تشیع کا آغاز ایک موضوع ہے جس کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، جنہیں اجمالی طور پر دو طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اور مقالے میں کوشش کی گئی ہے کہ تشیع کا آغاز، عہد رسالت میں ہی ثابت کرے۔ نیز تشیع کا آغاز عہد رسالت میں ہونے کی کافی مضبوط دلائل بھی پیش گئی ہیں۔
تشیع کا آغاز؛ عہد رسالت کے بعد کی بدعت
وہ محققین جن کا کہنا ہے: تشیع کا آغاز رسول اعظم (ص) کی وفات کے بعد ہوا، خود وہ بھی چند گروہ میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔
(الف) تشیع کا آغاز اور سقیفہ کی رویداد: پہلے گروہ کا کہنا ہے تشیع کا آغاز سقیفہ کے دن ہوا، جب بزرگ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کہا: حضرت علی (ع) امامت و خلافت کے لئے اولویت رکھتے ہیں۔[1] اور تشیع کا آغاز اسی دن ہے۔
(ب) تشیع کا آغاز اور دورہ عثمان: دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ تشیع کا آغاز خلافت عثمان کے آخری زمانے سے مربوط ہے اور یہ لوگ اس زمانہ میں، عبد اللہ بن سبا کے نظریات کے منتشر ہونے کو تشیع کا آغاز سے مربوط جانتے ہیں۔ [2] یوں تشیع کا آغاز کا اسی شخص کی مرہوں منت ہے۔
(ج) تشیع کا آغاز اور سقیفہ کی رویداد: تیسرا گروہ معتقد ہے کہ تشیع کا آغاز اس دن سے ہوا جس دن عثمان قتل ہوئے، اس کے بعد حضرت علی (ع) کی پیروی کرنے والے شیعہ حضرات ان لوگوں کے مد مقابل قرار پائے، جو خون عثمان کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جب طلحہ و زبیر نے حضرت علی (ع) کی مخالفت کی اور وہ انتقام خون عثمان کے علاوہ کسی دوسری چیز پر قانع نہ تھے۔
نیز حضرت علی (ع) بھی ان سے جنگ کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ حق کے سامنے تسلیم ہوجائیں، اس دن جن لوگوں نے حضرت علی (ع) کی پیروی کی وہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوگئے اور حضرت علی (ع) بھی خود ان سے فرماتے تھے:یہ میرے شیعہ ہیں، [3] نیز ابن عبدربہ اندلسی ر قم طراز ہیں:
”شیعہ وہ لوگ ہیں جو حضرت علی (ع) کو عثمان سے افضل قرار دیتے ہیں۔ [4] اور تشیع کا آغاز، تفضیل امام علی (ع) صورت میں ظاہر ہوا۔
(د) تشیع کا آغاز اور امام علی (ع) کی شہادت: چوتھا گروہ معتقد ہے کہ تشیع کا آغاز روز حکمیت کے بعد سے شہادت حضرت علی (ع) تک وجود میں آیا۔ [5]
(ھ) تشیع کا آغاز اور کربلا کا المیہ: پانچواں گروہ تشیع کا آغاز کو واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین سے مربوط قرار دیتاہے۔ [6]
تشیع کا آغاز؛ عہد رسالت کا حقیقی روپ
دوسرا طبقہ ان محققین کا ہے جو معتقد ہیں کہ تشیع کا آغاز رسول خدا (ص) کی حیات طیبہ میں ہوا تھا، تمام شیعہ علما بھی اس کے قائل ہی کہ تشیع کا آغاز عہد رسالت میں ہی ہوا ہے۔ [7]
بعض اہل سنت دانشوروں کا بھی یہی کہنا ہے تشیع کا آغاز اسی دور میں ہوا تھا، چنانچہ محمد کردعلی، کہتے ہیں: ”رسول خدا (ص) کے زمانے میں بعض صحابہ کرام شیعیان علی (ع) کے نام سے مشہور تھے۔ [8] اور یہی تشیع کا آغاز ہے۔
