ماہ رمضان المبارک کا روحانی سفر اب انفرادی عبادات سے بڑھ کر اجتماعی ذمہ داریوں کی طرف مڑ رہا ہے۔ رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا کا مرکزی محور "خدمتِ خلق” اور "معاشرتی اخلاقیات” ہے۔ رمضان المبارک کی اس دعا میں بندہ اپنے رب سے یتیموں پر شفقت، بھوکوں کو کھانا کھلانے، سلام کو عام کرنے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے کی توفیق مانگتا ہے۔ یہ چاروں عناصر ایک بہترین اور فلاحی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔
ماہ رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ رَحْمَةَ الاَيْتامِ وَ اِطْعامَ أَلطَّعام ِوَ اِفْشآءَ السَّلامِ وَ صُحْبَةَ الْكِرامِ بِطَوْلِكَ يا مَلْجَأَ الاْمِلينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! مجھے اس مہینے میں توفیق عطا کر کہ یتیموں پر مہربان رہوں، اور لوگوں کو کھانا کھلاتا رہوں، اور با آواز بلند (عام) سلام کروں، اور شرفاء کی مصاحبت کی توفیق عطا کر، اپنے فضل سے اے آرزو مندوں کی پناہ گاہ۔“
یتیموں پر شفقت: جنت کی ضمانت
ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جہاں گزشتہ دعاؤں میں ذاتی اصلاح، استغفار اور عبادت پر زور تھا، وہیں آٹھویں دن کی دعا ایک منفرد سماجی اور اخلاقی منشور لے کر سامنے آتی ہے۔ یہ دعا بندے کو ”حقوق اللہ“ سے ”حقوق العباد“ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ آٹھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ خدا کی رضا صرف مصلے پر بیٹھنے میں نہیں، بلکہ معاشرے کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے اور بھوکوں کا پیٹ بھرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔
اس دعا میں چار اہم سماجی ذمہ داریوں کا ذکر ہے: یتیموں پر رحم، بھوکوں کو کھانا کھلانا، سلام کو عام کرنا، اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔
دعا کا پہلا اور سب سے جذباتی حصہ معاشرے کے سب سے کمزور طبقے یعنی یتیموں کی سرپرستی کے بارے میں ہے: أَللّهُمَّ ارْزُقْنى فيهِ رَحْمَةَ الاَيْتامِ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں یتیموں پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرما)۔ آٹھویں دن کی دعا دل کی سختی کا علاج تجویز کرتی ہے۔
اسلام یتیموں اور بے سہارا بچوں کی کفالت پر غیر معمولی زور دیتا ہے۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو یتیموں کی عزت نہیں کرتے۔ سورہ فجر میں ارشاد ہوتا ہے: ”ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیموں کی عزت نہیں کرتے“[1]۔
آٹھویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یتیم وہ بچہ ہے جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہے اور وہ شفقت کے لیے ترستا ہے۔ جب کوئی شخص یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے، تو یہ عمل اس کے اپنے سخت دل کو موم کر دیتا ہے۔ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے“ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ گویا آٹھویں دن کی دعا ہمیں رسول اللہ (ص) کی ہمسائیگی کا راستہ دکھاتی ہے۔
امیر المومنین حضرت علی (ع) اپنی وصیت میں فرماتے ہیں: ”اللہ سے ڈرتے رہنا یتیموں کے بارے میں، کہیں ان کے فاقوں کی نوبت نہ آ جائے اور وہ تمہاری موجودگی میں برباد ہو جائیں“[2]۔ آپ (ع) کا یتیموں کے ساتھ برتاؤ اتنا شفیقانہ تھا کہ آپ انہیں اپنے ہاتھوں سے شہد چٹاتے تھے، اور خود ان کے منہ میں نوالے ڈالتے تھے۔
