مسلمانوں کے درمیان امامت اور جانشینی کا مسئلہ اہل سنت اور شیعہ کی تقسیم کا سبب بنا۔ اہل سنت کے مطابق، پیغمبر اکرم ﷺ نے جانشین کا معاملہ امت پر چھوڑا۔ جبکہ شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خدا کے حکم سے امام مقرر ہوئے، جو معصوم، عالم اور معاشرتی رہبر ہوتے ہیں۔ یہ مسئلہ اسلامی اتحاد و بقا کے لئے انتہائی اہم ہے۔
امامت کی بحث کب سے شروع ہوئی؟
پیغمبر اسلام ﷺ کی رحلت کے بعد مسلمان دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ ایک گروہ کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا ہے اور یہ کام امت پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اپنے درمیان میں سے کسی ایک کو رہبر کے عنوان سے منتخب کریں۔ اس گروہ کو ’’اہل سنت‘‘ کہتے ہیں۔
دوسرا گروہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا جانشین آپ ہی کی مانند خطا و گناہ سے معصوم ہونا چاہئے اور بے پناہ علم کا حامل ہونا چاہئے تاکہ لوگوں کی معنوی و مادی رہبری کی ذمہ داری سنبھال سکے اور اسلام کے اصولوں کی حفاظت کرتے ہوئے انہیں بقا بخشے۔
ان کا عقیدہ ہے کہ ان شرائط کے حامل جانشین کا انتخاب خدا کی طرف سے پیغمبر اکرم ﷺ کے ذریعہ ہی ممکن ہے، اور پیغمبر خدا ﷺ نے یہ کام انجام دیا ہے اور حضرت علی (ع) کو اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے۔ اس گروہ کو ’’امامیہ‘‘ یا ’’شیعہ‘‘ کہتے ہیں۔
ان مختصر مباحث سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سلسلے میں عقلی، تاریخی اور قرآن و سنتِ پیغمبر ﷺ کی دلائل کی روشنی میں بحث و تحقیق کریں۔ لیکن اس بحث کو شروع کرنے سے پہلے ہم چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
کیا امامت کی بحث باعث تفرقہ ہے؟
جب امامت کی بحث چھڑتی ہے تو بعض لوگ فوراً یہ کہتے ہیں کہ آج کل ان باتوں کا زمانہ نہیں ہے! آج مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کا زمانہ ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کے جانشین کے مسئلے پر گفتگو کرنا اختلاف و افتراق پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے! آج ہمیں اپنے مشترک دشمنوں کے بارے میں سوچنا چاہئے، جیسے صہیونزم اور مشرق و مغرب کی استعماری طاقتیں۔ اس لئے ہمیں اس اختلافی مسئلے کو پس پشت ڈالنا چاہئے۔ لیکن یہ طرزِ فکر یقیناً غلط ہے، کیونکہ:
1۔ جو چیز اختلاف و افتراق کا سبب بن سکتی ہے، وہ تعصب پر مبنی غیر معقول بحث اور کینہ پرور جھگڑے ہیں۔ لیکن مخلصانہ اور دوستانہ ماحول میں، تعصب، ہٹ دھرمی اور لڑائی جھگڑوں سے پاک عقلی و استدلالی بحثیں نہ صرف اختلاف انگیز نہیں ہوتیں، بلکہ باہمی فاصلوں کو کم اور مشترک نقطۂ نظر کو تقویت بخشتی ہیں۔
میں نے اپنے حج و زیارت کے سفروں کے دوران متعدد بار حجاز کے اہل سنت علماء اور دانشوروں سے اس سلسلے میں بحثیں کی ہیں۔ ہم دونوں فریق محسوس کرتے تھے کہ یہ بحثیں نہ صرف ہمارے تعلقات پر برا اثر نہیں ڈالتی تھیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ آپسی افہام و تفہیم اور خوش فہمی کا سبب بھی بنتی تھیں۔