مذکورہ بالا نظریات کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ روز سقیفہ، خلافت عثمان کا آخری دور، جنگ جمل، حکمیت اور واقعہ کربلا وغیرہ وہ موارد ہیں جن میں رونما ہونے والے کچھ حادثات تاریخ تشیع میں مؤثر ثابت ہوئے نہ کہ تشیع کا آغاز ہوا ہو۔
تشیع کا آغاز، احادیث کی روشنی میں
اگر احادیث پیغمبر اسلام (ص) پر محققانہ نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب سے پہلے رسول خدا (ص) کی زبانی بہت سی احادیث میں لفظ شیعہ حضرت علی (ع) کے چاہنے والوں کے لئے استعمال ہوا ہے، جن میں سے ہم بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں، نیز یہ تمام احادیث اہل سنت کے نزدیک مقبول ہیں۔
سیوطی اس آیۂ کریمہ: ”اولٰئکٔ هم خیر البریة” کی تفسیر میں پیغمبر اکرم (ص) سے حدیث نقل کرتے ہیں، منجملہ یہ حدیث کہ پیغمبر (ص) اسلام نے فرمایا: اس آیۂ کریمہ: ”اولٰئکٔ هم خیر البریة” میں خیرالبریہ سے مراد حضرت علی (ع) اور ان کے شیعہ ہیں اور وہ قیامت کے دن کامیاب ہیں۔ [9]
رسول اکرم (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: خداوند کریم نے آپ کے شیعوں کے اور شیعوں کو دوست رکھنے والے افراد کے گناہوں کو بخش دیا ہے، [10]
نیز پیغمبر اسلام (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: آپ اور آپ کے شیعہ حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے۔ جبکہ آپ حوض کوثر سے سیراب ہوں گے اور آپ کے چہرے (نور سے) سفید ہوں گے اور آپ کے دشمن پیاسے اور طوق و زنجیر میں گرفتا رہوکر میرے پاس آئیں گے [11]
رسول خدا (ص) نے ایک طولانی حدیث میں حضرت علی (ع) کے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنی صاحبزادی فاطمہ زہرا (س) سے فرمایا: اے فاطمہ! علی (ع) اور ان کے شیعہ کل (قیامت میں) کامیاب (نجات پانے والوں میں) ہیں۔ [12]
اسی طرح ایک دوسری حدیث میں رسول اعظم (ص) نے فرمایا: اے علی! خداوند عالم نے آپ کے اور آپ کے خاندان اور آپ کے شیعوں کو دوست رکھنے والوں کے گناہوں کو بخش دیا ہے۔ [13]
نیز رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے علی! جب قیامت برپا ہوگی تو میں خدا سے متمسک ہوں گا اور تم میرے دامن سے اور تمہارے فرزند تمہارے دامن سے اور تمہاری اولاد کے چاہنے والے تمہاری اولاد کے دامن سے متمسک ہوں گے۔ [14]
نیز رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: تم قیامت میں سب سے زیادہ مجھ سے نزدیک ہو گے اور (تمہارے) شیعہ نور کے منبر پر ہوں گے۔ [15]
ابن عباس نے روایت کی ہے کہ جناب جبرئیل نے خبر دی کہ (حضرت) علی اور ان کے شیعہ حضرت محمد مصطفی (ص) کے ساتھ جنت میں لے جائے جائیں گے۔ [16]
جناب سلمان فارسی نقل کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) سے فرمایا: اے علی! سیدھے ہاتھ میں انگوٹھی پہنو تاکہ مقربین میں قرار پاؤ، حضرت علی (ع) نے پوچھا: مقربین کون ہیں؟
آنحضرت (ص) نے فرمایا: جبرئیل و میکائیل؛
پھر حضرت علی (ع) نے پوچھا: کون سی انگوٹھی ہاتھ میں پہنوں؟
