ایک لمحے کے لیے بھی متزلزل نہیں ہوا، بلکہ ہر قدم پر عزم، یقین اور الٰہی تائید کا مظہر رہا۔


حوالہ جات

[۱] بہادری، «فترت وحی»، ص۵۲۔
[۲] بخاری، صحیح بخاری (کتاب التعبیر، حدیث ۶۹۸۲)؛ ابن حجر، فتح الباری ج ۱۶ص۲۹۰۔
[۳] معرفت، تاریخ قرآن، ص۳۳.
[۴] رامیار، تاریخ قرآن، ص۷۳۔
[۵] طبری، تاریخ، ج۲، ص۵۲۔
[۶] انصاری، مسعود، «فترت وحی»، ص۱۵۔
[۷] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۴۱۔
[۸] مکارم، تفسیر نمونہ، ج۲۷،‌ص۹۶؛ رامیار، تاریخ قرآن، ص۷۲۔
[۹] بخاری، صحیح بخاری (کتاب التعبیر، حدیث ۶۹۸۲)؛ ابن حجر، فتح الباری ج ۱۶ص۲۹۰۔
[۱۰] سورہ ہود آیت ۱۱۲۔
[۱۱] ابی حاتم، الجرح والتعدیل ج۶ ص۳۸۔
[۱۲] سورہ یوسف آیت ۸۷۔
[۱۳] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۴۳۔
[۱۴] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۴۴۔
[۱۵] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۴۵۔
[۱۶] سورہ فرقان آیت ۳۲۔
[۱۷] سورہ فرقان آیت ۳۲۔
[۱۸] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۹۶۔
[۱۹] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۹۷۔
[۲۰] سبحانی، فروغ ابدیت، ج۱، ص۲۹۸۔


فہرست منابع

۱. ابن ابی حاتم، ابو محمد عبدالرحمن بن محمد۔ الجرح والتعدیل، حیدر آباد: مجلس دائرۃ المعارف العثمانیۃ، ۱۳۷۱ق / ۱۹۵۲م۔
2. ابن حجر، عسقلانی الشافعی۔ فتح الباری شرح صحیح البخاری، تحقیق: محب الدین الخطیب، بیروت: دار المعرفہ۔
3. انصاری، مسعود۔ «فترت وحی»، مجموعہ مقالات دانشنامه قرآن، تہران: دوستان، ۱۳۷۷ش۔
4. بخاری، محمد بن اسماعیل۔ الجامع المسند الصحیح (صحیح بخاری)، تحقیق: محمد زہیر بن ناصر الناصر، بیروت: دار طوق النجاة، چاپ اول، ۱۴۲۲ھ۔
5. بهادری، آتنا۔ «فترت وحی یا طبیعت وحی»، مجله حدیث و اندیشه، شمارہ ۳، بهار و تابستان ۱۳۸۶ش۔
6. رامیار، محمود۔ تاریخ قرآن، تہران: مؤسسہ انتشارات امیرکبیر، ۱۳۶۹ش۔
7. سبحانی، جعفر۔ فروغ ابدیت (تحلیلی زندگی پیامبر اکرم (ص))، قم: بوستان کتاب، ۱۳۸۵ش۔
8. طبری، محمد بن جریر۔ تاریخ طبری (تاریخ الرسل والملوک)، بیروت: اعلمی، ۱۴۰۳ھ۔
9. معرفت، محمد ہادی۔ تاریخ قرآن، تہران: سمت، ۱۳۸۳ش۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

۱. سبحانی، جعفر، فروغ ابدیت: تجزیہ و تحلیل کاملی از زندگی پیامبر اکرم (ص)، [فروغِ ابدیت: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کا جامع تجزیاتی مطالعہ] قم، بوستانِ کتاب، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔ ص ۲۴۱–۲۹۸۔
2. نکونام، جعفر، پژوهشی درباره فترت وحی،[وحی کے رک جانے کے دَور پر تحقیقی مطالعہ] مطالعات تاریخیِ قرآن و حدیث، پاییز و زمستان ۱۳۸۱، شمارہ ۲۷ و ۲۸، ص ۹۰–۱۰۲۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