یہ بحثیں ہمارے آپسی فاصلوں کو کم کرتی ہیں اور اگر کوئی بغض و عناد ہو تو اسے دلوں سے پاک کر دیتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان بحثوں کے دوران واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارے درمیان مشترک نقطۂ نظر کثرت سے پائے جاتے ہیں، جن پر اعتماد اور بھروسہ کر کے ہم اپنے مشترک دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
خود اہل سنت بھی چار مذاہب میں تقسیم ہوئے ہیں (حنفی، حنبلی، شافعی اور مالکی)۔ ان چار مذاہب کا وجود ان میں اختلاف کا سبب نہیں بنا ہے۔ اگر وہ شیعہ فقہ کو کم از کم پانچویں فقہی مذہب کے عنوان سے قبول کریں گے تو بہت سے اختلافات اور مشکلات دور ہو جائیں گے۔
جیسا کہ ماضی قریب میں اہل سنت کے عظیم مفتی اور مصر کی جامعۃ الازہر کے سربراہ ’’شیخ شلتوت‘‘ نے اہل سنت کے درمیان فقہِ شیعہ کا باضابطہ طور پر اعلان کر کے ایک بڑا اور مؤثر قدم اٹھایا۔ انہوں نے اس طرح اسلامی افہام و تفہیم کے حق میں ایک بڑی اور مؤثر خدمت کی، جس کے نتیجے میں شیخ شلتوت اور عالمِ تشیع کے مرجعِ عالی قدر آیت اللہ العظمیٰ مرحوم بروجردی کے درمیان دوستانہ تعلقات برقرار ہوئے۔
2۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ دوسرے مذاہب کی نسبت شیعہ مذہب میں اسلام کی تجلی زیادہ واضح صورت میں موجود ہے۔ ہم تمام مذاہب کا احترام کرتے ہوئے عقیدہ رکھتے ہیں کہ مذہبِ شیعہ، اسلام کو تمام جہات میں بہتر انداز میں پہچنوا سکتا ہے اور اسلامی حکومت سے متعلق مسائل کو بہتر طور پر حل کر سکتا ہے۔
تو پھر کیوں نہ ہم اپنے بچوں کو دلیل و منطق کے ساتھ اس مکتب کی تعلیم دیں؟ اور اگر ایسا نہ کیا تو یقیناً ہم ان کے ساتھ خیانت کریں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے قطعاً اپنے جانشین کو معین فرمایا ہے۔ اس میں کیا مشکل ہے کہ عقل و منطق اور دلیل و برہان سے اس موضوع پر بحث کریں؟ لیکن ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس بحث کے دوران دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح نہ کریں۔
3۔ اسلام کے دشمنوں نے مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے لیے سنیوں میں شیعوں کے خلاف اور شیعوں میں سنیوں کے خلاف اس قدر جھوٹ اور تہمتیں پھیلائی ہیں کہ بعض ممالک میں تمام شیعہ اور سنی ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔
جب ہم امامت کے مسئلہ کو مذکورہ ذکر شدہ طریقے سے بیان کریں گے، اور شیعوں کے نقطۂ نظر کو قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں دلائل سے واضح کریں گے، تو معلوم ہوگا کہ یہ جھوٹا پروپیگنڈا تھا اور ہمارے مشترک دشمنوں نے زہر پھیلایا ہے۔
مثال کے طور پر، میں یہ کبھی نہیں بھول سکتا کہ ایک سفر کے دوران عربستان کی ایک عظیم دینی شخصیت سے میری ملاقات اور بحث ہوئی۔ اس نے اظہار کیا: ’’میں نے سنا ہے کہ شیعوں کا قرآن ہمارے قرآن سے الگ ہے۔‘‘ میں نے انتہائی تعجب کے ساتھ اس سے کہا: میرے بھائی! اس بات کی تحقیق کرنا بہت آسان ہے۔
میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ خود یا آپ کا نمائندہ میرے ساتھ آئے تاکہ ’’عمرہ‘‘ کے بعد کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ایران چلیں۔ وہاں کے تمام کوچہ و بازار میں مسجدیں ہیں اور ہر مسجد میں بڑی تعداد میں قرآنِ مجید موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، تمام مسلمانوں کے گھروں میں بھی قرآنِ مجید موجود ہے۔