آنحضرت (ص) نے فرمایا: وہ انگوٹھی جس میں سرخ عقیق ہو، کیونکہ عقیق وہ پہاڑ ہے، جس نے خدائے یکتا کی عبودیت، میری نبوت، آپ کی وصایت اور آپ کے فرزندوں کی امامت کا اقرار و اعتراف کیا ہے اور آپ کو دوست رکھنے والے اہل جنت ہیں اور آپ کے شیعوں کی جگہ فردوس بریں ہے۔ [17]
پھر رسول خدا (ص) نے فرمایا: ستر ہزار افراد میری امت سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، حضرت علی (ع) نے دریافت کیا: وہ کون ہیں؟ آنحضرت (ص) نے فرمایا: وہ تمہارے شیعہ ہیں اور تم ان کے امام ہو۔ [18]
انس ابن مالک حضرت رسول خدا (ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جبرئیل نے مجھ سے کہا: خدائے کریم حضرت علی (ع) کو اس قدر دوست رکھتا ہے کہ ملائکہ کو بھی اتنا دوست نہیں رکھتا، جتنی تسبیحیں پڑھی جاتی ہیں، خدائے کریم اتنے ہی فرشتوں کو پیدا کرتا ہے تاکہ وہ حضرت علی (ع) کے دوستوں اور ان کے شیعوں کے لئے تا قیامت استغفار کریں۔[19]
جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: خدائے یکتا کی قسم جس نے مجھے پیغمبر بنا کر مبعوث کیا کہ خداوند عالم کے مقرب بارگاہ فرشتے حضرت علی (ع) کے لئے طلب مغفرت کرتے ہیں نیز ان کے اور ان کے شیعوں کے لئے باپ کی طرح الفت و محبت اور اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔ [20]
خود حضرت علی (ع) روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول اعظم (ص) نے فرمایا: اے علی! اپنے شیعوں کو خوش خبری دیدو کہ میں روز محشر شفاعت کروں گا۔[21]
رسالت مآب (ص) نے فرمایا: اے علی! سب سے پہلے جنت میں جو چار افراد داخل ہوں گے وہ میں، تم اور حسن و حسین، ہیں، ہماری ذریت ہمارے پیچھے اور ہماری ازواج ہماری ذریت کے پیچھے اور ہمارے شیعہ دائیں، بائیں ہوں گے۔ [22]
تشیع کا آغاز اور سنی محققین و مؤرخین
بہت سے محققین اور مؤرخین اہل سنت نے نقل کیا ہے کہ رسول خدا (ص) نے حضرت علی (ع) کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا: ’’یہ اور ان کے شیعہ قیامت کے دن کامیاب ہیں۔‘‘[23]
حتیٰ بعض شیعہ حضرات کے بارے میں رسول خدا (ص) سے روایات منقول ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ شیعوں کے مخالفین کی زبانی روایات نقل ہوئی ہیں، جیسے جناب عائشہ سے حجر بن عدی کے بارے میں روایت منقول ہے، جب معاویہ حجر اور ان کے دوستوں کے قتل کے بعد حج کر کے مدینہ آیا تو عائشہ نے اس سے کہا:
’’اے معاویہ جب تم نے حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کو قتل کیا تو تمہاری شرافت کہاں چلی گئی تھی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ میں نے رسول خدا (ص) سے سنا ہے، آنحضرت (ص) نے فرمایا: ایک جماعت ”مرج عذراء” نام کی جگہ قتل ہوگی، ان کے قتل کی وجہ سے اہل آسمان غضب ناک ہوں گے۔ [24]
چونکہ یہ احادیث قابل انکار نہیں ہیں اور انہیں بزرگان اہل سنت نے نقل کی ہیں، لہٰذا بعض صاحبان قلم نے ان میں بیجا و ناروا تاویلیں کی ہیں، چنانچہ ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
’’بہت سی روایات میں ان شیعوں سے مراد جن سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد ہیں جو حضرت علی (ع) کو تمام مخلوق میں سب سے افضل و برتر سمجھتے ہیں، اس وجہ سے ہمارے معتزلی علما نے اپنی تصانیف اور کتابوں میں لکھا ہے کہ در حقیقت ہم شیعہ ہیں اور یہ جملہ قریب بہ صحت اور حق سے مشابہ ہے۔‘‘ [25]
نیز ابن حجر ہیثمی نے اپنی کتاب ”الصواعق المحرقة” کی شدت پسندانہ کتاب اس حدیث کو نقل کرتے وقت بیان کیا: اس حدیث میں شیعوں سے مراد موجودہ شیعہ نہیں ہیں بلکہ ان سے مراد حضرت علی (ع) کے خاندان والے اور ان کے دوست ہیں جو کبھی بدعت میں مبتلا نہیں ہوئے اور نہ ہی انہوں نے اصحاب کرام کو سب و شتم کیا۔[26]
شیعہ کا لفظی مفہوم
مرحوم مظفر ان کے جواب میں بیان کرتے ہیں:
بڑے تعجب کی بات ہے کہ یہاں شیعوں سے مراد اہل سنت حضرات ہیں؟! مجھے نہیں معلوم کہ یہ مطلب لفظ شیعہ و سنی کے مترادف ہونے کی وجہ سے ہے یا اس وجہ سے کہ یہ دونوں فرقے ایک ہی ہیں؟ یا یہ کہ اہل سنت حضرات شیعوں سے زیادہ خاندان پیغمبر اسلام (ص) کی اطاعت کرتے ہیں۔ [27]
مرحوم کاشف الغطاء کہتے ہیں: لفظ شیعہ کو شیعیان حضرت علی (ع) سے منسوب کرنے ہی کی صورت میں یہ معنیٰ سمجھ میں آتے ہیں، ورنہ پھر اس کے علاوہ شیعہ کے کوئی دوسرے افراد ہیں۔ [28]
احادیث پیغمبر اسلام (ص) میں شیعہ معنیٰ کا ظہور روز روشن کی طرح واضح وآشکار ہے اور یہ حضرات اس طرح کی بیجا تاویلات کے ذریعہ حقیقت سے روگردانی کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے خود اپنے نفسوں کو دھوکا دیا، کیونکہ لفظ شیعہ کے مصادیق آنحضرت (ص) کے زمانے میں موجود تھے اور کچھ اصحاب پیغمبر اسلام (ص) شیعیان علی کے نام سے مشہور تھے۔ [29]
اصحاب پیغمبر اسلام (ص) بھی حضرت علی (ع) کے پیروکاروں کو شیعہ کہتے تھے، ہاشم مرقال نے حضرت علی (ع) سے ’’محل بن خلیفہ طائی‘‘ نامی شخص کے بارے میں کہا: ’’اے امیرالمؤمنین! وہ آپ کے شیعوں میں سے ہیں۔‘‘ [30]
اور خود شیعہ بھی آپس میں ایک دوسرے کو شیعہ کہتے تھے، چنانچہ شیخ مفید نقل کرتے ہیں کہ ایک جماعت نے حضرت علی (ع) کی خدمت میں شرفیاب ہوکر عرض کی: اے امیرالمومنین!ہم آپ کے شیعوں میں سے ہیں۔
نیز حضرت علی (ع) نے فرمایا: ہمارے شیعوں کے چہرے راتوں میں عبادت کی وجہ سے زرد پڑجاتے ہیں اور گریہ و زاری کی وجہ سے ان کی آنکھیں کمزور ہوجاتی ہیں۔[31]
مذکورہ بالا روایت کی طرح حضرت علی (ع) نے بہت سے مقامات پر اپنی پیروی کرنے والوں کو شیعوں کے نام سے یاد کیا ہے، مثلا جب طلحہ و زبیر کے ہاتھوں بصرہ میں رہنے والے شیعوں کی ایک جماعت کی خبر شہادت پہنچی تو حضرت نے (ان قاتلوں) کے حق میں نفرین کرتے ہوئے فرمایا: خدایا! انہوں نے میرے شیعوں کو قتل کردیا، تو بھی انہیں قتل کر۔ [32]
حتیٰ دشمنان حضرت علی (ع) بھی اس زمانہ میں آپ کی پیروی کرنے والوں کو شیعہ کہتے تھے، چنانچہ جب عائشہ و طلحہ و زبیر نے مکہ سے سفر عراق کی طرف سفر کیا تو آپس میں گفتگو کی اور کہا: بصرہ چلیں گے اور حضرت علی (ع) کے عاملین کو وہاں سے باہر نکالیں گے اور ان کے شیعوں کو قتل کریں گے۔ [33]
تشیع کا آغاز زمانہ پیغمبر (ص) سے
