حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتیں اور حکمت بھری باتیں ہر دور میں انسان کو کامیابی اور زندگی کا سچا راستہ دکھاتی ہیں۔ جب ہم اپنے وجود کے مقصد پر غور کرتے ہیں تو یہ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتیں ہمیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتی ہیں۔ انسان اپنی روزمرہ کی بھاگ دوڑ میں بسا اوقات حقیقی سکون سے محروم ہو کر رہ جاتا ہے اور ایک روحانی سہارے کو ترستا ہے۔ یہ عام فہم مگر گہری باتیں نہ صرف ہمارے عقائد کو سنوارتی ہیں بلکہ ہماری معاشرتی زندگی کو بھی بہترین سانچے میں ڈھالنے کا کام کرتی ہیں۔
توحید کی پہچان اور شرک سے بیزاری
حضرت لقمان کی ذات گرامی قرآن مجید کی ان مقتدر شخصیات میں سے ہے جن کی دانائی کو خود خالق کائنات نے سراہا ہے۔ وہ حبشی النسل اور پیشے کے اعتبار سے ایک غلام تھے لیکن ان کا دل ایمان کی سچی روشنی سے منور تھا۔ پیغمبر اکرم (ص) کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق حضرت لقمان، نبی نہیں تھے بلکہ وہ ایک بندے تھے جو بہت زیادہ غور و فکر کرتے تھے۔ اللہ نے ان کی اسی محبت اور لگن کے بدلے میں انہیں حکمت جیسی عظیم نعمت سے نوازا تھا جس کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔
حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتوں میں سب سے پہلا اور بنیادی سبق توحید کی پہچان اور شرک سے مکمل بیزاری اور دوری پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو بڑے پیار سے سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی دوسری چیز کو شریک مت ٹھہرانا۔ اس حوالے سے قرآن مجید نے ان کی اس خوبصورت نصیحت کو قیامت تک کے لیے ان الفاظ میں محفوظ کر لیا ہے: ﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾ "اے میرے پیارے بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے” [۱]۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی کا راستہ توحید سے شروع ہوتا ہے۔
شرک کو سب سے بڑا ظلم اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ انسان ایک انتہائی حقیر چیز کو اس عظیم رب کے برابر کھڑا کر دیتا ہے۔ جب ایک سچا باپ اپنے بچے کو زندگی گزارنے کے اصول سکھاتا ہے تو وہ اسے سب سے بڑی تباہی سے بچانے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ حضرت لقمان بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اگر عقیدہ ٹھیک نہ ہو تو کوئی بھی عمل انسان کو فائدہ نہیں دے سکتا۔ اسی لیے تمام انبیائے کرام کی طرح انہوں نے بھی سب سے پہلے خالص بندگی اور ایک خدا کی عبادت کی طرف دعوت دی۔
عقیدہ توحید انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ صرف ایک ذات کے سامنے سر جھکائے اور دنیا کی جھوٹی طاقتوں سے کبھی خوفزدہ نہ ہو۔ جب انسان کے دل میں توحید پوری طرح سے بس جاتی ہے تو وہ ہر قسم کی ذہنی پریشانیوں سے آزاد ہو کر پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ شرک انسان کا سکون چھین لیتا ہے جبکہ توحید اسے ایک مضبوط اور ناقابل شکست روحانی سہارا فراہم کرتی ہے۔
یوم آخرت پر عقیدہ اور اعمال کا محاسبہ
توحید کے بعد حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جس دوسری اہم ترین بات کی طرف متوجہ کیا وہ روز قیامت اور اعمال کے محاسبے کا احساس ہے۔ انسان اکثر تنہائی میں یہ سوچ کر گناہ کر بیٹھتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا لیکن خالق کائنات ہر چھوٹی بڑی حرکت سے باخبر ہے۔ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو خدا اسے روز قیامت سامنے لے آئے گا۔ قرآن کی یہ تعلیم انسان کے اندر ایک چھلنی کا کام کرتی ہے جو اس کے ہر عمل کو برائی سے پاک کرتی ہے۔
قرآن مجید میں اس عظیم نصیحت کا ذکر انتہائی خوبصورت اور اثر انگیز انداز میں کیا گیا ہے تاکہ انسان ہمیشہ چوکنا اور بیدار رہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِنْ تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَكُنْ فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ﴾ "اے میرے بیٹے اگر کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور وہ کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں چھپا ہو اللہ اسے لے آئے گا بے شک اللہ باریک بین اور باخبر ہے” [۲]۔ یہ آیت انسان کو ایک نہایت محتاط زندگی گزارنے کی سخت تاکید کرتی ہے۔