آپ جس مسجد میں چاہیں گے ہم چلیں گے، یا جس گھر کا دروازہ چاہیں گے، کھٹکھٹائیں گے اور ان سے قرآنِ مجید طلب کریں گے تاکہ معلوم ہو جائے کہ آپ کے اور ہمارے قرآن میں ایک لفظ، حتیٰ کہ ایک نقطہ کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ (بہت سے قرآنِ مجید جن سے ہم استفادہ کرتے ہیں، خود عربستان، مصر اور دنیا کے دوسرے اسلامی ممالک سے شائع ہوئے ہیں۔)
بیشک اس دوستانہ اور نہایت استدلالی بحث کا یہ نتیجہ نکلا کہ اسلام کے دشمنوں نے اس مشہور عالمِ دین کے ذہن میں جو عجیب زہر افشانی کر رکھی تھی، اس کا اثر ختم ہو گیا۔
مقصود یہ ہے کہ امامت سے مربوط بحثیں، جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا، اسلامی معاشرے میں اتحاد و اتفاق کو مستحکم کرتی ہیں اور حقائق کے واضح ہونے اور فاصلے کم ہونے میں مدد کرتی ہیں۔
شیعہ و سنی اور امامت
جیسا کہ عنوان سے ہی واضح ہے کہ ’’امام‘‘ مسلمانوں کے پیشوا اور قائد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، اور شیعوں کے اصولِ عقائد کے اعتبار سے ’’امامِ معصوم‘‘ اُسے کہا جاتا ہے جو ہر چیز میں پیغمبر ﷺ کا جانشین ہو۔ اس فرق کے ساتھ کہ پیغمبر مذہب کا بانی ہوتا ہے اور امام مذہب کا محافظ و نگہبان ہوتا ہے۔ پیغمبر پر وحی نازل ہوتی ہے، لیکن امام پر وحی نازل نہیں ہوتی۔ امام پیغمبر سے تعلیمات حاصل کرتا ہے اور قدرت کی طرف سے غیر معمولی علم کا حامل ہوتا ہے۔
شیعہ عقیدہ کے مطابق ’’امامِ معصوم‘‘ حکومتِ اسلامی کا صرف رہبر ہی نہیں ہوتا، بلکہ وہ معنوی و مادی، ظاہری و باطنی، غرض ہر جہت سے اسلامی معاشرے کا رہبر اور قائد ہوتا ہے۔ وہ اسلامی عقائد و احکام کا نگہبان اور محافظ ہوتا ہے اور ہر قسم کی خطا و انحراف سے محفوظ ہوتا ہے۔ وہ خدا کا منتخب بندہ ہوتا ہے۔
لیکن اہلِ سنت امامت کی اس طرح تفسیر نہیں کرتے، بلکہ وہ اسے صرف اسلامی معاشرے کا سربراہ جانتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، وہ ہر عصر و زمانہ کے حکمرانوں کو پیغمبر کا خلیفہ اور مسلمانوں کا امام مانتے ہیں۔
ہر دور اور ہر زمانے میں ایک الہٰی نمائندہ کا ہونا ضروری ہے، یعنی پیغمبر یا ایک معصوم امام روئے زمین پر ضرور موجود ہونا چاہئے تاکہ دینِ حق کی حفاظت اور طالبانِ حق کی رہبری کر سکے۔ اور اگر کبھی یہ امامِ معصوم کسی مصلحت کے پیش نظر لوگوں کی نظروں سے غائب ہو جائے، تو اس کی طرف سے اس کے نمائندے احکامِ الٰہی کی تبلیغ اور حکومتِ اسلامی کی تشکیل کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
خاتمہ
شیعہ اور سنی مکتبہ فکر میں مسئلہ امامت ایک دوسرے کے نقطہ نظر سے یکسر مختلف ہے۔ امامت پر تعصب سے پاک اور مدلل بحث کا مقصد مسلمانوں میں اتحاد و فکری فاصلوں کو کم کرنا ہے۔ مشترک نکات کی کثرت دشمنوں کا مقابلہ ممکن بناتی ہے۔ ماضی میں، شیخ شلتوت جیسے اہل سنت علماء نے فقہ جعفریہ کو تسلیم کر کے افہام و تفہیم کی راہ ہموار کی، جس سے شیعہ سنی تعلقات دوستانہ ہوئے۔
مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)
مکارم شیرازی، ناصر، نوجوانوں کے لئے اصول عقائد کے پچاس سبق، ترجمہ: سید قلبی حسین رضوی، ص ۱۱۹‑۱۲۱، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ۲۰۰۸م۔