بہر حال تشیع کا آغاز اسی دن سے ہوا کہ جہاں حضرت علی (ع) سے دوستی و پیروی اور آپ کو افضل و برتر اور مقدم قرار دینا ہے جو کہ زمانہ پیغمبر (ص) سے مربوط ہے، آنحضرت (ص) نے اپنی احادیث و اقوال میں لوگوں کو حضرت علی (ع) اور آپ کے خاندان کی دوستی و پیروی کا حکم دیا۔
منجملہ غدیر خم کا واقعہ ہے جیسا کہ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں: یہ روایات، ان لوگوں نے نقل کی ہیں جنہیں رافضی اور شیعہ ہونے سے کسی نے بھی متہم نہیں کیا ہے یہاں تک کہ وہ دوسروں کی نسبت حضرت علی (ع) کی افضلیت و برتری اور تقدم کے قائل بھی نہیں تھے۔ [34]
ہم اس سلسلہ کی بعض احادیث کی طرف (مزید) اشارہ کرتے ہیں۔ بریدہ اسلمی کہتے ہیں: رسول خدا (ص) نے فرمایا: خدائے تعالیٰ نے مجھے چار لوگوں سے دوستی کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھ سے فرمایا ہے: میں بھی انہیں دوست رکھتا ہوں، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (ص)! ان لوگوں کا نام بتائیے؟
آنحضرت نے تین بار فرمایا: علی (ع) اور پھر ابوذر، مقداد اور سلمان فارسی کا نام لیا۔ [35]
طبری جنگ احد کے سلسلہ میں بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: میں علی (ع) سے ہوں اور علی (ع) مجھ سے ہیں۔ [36]
جناب ام سلمہ سے روایت ہے کہ آپ نے کہا: جب کبھی حضرت رسول خدا (ص) غصہ ہوتے تھے تو حضرت علی (ع) کے علاوہ کوئی ان سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا، سعد ابن ابی وقاص نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:
جس نے علی (ع) کو دوست رکھا، اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا، اس نے خدا کو دوست رکھا اور جس نے علی (ع) سے دشمنی کی اس نے مجھ سے دشمنی کی اور جس نے مجھ سے دشمنی کی گویا اس نے خدا سے دشمنی کی۔[37]
ابن جوزی بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: اے علی! تم جنت اور جہنم کو تقسیم کرنے والے ہو، تم جنت کے دروازہ کو کھولو گے اور بغیر حساب داخل ہوجاؤ گے۔[38]
کتاب مناقب خوارزمی میں جناب ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جب مجھے معراج پر لے جایا گیا، تو میں نے جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا: لااله الااللّه، محمد رسول اللّه، علی حبیب اللّه، الحسن و الحسین صفوة اللّه، فاطمة امة اللّه، علیٰ مبغضهم لعنة اللّه۔[39]
زبیر بن بکار جو زبیر کے پوتے ہیں اور حضرت علی (ع) سے انحراف اختیار کرنے میں مشہور ہیں، بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور میری نبوت کو قبول کیا، میں انہیں علی (ع) کی ولایت اور دوستی کی وصیت کرتا ہوں، جس نے انہیں دوست رکھا، اس نے مجھے دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا، اس نے خدا کو دوست رکھا۔[40]
امامت کے بارے میں بے بنیاد توجیہ
ابن ابی الحدید، زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا: میں تمہیں اس چیز کی طرف راہنمائی کر رہا ہوں کہ اگر جان لو گے تو ہلاک نہیں ہوگے، تمہارے امام، علی بن ابی طالب (ع) ہیں، ان کی تصدیق کرو کہ جناب جبرئیل نے مجھے اس طرح خبر دی ہے۔
ابن ابی الحدید معتزلی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں اگر لوگ کہیں کہ یہ حدیث صریح طور پر حضرت علی (ع) کی امامت پر دلالت کرتی ہے تو پھر معتزلہ کس طرح اس اشکال کو حل کریں گے؟
ہم جواب میں کہتے ہیں: ہوسکتا ہے کہ رسول خدا (ص) کی مراد یہ ہو کہ حضرت علی (ع) فتویٰ دینے اور احکام شرعی میں لوگوں کے امام ہیں، نہ کہ خلافت کے سلسلہ میں، جس طرح ہم نے بغدادی علمائے معتزلہ کے اقوال کی شرح میں جو بات کہی ہے وہ (اس اشکال کا) جواب ہوسکتی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:
در حقیقت امامت و خلافت حضرت علی (ع) کا حق تھا، اس شرط کے ساتھ کہ آنجناب اس کی طرف میل و رغبت کا اظہار کرتے اور اس کی خاطر دوسروں کے مد مقابل آجاتے لیکن چونکہ آپ نے اس عہدہ امامت و خلافت کو دوسروں پر چھوڑ کر سکوت اختیار کیا، لہذا ہم نے ان کی ولایت و سربراہی کو قبول کرتے ہوئے ان کی خلافت کے صحیح ہونے کا اقرار و اعتراف کرلیا۔
چنانچہ حضرت علی (ع) نے خلفائے ثلاثہ کی مخالفت نہیں کی اور ان کے مقابلہ میں تلوار نہیں اٹھائی اور نہ ہی لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکایا، پس آپ کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ نے ان کی خلافت کی تصدیق کی، اسی وجہ سے ہم ان کو قبول کرتے ہیں اور ان کے بے قصور ہونے اور ان کے حق میں خیر و صلاح کے قائل ہیں۔
ورنہ اگر حضرت علی (ع) ان حضرات سے جنگ کرتے اور ان کے خلاف تلوار اٹھا لیتے اور ان سے جنگ کرنے کے لئے لوگوں کو دعوت دیتے تو ہم بھی ان کے فاسق و فاجر اور گمراہ ہونے کا اقرار و اعتراف کرلیتے۔[41]
خاتمہ
تشیع کا آغاز عہد رسالت میں ہوا اور حقیقت تشیع وہی حضرت علی (ع) سے دوستی و پیروی اور آپ کو افضل و برتر اور مقدم قرار دینا ہے جو کہ زمانہ پیغمبر (ص) سے مربوط ہے، آنحضرت (ص) نے اپنی احادیث و اقوال میں لوگوں کو حضرت علی (ع) اورآپ کے خاندان کی دوستی و پیروی کا حکم دیا اور یہی تشیع کا آغاز اور شیعییت کی پیدائش کا سبب بنا۔
حوالہ جات
[1]۔ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص١٢٤۔
[2]۔ مختار اللیثی، جہاد الشیعہ، ص٢٥۔
[3]۔ ابن ندیم، الفہرست، ص٢٤٩۔
[4]۔ ابن عبدربہ، العقد الفرید، ج٢، ص٢٣٠۔
[5]۔ بغدادی، الفرق بین الفرق، ص١٣٤۔
[6]۔ مختار اللیثی، جہاد الشیعہ، ص٣٥۔
[7]۔ کاشف الغطاء، دفاع از حقانیت شیعہ، ص٤٨؛ محمد حسین زین، شیعہ در تاریخ، ص٣٤۔
[8]۔ محمد کردعلی، خطط الشام، ج٦، ص٢٤٥۔
[9]۔ سیوطی، الدر المنثور، ج٦، ص: ٣٧٩۔
[10]۔ ابن حجر ھیثمی، الصواعق المحرقہ، ص٢٣٢۔
[11]۔ ابن حجر، مجمع الزوائد، ج٩، ص١٧٧۔
[12]۔ خوارزمی، المناقب، ص٢٠٦۔
[13]۔قندوزی، ینابیع المودة، ج١، ص٣٠٢۔
[14]۔ خوارزمی، المناقب، ص٢١٠۔
[15]۔ خوارزمی، المناقب، ص١٥٨۔
[16]۔ خوارزمی، المناقب، ص٣٢٢۔ ٣٢٩۔
[17]۔ خوارزمی، المناقب، ص٢٣٤
[18]۔ خوارزمی، المناقب، ص٢٣۵
[19]۔ قندوزی، ینابیع المودة، ص٣٠١۔
[20]۔ قندوزی، ینابیع المودة ص٣٠١۔
[21]۔ قندوزی، ینابیع المودة ص٣٠۲۔
[22]۔ ہیثمی، مجمع الزوائد ص١٧٨۔
[23]۔ سیوطی، الدر المنثور، ج٦، ص٩ا٣٧۔
