ماہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنے اختتام کے قریب ہے۔ پچیسویں دن کی دعا مومن کے دل میں محبت اور نفرت (تولیٰ اور تبریٰ) کے معیار کو واضح کرتی ہے۔ یہ دعا ہمیں خدا کے دوستوں سے دوستی، اس کے دشمنوں سے دشمنی اور خاتم الانبیاء (ص) کی سیرت پر چلنے کی تلقین کرتی ہے۔ یہ تینوں اصول ایمان کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہیں۔
ماہ رمضان کے پچیسویں دن کی دعا
أَللّهُمَّ اجْعَلْنى فيهِ مُحِبّاً لِاَوْلِيآئِكَ وَ مُعـادِياً لاَعْدآئِكَ مُسْتَنّاً بِسُنَّةِ خاتَمِ أَنْبِيآئِكَ يا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِيّينَ۔
ترجمہ: ”اے معبود! مجھے اس دن (مہینے میں) اپنے اولیاء اور دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے، مجھے اپنے پیغمبروں کے آخری پیغمبر کی راہ و روش پر گامزن رہنے کی صفت سے آراستہ کر دے، اے انبیاء کے دلوں کی حفاظت کرنے والے۔“
حب اولیاء: یوسف بن یعقوب کا واقعہ اور محبت کا اعجاز
ماہِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ اپنی بے پناہ رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کی نوید کے ساتھ تیزی سے اپنے اختتام کی جانب رواں دواں ہے۔ اس عشرے کی ہر رات اور ہر دن انسان کی روحانی بالیدگی کا ایک انمول موقع ہے۔ اسی تناظر میں پچیسویں دن کی دعا ایک انتہائی خاص اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ دعا محض انفرادی عبادات کی بات نہیں کرتی، بلکہ یہ انسان کے معاشرتی، نظریاتی اور قلبی رجحانات کا رخ متعین کرتی ہے۔
یہ دعا ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا دل کن کے لیے دھڑکنا چاہیے اور کن لوگوں سے ہمیں دور رہنا چاہیے۔ در حقیقت، پچیسویں دن کی دعا دین کے دو سب سے بڑے ستونوں، یعنی "تولیٰ” (خدا کے دوستوں سے دوستی) اور "تبریٰ” (خدا کے دشمنوں سے بیزاری) کا ایک مکمل عملی نصاب ہے۔
دعا کے پہلے اور نہایت لطیف حصے میں اولیائے الٰہی سے سچی محبت کی درخواست کی گئی ہے: أَللّـهُمَّ اجْعَلْنى فيهِ مُحِبّاً لِاَوْلِيآئِكَ (اے اللہ! مجھے اس مہینے میں اپنے دوستوں سے محبت کرنے والا بنا دے)۔
اولیائے الٰہی سے محبت کوئی معمولی جذبہ نہیں ہے، بلکہ یہ وہ کیمیا ہے جو مٹی کو سونا بنا دیتی ہے۔ پچیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اولیاء سے محبت کا فائدہ صرف آخرت کے محلات تک محدود نہیں، بلکہ اس کا فیض دنیا کے مصائب اور مشکلات میں بھی انسان کی دستگیری کرتا ہے۔
تاریخ میں یوسف بن یعقوب نامی ایک مالدار شخص کا واقعہ بہت مشہور اور سبق آموز ہے۔ اسے وقت کے جابر حکمران متوکل عباسی نے کسی الزام میں سزا دینے کے لیے سامرہ طلب کیا۔ وہ جانتا تھا کہ متوکل کے دربار سے زندہ بچ کر آنا ناممکن ہے۔ اس نے اس ہولناک مصیبت سے بچنے کے لیے نذر مانی کہ اگر وہ اس ظالم کے شر سے محفوظ رہا، تو وہ سو اشرفیاں امام علی نقی (ع) کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کرے گا۔
وہ سامرہ پہنچا تو اسے امام (ع) کا گھر معلوم نہیں تھا، اور حکومتی خوف کی وجہ سے وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ لیکن محبت اور عقیدت کا اعجاز دیکھیے کہ اس کی سواری خود بخود چلتے ہوئے بغیر کسی رہنمائی کے امام (ع) کے دروازے پر جا رکی۔ امام (ع) کا خادم باہر آیا اور اسے اس کے نام سے پکارا۔
امام (ع) نے اندر بلا کر اسے غیب کی خبریں دیں اور وہ سو اشرفیاں قبول فرمائیں۔ پھر امام (ع) نے اس کے حق میں وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو پچیسویں دن کی دعا کی اصل روح ہے: تم اگرچہ (ظاہری طور پر) مسلمان نہیں ہو گے، لیکن تمہاری یہ عقیدت اور محبت رائیگاں نہیں جائے گی، تمہارا بیٹا مسلمان ہو کر ہمارا سچا شیعہ بنے گا۔
امام (ع) نے مزید فرمایا: ”خدا کی قسم جو بھی ہم سے محبت کرے گا وہ اس کا فائدہ ضرور دیکھے گا، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم“[1]۔ پچیسویں دن کی دعا ہمارے دلوں میں اسی محبت کا بیج بوتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں شفاعت کا باعث بنتی ہے۔
دشمنان خدا سے نفرت: ایمان کا تقاضا
دعا کا دوسرا اہم اور نظریاتی جزو دشمنانِ خدا سے دشمنی اور بیزاری ہے: وَ مُـعـادِيـاً لاَعْـدآئِـكَ (اور اپنے دشمنوں سے دشمنی رکھنے والا قرار دے)۔
پچیسویں دن کی دعا اس غلط فہمی کو دور کرتی ہے کہ مذہب صرف محبت ہی محبت کا نام ہے۔ انسان جذبات کا ایک مکمل مجموعہ ہے؛ جس کے اندر محبت بھی رکھی گئی ہے اور نفرت بھی۔ جس طرح کسی محسن اور ہمدرد سے محبت کرنا انسان کی فطرت ہے، بالکل اسی طرح ظلم کرنے والے اور نقصان پہنچانے والے سے نفرت کرنا بھی ایک خالص فطری عمل ہے۔
لیکن ایک عام انسان اور مومن میں فرق یہ ہے کہ مومن کے لیے اپنا ذاتی یا دنیوی نقصان اہم نہیں ہوتا۔ اس کی نظر میں اصل دشمن وہ ہے جو اللہ، اس کے رسول (ص)، دین اور عقیدے کو نقصان پہنچائے۔
قرآن مجید واضح الفاظ میں فرماتا ہے: ”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تو اسے دشمن سمجھو“[2]۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں اللہ کے دوستوں سے بھی محبت کرتا ہوں اور اس کے دشمنوں سے بھی تعلقات رکھتا ہوں، تو یہ منافقت ہے۔ پچیسویں دن کی دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر ہم واقعی اولیاء سے سچی دوستی کرنا چاہتے ہیں تو دشمنانِ خدا سے بیزاری اور نفرت ہمارے ایمان کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔
جس طرح انسانی جسم کا مدافعتی نظام (Immune System) جراثیم اور بیماریوں کو ختم کر کے جسم کی حفاظت کرتا ہے، بعینہٖ روحانی نظام میں بھی دشمنانِ دین اور ظالموں کے خلاف قلبی اور عملی بیزاری (تبریٰ) انتہائی ضروری ہے۔ البتہ کسی عام انسان کی خطا پر اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن جو دین کے کھلے اور بنیادی دشمن ہیں، ان کے ساتھ استقامت، دوری اور بیزاری ہی حقیقی ایمان کا تقاضا ہے جسے پچیسویں دن کی دعا اجاگر کرتی ہے۔
سنت نبوی کی پیروی:نجات کا واحد راستہ
پچیسویں دن کی دعا کا تیسرا اور عملی تقاضا خاتم الانبیاء (ص) کی سنت کی کامل پیروی ہے: مُسْتَنّاً بِسُنَّةِ خاتَمِ أَنْبِيآئِكَ (تیرے آخری نبیؐ کی سنت پر چلنے والا بنا دے)۔
