دعا اور عمل، رحمت الہی کے حصول کی دو مؤثر کنجیاں

دعا اور عمل، رحمت الہی کے حصول کی دو مؤثر کنجیاں

کپی کردن لینک

دعا اور عمل انسان کے روحانی سفر کی دو بنیادی قوتیں ہیں۔ یہ دونوں انسان کو اپنے رب سے جوڑتی، اس کی ضرورت اور بندگی کا احساس جگاتی اور زندگی کی راہوں میں اسے سکون و اعتماد عطا کرتی ہیں۔ جب انسان اپنی کوشش کو خدا پر بھروسے کے ساتھ ملا دیتا ہے تو اس کے دل میں امید کے چراغ روشن ہوتے ہیں اور رحمتِ الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ دعا اور عمل کی یہی وہ حقیقت ہے جسے قرآن، احادیث اور ائمہ اطہار (ع) کی دعائیں بار بار واضح کرتی ہیں۔ دعا اور عمل کو ہمیشہ اپنے روحانی سفر کا مرکزی اور اہم نقطہ قرار دینا ضروری امر ہے۔

دعا اور عمل ایک دوسرے کے لازم و ملزوم

الله نے ہمارے ہاتھوں میں کنجیاں قرار دی ہیں جن کے ذریعے ہم الله کی رحمت کے خزانوں کے دروازے کھول سکتے ہیں، اور ان کے ذریعے ہم الله کا رزق اور اس کا فضل طلب کر سکتے ہیں۔ اور وہ دونوں کنجیاں دعا اور عمل ہیں، اور ان میں سے ایک دوسری سے بے نیاز نہیں ہو سکتی۔
عمل، دعا سے بے نیاز نہیں ہے، یعنی انسان کےلئے عمل کے بغیر دعا پر اکتفا کر لینا کافی نہیں ہے۔

رسول الله (ص) نے جناب ابوذر غفاری سے وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

يا أباذر مثل الذي يدعو بغير عمل كمثل الذي يرمي بغير وتر.[۱]
اے ابوذر! بغیر عمل کے دعا کرنے والا اس شخص کی مانند ہے جو بغیر کمان کے تیر پھینکے۔

امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے:
ثَلَاثَةٌ تُرَدُّ عَلَيْهِمْ دَعَوْتُهُمْ … وَرَجُلٌ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ يَا رَبِّ ارْزُقْنِي فَيُقَالُ لَهُ أَ لَمْ أَجْعَلْ لَكَ السَّبِيلَ إِلَى طَلَبِ الرِّزْقِ[۲]

تین آدمیوں کی دعائیں واپس پلٹا دی جاتی ہیں: ان میں سے ایک وہ ہے جو اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور یہ کہے: اے پروردگار! مجھے رزق عطا کر۔ تو اسے جواب دیا جاتا ہے: کیا میں نے تمہارے لئے طلبِ رزق کا راستہ مقرر نہیں کیا؟

اور انسان کےلئے دعا کے بغیر صرف عمل پر اکتفا کر لینا بھی درست نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے:

إِنَّ لِلَّهِ عِبَاداً يَعْمَلُونَ فَيُعْطِيهِمْ وَ آخَرِينَ يَسْأَلُونَهُ صَادِقِينَ فَيُعْطِيهِمْ- ثُمَّ يَجْمَعُهُمْ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ الَّذِينَ عَمِلُوا رَبَّنَا عَمِلْنَا فَأَعْطَيْتَنَا فِيمَا أَعْطَيْتَ هَؤُلَاءِ فَيَقُولُ هَؤُلَاءِ عِبَادِي أَعْطَيْتُكُمْ أُجُورَكُمْ وَ لَمْ أَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمٰالِكُمْ شَيْئاً وَ سَأَلَنِي هَؤُلَاءِ فَأَعْطَيْتُهُمْ وَ [أَغْنَيْتُهُمْ] وَ هُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ.[۳]

بے شک اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو عمل کرتے ہیں اور خدا ان کو عطا کرتا ہے، اور دوسرے بندے ہیں جو صدقِ دل سے سوال کرتے ہیں اور خداوندِ عالم ان کو بھی عطا کرتا ہے۔ پھر جب ان کو جنت میں جمع کیا جائے گا تو عمل کرنے والے بندے کہیں گے: اے ہمارے پالنے والے! ہم نے عمل کیا تو تُو نے ہمیں عطا کیا، لیکن ان کو کیوں عطا کیا گیا؟ جواب ملے گا: یہ میرے بندے ہیں، میں نے تم کو تمہارا اجر دیا ہے اور تمہارے اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی۔ اور ان لوگوں نے مجھ سے سوال کیا، میں نے ان کو دیا اور انہیں بے نیاز کر دیا، اور یہ میرا فضل ہے، میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔

اگر انسان عمل کرنے سے عاجز ہو تو اللہ تعالی نے اس کی تلافی کےلئے دعا قرار دی، تاکہ انسان اپنے نفس پر اعتماد کرے جو کچھ حول و قوہ الٰہی کے ذریعہ اسے عطا کیا گیا ہے اور جو کچھ اس نے عمل کے ذریعے قائم کیا ہے اس کے فریب میں نہ آئے۔
معلوم ہوا کہ دعا اور عمل دونوں سب سے عظیم کنجیاں ہیں جن کے ذریعہ انسان پر اللہ کی رحمت کے دروازے کھلتے ہیں۔

دعا اور رحمتِ الٰہی کا رابطہ

اب ہم عمل اور اس کے رحمتِ الٰہی سے رابطہ کے مابین اور اس کے بالمقابل دعا اور اللہ کی رحمت کے خزانوں کے درمیان تعلق، اور دعا اور عمل کے رابطے کے بارے میں بحث کریں گے، چونکہ یہ روابط ہی اسلام کے ابتدائی اور اصلی مسائل میں سے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دعا اور عمل دونوں چیزیں ایک ساتھ عطا کی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو وہی سب کچھ عطا کیا جو ان کے پاس ہے، سب کچھ نہیں جو ان کے پاس نہیں ہے۔ اور ان کے پاس ان کی کوششیں اور اعمال ہیں۔ وہ اپنی کوشش سے جو کچھ اللہ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اپنے نفوس اور اموال سے خرچ کرتے ہیں وہ عمل ہے۔ اور جو کچھ ان کے پاس نہیں ہے، وہ ان کا فقر اور الله کا محتاج ہونا ہے اور الله کے سامنے اپنے فقير اور محتاج ہونے کا اقرار کرنا ہے۔

انسانی حيات میں یہ دونوں چیزیں یعنی دعا اور عمل اللہ کی رحمت کو نازل کرنے کی کنجیاں ہیں۔ جسے انسان اپنی کوشش، عمل، نفس اور مال کے ذریعے، اللہ سے حاصل کرتا ہے، اور الله کے حضور ميں اپنی حاجت، فقر اور مجبوری کو دکهلاتا ہے۔

ہمارا دعا کو الله کی سنتوں سے جدا سمجهنا صحيح نہيں ہے، بیشک الله نے کائنات ميں اپنے بندوں کےلئے ان کی حاجتوں کی خاطر سنتوں کو قرار دیا ہے۔ اور لوگوں کا اپنی تمام حاجتوں اور متعلقات ميں ان سنتوں کو مہمل شمار کرنا درست نہيں ہے۔

دعا ان سنتوں کا بدل قرار نہیں دی جاسکتی۔ یہ الٰہی سنتیں انسان کو دعا سے بے نیاز نہیں کرتیں (یعنی ان سنتوں کو دعاؤں کا بدل قرار نہیں دیا جاسکتا)۔

یہ نکتہ اسلامی ربانی ثقافت ميں ایک بہت لطيف نکتہ ہے، لہٰذا فلّاح (کاشتکار) کےلئے زمين کهودنا اس ميں پانی دینا، زمين کی فصل ميں رکاوٹ بننے والی اضافی چيزوں کو دور کرنا، زراعت کی حفاظت کرنا اور مزرعے سے نقصان دہ چيزوں کو دور کرنے کےلئے دعا کردینا ہی کافی نہيں ہے۔
اور اس طرح کی دعائیں امام جعفر صادق (ع) کے اس قول کا مصداق ہیں:

اَلدَّاعِي بِلاَ عَمَلٍ كَالرَّامِي بِلاَ وَتَر۔

یعنی عمل کے بغیر دعا کرنے والا بغیر کمان کے تیر پھینکنے والے کی مانند ہے۔

جس طرح بيمار اگر حکيم اور دوا کو بيکار سمجهنے لگے تو اس کی دعا قبول نہيں ہوتی ہے اور یہ دعا قبول ہی کيسے ہو جس ميں انسان الله کی سنتوں سے منہ موڑ لے۔ لہٰذا الٰہی سنتوں کے بغير دعا قبول نہيں ہوسکتی ہے۔ بے شک اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرنے والا فطری طور پر ان سنتوں کا خالق ہے وہ وہی خدا ہے جس نے اپنے بندوں کو ان سنتوں کو جاری کرنے کا حکم دیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ تم اپنا رزق اور اپنی حاجتيں ان سنتوں کے ذریعہ حاصل کرو اور خداوند عالم فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ۔[۴]
اسی نے تمہارے لئے زمین کو نرم بنا دیا ہے کہ اس کے اطراف میں چلو اور رزق خدا تلاش کرو۔

اور خداوند عالم کا یہ فرمان ہے:

" فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ۔[۵]
پس زمین میں منتشر ہو جاؤ اور فضل خدا کو تلاش کرو۔

دعا اور عمل ایک دوسے کے قائم مقام نہیں ہو سکتے۔ بے شک کائنات کی کنجی اللہ کے پاس ہے۔ دعا کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو وہ رزق عطا کرتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعے حاصل نہیں کرسکتے، اور دعا کے ذریعے فطری اسباب سے اپنے بندوں کو وہ کامیابی عطا کرتا ہے جس پر وہ عمل کے ذریعے قادر نہیں ہوسکتے۔

انسان کےلئے رزق کی خاطر فطری اسباب مہیا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ انسان فطری اسباب کے ذریعے اللہ سے دعا، سوال اور مانگنے سے بے نیاز ہو جائے۔

الله کی قدرت اور انسان کی وابستگی

بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ باسِط، قابِض، مُعطی، نافِع، ضارّ، محیی و مُھلک، مُعِزّ و مُذِلّ، رافع اور واضع (بلندی اور پستی عطا کرنے والا) ہے۔ دنيائے ہستی کی کنجياں اسی کے ہاتھ ميں ہيں کوئی چيزاس کے امر ميں مانع نہيں ہوسکتی، اس دنيا کی کوئی بهی چيز اس کے امر و سلطنت سے باہر نہيں ہوسکتی اس دنيائے ہستی کی ہر طاقت و قوت، سلطنت، نفع پہنچانے والی اورنقصان دہ چيز اس کے امر، حکم اور سلطنت کے تابع ہے اور خدا کی سلطنت و ارادہ کے علاوہ اس دنيا ميں کسی چيز کا وجود مستقل نہيں ہے یہا ں تک کہ انسان بهی الله سے دعا، طلب اور سوال کے ذریعے معاملہ کرنے سے بے نياز نہيں ہے۔

ہم الله کی تسبيح کرتے ہيں اور یہودیوں کے اس قول:

يَدُ الله مَغْلُولَةٌ۔[۶] خدا کے ہاتھ بندهے ہوئے ہيں، سے اس کو منزہ قرار دیتے ہيں اور وہ کہتے ہيں جو قرآن کہتا ہے:
بَلْ یَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ۔[۷]
بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔

ہم اپنے تمام معاملات کو خدا سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔ ہم خدا کے ساتھ معاملہ کرنے اور جن سنتوں کو اللہ نے بندوں کےلئے رزق کا وسیلہ قرار دیا ہے، ان کے مابین جدائی کے قائل نہیں ہیں۔
اور ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ یہ تمام طاقتیں اور روشیں خداوندِ عالم کے ارادہ، مشیت اور سلطنت کے طول میں ہمیں فائدہ یا نقصان پہنچاتی ہیں یہ اس کے ارادہ و سلطان کے عرض میں نہیں ہیں اور نہ ان سے جدا ہیں۔

ہم اپنے چھوٹے بڑے تمام امور میں اللہ کی رحمت، فضل اور حکمت سے ہی لو لگاتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے ارادے، اس کی توفیق اور اس کے فضل سے ہی لو لگاتے ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے میں اللہ کے محتاج ہیں اور پوری زندگی میں اس کے فضل و رحمت، حمایت، توفیق اور ہدایت کے محتاج ہیں۔ اور ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے امور کا استحکام، ان کی تائید، ہدایت اور توفیق کا سرپرست ہے۔

ہم خداوندِ عالم کی ذاتِ کریمہ سے اس بات کی پناہ چاہتے ہیں کہ وہ ایک لمحے کےلئے بھی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے۔ ہم اللہ سے چاہتے ہیں کہ وہ خود ہی ہماری حاجتیں پوری کرے اور ہمیں کسی غیر کا محتاج نہ بنائے۔

اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنی حاجتوں کو لوگوں سے مخفی رکھے جبکہ اس کائنات میں فطری اسباب موجود ہیں، بشرطیکہ انسان خداوندِ عالم سے دعا کرے۔ بلکہ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ انسان خداوندِ عالم سے یہ دعا کرے کہ خداوندِ عالم غیر سے اس کی حاجت کو اپنی حاجت کے طول میں قرار دے۔ غیر پر اس کے اعتماد کو اپنے اعتماد کے طول میں قرار دے، غیر سے معاملہ کرنے کو خود سے معاملہ کرنے کے طول میں قرار نہ دے اور نہ جدا قرار دے۔ چنانچہ یہ کائنات تمام کی تمام ایسے اسباب پر مشتمل ہے جو خداوندِ عالم کے تابع ہیں اور خداوندِ عالم نے ان کو مخلوق کا تابع قرار دیا ہے۔

ان اسباب کے ساتھ معاملہ کرنا، ان کو اخذ کرنا، ان پر اعتماد کرنا خداوندِ عالم کے ساتھ معاملہ کرنے، خدا سے اخذ کرنے اور خدا پر اعتماد کرنے کے طول میں ہے۔ نیز یہ اس توحید کا جزء ہے جس کی طرف قرآن دعوت دیتا ہے۔ وہ نہ خدا کے ساتھ ہے اور نہ خداوندِ عالم سے جدا ہے۔

اس روش کی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ انسان کا فریضہ ہے کہ ہر چیز میں خداوندِ عالم کو پکارے، ہر چیز کو خداوندِ عالم سے طلب کرے، چاہے چھوٹی ہو یا بڑی روٹی (کھانا)، آٹے کے نمک اور جانوروں کی گھاس سے لے کر جنگ کے میدانوں میں دشمنوں پر کامیابی تک ہر چیز خداوندِ عالم سے مانگے۔ اپنی حاجتوں اور دعاؤں میں کسی چیز میں غیر خدا کا سہارا نہ لے اور اس بات سے خداوندِ عالم کی پناہ مانگے کہ وہ اسے کسی چھوٹی یا بڑی چیز میں اس کے حال پر چھوڑ دے۔

فعلی طور پر ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ ہم اس عام فضا میں ہر چیز کے سلسلے میں اللہ سے لو لگائیں، ہر چیز اللہ سے طلب کریں۔ یہ بات اس چیز سے کوئی منافات نہیں رکھتی کہ انسان جس کو اللہ نے پیدا کیا اور اس دنیا میں کچھ چیزیں اس کےلئے مسخر کر دی ہیں، اور وہ اس سے مدد طلب کرتا ہے۔ مریض ہونے کی حالت میں اللہ سے شفا مانگتا ہے، پھر ان اسبابِ شفا اور علاج کو علمِ طب اور دوا میں ڈھونڈھتا ہے جو اس نے ان میں قرار دیے ہیں۔

بلکہ ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اگر انسان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اور اس دنیا میں اللہ کی سنتوں کو بروئے کار نہ لا کر اللہ سے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول نہیں ہوتی، اور وہ اس تیر چلانے والے کی مانند ہے جو بغیر کمان کے تیر پھینکتا ہے۔ یہ دقیق، پاک و صاف اسلامی ثقافت ہمیں اللہ سے رابطہ رکھنے اور اس کائنات میں اللہ کی سنتوں کے ساتھ ہم آہنگی رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔

ہم اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ائمہ (ع) سے وارد ہونے والی دعائیں اللہ سے طلب کرنے کا ذخیرہ ہیں، اور بندہ خدا کے علاوہ کسی اور سے کوئی حاجت نہ رکھے، اپنے نفس پر اعتماد نہ کرے، اپنی رسی کو اللہ کی رسی سے ملا دے اور ہر اس چیز سے منقطع ہو جائے جو اسے خدا سے منقطع کر دیتی ہے۔