[24]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٢٣١۔
[25]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٢٠، ص٢٢٦۔
[26]۔ ہیثمی، الصواعق المحرقہ، ص٢٣٢۔
[27]۔ مظفر، تاریخ الشیعہ، ص۵۔
[28]۔ کاشف الغطاء، دفاع از حقانیت شیعہ، ص٤٨۔٤٩
[29]۔ سعد بن عبد اللہ اشعری، المقالات و الفرق، ص٣۔
[30]۔ شیخ مفید، الجمل، ص٢٤٣۔
[31]۔ شیخ مفید، الارشاد، ص٢٢٨۔
[32]۔ شیخ مفید، الجمل، ص٢٨٥۔
[33]۔ شیخ مفید، الجمل، ص٢٣٥۔
[34]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٢، ص٣٤٩۔
[35]۔ ہیثمی، الصواعق المحرقہ، ص١٢٢۔۔
[36]۔ طبری، تاریخ طبری، ج٢ ص٦٥۔
[37]۔ ہیثمی، الصواعق المحرقہ، ص١٢٣۔
[38]۔ ابن جوزی، تذکرة الخواص، ص٢٠٩۔
[39]۔ خوارزمی، مناقب، ص٢١٤۔
[40]۔ مدائنی، الاخبار الموفقیات، ص٣١٢۔
[41]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج٣، ص٩٨۔
منابع
- ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن ہبة الله، شرح نہج البلاغہ، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۳۷۸ق۔
- ابن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرة الخواص، نجف، المطبعة الحیدریة، ۱۳۸۳ق۔
- ابن عبدربه، احمد بن محمد، العقد الفرید، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۴۰۹ق۔
- ابن ندیم، محمد بن اسحاق، الفہرست، بیروت، دار المعرفة، 1417ق- 1997ء۔
- اشعری قمی، سعد بن عبدالله، المقالات و الفرق، تهران، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، تاریخ ندارد۔
- بغدادی، ابومنصور عبدالقادر بن طاہر، الفرق بین الفرق، قاہرہ، مکتبة القاہرة، ۱۳۹۷ق۔
- خوارزمی، اخطب، المناقب، نجف، المطبعة الحیدریة، ۱۳۸۵ق۔
- زین، محمد حسین، شیعہ در تاریخ، ترجمه محمد رضا عطائی، مشهد، انتشارات آستان قدس رضوی، ۱۳۷۵ ش۔
- سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور، قم، مکتبة آیة الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت، دار الکتب العلمیة، ۱۴۰۸ق۔
- قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودة، بیروت، مؤسسة اعلمی، ۱۴۱۸ق۔
- کاشف الغطاء، دفاع از حقانیت شیعہ، ترجمه غلام حسن محرمی، تهران، مومنین، ۱۳۷۸ش۔
- کردعلی، محمد، خطط الشام، دمشق، مکتبة النوری، ۱۴۰۳ق۔
- لیثی، مختار، جہاد الشیعہ، بیروت، دار الجیل، ۱۳۹۶ق۔
- مدائنی، ابوالحسن علی بن محمد، الاخبار الموفقیات، قم، انتشارات الشریف الرضی، ۱۴۱۶ق۔
- مظفر، محمد حسین، تاریخ الشیعہ، قم، مکتبة بصیرتی، تاریخ ندارد۔
- مفید، محمد بن محمد نعمان، الارشاد، ترجمه محمد باقر ساعدی خراسانی، تهران، کتاب فروشی اسلامیہ، تاریخ ندارد۔
- مفید، محمد بن محمد نعمان، الجمل، قم، مکتبة العلوم الاسلامی، ۱۴۲۶ق۔
- ہیثمی مکی، ابن حجر، الصواعق المحرقہ، قاہرہ، مکتبة القاہرة، ۱۳۸۵ق۔
- ہیثمی مکی، ابن حجر، مجمع الزوائد، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۴ق۔
- یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم، منشورات الشریف الرضی، ۱۴۱۴ق۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