ماہ رمضان کا دوسرا عشرہ، جو کہ مغفرت کا عشرہ کہلاتا ہے، شروع ہو چکا ہے۔ گیارھویں دن کی دعا انسان کے قلب و نظر کی تطہیر پر مرکوز ہے۔ اس دعا میں بندہ اپنے رب سے تین ایسی کیفیات کا تقاضا کرتا ہے جو اس کی روحانی زندگی کو سنوار دیتی ہیں: نیکی سے محبت، گناہ سے نفرت، اور خدا کے غضب اور جہنم کی آگ سے پناہ۔ جب انسان کا دل نیکی کی طرف مائل اور برائی سے متنفر ہو جاتا ہے تو یہی تقویٰ کی معراج ہے۔
ماہ رمضان کے گیارھویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ حَبِّبْ اِلَىَّ فيهِ الاِحْسانَ وَ كَرِّهْ اِلَىَّ فيهِ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْيانَ وَ حَرِّمْ عَلَىَّ فيهِ السَّخَطَ وَ النّيرانَ بِعَوْنِكَ يا غِياثَ الْمُسْتَغيـثينَ۔
ترجمہ: ”خدایا! ایسا کر دے کہ میں اچھائیوں کو پسند کروں اور برائیوں سے نفرت، خدایا! ایسا کر میں برائیوں اور نافرمانیوں سے بیزار ہو جاؤں اور گناہ برے لگنے لگیں، خدایا! اپنی ناراضگی اور بھڑکتی آگ کو مجھ پر حرام کر دے، اپنی حمایت کے ساتھ، اے فریادیوں کے فریاد رس۔“
احسان اور نیکی: فطرت کا تقاضا
ماہِ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ (رحمت) گزر چکا ہے اور اب دوسرا عشرہ (مغفرت) شروع ہو چکا ہے۔ گیارھویں دن کی دعا اس نئے مرحلے کا پہلا قدم ہے۔ جہاں پہلے دس دنوں میں ہم نے رحمت طلب کی، اب گیارھویں دن کی دعا ہمیں اپنے کردار کو سنوارنے اور باطنی طہارت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ دعا انسان کی نفسیات کو بدلنے کا نسخہ ہے؛ یہ چاہتی ہے کہ ہماری پسند اور ناپسند کا معیار بدل جائے۔ گیارھویں دن کی دعا میں ہم اللہ سے تین بنیادی تبدیلیاں مانگتے ہیں: نیکی سے محبت، گناہ سے نفرت، اور غضبِ الٰہی سے حفاظت۔
دعا کے پہلے اور انتہائی خوبصورت حصے میں نیکی سے محبت کی درخواست کی گئی ہے: أَللّـهُمَّ حَبِّبْ اِلَىَّ فـيهِ الاِحْسـانَ (اے اللہ! میرے لیے اس مہینے میں نیکی اور احسان کو محبوب بنا دے)۔ گیارھویں دن کی دعا یہاں ایک بہت باریک نفسیاتی نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ ”مجھ سے نیکی کروا دے“ بلکہ کہا گیا ہے کہ ”نیکی کو میرا محبوب بنا دے“۔ جب انسان کسی چیز سے محبت کرتا ہے تو اسے کرنے میں تھکاوٹ نہیں ہوتی بلکہ سکون ملتا ہے۔
زندگی اذان اور نمازِ جنازہ کے درمیان ایک مختصر وقفے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دونوں راستے دکھا دیے ہیں: ”(اور) اسے رستہ بھی دکھا دیا، (اب) وہ خواہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا“[1]۔ گیارھویں دن کی دعا ہمیں شکرگزاری والے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے، جو کہ ”احسان“ کا راستہ ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ احسان کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ احسان صرف مالی مدد یا صدقہ دینے کا نام نہیں، بلکہ حسنِ اخلاق، والدین کے ساتھ نیکی (جسے قرآن نے توحید کے فوراً بعد بیان کیا ہے)، پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور لوگوں کی مشکلات حل کرنا بھی احسان ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”کیا احسان کا بدلہ احسان کے سوا کچھ ہے؟“[2]۔ گیارھویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم اللہ کے بندوں پر احسان کریں گے تو اللہ ہم پر احسان کرے گا۔
امام جعفر صادق (ع) کے زمانے میں ایک نو مسلم نوجوان (زکریا بن ابراہیم) نے جب اپنی عیسائی ماں کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا، تو وہ ماں اس کے بدلے ہوئے اخلاق سے متاثر ہو کر بولی: ”تیرے نئے دین نے تجھے اتنا اچھا بنا دیا ہے؟“ اور پھر وہ دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی[3]۔ پس نیکی اور خوش اخلاقی وہ مقناطیس ہے جو لوگوں کو دین کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ گیارھویں دن کی دعا ہمارے دل کی زمین کو اتنا زرخیز کر دیتی ہے کہ اس میں نیکی کا بیج خود بخود پھلنے پھولنے لگتا ہے۔
گناہ سے نفرت: بصیرت کی نشانی
دعا کا دوسرا اہم اور انقلابی جزو گناہ سے کراہت اور نفرت ہے: وَ كَرِّهْ اِلَىَّ فيهِ الْفُسُوقَ وَ الْعِصْيانَ (اور میرے لیے اس میں فسق اور نافرمانی کو ناپسندیدہ بنا دے)۔ گیارھویں دن کی دعا انسان کے ”جمالیاتی ذوق“ (Aesthetic Sense) کو پاک کرتی ہے۔
انسان دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جو گناہ کی خواہش رکھتے ہیں، ان کا دل گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے مگر خوفِ خدا یا جہنم کے ڈر سے رک جاتے ہیں۔ یہ بھی اچھا درجہ ہے، لیکن خطرہ موجود رہتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو گناہ سے دلی نفرت کرتے ہیں، انہیں گناہ میں لذت نہیں بلکہ بدبو محسوس ہوتی ہے۔ گیارھویں دن کی دعا ہمیں اس دوسرے اور بلند درجے پر فائز کرنا چاہتی ہے، جو معرفت اور بصیرت کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔
حضرت یوسف (ع) نے گناہ کے مقابلے میں قید خانے کو ترجیح دی کیونکہ ان کی نظر میں گناہ کی نحوست قید خانے کی تاریکی سے زیادہ بھیانک تھی: ”پروردگار! جس کام کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید پسند ہے“[4]۔ ابن سیرین کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ خوشبو کا کاروبار کرتے تھے۔
جب وہ ایک بدکار عورت کے چنگل میں پھنس گئے تو انہوں نے خود کو گندگی سے آلودہ کر لیا تاکہ وہ عورت ان سے نفرت کرے اور وہ گناہ سے بچ سکیں۔ اس عظیم قربانی کے بدلے اللہ نے انہیں دو نعمتیں عطا کیں: ایک ایسی خوشبو جو ہمیشہ ان کے وجود سے آتی تھی، اور دوسری تعبیرِ خواب کا علم۔
گیارھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ”فسوق“ (یعنی کھلم کھلا گناہ اور حدود سے نکل جانا) اور ”عصیان“ (نافرمانی) درحقیقت روحانی غلاظت ہیں۔ جب انسان گناہ کی حقیقت (باطنی گندگی) کو دیکھ لیتا ہے تو اس سے خود بخود متنفر ہو جاتا ہے۔ یہ دعا مانگنے والا اللہ سے یہ کہتا ہے: ”اے رب! میری طبیعت ایسی بنا دے کہ جھوٹ بولتے ہوئے مجھے گھٹن ہو، غیبت کرتے ہوئے مجھے بدبو آئے، اور حرام کھاتے ہوئے مجھے آگ کا ذائقہ محسوس ہو“۔
غضبِ الٰہی اور آتشِ دوزخ سے پناہ
تیسرا تقاضا جہنم اور خدا کے غضب سے نجات ہے: وَ حَرِّمْ عَلَىَّ فيهِ السَّخَطَ وَ النّيرانَ (اور مجھ پر اس میں اپنی ناراضگی اور جہنم کی آگ حرام کر دے)۔ گیارھویں دن کی دعا کے آخر میں ہم انجامِ بد سے پناہ مانگتے ہیں۔
قیامت کے دن جسمانی معاد ہوگی اور بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ کی جائیں گی: ”کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے؟ آپ کہہ دیجیے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہی زندہ بھی کرے گا“[5]۔ گیارھویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب ہم دنیا کی معمولی آگ، یہاں تک کہ گرم پانی یا دھوپ کی تپش برداشت نہیں کر سکتے، تو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ اور ”نیران“ (جمع کا صیغہ، یعنی کئی قسم کی آگ) کیسے برداشت کریں گے؟
انسان اپنے نفس کے حالات سے خوب واقف ہوتا ہے: ”بلکہ انسان خود بھی اپنے نفس کے حالات سے خوب باخبر ہے، چاہے وہ کتنے ہی عذر کیوں نہ پیش کرے“[6]۔ ہم دوسروں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں کہ ہم بہت نیک ہیں، لیکن اپنے ضمیر اور اپنے رب کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔ گیارھویں دن کی دعا ہمیں خود احتسابی (Self-Accountability) کی دعوت دیتی ہے۔
لہٰذا وقت گزرنے سے پہلے توبہ کر لینی چاہیے اور شیطان کے ان ہتھکنڈوں سے بچنا چاہیے جو گناہ کو خوبصورت بنا کر پیش کرتا ہے[7]۔ گیارھویں دن کی دعا میں لفظ ”سخط“ (شدید ناراضگی) استعمال ہوا ہے۔ جہنم کی آگ تو جسم کو جلاتی ہے، لیکن خدا کی ناراضگی روح کو جلاتی ہے اور یہ زیادہ بڑا عذاب ہے۔
دعا کا اختتام اللہ کی مدد اور فریاد رسی پر ہوتا ہے: بِعَوْنِكَ يا غِياثَ الْمُسْتَغيثينَ (اپنی مدد کے ساتھ، اے فریادیوں کی فریاد رس)۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ نیکی سے محبت اور گناہ سے نفرت انسان اکیلے اپنے بل بوتے پر حاصل نہیں کر سکتا، اسے قدم قدم پر اللہ کی ”عون“ (مدد) اور ”غیاث“ (فریاد رسی) کی ضرورت ہے۔ الغرض، گیارھویں دن کی دعا ہمارے باطن کو پاکیزہ بنانے اور انجام کو بخیر کرنے کا ایک جامع روحانی نصاب ہے۔
نتیجہ
ماہ رمضان المبارک کے گیارھویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ صرف گناہ چھوڑ دینا کافی نہیں، بلکہ دل میں گناہ سے نفرت پیدا کرنا اصل کمال ہے۔ اسی طرح نیکی کرنا ہی نہیں، بلکہ نیکی سے محبت کرنا مطلوب ہے۔ جب انسان کا دل ان کیفیات سے مزین ہو جاتا ہے تو وہ خدا کے غضب اور جہنم کی آگ سے محفوظ ہو جاتا ہے، اور یہ سب کچھ اسی "غیاث المستغیثین” (فریادیوں کے فریاد رس) کی مدد سے ممکن ہے۔
حوالہ جات
[1] سورہ انسان، آیت 3۔
[2] سورہ رحمن، آیت 60۔
[3] مجلسی، بحار الانوار، ج 74، ص 53۔
[4] سورہ یوسف، آیت 33۔
[5] سورہ یٰسین، آیت 78-79۔
[6] سورہ قیامہ، آیت 14-15۔
[7] سورہ انفال، آیت 48۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان المبارک؛ ماہ رمضان المبارک کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