اس منظر کو دیکھ کر اصحاب آرزو کرتے کہ کاش ہم بھی یتیم ہوتے تاکہ علی (ع) کی یہ محبت ہمیں بھی نصیب ہوتی۔ آٹھویں دن کی دعا اسی ”علوی سنت“ کو زندہ کرنے کا نام ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص شفقت سے کسی یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے، اللہ تعالیٰ ہر اس بال کے بدلے جو اس کے ہاتھ کے نیچے سے گزرتا ہے، اسے ایک نیکی عطا کرتا ہے[3]۔
اطعامِ طعام: بھوکوں کا احساس
رمضان المبارک کی اس دعا کا دوسرا اہم جزو کھانا کھلانا ہے: وَ اِطْعامَ أَلطَّعام (اور کھانا کھلانے کی توفیق دے)۔ آٹھویں دن کی دعا کا یہ حصہ ”بھوک“ کے فلسفے کو اجاگر کرتا ہے۔
روزے کا ایک بنیادی مقصد بھوک اور پیاس کے ذریعے ناداروں اور مسکینوں کی تکلیف کا عملی احساس کرنا ہے۔ جب انسان خود بھوکا رہتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے آج کل افطاریوں میں نمود و نمائش (Show-off) کا عنصر زیادہ ہو گیا ہے جہاں امیر، امیر کو کھلاتا ہے اور غریب کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل نیکی اور آٹھویں دن کی دعا کا تقاضا ضرورت مند کا پیٹ بھرنا ہے۔
کھانا کھلانا اللہ کی محبوب ترین عبادات میں سے ایک ہے۔ قرآن میں جنتیوں کی صفت بیان ہوئی ہے کہ ”وہ اپنی خواہش اور ضرورت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں“ (سورہ انسان)۔ آٹھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ رزق اللہ کا ہے، اور جب ہم اسے اللہ کے بندوں پر خرچ کرتے ہیں تو اللہ خوش ہوتا ہے۔
امام زین العابدین (ع) کی سیرت ہے کہ آپ (ع) بہترین گوشت والا کھانا تیار کرواتے اور دوسروں کو بھیج دیتے، جبکہ خود نان و خرما سے افطار فرماتے[4]۔ آپ (ع) فرماتے تھے کہ ”مجھے شرم آتی ہے کہ میں لذیذ کھانا کھاؤں اور میرا پڑوسی بھوکا ہو“۔ امام موسیٰ کاظم (ع) فرماتے ہیں: ”جو کوئی اپنے مسلمان روزہ دار بھائی کو افطار کرائے، اس نے اپنے اصل روزے سے بھی بڑھ کر اعلیٰ اور افضل کام کیا ہے“[5]۔ آٹھویں دن کی دعا میں مانگا گیا ”اطعام“ صرف پیٹ بھرنا نہیں، بلکہ دوسرے کی عزتِ نفس کا خیال رکھ کر اسے عزت سے نوازنا ہے۔
افشائے سلام: عاجزی اور محبت کا پیغام
رمضان المبارک کی اس دعا کا تیسرا خوبصورت عمل سلام کو عام کرنا ہے: وَ اِفْشـآءَ السَّــلامِ (اور سلام کو عام کرنے/پھیلانے کی توفیق دے)۔ آٹھویں دن کی دعا معاشرتی امن کی ضمانت ہے۔
”سلام“ اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کا مطلب ہے ”سلامتی“۔ جب ایک مسلمان دوسرے کو ”السلام علیکم“ کہتا ہے، تو وہ درحقیقت اسے ایک معاہدہ دے رہا ہوتا ہے کہ ”تمہاری جان، مال اور عزت میری طرف سے محفوظ ہے“۔ سلام میں پہل کرنا مستحب ہے لیکن اس کا ثواب جواب دینے (جو کہ واجب ہے) سے کہیں زیادہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ سلام کی نیکی کے کل 70 حصے ہیں، جن میں سے 69 اس کے ہیں جو پہل کرتا ہے[6]۔
”افشائے سلام“ کا مطلب صرف بلند آواز سے سلام کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انسان ہر کسی کو سلام کرے، چاہے وہ اسے جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ آٹھویں دن کی دعا ہمیں تکبر (Ego) کے بت کو توڑنے کا درس دیتی ہے۔ جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے، وہ تکبر سے بری ہو جاتا ہے۔ آج کل ہم صرف اپنے جاننے والوں یا بااثر لوگوں کو سلام کرتے ہیں، جبکہ غریب یا اجنبی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
امام صادق (ع) فرماتے ہیں: ”افشائے سلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان جس کسی سے بھی ملاقات کرے تو سلام کرنے میں بخل نہ کرے“[7]۔ آٹھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت بانٹنے سے بڑھتی ہے، اور سلام محبت کی پہلی سیڑھی ہے۔
