قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت اور اس کی عالمی ہمہ گیری

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت اور اس کی عالمی ہمہ گیری

کپی کردن لینک

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ خداوند متعال کا آخری پیغام ہونے کے ناطے انسان کے لئے تمام ادوار اور زمانوں میں سعادت و خوشبختی کے حصول کا ایک مکمل نظام ہے۔ قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت، اسی میں ہے کہ یہ کوئی عام کتاب نہیں ہے جو بعض مادی اور محدود ضرورتوں کو ب یان کرے بلکہ یہ ایک عالمگیر اور ابدی پیغام کا حامل ہے۔ انسان کو کمال اور سعادت کی منزل تک پہنچنے کے لئے ہمیشہ اس کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت

انسانوں کا بنایا ہوا نظام، فرد اور معاشرے کی خاص کر اس کے معنوی اور عقلی پہلوؤں جن پر انسانیت کا دارومدار ہے، کی جامع شناخت پر مبنی نہیں ہے۔ یہ نظام انسان کے چند جسمانی اور روحانی پہلوؤں پر توجہ دیتے اور انسان کی محدود معلومات کے دائرے میں مرتب ہوتے ہیں۔

لہذا یہ نظام وقت کی رفتار کے ساتھ انسان کی فکری اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرنے سے عاجز رہ جاتے ہیں جبکہ قرآن مجید مستحکم ترین راہوں کی طرف رہنمائی کرنے کا ایک جامع دستورالعمل ہے جو انسان کی تمام انفرادی و اجتماعی خصوصیات اور اس کی ابدی منزل سے آگاہ و دانا و حکیم پرودگار کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔

لہٰذا انسان قرآن مجید کے بحر بیکراں میں جس قدر غوطہ زن ہوجائے اور اس میں درج شدہ نظام سعادت کو سمجھنے اور حاصل کرنے کے لئے اس کی گہرائیوں میں جس قدر غواصی کرتا جائے اس آسمانی کتاب، قرآن کی جامعیت و آفاقیت اس کے لئے زیادہ سے زیادہ آشکار ہوتی جائیں گی۔

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے مختلف پہلو ہیں جن میں اس کی ابدیت، آفاقیت، علمی حیثیت اور محافظ ہونے کی حیثیت وغیرہ شامل ہیں اور ان زاویوں سے اس کی جامعیت پر بحث و تحقیق کی گنجائش ہے۔

الف: قرآن مجید کی ابدیت

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت، اس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن مجید کائنات پر حاکم نظام کے حقائق کو بیان کرنے اور انسان کی فطری صلاحیتوں اور قوتوں کو فروغ دینے کے لئے آیا ہے۔ چونکہ نظام کائنات اور انسانی فطرت سے مربوط حقائق ناقابل تغیر ہیں لہذا قرآن اور اس کے معارف کبھی قابل تغیر نہیں ہوسکتے اور علوم و معارف کا کوئی شعبہ ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ انسان کی زندگی سے اس کا حذف ہوجانا بھی ممکن نہیں ہے۔

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کی سب سے بڑی دلیل یہی ہے کہ قرآن مجید پوری بشریت کے لئے خداوند متعال کا آخری پیغام ہے۔ یہ عالم بشریت کی اخروی کامیابی کے لئے مطلوب ضروریات کا بھی کفیل ہے۔ اہل بیت (ع) کی احادیث کے مطابق خداوند متعال نے بشریت کی پوری تاریخ میں پانچ بڑے انبیاء بھیجے اور ان کے ذریعے شریعت پر مشتمل پانچ کتابیں بھیجی ہیں جو انسانوں کی فلاح و سعادت کا منشور ہے۔ ان میں کی آخری کتاب قرآن مجید ہے جو خدا کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ (ص) پر نازل کی گئی ہے۔

گزشتہ کتابیں انسانی زندگی کے خاص ادوار کی ضرورتوں کو پورا کرتی تھیں۔ ان ادوار میں بشر فکری کمال کی اس حد کو نہیں پہنچا تھا کہ خدا کے ہمہ گیر پیغام کو حاصل کر کے اسے محفوظ رکھ سکے لیکن قرآن مجید جو خدا کا آخری آسمانی پیغام ہے قیامت تک کے لئے تمام انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہے۔ اس کا پیغام کسی خاص زمانے سے مختص نہیں ہے بلکہ اس کے احکام قیامت تک قائم اور پائدار رہیں گے۔ اس بارے میں اہل بیت اطہار (ع) سے چند احادیث روایت ہوئی ہیں جن میں سے بعض کا ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے متعلق ایک حدیث میں امام جعفر صادق (ع) سے مروی ہے: سماعۃ بن مہران کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادق (ع) سے اس آیت شریفہ کے بارے میں پوچھا: {فَاصْبِرْ كَما صَبَرَ أُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ}[1] پیغمبر (ص) آپ اسی طرح صبر کریں جس طرح پہلے اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے۔

امام (ع) نے فرمایا: "(اولوالعزم سے مراد) نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمد (ص) ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیوں اولوالعزم ہوگئے؟ آپ نے فرمایا: جب نوح کتاب و شریعت کے ساتھ مبعوث ہوئے تو جو بھی پیغمبر نوح کے بعد آیا اس نے نوح کی کتاب و شریعت اور ان کی راہ کو اختیار کیا یہاں تک کہ ابراہیم نئے صحیفوں اور رسالت کے ساتھ اور نوح کی کتاب کو منسوخ کرنے کے لئے (نہ کہ اس کا انکار کرنے کے لئے) آئے۔

پھر جو بھی پیغمبر ابراہیم کے بعد آیا وہ ابراہیم کی شریعت اور ان کے راستے اور ان کی کتاب پر چلا، یہاں تک کہ موسیٰ، توریت، شریعت اور اپنی مخصوص راہ اور رسالت لے کر گزشتہ صحیفوں کو نسخ کرنے کے عزم سے آئے اور جو بھی نبی موسیٰ کے بعد آیا وہ موسیٰ کی توریت، شریعت اور ان کے مخصوص راستے پر چلا۔

یہاں تک کہ عیسیٰ انجیل، رسالت اور موسی کی شریعت کو نسخ کرنے کے عزم کے ساتھ اپنا راستہ لے کر آئے اور جو بھی پیغمبر مسیح کے بعد آیا وہ مسیح کی راہ پر چلا یہاں تک کہ محمد (ص) آئے اور آپ قرآن مجید، شریعت اور اپنی مخصوص راہ لے کر آئے۔ آپ کا حلال قیامت تک حلال اور آپ کا حرام قیامت تک حرام ہے۔ یہی اولوالعزم رسل ہیں”۔[2]

حضرت محمد (ص) کی شریعت قیامت تک منسوخ نہیں ہوگی اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ جو شخص بھی ہمارے پیغمبر (ص) کے بعد شریعت کا دعویٰ کرے یا قرآن مجید کے بعد کسی کتاب کو خدا کی نازل کردہ کتاب کے نام سے پیش کرے اس کا خون اس کی یہ بات سننے والے ہر شخص کے لئے مباح ہے۔[3]

اہل بیت (ع) نے نہ صرف یہ کہ قرآن مجید کے ابدی ہونے پر زور دیا ہے بلکہ ایک دائمی اور تازہ منبع کی حیثیت سے قرآن کا تعارف کرایا ہے اور بتایا ہے کہ اس پرکہنگی کی گرد ہرگز نہیں بیٹھ سکتی۔ اس حقیقت کوبیان کرنے کے لئے کبھی قرآن مجید کی تشبیہ ایک ایسے گہرے سمندر سے دی ہے جس کی گہرائیوں تک نہیں پہنچا جاسکتا اور کبھی سورج اور چاند سے تشبیہ دی ہے جو ہمیشہ اور ہر جگہ فروزاں رہتے ہیں۔

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے سلسلے میں منقول ہے کہ: حضرت امام صادق (ع) سے سوال کیا گیا کہ مسلسل تکرار، مسلسل تحقیق اور مسلسل نشر و اشاعت کے باوجود قرآن مجید میں تازگی کے علاوہ کسی اور چیز کا اضافہ کیوں نہیں ہوتا؟ امام نے جواب دیا: "کیونکہ خداوند متعال نے قرآن مجید کو کسی خاص زمانے اور خاص لوگوں کے لئے نازل نہیں فرمایا ہے۔ لہذا قرآن مجید روز قیامت تک ہر زمانے میں اور ہر قوم کے پاس تر و تازہ باقی رہے گا"۔[4]

امام ہادی (ع) نے بھی عربی زبان و ادب کے ایک دانشور ابن سکیت کے سوال کے جواب میں اسی نکتے کو بیان فرمایا ہے۔[5]

