تلاش حقیقت اور بچے کے ذہن کا فطری نشوونما اور آگاہی

تلاش حقیقت اور بچے کے ذہن کا فطری نشوونما اور آگاہی

2026-10-27

1 مشاہدات

کپی کردن لینک

انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی ایک نرم سی آگاہی جنم لیتی ہے جو اسے دیکھنے، سمجھنے اور جاننے کی طرف بلاتی ہے۔ یہی پہلی چنگاری آگے چل کر تلاش حقیقت کی روشن لو میں بدل جاتی ہے۔ بچہ ابتدا میں دنیا کو صرف رنگوں، آوازوں اور حرکات کے دھندلے امتزاج کے طور پر محسوس کرتا ہے، مگر اندر ہی اندر اس کی روح میں تلاش حقیقت کی ایک بے نام خواہش مسلسل بیدار رہتی ہے۔ یہی فطری طلب اسے تجربے، سوال اور مشاہدے کے راستے پر لے جاتی ہے، جو آگے چل کر علم، شعور اور انسانی ترقی کا بنیادی سرچشمہ بنتی ہے۔

تلاش حقیقت کی فطری ابتدا

جب نومولود دنیا میں آتا ہے تو جہانِ خارج کی اسے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ ہر چیز اس کےلئے برابر ہے۔ وہ شکلوں میں، رنگوں میں اور لوگوں میں فرق نہیں کرسکتا۔ وہ شکلوں اور آوازوں سے متاثر ہوتا ہے لیکن انہیں پہچان نہیں پاتا۔ لیکن اسی وقت سے اس میں تحقیق، جستجو اور چیزوں کے پہچاننے کی شدید خواہش اور تمنا ہوتی ہے۔ وہ مسلسل اس طرف اور اُس طرف دیکھتا ہے اور لوگوں کی صورتیں دیکھ دیکھ کے حیران ہوتا ہے۔ بچہ اپنے حواس کے ذریعے اور اپنی تحقیق و جستجو لگن سے اپنی معلومات میں اضافہ کرتا ہے اور کسب علم کرتا ہے۔

اللہ تعالی قرآن میں فرماتا:

وَاللَّهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ۔[۱]

اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤوں کے پیٹوں سے اس عالم میں نکالا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو پہچانو اور شکر گزار بن جاؤ۔

کچھ مدت کے بعد بچہ جہانِ خارج کی طرف توجہ کرنے لگتا ہے۔ چیزوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیتا ہے۔ انہیں حرکت دیتا ہے۔ پھر زمین پر پھینک دیتا ہے۔ منہ میں لے جاتا ہے آوازوں کی طرف دھیان دیتا ہے۔ آنکھوں سے لوگوں کی حرکتوں کو دیکھتا رہتا ہے۔ اس طرح سے تلاش حقیقت کی خواہش اور حس کو وہ پورا کرتا ہے اور دنیا کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے تحقیق و جستجو کی فطرت، نوع انسان کو ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنی کوشش اور جستجو سے اسرار جہان کے پردے ہٹائے اور تخلیق عالم کا راز پا لے۔

بچے میں فطری طور پر تحقیق اور جستجو کا مادہ ہوتا ہے اور وہ اس سلسلے میں حتی المقدور کوشش کرتا ہے۔ ماں باپ اس ضمن میں بچے کو تشویق و تحریک بھی کرسکتے ہیں اور اس داخلی احساس کو دبا بھی سکتے ہیں۔ اگر ماں باپ تحقیق سے متعلقہ چیزیں اسے دیں اور اسے یہ آزادی بھی دیں کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق تجربہ کرے۔ اور اس کی عمر کے تقاضے کے مطابق اسے فکری و علمی اعتبار سے جاذب کھلونے خرید دیں تو اس کی تحقیق و جستجو کی روح پروان چڑھے گی۔ اگر اسی بچے کو ایک کمرے میں موجود مختلف چیزیں اس کے اختیار میں نہ دیں اور اسے تحقیق و تجربے سے منع کریں تو تلاش حقیقت کی روح اس کے اندر دب جائے گی۔ اور وہ سائنسی اور تحقیقی امور میں شکست خوردہ اور مایوس ہو گا۔

سوالات کا زرخیز دور اور والدین کا کردار

پہلے بیان کئے گئے مرحلے سے اہم تر وہ مرحلہ ہے جب بچہ مختلف قسم کے علمی تحقیقی اور معلوماتی سوالات کرنے لگتا ہے دو سال سے وہ باتبں کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اور ماں باپ سے بہت سے سوالات کرنے لگتا ہے مثلاً:

میں بعد میں ماں بنوں گا یا باپ؟ ابو ہر روز گھر سے باہر کیوں جاتے ہیں؟ پتھر سخت اور پانی نرم کیوں ہے؟ مجھے دادی اماں اچھی نہیں لگتی میں ان کے گھر کیوں جاؤں؟ بارش میں کیوں نہ کھیلوں؟ مچھلیاں پانی میں مر کیوں نہیں جاتیں؟ آپ ہر روز نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ نماز کیا ہے؟ سورج رات کو کہاں چلا جاتا ہے؟ بارش اور برفباری کہاں سے ہوتی ہے؟ یہ ستارے کیا ہیں؟ کس نے ان کو بنایا ہے؟ مکھی اور مچھر کا کیا فائدہ ہے؟ جب دادا جان مرے تھے تو انہیں مٹی میں کیوں ڈال دیا تھا؟ وہ کہاں گئے ہیں؟ واپس کب آئیں گے؟ یہ موت کیا ہوتی ہے؟

کم و بیش بچوں کے اس طرح کے سوالات ہوتے ہیں بچوں کے سوالات ایک جیسے نہیں ہوتے عمر اور افراد کے فرق کے ساتھ سوالات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ سمجھدار بچے زیادہ گہرے اور زیادہ سوال کرتے ہیں۔ جوں جوں ان کی معلومات بڑھتی جاتی ہیں ان کے سوالات دقیق تر ہوتے جاتے ہیں۔ بچہ سوالات اور تحقیق سے خارجی دنیا کی شناخت کےلئے دوسروں کی معلومات اور تجربات سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔

تلاش حقیقت اور جستجو کی فطرت، انسان کی بہت ہی قیمتی سرشتوں میں سے ہے۔ اس سرشت کے وجود کی برکت سے انسان نے کمال حاصل کیا ہے۔ جہانِ خلقت کے بہت سے اسرار اور راز کشف کئے ہیں۔ اور سائنس اور صنعت میں حیران کن ترقی کی ہے۔ جن ماں باپ کو اپنی اولاد اور انسانی معاشرے کی ترقی اور کمال عزیز ہے وہ اس خدا داد صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں۔ بعض ماں باپ بچگانہ سوالات کو ایسے ہی بے کار اور فضول سمجھتے ہیں اور جواب دینے کی طرف ہرگز توجہ نہیں دیتے کہتے ہیں بچہ کیا سمجھتا ہے؟

بڑا ہوگا تو خود ہی سمجھ لے گا آخر ہم بچوں کے سوالوں کا جواب کیسے دے سکتے ہیں۔ بچوں کے سوالات سن کر کہتے ہیں بیٹا جی اتنی باتیں نہ کرو۔ ایسے ہی نہ بولتے رہو۔ مجھے کیا پتہ جب بڑے ہو گے تو خود ہی سمجھ لو گے۔ ایسے سوالات کا وقت نہیں ہے ان کو چھوڑو یہ میرے بس میں نہیں ہے۔ ایسے ماں باپ اپنے بچے کی قیمتی ترین انسانی صلاحیت کو خاموش کر دیتے ہیں۔ اس کی عقلی رشد و نمو کو روک دیتے ہیں۔

پھر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے میں سائنسی انکشافات سے دلچسپی کیوں نہیں ہے۔ وہ علمی اور سائنسی سوالات حل کرنے میں عاجز کیوں ہے۔ جبکہ خود ہی وہ اس کام کا سبب بنے ہیں۔ اگر اس صلاحیت کی صحیح تسکین نہ کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ وہ حقیقی راستے سے بھٹک جائے اور بعد ازاں لوگوں کے راز معلوم کرنے اور لوگوں کے اسرار کے بارے میں تجسس کی صورت میں ظاہر ہو۔

بعض ماں باپ اپنے بچوں کو خوش کرنے کےلئے ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں لیکن انہیں ہرگز اس سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ جواب صحیح ہو وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ چپ کر جائے جواب صحیح ہو یا غلط۔ وہ سمجھتے ہیں کہ صحیح جواب بچوں کےلئے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ لہذا انہیں مطمئن کرنے کےلئے ایسا جواب دیتے ہیں کہ بس وہ چپ کر جائے۔ ممکن ہے بچہ اس طرح سے وقتی طور پر خاموش ہو جائے لیکن تلاش حقیقت کے بارے میں اس کی خواہش سیر نہیں ہوتی اور کمال کے راستے پر آگے نہیں بڑھتی بلکہ گمراہی اور خلاف حقیقت راستے کی طرف بھٹک جاتی ہے۔

جب وہ بڑا ہوگا اور حقیقت اسے معلوم ہو جائے گی تو وہ ان ماں باپ کے بارے میں بد بین ہو جائے گا جنہوں نے اسے گمراہ کیا تھا بلکہ یہاں تک ممکن ہے وہ ایک شکی قسم کا شخص بن جائے کہ جو ہر کسی کے بارے میں ہر مقام پر بد گمانی کرے۔ لیکن سمجھدار اور فرض شناس ماں باپ اس قیمتی خدا داد صلاحیت کو ضائع نہیں کرتے اور اسے قابل فہم جواب دیتے ہیں۔ پہلے وہ اپنے آپ کو اس کےلئے تیار کرتے ہیں مطالعہ کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں۔