لقمان اپنے بیٹے کو بتاتے ہیں کہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی زندگی میں کبھی معمولی مت سمجھنا۔ امام باقر (ع) نے بھی چھوٹے گناہوں سے بچنے کی تاکید کی ہے کیونکہ انسان کو ان کا بھی خدا کے سامنے مکمل حساب دینا پڑے گا۔ یہ سچا عقیدہ انسان کے دل میں خوف خدا پیدا کرتا ہے اور اسے تنہائی کی حالت میں بھی گناہ کرنے سے سختی سے باز رکھتا ہے۔ ایک پاکیزہ اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے اس احساس کا بیدار ہونا اور دلوں میں موجود رہنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آخرت پر پختہ یقین انسان کو دنیاوی مصیبتوں کے سامنے ہمت دیتا ہے اور اسے مایوسی کے اندھیروں سے مکمل طور پر بچاتا ہے۔ مفسرین نے اعمال اور انسان کی اندرونی حالت کے اس گہرے تعلق کو بڑے ہی خوبصورت اور واضح انداز میں بیان کیا ہے۔ علامہ طباطبائی اپنی مشہور تفسیر میں اس اصول کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"سنت الہی یہ ہے کہ انسان کو دی جانے والی نعمتوں کا براہ راست تعلق اس کی اپنی اندرونی اور نفسیاتی حالت سے ہوتا ہے۔” [۳]۔
یہ عقیدہ ہمارے اخلاق اور رویوں میں ایک بہت بڑی اور مثبت تبدیلی لاتا ہے۔
نماز کا قیام اور معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری
حضرت لقمان کی نصیحتوں میں روحانی اور معاشرتی فرائض کو ایک ساتھ جوڑ کر پیش کیا گیا ہے جو کہ اسلام کی جامعیت کی کھلی دلیل ہے۔ انہوں نے عقائد کی مضبوطی کے بعد سب سے پہلے اپنے بیٹے کو نماز قائم کرنے کا قطعی حکم دیا تاکہ اس کا خدا کے ساتھ رشتہ جڑا رہے۔ نماز انسان کے دل کو روشن کرتی ہے، روح کو پاکیزگی بخشتی ہے اور اسے ہر قسم کی برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے دور رکھتی ہے۔ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتوں کا یہ خوبصورت پہلو ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی ترقی کے لیے نماز ایک لازمی زینہ ہے۔
قرآن مجید میں ان کی اس بہترین نصیحت کو ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے تاکہ قیامت تک کے انسان اس سے بھرپور رہنمائی حاصل کر سکیں: ﴿يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾ "اے میرے پیارے بیٹے نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روک اور جو مصیبت تجھے پہنچے اس پر صبر کر بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے” [۴]۔ یہ فرائض ہر سچے مسلمان کے لیے ایک مکمل اور متوازن طرز زندگی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
نماز کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے معصومین نے بھی سختی سے تاکید کی ہے تاکہ انسان سیدھے راستے سے کبھی نہ بھٹک پائے۔ امام صادق (ع) نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں نماز کے حوالے سے یہ انتہائی اہم اور بیدار کرنے والی حدیث ارشاد فرمائی تھی: «إِنَّ شَفَاعَتَنَا لَا تَنَالُ مُسْتَخِفّاً بِالصَّلَاةِ» "بے شک ہماری شفاعت اس شخص کو ہرگز نہیں پہنچے گی جو نماز کو ہلکا اور معمولی سمجھے گا” [۵]۔ جو شخص نماز کی پابندی کرتا ہے وہ معاشرے کی اصلاح کی طرف بھی قدم بڑھاتا ہے۔
نماز کے فوراً بعد معاشرے کی اصلاح کا ذکر کیا گیا ہے جس میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے سختی کے ساتھ روکنا شامل ہے۔ ایک سچا انسان صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی برائیوں کو مٹانے کے لیے بھی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ معاشرے میں اچھائی پھیلانے کا کام کبھی بھی آسان نہیں ہوتا اور اس راہ میں انسان کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت لقمان نے تلقین کی کہ جب نیکی کی راہ میں کوئی مصیبت آئے تو ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھنا۔
والدین کا بلند مقام اور ان کے حقوق کی ادائیگی