امام باقر (ع) نے بھی قرآن مجید کی جامعیت و ابدیت کے بارے میں سورج اور چاند کی تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے: "قرآن مجید کا ظاہر اس کی تنزیل ہے اور اس کا باطن اس کی تأویل ہے۔ اس کا ایک حصہ گزرچکا ہے اور ایک حصہ ابھی محقق نہیں ہوا ہے۔ قرآن مجید سورج اور چاند کے مانند جاری و ساری ہے اور جو کچھ اس سے جاری ہوجائے وہ تحقق پاتا ہے۔ خداوند متعال نے فرمایا ہے: قرآن کی تفسیر کو خدا اور علم میں راسخ افراد کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ ہم اہل بیت (ع) اسے جانتے ہیں"۔[6]

امام جعفر صادق (ع) نے قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کو یوں بیان فرمایا ہے: "قرآن زندہ ہے مردہ نہیں۔ قرآن مجید شب و روز اور آفتاب و ماہتاب کے مانند جاری و ساری ہے۔ یہ ہمارے آخری فرد پر اسی طرح جاری ہوگا جیسے کہ ہمارے پہلے فرد پر جاری رہا ہے"۔[7] اہل بیت (ع) کی نظر میں قرآن مجید کی جامعیت، اس کی جاویدانگی بلکہ قرآن مجید کی دائمی تازگی و طراوت اس قدر واضح ہے کہ کسی دلیل و برہان کی ضرورت نہیں ہے۔

کیونکہ اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان قرآن کی موجودگی اور اس کی جانب لوگوں کی روز افزوں توجہ پر نگاہ کرے تو کسی دلیل کے بغیر خود بخود اس حقیقت کا اعتراف کرے گا۔ اس لئے اہل بیت اطہار (ع) نے قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت اور اس کی جاودانگی اور تازگی کو ایک مسلم حقیقت کے طور پر سب کے لئے قابل قبول قرار دیتے ہوئے اس سے دوسرے دینی معارف کو بھی ثابت کرنے کے لئے استفادہ کیا ہے۔ اس بارے میں امام محمد باقر (ع) اور ایک عیسائی دانشور کی گفتگو قابل توجہ ہے۔

محدث بحرانی ”مدینۃ المعاجز“ میں قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے بارے میں امام صادق (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عیسائی دانشور نے امام باقر (ع) سے پوچھا: آپ کس دلیل کی بناء پر دعویٰ کرتے ہیں کہ بہشت کے میوے ہمیشہ تر و تازہ اور ہمیشہ اہل بہشت کے اختیار میں ہوں گے اور کبھی ختم نہیں ہوں گے؟ آپ اس دعویٰ کی کون سی زندہ دلیل اور گواہ رکھتے ہیں؟ امام محمد باقر (ع) نے فرمایا: "ہمارے اس دعوے کی دلیل ہمارا قرآن ہے جو ہمیشہ تر و تازہ ہے اور دنیا کے تمام لوگوں کے پاس ہے اور ختم ہونے والا نہیں ہے”۔[8]

امام محمد باقر (ع) قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کو مزید؛ بظاہر گزشتہ اقوام میں سے کسی قوم کے بارے میں نازل شدہ چند آیات کو ہمیشہ زندہ اور جدید مصادیق کے ساتھ قابل تطبیق قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: "اگر ایسا ہو تاکہ کسی قوم کے بارے میں نازل شدہ آیت، اس قوم کے مرجانے کے بعد مرجاتی تو قرآن مجید میں سے کچھ باقی نہ رہ جاتا لیکن جب تک آسمان و زمین باقی ہیں پورا قرآن مجید زندہ اور رواں دواں رہے گا۔ ہر قوم کے لئے اس کے خیر یا شر کے بارے میں ایک آیت ہے، جسے وہ پڑھتے ہیں اور خود اس کے اہل ہیں”۔[9]

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ: اگرچہ قرآن مجید کی آیات فہم کی سہولت اور اس کے معارف کے حفظ کی آسانی کے لئے ہمیشہ بعض خاص مصادیق پر منطبق نازل ہوئی ہیں جسے شان نزول کہتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر آیت کا مصداق مخصوص ہے بلکہ قرآن مجید کی آیات (پوری تاریخ میں) ہر اس مصداق پر جو آیت کے کلی مفہوم کے دائرے میں آتا ہے منطبق ہوتی ہیں۔

امام صادق (ع) نے اس نکتے کو اہل بیت (ع) سے مربوط چند آیات کی تفسیر کے ضمن میں یوں بیان فرمایا ہے: ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے امام صادق (ع) سے آیت {إِنَّما أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِكُلِّ قَوْمٍ هادٍ}[10] کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابو محمد! رسول خدا (ص) منذر ہیں اور علی (ع) ہادی ہیں۔

تو کیا آج ہم میں سے کوئی ہادی ہے یا نہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ پر قربان ہو جاؤں۔ آپ کے یہاں مسلسل ایک ہادی کے بعد دوسرا ہادی موجود رہا ہے، یہاں تک کہ (یہ منصب) آپ تک پہنچاہے۔ آپ (ع) نے فرمایا: اے ابو محمد! اگر کسی شخص کے بارے میں ایک آیت نازل ہوجائے اور پھر وہ شخص مرجائے تو کیا وہ آیت بھی مرجائے گی اور قرآن مجید بھی ختم ہوجائے گا؟ نہیں بلکہ یہ (قرآن) وہ زندہ ہے جو بعد والوں میں اسی طرح جاری رہے گا جس طرح پہلے والوں میں جاری اور رائج تھا۔[11]

قرآن مجید کی آیات کا مختلف مصادیق پر منطبق ہونا درج ذیل حدیث شریف میں واضح طور پر بیان ہوا ہے: عمر بن یزید کہتا ہے: میں نے اس آیت شریفہ: {وَ الَّذينَ يَصِلُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ} [12] کے بارے میں امام (ع) سے سوال کیا تو حضرت نے فرمایا: یہ آیت پیغمبر اکرم (ص) کے اہل بیت (ع) اور قرابتداروں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ تمہارے قرابتداروں کے بارے میں بھی ہے۔ اس کے بعد امام (ع) نے فرمایا: "تمہیں ان لوگوں میں سے نہیں ہونا چاہئیے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ بات صرف ایک ہی مصداق کے بارے میں ہے”۔[13]

ب: قرآن مجید کی آفاقیت

اہل بیت (ع) قرآن مجید اور اس کے پیغام کو کسی خاص علاقے، خاص تہذیب یا خاص زبان اور قوم سے مختص نہیں جانتے تھے اور اس الٰہی دعوت کے تمام انسانوں کو شامل ہونے پر زور دیتے تھے۔

یحیی بن عمران اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ اس آیت شریفہ: {وَ أُوحِيَ إِلَيَّ هذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَ مَنْ بَلَغَ}[14] (اور میری طرف اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پیغام پہنچے سب کو ڈراؤں) کے بارے میں امام صادق (ع) سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ جس زبان میں بھی پہنچے۔[15]

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کی جہات میں سے ایک جہت یہ ہے کہ اس میں معارف الٰہیہ کو مختلف طریقوں سے گوناگوں سطح پر بیان کیا گیا ہے تاکہ علماء و دانشور بھی اس (قرآن) سے خود کو مستغنی نہ جانیں اور سادہ فکر والے لوگ بھی اس کے مطالب کی پیچیدگی کا بہانہ بنا کر خود کو اس سے محروم نہ سمجھیں۔

قرآن مجید خداوند متعال کا ایسا وسیع دسترخوان ہے جس سے ہر قسم کے اور ہر علمی سطح کے لوگ اپنی لیاقت اور استعداد کے مطابق استفادہ کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے متعلق امام حسین (ع) فرماتے ہیں: "خداوند عزّوجل کی کتاب چار چیزوں پر مشتمل ہے۔ ظاہری عبارات، اشارات، لطائف اور حقائق۔ ظاہری عبارت عوام کے لئے، اشارہ خواص کے لئے، لطائف اولیاء کے لئے اور حقائق انبیاء کے لئے ہیں”۔[16]

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ انسان جس قدر بھی فکری ارتقاء کے مراحل طے کرے اور کائنات کے حقائق کو سمجھنے کے لئے عمیق معارف کی ضرورت کا جس قدر بھی احساس کرلے پھر بھی قرآن مجید کی طرف رجوع کر کے اور اس میں عمیق غور و فکر کر کے اپنی فکری معرفت کے لئے رہنما اصول حاصل کرسکتا ہے۔ بالفاظ دیگر قرآن مجید انسانی زندگی کے ہر دور میں مفکرین اور دانشوروں کی ضرورتوں کو ہمیشہ پوری کرتا رہے گا۔

حضرت امام زین العابدین (ع) قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کے بارے میں فرماتے ہیں: "خداوند متعال جانتا تھا کہ آخری زمانے میں گہری فکر اور عمیق نظر رکھنے والے کچھ لوگ پیدا ہوں گے۔ اسی لئے {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَد اللَّهُ الصَّمَد}[17] اور سورۂ حدید کی ابتدائی آیات {وَهُوَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ} تک نازل فرمائیں۔ جو شخص ان آیات سے ماوراء کسی اور چیز کو تلاش کرے گا وہ ہلاک ہوگا”۔[18]

ج: قرآن مجید کی علمی جامعیت

قرآن مجید ان کے لئے ایک ایسا نسخہ لایا، جس میں سابقہ کتابوں کی تعلیمات موجود ہیں۔ یہ گزشتہ کتابوں کی تصدیق کرنے والا اور حلال و حرام کو بیان کرنے والا ہے۔ وہ نسخہ یہی قرآن مجید ہے۔ اس سے سوال کرو تاکہ وہ تمہیں جواب دے۔ البتہ وہ ہرگز تمہارے ساتھ گفتگو نہیں کرے گا بلکہ میں تمہارے لئے قرآن کے بارے میں گفتگو کروں گا۔ قرآن مجید میں ماضی کا اور قیامت تک کا علم اور تمہارے درمیان انجام پانے والے امور کا حکم اور تمہارے اختلافی مسائل کا بیان موجود ہے۔ اگر تم لوگ ان سب چیزوں کے بارے میں مجھ سے سوال کرو گے تو میں تمہیں آگاہ کروں گا۔[19]

حضرت امام محمد باقر (ع) قرآن کی علمی جامعیت کے بارے میں ہر قسم کے شبہات کو دور کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "بیشک خداوند متعال نے امت کی ضرورت کی کسی چیز کو اپنی کتاب میں نازل فرمانے اور اپنے پیغمبر (ص) کے لئے بیان کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔ (خدا نے) ہر چیز کے لئے ایک اندازہ مقرر فرمایا ہے اور اس کے لئے ایک رہنما معین کیا ہے نیز اس کے حدود سے تجاوز کرنے والوں کے لئے سزا مقرر فرمائی ہے”۔[20]

امام صادق (ع) قرآن کی علمی جامعیت اور اس کے ذریعے ہر فرد کی فکری ضروریات کی تکمیل کے سلسلے میں فرماتے ہیں: "خداوند متعال نے ہر چیز کا بیان قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے یہاں تک کہ خدا کی قسم بندوں کی ضرورت کی کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے بارے میں قرآن مجید میں کوئی آیت ضرور نازل کی ہے۔ پس کوئی بندہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ کاش اس مسئلے کا قرآن مجید میں ذکر ہوا ہوتا”۔[21][22]

قرآن کی علمی جامعیت کے بارے میں چند نظریے پائے جاتے ہیں: قرآن کی علمی جامعیت کے اصول کی تائید قرآن مجید اور موثق احادیث سے ہوتی ہے۔ معروف اور اہم مفسرین اور قرآن مجید کے محققین نے اسے تسلیم کیا ہے۔ بحث صرف اس جامعیت کے دائرے کی وسعت میں ہے۔ اس بارے میں درج ذیل تین اہم نظریات پائے جاتے ہیں:

پہلا نظریہ: علمی جامعیت اور انسان کی سعادت

دوسرا نظریہ: تمام علوم و معارف کا دریافت

تیسرا نظریہ: انسان کی ہدایت کے لئے ضروری معارف

قرآن کی علمی جامعیت پر ہم نے ایک مستقل مقالہ میں مفصل بحث کی ہے جس میں مولائے کائنات حضرت علی (ع)، امام محمد باقر (ع)، امام جعفر صادق (ع) اور مختلف دانشوران قرآنی کے اقوال و نظریات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے۔

د: قرآن مجید آسمانی کتب کا محافظ

قرآن مجید کے جامع اور آفاقی ہونے کا ایک پہلو یہ ہے کہ قرآن مجید ان تمام معارف کو محیط ہے جو گزشتہ انبیاء کی آسمانی کتابوں میں اتارے گئے ہیں۔ چونکہ قرآن مجید ان کتابوں کی آخری اور مکمل صورت ہے اور اس آسمانی کتاب کے مفاہیم گزشتہ آسمانی کتابوں سے کسی صورت جدا نہیں، خواہ ان موارد میں جہاں ان کے احکام منسوخ کئے گئے ہوں یا ان موارد میں جہاں انہیں باقی رکھا گیا ہو۔ قرآن مجید ان سب مفاہیم کو محیط ہے۔ قرآن مجید کی یہ خصوصیت دوسرے آسمانی ادیان کے سچے پیروکاروں کے لئے اس بات کو آسان بنا دیتی ہے کہ وہ قرآنی معارف کو تسلیم کریں۔

پیغمبر اکرم (ص) اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "توریت کی جگہ مجھے طولانی سورتیں دی گئیں۔ انجیل کی جگہ سینکڑوں (آیات پر مشتمل) سورتیں اور زبور کی جگہ ”مثانی“ سورتیں عطا کی گئیں۔ مفصل سورتیں بھی میری برتری کا سبب ہیں۔ قرآن مجید خود آسمانی کتابوں کا گواہ اور ان کا نگراں ہے”۔[23]

اسی طرح نقل ہوا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا: "وأعطيت جوامع الکلم"۔ مجھے جوامع الکلم عطا کیا گیا ہے۔

عطاء نے امام باقر (ع) سے پوچھا کہ ”جوامع الکلم“ سے کیا مراد ہے؟ تو امام (ع) نے فرمایا: ”جوامع الکلم“ سے مراد قرآن مجید ہے۔[24]

بحث کا خلاصہ

قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت اس کی معجزانہ خصوصیات ہیں جو اسے ایک ہمہ گیر، مکمل اور ابدی کتاب بناتی ہیں۔ اس کی تعلیمات ہر دور اور ہر قوم کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور انسانیت کے تمام مسائل کا حل اس میں موجود ہے قرآن مجید کی جامعیت و آفاقیت کا تقاضا ہے کہ اس قرآن نے دین، دنیا اور آخرت کے تمام اہم پہلوؤں کو مکمل طور پر بیان کر دیا ہے، اس لئے یہ ہمیشہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے موجود رہے گا۔

 

حوالہ جات

[1]۔ سورہ الاحقاف، آیت 35۔

[2]۔ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج1، ص93۔

[3]۔ طوسی، امالی، ص580۔

[4]۔ صدوق، عیون اخبارالرضا، ج1، ص93۔

[5]۔ طوسی، امالی، ص580۔

[6]۔ مجلسی، بحار الانور، ج89، ص97؛ فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ج1، ص29۔

[7]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج53، ص403۔

[8]۔ بحرانی، مدینة المعارج، ج5، ص72۔

[9]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج53، ص403، (نقل از تفسیر عیاشی)۔

[10]۔ سورہ رعد، آیت 7۔

[11]۔ صفار، بصائر الدرجات، ص51؛ مجلسی، بحار الانوار، ج23، ص4۔

[12]۔ سورہ رعد، آیت 21۔

[13]۔ کلینی، کافی، ج2، ص156۔

[14]۔ سورہ انعام، آیت؛ 19۔

[15]۔ صدوق، علل الشرائع، ج1، ص125؛ مجلسی، بحار الانوار، ج16، ص131۔

[16]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص20۔

[17]۔ سورہ اخلاص، آیت 2-1۔

[18]۔ کلینی، کافی، ج1، ص91۔

[19]. کلینی، کافی، ج1، ص61۔

[20]. کلینی، کافی، ج1، ص59۔

[21]. مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص78، ح9۔

[22]. فیض کاشانی، تفسیر صافی، مقدمہ7، (کافی سے منقول)۔

[23]۔ کلینی، کافی، ج2، ص601۔

[24]۔ طوسی، امالی، ص484۔

 

فہرست منابع

1. القرآن الکریم

2. بحرانی، ہاشم، مدینۃ المعارج، قم، موسسۃ المعارف الاسلامیۃ، 1413ق۔

3. صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، علل الشرائع، قم، مکتبۃ الداوری، 1385ق۔

4. صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا، قم، موسسۃ الاعلمی، 1404ق۔

5. صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات، قم، مکتبۃ الداوری، 1385ق۔

6. طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافۃ، 1414ق۔

7. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، تہران، مکتبۃ الصدر، 1415ق۔

8. کلینی، ابو جعفر محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1407ق۔

9. مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء، 1403ق۔

 

مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)

ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص71 تا 80، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