بچوں سے ان کی زبان میں بات کرتے ہیں اور ان کے سوالوں کی طرف خوب توجہ کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں ہرگز خلاف حقیقت بات نہیں کرتے۔ اگر کسی موقع پر وہ جواب دینے سے عاجز ہوں تو باقاعدہ اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح بچے کی تلاش حقیقت کی اس صلاحیت کو بھی ابھارتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انہیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو لاعلمی کا اظہار کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنے چاہئے۔

بعض ماں باپ بچوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حد سے بڑھ جاتے ہیں یعنی ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دینے کےلئے تفصیلات میں چلے جاتے ہیں اور جو کچھ بھی انہیں معلوم ہوتا ہے سب کچھ کہہ ڈالتے ہیں یہ کام بھی درست نہیں کیونکہ تجربے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ بچہ زیادہ باتیں سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اسے صرف اپنے سوال کے جواب سے غرض ہوتی ہے اور زیادہ باتوں سے وہ تھک جاتا ہے۔

تلاش حقیقت کی تربیت: نتائج، مثالیں اور حکمتیں

تحقیق و جستجو میں بچوں اور نوجوانوں کی تشویق کریں۔ انہیں بحث و استدلال سے آشنا کریں اور جہاں امکان ہو اور ضروری ہو وہاں انہیں تجربے کےلئے بھی ابھاریں۔ بچہ ایک سوچنے والا انسان ہے۔ اس کی سوچ کو تقویت دیں تاکہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں کام آئیں اور وہ اپنے فکر و شعور سے استقادہ کرے اور اپنے لئے آئندہ کی زندگی کےلئے، تیار ہو جائے۔

حضرت علی (ع) فرماتے ہیں: جو بھی بچپن میں سوال کرسکے بڑا ہو کر جواب دے سکے گا۔[۲]

امیر المومنین (ع) نے فرمایا: بچے کا دل نرم زمین کے مانند ہے آپ جو بھی اس میں ڈالیں گے قبول کرے گا.[۳]

ایک خاتون اپنے خط میں لکھتی ہے: ایک رات ابو گھر آئے اور مجھ سے ایک پہیلی کہی اور کہا کہ میرے ساتھی اس پہیلی کو نہیں بوجھ سکے سب سو گئے لیکن میں نے ارادہ کیا کہ اس کو بوجھ کے رہوں گی۔ اور دیر تک سوچتی رہی اور آخر کار میں نے اسے بوجھ لیا۔ خوشی خوشی میں نے ابو کو جگایا اور انہیں اس پہیلی کا جواب دیا ابو خوش ہوگئے۔ مجھے شاباش کہی ابو ہمیشہ فکری قسم کے کام مجھ سے کہتے اور اس سلسلے میں مجھے تشویق کرتے اسی لئے میں فکری مسائل حل کرنے میں طاق ہوگئی ہوں۔ اور زندگی کی مشکلات کو سوچ بچار سے حل کرلیتی ہوں۔

خاتمہ

جب بچہ اپنے سوالات، تجربات اور مشاہدات کے ذریعے اپنی ذہنی دنیا کو وسعت دیتا ہے تو اس کی روح میں پوشیدہ امکانات آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگتے ہیں۔ اگر والدین اس نازک مرحلے پر حکمت، سچائی اور توجہ کے ساتھ اس کی رہنمائی کریں تو تلاش حقیقت اس کےلئے روشنی بن جاتی ہے، اور اگر اسے نظر انداز کیا جائے تو یہی جستجو غلط راستوں میں بھٹک بھی سکتی ہے۔ تربیت کا اصل کمال اسی فطری تلاش حقیقت کو صحیح سمت دینا ہے، تاکہ بچہ شعور، اعتماد اور فہم کے ساتھ اپنی زندگی کا فکری سفر طے کر سکے۔


حوالہ جات

[۱]۔ نحل: ۷۸۔

[۲]۔ آمدی، غررالحکم، ص۶۴۵۔

[۳]۔ آمدی، غررالحکم، ص۳۰۲۔


کتابیات

۱۔ قرآن مجید۔

۲۔ آمدی، عبدالواحد بن محمد، غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی علیه السلام، قم، دار الکتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ق۔


مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

امینی، ابراهیم، آئین تربیت، ترجمہ: قیصر عبّاس و ثاقب نقوی، لاہور، مصباح الہدیٰ پبلیکیشنز۔ (نسخہ برقی توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔


کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