والدین انسان کی زندگی کے وہ دو عظیم سائبان ہیں جن کے بغیر کسی بھی شخص کی کامیاب پرورش اور بہتر تربیت کا تصور کرنا مکمل طور پر ناممکن ہے۔ ماں اپنے بچے کے لیے جو تکالیف ہنسی خوشی برداشت کرتی ہے، وہ دنیا کی ہر دوسری قربانی سے یقیناً بہت زیادہ بلند ہے۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو واضح طور پر بتایا کہ جو شخص اپنے والدین کو خوش رکھتا ہے وہ دراصل خالق کائنات کو پوری طرح راضی کرتا ہے۔ دوسری جانب جو انسان اپنے ماں باپ کا دل دکھاتا ہے وہ خدا کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور دنیا و آخرت میں بہت بڑا نقصان اٹھاتا ہے۔ والدین جنت کے دروازوں میں سے ہیں اور ان کی خوشنودی انسان کو سیدھا اللہ کی رضا کے قریب لے جانے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر ماں باپ کی خدمت نہ کی جائے تو انسان کی بقیہ عبادتیں بھی بارگاہ الہی میں شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتیں۔
اسلام ایک ایسا سچا دین ہے جو رشتوں کی پاسداری اور انسانی حقوق کی ادائیگی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے اور اسے ایمان کا حصہ مانتا ہے۔ آج کے مادی دور میں جہاں لوگ اپنے خونی رشتوں سے تیزی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں ان قرآنی اصولوں کی اشد ضرورت ہے۔ والدین کے ساتھ بول چال میں نرمی اختیار کرنا اور ان کی ضروریات کا ہر پل خیال رکھنا ہر اولاد کا اولین اور بنیادی فریضہ ہے۔ اگر وہ ضعیفی کی حالت کو پہنچ جائیں تو ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا انسان کو دونوں جہانوں میں سرخرو اور کامیاب بنا دیتا ہے۔
والدین کے حقوق کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ انسان اپنی زندگی میں میانہ روی کو اپنائے اور صرف دنیا کی لالچ میں نہ پڑے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ اس دنیا کو ایک قید خانہ سمجھو تاکہ تمہارے لیے آخرت کی دائمی زندگی خوبصورت جنت بن جائے۔ جو شخص اپنی آخرت کو دنیا کے معمولی فائدے کے لیے سستے داموں بیچ دیتا ہے وہ سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا انسان ہے۔ دنیا کی زندگی چند روزہ ہے اور ہمیں اسے ہمیشہ آخرت کی بہتری اور کامیابی کے لیے ایک سیڑھی کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔
تکبر سے پرہیز اور عاجزی و انکساری کا راستہ
تکبر ایک ایسی مہلک روحانی بیماری ہے جو انسان کی تمام نیکیوں اور خوبیوں کو آگ کی طرح جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتوں میں انسان کو غرور سے سختی کے ساتھ روکا گیا ہے کیونکہ یہ بیماری معاشرے کے تمام خوبصورت رشتوں کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے آپ کو دوسروں سے برتر اور اونچا سمجھنے لگتا ہے تو وہ عملی طور پر خدا کی عطا کردہ نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور اسے ایک دن مٹی میں واپس جا کر حساب دینا ہے اس لیے غرور کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
غرور اور تکبر کے حوالے سے سورہ لقمان میں انتہائی واضح اور سخت الفاظ میں ہدایت دی گئی ہے تاکہ انسان اپنی حدود میں رہ کر زندگی گزارے۔ قرآن مجید که مبارک آیت کریمہ میں آیا ہے: ﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ "اور لوگوں سے اپنا رخ مت پھیر اور زمین پر اکڑ کر مت چل بے شک اللہ کسی تکبر کرنے والے اور فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا” [۶]۔ یہ آیت معاشرتی تعلقات میں عاجزی اور انکساری کو فروغ دینے کا ایک بہترین اور لازمی قرآنی سبق ہے۔
اللہ کے رسول (ص) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ کی خاطر عاجزی اختیار کرتا ہے خدا اس کے درجات کو بہت زیادہ بلند فرما دیتا ہے۔ حضرت لقمان نے بھی اپنے بیٹے کو یہی بات سکھائی کہ حق کے سامنے ہمیشہ عاجزی اختیار کرنا کیونکہ عقل مند انسان وہی ہے جو تکبر سے کوسوں دور رہے۔ جب دو لوگ آپس میں ملتے ہیں تو عاجزی ان کے دلوں کو جوڑتی ہے جبکہ غرور ان کے درمیان نفرتوں کی اونچی دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔ معاشرتی سکون اور امن کا انحصار اسی بات پر ہے کہ ہر انسان دوسرے کو خود سے بہتر سمجھے۔
عاجزی اور تواضع اختیار کرنے والا انسان دنیا کے ہر کونے میں عزت پاتا ہے اور لوگ اس کے قریب جانا پسند کرتے ہیں۔ تکبر کرنے والا انسان اپنے ہی بنائے ہوئے ایک جھوٹے خول میں بند رہتا ہے اور سچائی کا سامنا کرنے سے ہمیشہ بری طرح گھبراتا ہے۔ اس کے برعکس نرمی اور تواضع اپنانے والا شخص معاشرے کے ہر طبقے میں مقبول ہوتا ہے اور سب کھلے دل سے اس کی عزت کرتے ہیں۔ عاجزی انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے اور اسے دوسروں کے دکھ درد کو صحیح معنوں میں سمجھنے کے قابل بناتی ہے۔