نبی اکرم (ص) اور ان کے پاک اہل بیت (ع) کی سیرت محض کوئی انفرادی، تاریخی یا پرانی داستان نہیں، بلکہ یہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ایک عالمگیر دستورِ حیات ہے۔ قرآن کریم میں نبی (ص) کی ذاتِ بابرکات، ان کی صفات، ان کے رات دن کے اعمال، ان کے عظیم اخلاق اور ان کے لائے ہوئے احکام کا جو بھی ذکر موجود ہے، وہ سب آپ (ص) کی روشن سیرت اور سنت کا بیان ہے۔ پچیسویں دن کی دعا دراصل اس سنت کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کا عہد ہے۔
آج امتِ مسلمہ جن بے شمار مسائل، اخلاقی زوال اور انتشار کا شکار ہے، ان سب کا واحد حل سنتِ نبوی (ص) اور سیرتِ اہل بیت (ع) کی سچی پیروی میں مضمر ہے۔ نبی (ص) نے اپنے اہل بیت (ع) کی اخلاقی اور روحانی تربیت اسی نہج پر کی کہ وہ تاریخ کے ہر کٹھن موڑ اور ہر کربلا میں شبیہِ پیغمبر (ص) نظر آئے۔
موجودہ دور کے نت نئے فتنوں، فرقہ واریت اور نفرتوں کا علاج صرف رواداری، محبت، معاف کر دینے اور سنتِ رسول (ص) پر سچے دل سے عمل پیرا ہونے میں ہے۔ پچیسویں دن کی دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محبت کا دعویٰ اس وقت تک کھوکھلا ہے جب تک عمل میں سنتِ مصطفیٰ (ص) کی جھلک نظر نہ آئے۔
ایمان کا سب سے محکم دروازہ: قلبِ سلیم
پچیسویں دن کی دعا کے آخر میں خدا کو "عاصم قلوب النبیین” (انبیاء کے دلوں کو گناہوں اور لغزشوں سے بچانے والا) کہہ کر پکارا گیا ہے: يا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِيّينَ۔
یہ اختتامی کلمات اس بات کی دلیل ہیں کہ دلوں کی حفاظت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ رسول خدا (ص) نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو کہ ایمان کا کون سا دروازہ اور کون سی کڑی سب سے زیادہ محکم اور مضبوط ہے؟“ اصحاب نے مختلف جوابات دیے، کسی نے نماز کہا، کسی نے روزہ، لیکن پھر آپ (ص) نے خود اس عظیم راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرمایا: ”خدا کی راہ میں دوستی اور دشمنی (حب فی اللہ و بغض فی اللہ)، اس کے اولیاء سے دوستی اور اس کے دشمنوں سے بیزاری“[3]۔
الغرض، پچیسویں دن کی دعا اسی محکم ترین دروازے تک پہنچنے کا سفر ہے۔ جو انسان اس دعا کے مفہوم کو اپنے دل میں بسا لیتا ہے، اس کا دل غیروں کی محبت سے پاک ہو کر انبیاء (ع) کے نقشِ قدم پر چلنے کے قابل ہو جاتا ہے، اور یہی وہ عظیم کامیابی ہے جس کا وعدہ اللہ نے اپنے نیک بندوں سے کر رکھا ہے۔
نتیجہ
ماہِ رمضان کے پچیسویں دن کی دعا ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان صرف نماز روزے کا نام نہیں، بلکہ اس کی روح "تولیٰ اور تبریٰ” ہے۔ ہمیں اہل بیت (ع) اور اولیائے الٰہی سے محبت کرنی چاہیے اور دشمنان اسلام سے بیزاری کا اظہار کرنا چاہیے۔ اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی (ص) کے سانچے میں ڈھالنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
حوالہ جات
[1] مرندی، مجمع النورین، ج 12۔
[2] سورہ فاطر، آیت 6۔
[3] مجلسی، بحار الانوار، ج 69، ص 243۔
فہرست منابع
1۔ قرآن کریم۔
2۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ق۔
3۔ مرندی، ابو الحسن، مجمع النورین و ملتقی البحرین، (قدیمی اشاعت)۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
کاظمی الموسوی، سید لیاقت علی، ریاضِ رمضان؛ ماہِ رمضان کی یومیہ دعائیں اور دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح، ناشر: شعاعِ ولایت فاؤنڈیشن، سن اشاعت: نومبر ۲۰۲۰ء۔