معرفت الٰہی کے سلسلے میں سب پہلے اس کی بنیادی بحث یعنی خود شناخت اور معرفت کے بارے میں علم حاصل کرنا اور اس کی اقسام کو سمجھنا سب سے اہم اور ضروری امر ہے۔ اس کے بعد ہی انسانی ذہن معرفت الٰہی کےلئے پہلی سیڑھی پر قدم رکھنے کے قابل ہوسکتا ہے۔
جب ایک انسان معرفت کے بنیادی مسائل کو حل کرنے اور دین حق کے اصول و قواعد کی پہچان کےلئے قدم اٹھاتا ہے تو وہ پہلے ہی مرحلے میں ان سوالوں کا سامنا کرتا ہے کہ وہ کس طرح ان مسائل کو حل کرے؟ کس طریقے سے بنیادی اور صحیح معارف کو حاصل کرے؟ اور اصولاً ان کی شناخت کے راستے کیا ہیں؟ نیز ان میں سے کسے ان معارف تک پہنحنے کےلئے انتخاب کرے؟
ان مطالب پر فنی اور تفصیلی گفتگو کرنے کےلئے فلسفہ کی ایک بحث اشیاء کی معرفت (اپیستمولوژی) کا سہارا لینا ضروری ہے، کہ جس میں شناخت انسان کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے، اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے ہم یہاں پر ان تمام پہلوؤں سے بحث نہیں کرسکتے اس لئے کہ وہ ہمیں اس مضمون میں اصل ہدف سے دور کردیں گے، اس وجہ سے ان میں سے فقط بعض کے بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
شناخت کی اقسام
شناخت کے اعتبار سے اسے چار قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
شناخت علمی
(خاص اصطلاح میں، شناخت تجربی) یہ شناخت، حسی امور کی مدد سے حاصل ہوتی ہے اگرچہ عقل ادراکات حسی کی عمومیت اور اس کے مجرد عن المادہ ہونے میں اپنا پورا کردار ادا کرتی ہے شناخت علمی سے، تجربی علوم مثلاً سائنس، لبارٹری، اور زیست شناسی (علم حیات) جیسے علوم میں استفادہ کیا جاتا ہے۔
شناخت عقلی
ایسی شناخت مفاہیم انتزاعی (معقولات ثانیہ) کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، اس میں اساسی اور بنیادی رول عقل کا ہوتا ہے، ہر چند اس بات کا امکان ہے کہ بعض قضایا بہ عنوان مفاھیم انتزاعی یا مقدمہ از قیاس ہونے کی وجہ سے حسی و تجربی ہوں، اس شناخت کی وسعت منطق، علوم فلسفیہ، اور ریاضیات سب کو شامل ہے۔
شناخت تعبدی
اس شناخت کی حثیت ثانوی ہے، جو (قابل اعتماد ماخذ و مدرک) (اتورتیہ) اور صادق شخص کے خبر دینے کے ذیعے حاصل ہوتی ہے وہ مطالب جو پیروان دین، اپنے دینی رہنما ہونے کے ناطے ان کے اقوال کو قبول کرتے ہیں، اور کبھی کبھی ان کا یہ اعتقاد حس و تجربہ کے ذریعے حاصل ہونے والے اعتقاد سے کہیں زیادہ قوی ہوتا ہے جو اسی شناخت کا ایک حصہ ہے۔
شناخت شہودی
یہ شناخت دوسری اقسام کے برخلاف مفہوم ذہنی کے واسطے کے بغیر معلوم ذات عینی سے متعلق ہوتی ہے، جس میں کسی قسم کے اشتباہ کا امکان نہیں رہ جاتا لیکن جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جو کچھ بھی شہودی اور عرفانی کے نام سے بیان کیا جاتا ہے در حقیقت شہودات کی ایک ذہنی تفسیر ہوتی ہے جو قابل خطا ہے۔
معرفت کی قسمیں
شناخت کی قسمیں جن اصولوں کی بنیاد پر بیان کی گئیں ہیں انہیں اصولوں کے ذریعے جہاں بینی کی بھی تقسیمات کی جاسکتی ہیں۔ معرفت کو مندرجہ ذیل چار اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
◾️معرفت علمی: یعنی انسان، علوم تجربی کے ذریعے حاصل ہونے والے نتائج کے ذریعے ہستی کے سلسلے میں ایک کلی معلومات حاصل کرے۔
◾️معرفت فلسفی: وہ معرفت جو از راہ استدلال اور عقلی کاوشوں کے ذریعے حاصل ہو۔
◾️معرفت دینی: وہ معرفت جو رہبران دین پر ایمان رکھنے اور ان کی گفتار کو قبول کرنے کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