نیک لوگوں کی صحبت: کردار کی تعمیر
چوتھا اور آخری تقاضا نیک لوگوں کی دوستی ہے: وَ صُـحْبَـةَ الْكِـرامِ (اور شریف/نیک لوگوں کی صحبت نصیب فرما)۔ آٹھویں دن کی دعا کا یہ حصہ ”ماحولیاتی اثرات“ (Environmental Influence) پر مبنی ہے۔
انسان کی شخصیت پر سب سے گہرا اور خاموش اثر اس کے دوستوں اور ہم نشینوں کا ہوتا ہے۔ رسول اکرم (ص) کا فرمان ہے: ”انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے اسے دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے“[8]۔ اگر آپ عطر فروش کے پاس بیٹھیں گے تو خوشبو آئے گی، اور اگر لوہار کے پاس بیٹھیں گے تو چنگاری یا دھواں ملے گا۔
جس طرح شکر اگر پیٹرول کے پاس رکھی جائے تو اس میں بو بس جاتی ہے، اسی طرح انسان پر اس کے ہم نشین کے اثرات لازمی مرتب ہوتے ہیں، چاہے وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو۔ آٹھویں دن کی دعا میں لفظ ”کرام“ استعمال ہوا ہے، یعنی وہ لوگ جو کردار کے غازی ہیں، جو شریف النفس ہیں اور جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ صحبتِ صالحین انسان کو گناہوں سے روکتی ہے اور نیکی پر ابھارتی ہے۔ قرآن میں ”اصحاب کہف“ کے کتے کا ذکر ہے جو نیک لوگوں کی صحبت کی وجہ سے قرآن میں امر ہو گیا، جبکہ نوح (ع) کا بیٹا برے لوگوں کی صحبت میں رہ کر غرق ہو گیا۔
آٹھویں دن کی دعا ہمیں متنبہ کرتی ہے کہ ماہ رمضان میں اپنی محفلیں تبدیل کریں۔ فضول گپ شپ اور غیبت والی محفلوں کو چھوڑ کر ذکرِ الٰہی اور علم والی محفلوں میں بیٹھیں، کیونکہ ”صحبتِ صالح ترا صالح کند“ (نیک کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی)۔
اس دعا کا اختتام اللہ کی عزت اور پناہ کے واسطے سے ہوتا ہے (بِطَوْلِكَ يَا مَلْجَأَ الْآمِلِينَ)، یعنی اے امید رکھنے والوں کی پناہ گاہ! ہمیں یہ تمام توفیقات اپنے فضل سے عطا کر۔ الغرض، آٹھویں دن کی دعا ایک بہترین مسلمان بننے کا نسخہ ہے جو یتیموں کا سہارا، بھوکوں کا مددگار، امن کا سفیر اور نیک لوگوں کا ساتھی ہوتا ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے آٹھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ عبادت صرف جائے نماز تک محدود نہیں ہے۔ خدا کی نظر میں وہ بندہ محبوب ہے جو یتیموں کے سر پر دستِ شفقت رکھتا ہے، جو بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے، جو سلام میں پہل کر کے تکبر کو ختم کرتا ہے اور جو اپنی اصلاح کے لیے نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے۔ یہ تمام اعمال اللہ کے فضل (بِطَوْلِكَ) کے بغیر ممکن نہیں، اسی لیے ہم اس ذات سے مدد مانگتے ہیں جو تمام امیدوں کا مرکز ہے۔
حوالہ جات
[1] سورہ فجر، آیت 17۔
[2] مجلسی، بحار الانوار، ج 41، ص 29۔
[3] صدوق، ثواب الاعمال، ج 1، ص 199۔
[4] مجلسی، بحار الانوار، ج 93، ص 317۔
[5] نمازی، مستدرک سفینۃ البحار، ج 6، ص 421۔
[6] طبرسی، مشکاۃ الانوار، ص 197۔
[7] جوادی آملی، ادبِ فنائے مقربان، ج 1، ص 105۔
[8] مجلسی، بحار الانوار، ج 71، ص 192۔
فہرست منابع
2۔ جزائری، سید نعمت اللہ، التحفۃ السنیۃ، (قدیمی اشاعت)۔
3۔ جوادی آملی، عبد اللہ، ادبِ فنائے مقربان، قم، مرکز نشر اسراء، 1381ش۔
4۔ صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، منشورات شریف رضی، 1364ش۔
5۔ طبرسی، علی بن حسن، مشکاۃ الانوار فی غرر الاخبار، نجف، مکتبہ حیدریہ، 1385ق۔
6۔ عاملی، حر، وسائل الشیعہ، قم، موسسہ آل البیت، 1409ق۔
7۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
8۔ نمازی شاہرودی، علی، مستدرک سفینۃ البحار، قم، جامعہ مدرسین، 1419ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