شرم و حیا اسلام کی ان بنیادی اخلاقی صفات میں سے ہے جو انسان کے باطن کو پاکیزہ اور اس کے ظاہر کو باوقار بناتی ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر ایسا احساس بیدار ہوتا ہے جو اسے گناہوں سے باز رکھنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید اور احادیثِ نبوی (ص) و اہل بیت (ع) میں حیا کو ایمان، عفت، تقویٰ اور حسنِ اخلاق کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
شرم و حیا انسان کے کردار کا وہ روشن وصف ہے جو اسے برائی کے راستے سے ہٹا کر نیکی کی طرف لے جاتا ہے۔ جب دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی نگرانی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس زندہ ہو تو انسان بہت سے ایسے گناہوں سے خود بخود رک جاتا ہے جن سے اسے کوئی ظاہری قانون بھی نہیں روک سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شرم و حیا کو صرف ایک معاشرتی خوبی نہیں، بلکہ ایمان کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں بے حیائی کو آزادی اور ترقی کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے، وہاں اس صفت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔
شرم و حیا کا مفہوم اور اسلامی تعلیمات میں اس کی اہمیت
شرم و حیا کے لغوی معنی شرم، عفت، پاکدامنی اور ایسے احساس کے ہیں جو انسان کو ناپسندیدہ کام سے روک دے۔ اہلِ لغت نے لکھا ہے کہ حیا کا تعلق "حیات” سے بھی ہے، کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے جس میں اخلاقی پاکیزگی موجود ہو۔ اسی لیے علماءِ اخلاق نے حیا کو نفس کی ایسی کیفیت قرار دیا ہے جو انسان کو برے کام سے روکنے اور اچھے کام کی طرف مائل کرنے کا سبب بنتی ہے۔ [۱]
اسلامی تعلیمات کے مطابق حیا صرف لوگوں سے شرمانے کا نام نہیں بلکہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس ہے۔ جب بندہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا رب اس کے ظاہر و باطن، نیت اور ارادے تک سے آگاہ ہے تو اس کے دل میں ایسا احساس پیدا ہوتا ہے جو اسے ہر اس عمل سے دور رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتا ہے: ﴿أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى﴾ "کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے؟”[۲]
ائمۂ اہل بیت (ع) نے بھی حیا کو ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے۔ امام محمد باقر سے روایت ہے: «الْحَيَاءُ وَالْإِيمَانُ مَقْرُونَانِ فِي قَرَنٍ، فَإِذَا ذَهَبَ أَحَدُهُمَا تَبِعَهُ صَاحِبُهُ»؛ "حیا اور ایمان ایک ساتھ ہیں، جب ان میں سے ایک چلا جاتا ہے تو دوسرا بھی اس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔” [۳] اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ حیا ایمان کی علامت اور اس کا محافظ ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں شرم و حیا گناہوں سے دوری کا ذریعہ
قرآن مجید نے شرم و حیا کو صرف ایک اخلاقی صفت کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ اسے انسان کی روحانی تربیت، عفت و پاکدامنی اور گناہوں سے حفاظت کا مضبوط وسیلہ قرار دیا ہے۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ پہلے انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا احساس پیدا کرتا ہے، پھر اسے برائی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اس کا ہر ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے تو اس کے لیے گناہ سے بچنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی احساس حقیقی شرم و حیا کی بنیاد ہے اور یہی تقویٰ کی روح بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ﴾ "وہ آنکھوں کی چوری کو بھی جانتا ہے اور ان باتوں کو بھی جو دل اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں۔” [۴] یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف ظاہری اعمال ہی نہیں بلکہ انسان کے ارادوں، نیتوں اور دل کے پوشیدہ خیالات سے بھی آگاہ ہے۔ جب یہ عقیدہ دل میں راسخ ہو جائے تو انسان تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اس کی نگاہ لوگوں پر نہیں بلکہ اپنے رب کی رضا پر ہوتی ہے۔
حضرت یوسف (ع) کا واقعہ قرآن میں شرم و حیا کی بہترین عملی مثال ہے۔ جب عزیزِ مصر کی بیوی نے انہیں گناہ کی دعوت دی تو انہوں نے دنیوی فائدے یا وقتی خواہش کے بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا۔ قرآن فرماتا ہے: ﴿وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ﴾ "اس عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف بھی اس کی طرف مائل ہو جاتے اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔” [۵]
مفسرین نے لکھا ہے کہ "برہانِ رب” سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی نگرانی اور انجامِ گناہ کا شعور ہے، جس نے حضرت یوسف (ع) کو لغزش سے محفوظ رکھا۔ یہی حقیقی شرم و حیا ہے جو انسان کو گناہ کے قریب پہنچ کر بھی واپس لے آتی ہے۔
قرآن کریم نے معاشرتی زندگی میں بھی شرم و حیا کی عملی تعلیم دی ہے۔ حضرت شعیب (ع) کی صاحبزادی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے: ﴿فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ﴾ "ان دونوں عورتوں میں سے ایک نہایت باحیا انداز سے چلتی ہوئی آئی۔” [۶] اس مختصر جملے میں قرآن نے خاتون کے وقار، گفتگو، چال اور معاشرتی کردار کا ایسا جامع نمونہ پیش کیا ہے جو ہر زمانے کے لیے قابلِ عمل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرم و حیا انسان کی شخصیت کو محدود نہیں کرتی بلکہ اسے عزت، وقار اور احترام عطا کرتی ہے۔
شرم و حیا کی عملی تربیت اور قرآنی رہنمائی
قرآن کریم صرف اصول بیان نہیں کرتا بلکہ ایسی عملی ہدایات بھی دیتا ہے جن کے ذریعے شرم و حیا بچپن ہی سے انسان کی طبیعت کا حصہ بن جائے۔ اسی مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے گھریلو زندگی کے آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ…﴾ "اے ایمان والو! تمہارے غلام اور وہ بچے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے، تین اوقات میں تمہارے پاس آنے سے پہلے اجازت لیا کریں۔” [۷] اس حکم سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام بچوں کی تربیت میں بھی شرم و حیا کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔
قرآن نے نگاہوں کی حفاظت کو بھی شرم و حیا کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ﴾ "ایمان والے مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔” [۸] اس کے فوراً بعد خواتین کے لیے بھی یہی حکم بیان کیا گیا ہے۔ [۹] اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں پاکدامنی کی ابتدا نگاہ کی حفاظت سے ہوتی ہے، کیونکہ بے لگام نظر بہت سے گناہوں کا پہلا دروازہ بن جاتی ہے۔
قرآن نے گفتگو کے آداب میں بھی شرم و حیا کو ملحوظ رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازواجِ مطہرات کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ﴾ "بات کرتے ہوئے ایسا نرم اور دل لبھانے والا انداز اختیار نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ لالچ میں پڑ جائے۔” [۱۰] اگرچہ یہ خطاب ازواجِ مطہرات سے ہے، مگر اس میں پورے اسلامی معاشرے کے لیے ایک اخلاقی اصول بیان کیا گیا ہے کہ پاکیزہ گفتگو بھی شرم و حیا کا اہم مظہر ہے۔
قرآن مجید کی یہ تمام ہدایات اس حقیقت کو ثابت کرتی ہیں کہ شرم و حیا صرف لباس یا ظاہری وضع قطع کا نام نہیں، بلکہ نگاہ، گفتگو، چال، خاندانی تعلقات، معاشرتی روابط اور باطنی احساسات سب اس کے دائرے میں شامل ہیں۔ جب انسان ان قرآنی اصولوں کو اپنی زندگی میں اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے گناہوں سے بچنا آسان ہو جاتا ہے اور اس کا کردار تقویٰ، عفت اور پاکیزگی سے آراستہ ہو جاتا ہے۔
احادیث نبوی (ص) و اہل بیت (ع) کی روشنی میں شرم و حیا کا کردار
قرآن مجید نے شرم و حیا کو ایمان اور پاکیزگی کا سرچشمہ قرار دیا ہے، جبکہ احادیث نبوی (ص) اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات نے اس حقیقت کو مزید واضح کیا ہے کہ حیا صرف ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ انسان کی دینی و روحانی زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ جب حیا دل میں راسخ ہو جاتی ہے تو انسان خود اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے اور ایسے اعمال سے دور رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔ اسی بنا پر اسلام نے حیا کو ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم قرار دیا ہے۔
رسول اللہ (ص) نے فرمایا: «الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ» "حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔” [۱۱]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور حیا کا تعلق صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی ہے۔ جس قدر ایمان مضبوط ہوگا، اسی قدر حیا بھی مضبوط ہوگی، اور جب حیا کمزور پڑ جائے تو انسان گناہوں کی طرف مائل ہونے لگتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ (ص) نے حیا کو ایمان کی علامت قرار دیا۔
ایک دوسری روایت میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا: «إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ» "جب تم میں حیا باقی نہ رہے تو پھر جو چاہو کرتے پھرو۔” [۱۲]
اس فرمان کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان کو گناہ کی اجازت دی جا رہی ہے، بلکہ یہ ایک سخت تنبیہ ہے کہ جب حیا ختم ہو جائے تو گناہوں کے راستے میں کوئی باطنی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔ گویا حیا انسان کے ضمیر کی محافظ ہے، اور جب یہ محافظ ختم ہو جائے تو نفس کی خواہشات غالب آ جاتی ہیں۔
احادیث اہل بیت (ع) میں بھی حیا کی غیر معمولی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ امام جعفر صادق (ع) سے روایت ہے: «لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا حَيَاءَ لَهُ» "جس میں حیا نہیں، اس کا ایمان کامل نہیں۔” [۱۳]
یہ حدیث اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ ایمان کا اثر انسان کے اخلاق میں ضرور ظاہر ہونا چاہیے۔ اگر عبادات تو موجود ہوں لیکن کردار میں بے حیائی، بے شرمی اور اخلاقی گراوٹ ہو تو ایسا ایمان اپنے مطلوبہ ثمرات پیدا نہیں کرتا۔
اسی طرح امام علی (ع) فرماتے ہیں: «ثَمَرَةُ الْحَيَاءِ الْعِفَّةُ» "حیا کا پھل عفت و پاکدامنی ہے۔” [۱۴]
یہ مختصر مگر جامع ارشاد اس پورے موضوع کا خلاصہ ہے۔ جب انسان میں حیا پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں نگاہ پاک ہوتی ہے، زبان محفوظ رہتی ہے، لباس باوقار ہوتا ہے، تعلقات حدودِ شرع کے مطابق قائم ہوتے ہیں اور انسان گناہوں سے دور رہتا ہے۔
شرم و حیا کے فردی اور معاشرتی آثار
شرم و حیا سب سے پہلے انسان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ باحیا انسان اپنے اعمال کا جائزہ لیتا ہے، غلطی پر نادم ہوتا ہے اور توبہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس کے برعکس بے حیا انسان گناہ کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اس کے ضمیر کی حساسیت ختم ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے اسلامی اخلاق میں حیا کو تزکیۂ نفس کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
خاندانی زندگی میں بھی شرم و حیا سکون، اعتماد اور احترام کو فروغ دیتی ہے۔ میاں بیوی اگر ایک دوسرے کے حقوق، حدود اور عزت کا خیال رکھیں تو محبت مضبوط ہوتی ہے۔ والدین اگر بچوں کی تربیت میں حیا، عفت اور عادلانہ آزادی کا توازن قائم کریں تو نئی نسل اخلاقی انحطاط سے محفوظ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے بچوں کو بھی اجازت لینے، نگاہوں کی حفاظت اور عفت کے آداب سکھائے ہیں۔
معاشرتی سطح پر حیا امن، اعتماد اور باہمی احترام کی فضا قائم کرتی ہے۔ جہاں حیا موجود ہو وہاں خیانت، فحاشی، جنسی جرائم، دھوکہ دہی اور اخلاقی بے راہ روی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب بے حیائی کو ترقی، آزادی یا تفریح کے نام پر فروغ دیا جائے تو معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں کیونکہ حیا انسان کے اندر ایسا داخلی قانون پیدا کرتی ہے جو بیرونی قانون سے کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، کیونکہ وہ انسان کو خلوت میں بھی گناہ سے روکتا ہے۔
شرم و حیا کے فقدان کے اسباب اور عصرِ حاضر کے چیلنجز
اسلام نے شرم و حیا کو انسانی شخصیت کا محافظ قرار دیا ہے، لیکن جب یہ صفت کمزور پڑنے لگتی ہے تو انسان آہستہ آہستہ گناہوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ حیا کے زوال کے کئی اسباب ہیں، جن میں کمزور ایمان، اللہ تعالیٰ کی نگرانی سے غفلت، نفس کی خواہشات کی پیروی، نامناسب ماحول، برے دوست، بے مقصد میڈیا کا استعمال اور فحاشی کو عام کرنے والی ثقافت نمایاں ہیں۔ یہ عوامل انسان کے دل سے گناہ کی قباحت کو ختم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ برائی کو معمولی اور نیکی کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔
گناہ اکثر اس وقت سرزد ہوتا ہے جب انسان یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔ اگر بندہ ہر لمحہ اس احساس کو زندہ رکھے کہ اس کے تمام اعمال اللہ کے سامنے ہیں، تو حیا خود بخود اس کے کردار میں نمایاں ہو جائے گی اور وہ بہت سے گناہوں سے محفوظ رہے گا۔ اسی لیے اسلامی تربیت کا بنیادی مقصد دل میں احساسِ ذمہ داری اور احساسِ جواب دہی پیدا کرنا ہے، نہ کہ صرف ظاہری پابندیوں پر اکتفا کرنا۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن ان کے بے جا استعمال نے اخلاقی چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ غیر اخلاقی مواد، بے پردگی، فحش کلامی و گندی باتیں اور بے مقصد تفریح مسلسل انسان کی فکری اور اخلاقی تربیت کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ان ذرائع کو دینی بصیرت، تقویٰ اور شرم و حیا کے اصولوں کے مطابق استعمال نہ کیا جائے تو یہ آہستہ آہستہ انسان کے ضمیر کی حساسیت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ لہٰذا جدید وسائل سے استفادہ ضرور کیا جائے، مگر اخلاقی حدود کے اندر رہ کر۔
اسلام اس مسئلے کا حل بھی پیش کرتا ہے۔ قرآن کی تلاوت، ذکرِ الٰہی، نماز، صالح افراد کی صحبت، نگاہ کی حفاظت، نفس کا محاسبہ اور اہل بیت (ع) کی سیرت سے وابستگی ایسی عملی تدابیر ہیں جو انسان کے اندر حیا کو مضبوط کرتی ہیں۔ جب یہ صفات انسان کی زندگی کا حصہ بن جائیں تو بیرونی فتنوں کا اثر کم ہو جاتا ہے اور وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھتا ہے۔
نتیجہ
شرم و حیا گناہوں سے دوری کا ایک مؤثر، فطری اور پائیدار ذریعہ ہے۔ یہی صفت انسان کے ضمیر کو بیدار رکھتی، اس کے کردار کو باوقار بناتی، خاندان کو مضبوط کرتی اور معاشرے میں پاکیزگی، اعتماد اور امن کو فروغ دیتی ہے۔ لہٰذا اسلامی معاشرے کی فکری و اخلاقی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ شرم و حیا کو انفرادی، خاندانی اور اجتماعی زندگی کا مستقل حصہ بنایا جائے۔
حوالہ جات
[۱] راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن ص ٥٧٣؛ نراقی، جامع السعادات، ج۳، ص۱۰۔
[۲] سورۂ علق، آیت ۱۴۔
[۳] ری شہری، میزان الحکمة، ج۳، ص۱۳۵۴۔
[۴] سورۂ غافر، آیت ۱۹۔
[۵] سورۂ یوسف، آیت ۲۴۔
[۶] سورۂ قصص، آیت ۲۵۔
[۷] سورۂ نور، آیت ۵۸۔
[۸] سورۂ نور، آیت ۳۰۔
[۹] سورۂ نور، آیت ۳۱۔
[۱۰] سورۂ احزاب، آیت ۳۲۔
[۱۱] نوری، مستدرک الوسائل، ج ۸، ص ۴۶۳۔
[۱۲] صدوق، عيون أخبار الرضا عليه السلام، ج ۲، ص ۵۶۔
[۱۳] کلینی، الکافي، ج ۲، ص۱۰۶۔
[۱۴] آمدی، غرر الحکم و درر الکلم، ج ۱، ص ۳۲۷۔
فہرست منابع
قرآن مجید
1. ابن بابویہ، محمد بن علی؛ عیون أخبار الرضا، ۲ جلد، تہران، جہان، (بے تا)۔
2. آمدی، عبد الواحد بن محمد؛ غرر الحکم و درر الکلم: مجموعة من کلمات و حکم الإمام علی علیہ السلام، تحقیق: مہدی رجائی، ۱ جلد، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۱۰ھ۔
3. راغب اصفہانی، حسین بن محمد؛ المفردات فی غریب القرآن، تحقیق: محمد خلیل عیتانی، ۱ جلد، بیروت، دار المعرفة، ۱۴۲۲ھ۔
4. غفاری، علی اکبر؛ کلینی، محمد بن یعقوب؛ الکافی، ۸ جلد، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۳۶۳ھ ش۔
۵. مظفر، محمد رضا؛ جامع السعادات، ۳ جلد، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، (بے تا)۔
6. محمدی ری شہری، محمد؛ میزان الحکمة، ۹ جلد، بیروت، مؤسسہ علمی ثقافتی دار الحدیث، ۱۴۳۳ھ۔
7. نوری، حسین بن محمد تقی؛ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، ۳۰ جلد، بیروت، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام لإحیاء التراث، ۱۴۰۸ھ۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
۱. خادم پیر، علی؛ «خاستگاه، عوامل و آثار شرم و حیا در نگاه قرآن و حدیث» (قرآن و حدیث کی روشنی میں شرم و حیا کی بنیادیں، اسباب اور آثار)، بصیرت و تربیت اسلامی، شمارہ ۳۲، بہار ۱۳۹۴ھ ش، ص ۱۲۷۔۱۵۴۔
2. میر دامادی، سید محمد؛ صیامی، لیلا؛ «آثار تربیتی شرم و حیا از منظر قرآن و احادیث» (قرآن و احادیث کی روشنی میں شرم و حیا کے تربیتی آثار)، مطالعات روانشناسی و علوم تربیتی (مؤسسہ آموزش عالی نگارہ)، شمارہ ۲۶، زمستان ۱۳۹۶ھ ش، ص ۳۷۔۴۸۔
✍ مؤلف: سید لیاقت علی کاظمی – حوزہ علمیہ قم