معرفت عرفانی: وہ معرفت جو کشف و شہود اور اشراق کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ واقعا جہان بینی کے بنیادی مسائل کو انہیں چار تقسیموں کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے، تاکہ ان میں کسی ایک کے برتر ہونے کا سوال پیدا نہ ہو۔
معرفت اور علوم تجربی سے متعلق شبہہ
حس و تجربی شناخت کی وسعت اور مادی و طبیعی قضایا میں محدودیت کی وجہ سے یہ بات روشن ہوجاتی ہے کہ علوم تجربی کی بنیاد پر معرفت کے اصول کو نہیں سمجھا جاسکتا اور اس سے مربوط مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا، اس لئے کہ اس کے مسائل علوم تجربی کی حدود سے خارج ہیں۔
اور علوم تجربی میں ان مسائل کے تحت نفی و اثبات کا امکان نہیں ہے، جس طرح سے کہ وجود خدا کو آزمائشوں کے ذریعہ ثابت نہیں کیا جاسکتا، یا (العیاذ باللہ) اس کی نفی کا امکان نہیں ہے، اس لئے کہ علوم تجربی کے آلات ماوراء طبیعت تک پہنچنے سے قاصر ہیں، بلکہ ان کے ذریعے تنہا مادی قضایا میں اثبات و نفی کا حکم صادر کیا جاسکتا ہے۔
لہٰذا علمی و تجربی معرفت (اپنے اصطلاحی معنی) کی حقیقت ایک سراب سے زیادہ نہیں ہے اور اسے صحیح معنوں میں کلمہ معرفت سے یاد نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے ”جہان مادی کی شناخت‘‘ کا نام دیا جاسکتا ہے، اس لئے کہ ایسی شناخت معرفت کے بنیادی مسائل کا جواب نہیں دے سکتی۔
لیکن وہ شناخت جو تعبدی روش کے ذریعہ حاصل ہو، جیسا کہ ہم نے اشارہ بھی کیا ہے اس کی ایک ثانوی حثیت ہے، کہ جس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے مصدر یا مصادر کا اعتبار ثابت ہوچکا ہو، یعنی پہلے مرحلہ میں کسی کی بعثت ثابت ہو تاکہ اس کے پیغامات کو معتبر سمجھا جاسکے، اور ہر امر سے پہلے پیغام ارسال کرنے والے یعنی وجود خدا کا اثبات ہونا چاہیے، لہٰذا یہ بات بطور کامل روشن ہے کہ خود پیغام ارسال کرنے والے کا وجود اور کسی پیغمبر کے وجود کو پیغام کے مستند ہونے کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
جیسے کہ یہ نہیں کہا جاسکتاکہ چونکہ قرآن کہتا ہے ’’خدا ہے‘‘ پس اس کا وجود ثابت ہے، البتہ وجود خدا کے اثبات، شناخت پیغمبر اور حقانیت قرآن کے بعد ”مخبرصادق‘‘ اور ”منابع معتبر‘‘ کے ذریعے، تمام فرعی مسائل اور احکامات کو قبول کیا جاسکتا ہے لیکن بنیادی مسائل کو سب سے پہلے حل کرنا ضروری ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ روش تعبدی بھی بنیادی مسائل کے حل کےلئے ناکافی ہے، لیکن اشراقی عرفانی روش کے سلسلے میں بہت طولانی بحث ہے۔
شہودی و عرفانی بحث سے متعلق چند مسائل
◾️پہلا مسئلہ: یہ کہ مسائل جہان بینی ایک ایسی شناخت ہے جو ذہنی مفاہیم پر مشتمل ہے لیکن متن شہود میں اس کا کوئی مقام نہیں ہے لہذا ایسے مفاہیم کے سلسلے میں شہود پر اعتماد کرنا سہل انگاری اور ان کے ارادوں کے مطابق ہوگا۔
◾️دوسرا مسئلہ: الفاظ و مفاہیم کے قالب میں شہودات کی تفسیر اور انہیں بیان کرنا، ایک قوی ذہن کا کام ہے، جسے عقلی کاوشوں اورفلسفی تحلیلوں میں ایک طولانی مدت تک جان فشانیوں کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا جو لوگ ایسے ذہن کے حامل نہیں ہوتے وہ اپنی تعبیرات میں متشابہ مفاہیم کا استعمال کرتے ہیں جو گمراہی کے عظیم عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔
◾️تیسرا مسئلہ: بہت سے مقامات پر جو چیز واقعاً شہود میں آشکار ہوتی ہے خیالی انعکاس اور ذہنی تفسیر کی وجہ سے خود بخود مشاہدہ کرنے والے کےلئے، شک و تردید کا باعث ہوتی ہے۔
◾️چوتھا مسئلہ: ان حقائق کی جستجو جسے تفسیر ذہنی (معرفت) کا نام دیا جاتا ہے سیر و سلوک میں سالہا سال زحمت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، سیر و سلوک کی روش کو قبول کرنا علمی شناخت کا ایک حصہ ہے، جس میں معرفت کے بنیادی مسائل اور مبانی نظری سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا سیر و سلوک میں سفر سے پہلے ان مسائل کا حل کرنا ضروری ہے تاکہ نتیجے میں کشف و شہود حاصل ہو سکے در حالیکہ شہودی شناخت کا مرحلہ انجام کار ہے اصولاً عرفان حقیقی اس کو حاصل ہوتا ہے جو راہ خدا میں خالصةً لوجہ اللہ (صرف خدا کی مرضی کےلئے) زحمت اٹھائے اور ایسی سعی و کوشش راہ بندگی و اطاعت میں شناخت خدا پر منحصر ہے، جسے سب سے پہلے حاصل کرنا ضروری ہے۔
جہان بینی فلسفی ہی جہان بینی واقعی ہے
اس تحقیق کے بعد جو نتیجہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ تنہا وہ راستہ جس نے معرفت شناسی کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرنے والوں کے سامنے راہیں ہموار کی ہیں وہ راہ عقل اور روش تدبر و تفکر ہے، اور اس لحاظ سے جہان بینی واقعی کو جہان بینی فلسفی تسلیم کرنا چاہیے۔
البتہ عقل کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنا اور معرفت کو فلسفی مباحث میں منحصر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحیح معرفت حاصل کرنے کےلئے تمام فلسفی مسائل کا حل کیا جانا ضروری ہے بلکہ اس راہ میں صرف بدیہی اور چند مسائل کا حل کر لینا ہی کافی ہے کہ جو معرفت کے بنیادی مسائل میں شمار ہوتے ہیں، اگرچہ اس کے باوجود ایسے مسائل اور اسی قسم کے بہت سے اعتراضات کا جواب دینے کےلئے فلسفی مہارتوں کا زیادہ ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح شناخت عقلی کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کےلئے مفید طریقہ شناخت کو استعمال میں لانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بقیہ معلومات کو ترک کردیا جائے بلکہ بہت سے عقلی استدلالات میں ان مقدمات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، جو علم حضوری یا حس و تجربہ کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں، جس طرح سے کہ ثانوی مسائل اورفرعی اعتقادات کو حل کرنے کےلئے تعبدی شناخت کا سہارا لیا جاسکتا ہے اور انہیں قرآن و سنت (دین کے معتبر منابع) کی اساس پر ثابت کیا جاسکتا ہے۔
صحیح معرفت اور آئیڈیالوجی کو حاصل کرنے کے بعد سیر و سلوک کے مراحل کو طے کرنے کےلئے مکاشفات و مشاہدات کی منزل تک پہنچا جاسکتا ہے اور بہت سے وہ مسائل جو عقلی استدلالات کے ذریعے حل ہوتے ہیں انہیں ذہنی مفاہیم کے واسطے کے بغیر حاصل کیا جاسکتا ہے۔
خاتمہ
معرفت الٰہی کی دو بنیادی بحثیں، پہلی بحث، شناخت اور اس کی چار قسموں: علمی، عقلی، تعبدی، اور شہودی شناخت اور دوسری بحث، معرفت اور اس کی چار قسمیں: علمی، فلسفی، دینی، اور عرفانی معرفت سے آگاہی، معرفت الٰہی کے حصول سے متعلق مسائل کے حل کےلئے سب سے اہم اور بنیادی مقدمہ ہے جسے سمجھنا بہت ضروری ہے۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مصباح، محمد تقی، درس عقائد، مترجم: ضمیر حسین بہاولپوری، چوتھا درس، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، 1427ھ۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