امام زین العابدین (ع) دعا میں فرماتے ہیں:
وَ لَا تَكِلْنِي إِلَى خَلْقِكَ، بَلْ تَفَرَّدْ بِحَاجَتِي، وَ تَوَلَّ كِفَايَتِي وَ انْظُرْ إِلَيَّ وَ انْظُرْ لِي فِي جَمِيعِ أُمُورِي۔[۸]
اور مجهے اپنی مخلوقات کے حوالے نہ کردینا تو تن تنہا ميری حاجت روا کرنا، اور ميرے لئے کافی ہوجانا، اور ميری طرف نگاہ رکهنا، اور ميرے تمام امور پر اپنی نظریں رکهنا۔

حضرت امام حسین (ع) دعائے عرفہ میں فرماتے ہیں:

اللَّهُمَّ مَا أَخَافُ فَاكْفِنِي، وَمَا أَحْذَرُ فَقِنِي، وَفِي نَفْسِي وَدِينِي فَاحْرُسْنِي، وَفِي سَفَرِي فَاحْفَظْنِي، وَفِي أَهْلِي وَمَالِي فَاخْلُفْنِي، وَفِيمَا رَزَقْتَنِي فَبَارِكْ لِي، وَفِي نَفْسِي فَذَلِّلْنِي، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ فَعَظِّمْنِي، وَمِنْ شَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فَسَلِّمْنِي، وَبِذُنُوبِي فَلَا تَفْضَحْنِي، وَبِسَرِيرَتِي فَلَا تُخْزِنِي، وَبِعَمَلِي فَلَا تَبْتَلِنِي، وَنِعَمِكَ فَلَا تَسْلُبْنِي، وَإِلَى غَيْرِكَ فَلَا تَكِلْنِي۔[۹]
خدایا! جس چیز کا مجھے خوف ہے اس کےلئے کفایت فرما، اور جس چیز سے میں پرہیز کرتا ہوں اس سے بچا لے۔ اور میرے نفس اور میرے دین میں میری حراست فرما، اور میرے سفر میں میری حفاظت فرما اور ميرے اہل اور مال کی کمی پوری فرما اور جو رزق مجھے دیا ہے اس ميں برکت عطا فرما مجهے خود ميرے نزدیک ذليل بنا دے اور مجھ کو لوگوں کی نگاہ ميں صاحب عزت قرار دے اور جن و انس کے شر سے محفوظ رکهنا اور گناہوں کی وجہ سے مجهے رسوا نہ کرنا ميرے اسرار کو بے نقاب نہ فرمانا اور ميرے اعمال ميں مجهے مبتلا نہ کرنا اور جو نعمتيں دے دی ہيں انہيں واپس نہ لينا اور مجھ کو اپنے علاوہ کسی اور کے حوالے نہ کرنا۔

خاتمہ

انسان کی نجات اور کامیابی کا راز دعا اور عمل میں پوشیدہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ عمل کو مضبوط رکھے اور دعا سے اپنا تعلق کبھی کمزور نہ ہونے دے۔ خدا کی بارگاہ میں سوال کرنا، اس کی رحمت پر بھروسہ رکھنا اور اپنی کمزوری کا اعتراف کرنا بندگی کی بہترین علامت ہے۔ دعا اور عمل کا یہ امتزاج جب توکل کے ساتھ یکجا ہوجاتا ہے تو انسان کی زندگی میں وہ نور پیدا ہوتا ہے جو اسے ہر خوف، حاجت اور رکاوٹ سے بے نیاز کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روحانی ترقی کےلئے دعا اور عمل کا باہمی ربط نہایت ضروری ہے۔


کتابیات

[۱]۔ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ابواب دعا، باب٣٢، ح٣۔

[۲]۔ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، کتاب الصلاۃ، ابواب الدعاء، باب۵۰، ح۳۔

[۳]۔ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ج۴، ص۱۰۸۴، ح۸۶۰۹۔

[۴]۔ ملک: ۱۵۔

[۵] جمعہ: ۹۔

[۶]۔ مائدہ: ۶۴۔

[۷]۔ مائدہ: ۶۳۔

[۸]۔ على بن الحسين (ع)، صحيفہ سجادیۃ، دعا ۲۲۔

[۹]۔ دعائے عرفہ امام حسین (ع)۔


منابع

۱۔ قرآن مجید۔

۲۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۶۷ش۔

۳۔ على بن الحسين (ع)، امام چهارم‏، الصحيفۃ السجاديۃ، قم، دفتر نشر الهادى‏، ۱۳۷۶ش۔


مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)

آصفی، محمد مهدی، الدعا عند أہل البيت (ع) جلد اول، مترجم: نقوی، سید ضرغام، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ۱۴۱۶ق۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