بات چیت کے آداب اور میانہ روی کی اہمیت
انسان کی شخصیت اور اس کے اندرونی حالات کا سب سے بڑا ثبوت اس کے بولنے کا انداز اور اس کی عام چال ڈھال ہوتی ہے۔ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتوں کا آخری اور انتہائی اہم حصہ روزمرہ کی زندگی میں بات چیت کے آداب اور چلنے پھرنے کے متوازن طریقے پر مشتمل ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ ہمیشہ اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرو اور بولتے وقت اپنی آواز کو دھیما اور نرم رکھو۔ چیخ کر اور بلاوجہ اونچی آواز میں بات کرنا کسی بھی مہذب انسان کی پہچان نہیں ہوتی اور یہ دوسروں کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنتی ہے۔
قرآن مجید نے آواز کے اس اہم آداب کو ایک عام فہم مثال کے ذریعے واضح کیا ہے تاکہ اس کی قباحت پوری طرح ذہن نشین ہو جائے۔ ارشاد ہوتا ہے: ﴿وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ إِنَّ أَنْكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ﴾ "اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ بے شک آوازوں میں سب سے بری آواز گدھوں کی آواز ہے” [۷]۔ یہ خوبصورت اور عملی ہدایت ہر انسان کو اپنی روزمرہ کی نشست و برخاست پر کڑی نظر رکھنے کا پابند بناتی ہے۔
حد سے زیادہ بولنا انسان کو غلطیوں کی طرف لے جاتا ہے اور اس کی شخصیت کا سارا وقار آہستہ آہستہ ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ حضرت لقمان کا قول ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ بولنا چاندی ہے تو ہمیشہ یاد رکھو کہ خاموشی اختیار کرنا سونے کی طرح قیمتی عمل ہے۔ جو شخص اپنی زبان پر قابو پا لیتا ہے وہ بہت سی سماجی اور خاندانی الجھنوں سے خود بخود محفوظ ہو جاتا ہے اور پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ بلاوجہ کی باتوں میں الجھنا اور دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کرنا انسان کی اپنی ذہنی صحت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔
ایک کامیاب اور خوشگوار زندگی گزارنے کے لیے ان تمام قرآنی اور اخلاقی اصولوں پر سچے دل سے عمل کرنا ہر دور میں انتہائی ضروری ہے۔ اگر ہم ان باتوں کو محض قصے کہانیاں سمجھنے کے بجائے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارا معاشرہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتیں انسان کے باطن کی اصلاح سے شروع ہوتی ہیں اور اس کے ظاہری رویوں کو خوبصورت انداز میں سنوارنے پر مکمل ہوتی ہیں۔ یہ وہ آفاقی سچائیاں ہیں جنہیں اپنا کر کوئی بھی شخص دنیا اور آخرت دونوں جہانوں کی ابدی اور حقیقی کامیابی کو بآسانی حاصل کر سکتا ہے۔
نتیجہ
زندگی کے مختلف موڑ پر انسان کو ایسی عملی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے بھٹکنے سے بچا سکے اور سیدھا راستہ دکھائے۔ یہ تمام حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتیں ہمارے لیے ایک ایسا بہترین نمونہ ہیں جو ہمیں اچھے اخلاق، سچی نیت اور درست رویوں کے ساتھ جینا سکھاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں ان زریں اصولوں کو شامل کریں اور اپنے بچوں کی بھی اسی نہج پر عملی تربیت کریں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقیناً ہمارا ہر دن بہتری کی طرف ایک نیا قدم ثابت ہوگا اور ہم ایک باشعور قوم بنیں گے۔
حوالہ جات
[۱] سورہ لقمان آیت ۱۳۔
[۲] سورہ لقمان آیت ۱۶۔
[۳] طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۱۱، ص۳۱۱۔
[۴] سورہ لقمان آیت ۱۷۔
[۵] مجلسی، بحارالانوار، ج۴۷، ص۲۔
[۶] سورہ لقمان آیت ۱۸۔
[۷] سورہ لقمان آیت ۱۹۔
فہرست منابع
۱. طباطبائی، محمد حسین؛ المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ھ۔
2. مجلسی، محمد باقر؛ بحارالانوار، بیروت، موسسہ الوفاء، ۱۴۰۳ھ۔
3. مکارم شیرازی، ناصر؛ تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۱ش۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱. مسترحمی، ہدایت اللہ؛ نصائح لقمان حکیم، ۱ جلد، تہران، اسلامیہ، ۱۳۸۱ھ ش۔
2. موسوی، سید رضا؛ سلیمانی فرد، خدیجہ؛ «سبک زندگی، براساس نصائح قرآنی حضرت لقمان» (حضرت لقمان کی قرآنی نصیحتوں کی روشنی میں طرز زندگی)، قرآنی کوثر، شمارہ ۵۸، پاییز ۱۳۹۵ھ ش، ص ۴۱۔۶۴۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم