فہم قرآن کے آداب اور اس کی تعلیم کے اصول اور قواعد

قرآن کی تعلیم پیغمبر ﷺ و ائمہ (ع) کے ارشادات کی روشنی

کپی کردن لینک

پیغمبر ﷺ اور ائمہ (ع) کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ قرآن کی تعلیم صرف ان لوگوں تک پہنچ سکتی ہے جو اپنے علم کے حصول میں محنت اور خلوص نیت سے کام لیں اور اس راہ میں دنیاوی مفادات کو پس پشت ڈال کر صرف اللہ کی رضا کی کوشش کریں اور فقط اہل بیت (ع) سے متمسک رہیں۔

پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا:

اگر تم سعادتمندوں کی زندگی، شہیدوں کی موت، قیامت کے دن نجات، گرمی کے دن سایہ و پناہ اور ضلالت کے دن ہدایت چاہتے ہو تو قرآن مجید پڑھو کیونکہ وہ خداوند رحمٰن کا کلام، شیطان سے بچنے کا ذریعہ اور میزان (ترازو) میں اعمال کے سنگین ہونے کا باعث ہے۔ [1]

پیغمبر ﷺ و اہل بیت (ع) ہی حقیقی مربی قرآن ہیں

قرآن کی تعلیم پر احادیث میں ایک نکتے پر خاص توجہ دی گئی ہے جو قرآن مجید کی تدریجی تعلیم اور تعلّم سے عبارت ہے۔ یعنی قرآن مجید کے جس حصے کو سیکھا جائے وہ اس میں موجود معارف کو سیکھنے کے ساتھ توام ہو اور کوشش کی جائے کہ اس حصے میں موجود تعلیمات کو اچھی طرح درک کیا جائے۔ اس کے بعد دوسرے حصے کو سیکھنا شروع کیا جائے۔ اسی لئے ہم روایتوں میں پڑھتے ہیں کہ:

ابو عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ اس نے کہا: پیغمبر اکرم ﷺ کے بعض اصحاب جو ہمیں قرآن مجید سکھاتے تھے، کہتے تھے: اصحاب، قرآن مجید کو پیغمبر ﷺ سے دس دس آیتوں کی صورت میں سیکھتے تھے اور جب تک دس آیتوں کے علم کو صحیح طور پر نہ سیکھ لیتے اور ان پر عمل نہ کرلیتے دوسری دس آیتوں کو سیکھنا شروع نہیں کرتے تھے۔ [2]

قرآن کی تعلیم کے بارے میں جو نکتہ قابل ذکر ہے اور جس کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺ اور اہل بیت اطہار (ع) کے ارشادات میں بھی واضح طور پر اشارہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے معارف اور علوم کو صرف پیغمبر اکرم ﷺ اور اہل بیت (ع) کی طرف رجوع کے ذریعے صحیح طریقے پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ سے مروی ہے:

قریب ہے کہ میرا بلاوا آجائے اور میں لبیک کہوں۔ میں تمہارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں۔ خدائے عزّ و جل کی کتاب اور میرے اہل بیت۔ خدا کی کتاب آسمان اور زمین کے درمیان کھینچی ہوئی ایک رسی ہے اور میری عترت، میرے اہل بیت ہیں۔ خداوند لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے۔ لہذا ابھی سے غور کرو کہ میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیسا سلوک کرو گے؟ [3]

اس حدیث میں قرآن اور اہل بیت (ع) کا قیامت تک ایک دوسرے سے ناقابل تفکیک ہونے کی تاکید قرآن مجید کے معارف کو سمجھنے کے لئے اہل بیت کی مرجعیت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے اور اہل بیت (ع) کے بیانات اور رہنمائی کو مدنظر رکھے بغیر قرآن مجید کی تفسیر کرنے کی تمام روشوں کو مسترد کرتی ہے۔

شیخ صدوق یوں فرماتے ہیں:

امامیہ معتقد ہیں کہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا: (میں تمہارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں: خدا کی کتاب اور میری عترت یعنی اہل بیت۔ یہ دو میرے بعد میرے جانشین ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں گے۔ انہوں (امامیہ) نے اس حدیث کو قبول کیا ہے۔

اس لئے لازم ہے کہ پیغمبر ﷺ کی عترت سے کوئی شخص ہمیشہ قرآن مجید کے ساتھ موجود ہو جو اس کی تنزیل اور تفسیر کو یقین کے ساتھ جانتا ہو تاکہ جس طرح پیغمبر اکرم ﷺ خدا کے مقصود اور مراد کو بیان فرماتے تھے وہ بھی اسی طرح بیان کرے۔ قرآن مجید کی تفسیر اور تاویل کے بارے میں اس کی معرفت اور شناخت اجتہاد و استنباط پر مبنی نہ ہو،

جس طرح مقصود و منشائے الٰہی کے بارے میں پیغمبر اکرم ﷺ کی معرفت استنباط و استدلال نیز لغت اور محاورات کی بنیاد پر مبنی نہیں تھی بلکہ پیغمبر اکرم ﷺ منشائے الٰہی کے بارے میں اس طرح خبر دیتے تھے اور خدا کی مراد کو یوں بیان کرتے تھے کہ ان کا کلام تمام لوگوں پر حجت ہوتا تھا۔ اسی طرح قرآن مجید سے متعلق پیغمبر اکرم ﷺ کی عترت کی معرفت کا بھی یقین، شناخت اور بصیرت کی بنیاد پر مبنی ہونا لازم ہے۔

خداوند متعال پیغمبر اسلام ﷺ کی توصیف میں فرماتا ہے:

کہہ دیجئے: یہی میرا راستہ ہے کہ میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ہوں اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی۔ نتیجہ یہ کہ پیغمبر ﷺ کے خاندان اور آپ کی عترت میں سے آپ ﷺ کے پیروکار وہی افراد ہیں جو خداوند متعال کی منشا و مراد کو قرآن مجید میں یقین اور علم و بصیرت کی بنیاد پر بیان کرتے ہیں۔

اور اگر خدا کے مخبر کی مراد ظاہر اور واضح نہ ہو تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اس بات کے معتقد ہوں کہ خدا کی کتاب پیغمبر اکرم ﷺ کی عترت میں سے ایک شخص کے ہمراہ ہے جو اسے تنزیل و تفسیر کے ساتھ جانتا ہے اور اس سے جدا نہیں ہے، کیونکہ حدیث اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے۔ [4]

اسی اصول کے تحت امام محمد باقر (ع) اپنے زمانہ کے دو معروف مفسرین: سلمہ بن کہیل اور حکم بن عقیبہ، سے مخاطب ہو کر یوں فرماتے ہیں:

’’شَرِّقَا وَ غَرِّبَا فَلَا تَجِدَانِعِلْماً صَحِيحاً إِلَّا شَيْئاً خَرَجَ مِنْ عِنْدِنَا أَهْلَ الْبَيْتِ‘‘ تم مشرق کی جانب چلے جاؤ یا مغرب چلے جاؤ، صحیح علم نہیں پاؤ گے سوائے اس کے جو ہم اہل بیت کے ہاں سے باہر آیا ہے۔ [5]

ایک دوسرا نکتہ جو قابل ذکر ہے یہ ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ اور قرآن کی تعلیم اس پر عمل کرنے کا ایک مقدمہ ہے وگرنہ قرآن مجید کی ظاہری قرائت اور اس کا حفظ کرنا لیکن اس کے مفاہیم پہ عمل نہ کرنا خدا کی کتاب کے ساتھ ایک طرح کی بے اعتنائی ہے جو معاشرے کے لئے قرآن مجید کے حیات بخش معارف سے محروم ہو کر خداوند متعال کے غضب میں گرفتار ہونے کا سبب بنتا ہے۔

پیغمبر اکرم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

جو شخص قرآن مجید کو سیکھے اور اس پر عمل نہ کرے اور دنیا کی محبت اور اس کی زینت کو قرآن مجید پر عمل پر ترجیح دے وہ خداوند متعال کے غضب کا مستحق ہے اور اس کا درجہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درجے کے برابر ہوگا جنہوں نے خدا کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا …[6]

قرآن کی تعلیم میں اخلاص کی شرط

قرآن کی تعلیم کو با مقصد ہونا چاہئیے، یعنی اصل مقصود اس کے مفاہیم تک رسائی اور اس پر عمل ہونا چاہئیے۔ ان ساری کوششوں کو ایک عبادت کے طور پر اور اخلاص کی نیت سے انجام دینا چاہئے یعنی صرف فرمان الٰہی کی اطاعت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے انجام دینا چاہئیے اور انسان کی نیت میں کسی اور چیز کا شائبہ تک نہیں ہونا چاہئیے۔ پیغمبر اسلام ﷺ سے مروی ہے:

جو شخص خدا کی توجہ حاصل کرنے اور دین کو پہچاننے کے لئے قرآن مجید کو پڑھے اسے ایسا اجر دیا جائے گا جو فرشتوں، انبیاء اور رسولوں کو دیا جائے گا۔ جو قرآن مجید کو ریا اور دکھاوے یا سنانے کی غرض سے سیکھتا ہے تاکہ بیوقوفوں سے بحث و مباحثہ کرے اور اسے علماء کے سامنے جتائے اور اسے دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دے خداوند متعال قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کو بکھیر دے گا اور اسے جہنّم میں شدید ترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔

اور غیظ و غضب الٰہی کی شدت کی وجہ سے مختلف عذابوں میں مبتلا کیا جائے گا۔ جو شخص خدا کے پاس موجود چیز کو حاصل کرنے کے لئے قرآن مجید کو سیکھے اور علم میں انکساری سے کام لے اور اسے خدا کے بندوں کو سکھائے تو اجر و ثواب کی بزرگی اور مقام و منزلت کی بلندی کے لحاظ سے بہشت میں کوئی اس سے برتر نہیں ہوگا، اور بہشت میں اس شخص کے مقام و منزلت کے برابر کسی کا مقام نہیں ہو گا۔ [7]

امام صادق (ع) نے فرمایا:

تمہیں قرآن مجید کی سفارش کرتا ہوں۔ اسے سیکھ لو۔ کچھ لوگ اسے سیکھتے ہیں تاکہ لوگ کہیں: وہ قاری ہیں۔ بعض لوگ قرآن مجید کو آواز کے لئے سیکھتے ہیں تاکہ لوگ کہیں: فلان شخص کی آواز اچھی ہے لیکن ان چیزوں میں کسی قسم کا خیر نہیں ہے۔ بعض لوگ قرآن مجید سیکھتے ہیں اور دن رات قرآن مجید کے ساتھ گزارتے ہیں اور اس چیز کی طرف کوئی اعتنا نہیں کرتے کہ کسی کو اس کا علم ہوتا ہے یا نہیں۔ [8]

قرآن مجید سیکھنے کی راہ میں مشقت بر داشت کرنا

قرآن مجید کو سیکھنے کی جدوجہد اس کے نتیجے سے قطع نظر دینداری کے لحاظ سے عبادت کی قدر و منزلت رکھتی ہے۔ اس بنا پر اگر قرآن مجید کو سیکھنا کسی کے لئے دشوار ہو اور اس دشواری کے باوجود وہ بڑی تکلیف برداشت کر کے قرآن مجید کو سیکھے تو وہ زیادہ ثواب پائے گا۔ امام صادق (ع) نے فرمایا: جس کے لئے قرآن مجید سخت ہو (یعنی اس کا سیکھنا سخت ہو) اس کے لئے دو اجر اور جس کے لئے آسان ہو وہ پہلوں کے ساتھ ہو گا۔ [9]

جو لوگ قرآن مجید کو حفظ کریں اور اس دوران مشقّت اور سختی سے دوچار ہوں اور اسی صورت میں اپنی کوشش جاری رکھیں تو انہیں جاننا چاہئیے ان کا معنوی اجر بہت زیادہ ہے۔

امام صادق (ع) فرماتے ہیں: ’’إنَّ الَّذي يُعالِجُ القُرآنَ ويَحفَظُهُ بِمَشَقَّةٍ مِنهُ وقِلَّةِ حِفظٍ، لَهُ أجرانِ‘‘[10] جو قرآن مجید سیکھنے کے لئے کوشش کرتا ہے اور اسے مشقّت اور کمزور حافظے کے ساتھ سیکھتا ہے اس کے لئے دو اجر ہیں۔

اسی طرح ایک اور حدیث میں، جو تعلیم قرآن کے عنوان کے تحت پہلے بھی ذکر ہو چکی ہے، فرمایا گیا ہے:

جو مومن جوان قرآن پڑھے قرآن مجید اس کے گوشت اور خون کے ساتھ آمیختہ ہو جاتا ہے اور خداوند متعال اسے عظمت والے فرشتوں کا رفیق اور دوست بناتا ہے جو قرآن مجید کے کاتب اور حامل ہیں۔ قرآن مجید قیامت کے دن اس کا محافظ ہوگا۔ قرآن مجید فرمائے گا: میرے پروردگار! ہر مزدور نے اپنی اجرت حاصل کرلی ہے سوائے اس شخص کے جس نے مجھ پر عمل کیا ہے۔

پس اسے اپنی بہترین بخشش عطا کر۔ خداوند متعال بہشتی پوشاکوں میں سے دو جامے اس کے زیب تن کرے گا اور اس کے سر پر عزت کا تاج رکھے گا۔ پھر خداوند متعال قرآن مجید سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: کیا میں نے اس شخص کے بارے میں تیری رضامندی حاصل کرلی؟ قرآن مجید کہے گا:

میں اس سے کہیں زیادہ اور بالاتر کی توقع رکھتا تھا۔ اس وقت امن و سلامتی اس کے دائیں ہاتھ میں اور خلود و جاویدانگی اس کے بائیں ہاتھ میں دی جائیں گی۔ پھر وہ بہشت میں داخل ہوگا اور اس سے کہا جائے گا: (آیت) پڑھو اور ایک درجہ اوپر جاؤ۔ پھر قرآن مجید سے کہا جائے گا: کیا ہم نے اس شخص کو بہترین بخشش دے دی اور تجھے راضی کرلیا؟ قرآن مجید جواب دے گا: ہاں۔

امام نے فرمایا: جو قرآن مجید کو زیادہ پڑھے اور اگرچہ قرآن مجید کا حفظ کرنا اس کے لئے سخت ہو مشقت کے ساتھ حفظ کرے تو خداوند متعال اس کو دہرا اجر عنایت فرئے گا۔ [11]

قرآن کی تعلیم کے لئے اجرت لینا

شیعہ علماء کے درمیان مشہور نظریہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی واجب قرائت جو نماز میں پڑھی جاتی ہے یعنی سورۂ حمد اور ایک پوری سورت سکھانے کی اجرت لینا حرام ہے۔ [12] لیکن اس سے زیادہ مقدار سکھانے کی اجرت لینا مکروہ ہے۔ اگر چہ مرحوم شیخ طوسی کی استبصار کی بعض عبارتوں سے قرآن کی تعلیم کی اجرت لینے کا حرام ہونا معلوم ہوتا ہے،

جب شرط پر یعنی پہلے سے کی گئی قرارداد پر ہو۔ لیکن ان کا یہ نظریہ قریب بہ اتفاق اکثر علماء نے قبول نہیں کیا ہے۔ حتی کہ بعضوں نے ان کے کلام کو بھی مکروہ ہونے پر حمل کیا ہے چنانچہ انہوں نے خود کتاب النھایۃ میں، جو ان کی سب سے اہم فقہی کتاب ہے، مکروہ ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ قرآن مجید سکھانے پر اجرت لینے کی کراہت کے بارے میں اہل بیت (ع) سے متعدد روایات نقل کی گئی ہیں۔ یہاں ہم ان میں سے بعض کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

ایک شخص نے امام علی (ع) کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی: اے امیر المؤمنین! خدا کی قسم میں آپ کو خدا کی خاطر دوست رکھتا ہوں۔ حضرت نے فرمایا: لیکن میں خدا کی خاطر تم سے غضبناک ہوں۔ اس شخص نے پوچھا: کیوں؟ حضرت نے فرمایا: کیونکہ تم نے اذان کو کمائی کا وسیلہ قرار دیا ہے اور تم قرآن کی تعلیم کے لئے اجرت لیتے ہو جبکہ میں نے پیغمبر ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے: جو کوئی قرآن کی تعلیم کے لئے اجرت لے گا قیامت کے دن اس کا حصہ وہی اجرت ہوگی جو اس نے لے رکھی ہے۔ [13]

حسان معلم کہتا ہے کہ میں نے امام صادق (ع) سے تعلیم کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: تعلیم کے لئے اجرت نہ لو۔ میں نے پوچھا: کیا میں شعر، خطوط اور ان کے مانند چیزوں کے لئے اجرت کی شرط رکھ سکتا ہوں؟ حضرت نے فرمایا: ہاں، البتہ اس شرط کے بعد کہ بچے تعلیم کے لئے تیری نظر میں یکساں ہوں اور انہیں ایک دوسرے پر ترجیح نہ دو۔ [14]

ان روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم کے لئے اجرت لینا مناسب کام نہیں ہے اور قرآن مجید کے معلم کو کوشش کرنی چاہئیے کہ قرآن سکھانے کے لئے کسی قسم کی اجرت نہ لے۔

شاید قرآن کی تعلیم پر اجرت لینے کی کراہت کا فلسفہ لوگوں کی توجہ قرآن مجید کے بلند مقام کی طرف مبذول کرانا اور یہ بتانا ہے کہ کسی بھی صورت میں مادی معیاروں سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ اس کے بدلے میں اجرت لینا، خاص کر اگر معلم کے مطالبے پر ہو تویہ لوگوں کی نظروں میں قرآن مجید کی قدر و قیمت کم ہونے کا سبب بنتا ہے اور لوگ اسے سودے اور لین دین کی چیز شمار کرنے لگیں گے۔ شاید اسی لئے انبیائے الٰہی نے ہمیشہ فرمایا ہے:

ہم خدا کی رسالت اور قرآن کی تعلیم کے لئے اجرت کے طور پر تم لوگوں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتے۔ ہماری ان کوششوں کی اجرت خداوند متعال کی طرف سے عطا کی جائے گی۔

اس کراہت کے باوجود تعلیم کے لئے اجرت لینا حرام نہیں ہے اور یہ ایک ایسا موضوع ہے جو اہل بیت (ع) کی احادیث میں واضح طور پر بیان ہوا ہے بلکہ اس کے حرام ہونے کا فتویٰ لوگوں خاص کر نوجوانوں کے درمیان قرآن مجید کی ترویج کی راہ میں ایک رکاوٹ محسوب ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت امام جعفر صادق (ع) کی روایت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔

فضل بن ابی قرہ کہتا ہے:

میں نے امام صادق (ع) کی خدمت میں عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ معلم کی آمدنی حرام ہے۔

حضرت نے فرمایا:

یہ خدا کے دشمن جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ معلم، قرآن کی تعلیم نہ دیں۔ ورنہ اگر کوئی شخص اپنے فرزند کی دیت کے برابر بھی مال معلم کو دے دے تو معلم کے لئے وہ مباح و حلال ہے۔ [15]

اس موضوع کے بارے میں نقل شدہ مجموعی روایات کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ جس معاشرے میں معنوی قدروں کو اہمیت دی جاتی ہے، اس میں قرآن مجید کے معلم کی ضرورتوں کو بیت المال سے بہترین صورت میں پورا کیا جانا چاہئے اور قرآن کی تعلیم کے لئے لوگوں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہئیے۔

لیکن جس معاشرے میں معنوی قدروں کی کوئی اہمیت نہ ہو وہاں قرآن مجید کا معلّم اپنی معاشی ضرورتوں کو پوری کرنے کے لئے اجرت حاصل کرسکتا ہے۔ اگرچہ بہتر ہے (جیسا کہ اہل بیت کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے) کہ اجرت قرآن کی تعلیم کے لئے نہیں بلکہ قرآن مجید کے ساتھ طالب علم کو دی جانے والی دوسری تعلیم کے عوض لی جائے۔ اس کام کے لئے بہتر ہے کہ قرآن مجید کا معلم دوسرے مضامین میں بھی ماہر ہو تاکہ انہیں بھی قرآن مجید کے ساتھ ساتھ پڑھائے اور ان کے لئے اجرت حاصل کرے۔

اسحاق بن عمار کہتا ہے:

میں نے امام علی (ع) سے عرض کی: ہمارا ایک ہمسایہ ہے جو بچوں کو پڑھاتا ہے۔ اس نے مجھ سے تقاضا کیا ہے کہ اس کے کام کے بارے میں پوچھوں۔ حضرت نے فرمایا: اس سے کہہ دو کہ جب کسی بچے کو اس کے پاس لایا جائے تو وہ اس بچے کے سرپرست سے کہہ دے کہ میں اسے لکھنا اور حساب بھی سکھاؤں گا اور قرآن کی تعلیم سے ثواب کی امید رکھوں گا تاکہ اس کی آمدنی اس کے لئے حلال ہو۔ [16]

نتیجہ

قرآن کی تعلیم میں اخلاص کی شرط، قرآن سیکھنے کی راہ میں مشقت برداشت کرنا، اور اس اہم مقصد کے لیے اجرت لینے کی ممانعت جیسے مسائل وغیرہ قرآن کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[1]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص19؛ فخر رازی، تفسیر رازی، ج1، ص12۔

[2]۔ شہید ثانی، منیۃ المرید، ص368؛ مجلسی، بحار الانوار، ج89، ص106۔

[3]۔ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ص235۔

[4]۔ صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ص64۔

[5]۔ کلینی، کافی، ج1، ص399۔

[6]۔ صدوق، ثواب الاعمال، ص282؛ حر عاملی، وسائل الشیع‍‍‍ۃ، ج6، ص183؛ مجلسی، بحار الانوار، ج73، ص 361۔

[7]۔ صدوق، ثواب الاعمال، ص293۔

[8]۔ کلینی، کافی، ج2، ص609۔

[9]۔ کلینی، کافی، ج2، ص607؛ حر عاملی، وسائل الشیع‍‍‍ۃ، ج6، ص177۔

[10]۔ کلینی، کافی، ج2، ص606۔

[11]۔ حر عاملی، وسائل الشیع‍‍‍ۃ، ج6، ص177۔178۔

[12]۔ کرکی، جامع المقاصد، ج7، ص178؛ شہید ثانی، شرح لمعہ، ج3، ص218؛ یزدی، عروۃ الوثقی، ج1، ص652۔

[13]۔ طوسی، تہذیب الاحکام، ج6، ص376۔

[14]۔ کلینی، کافی، ج5، ص121۔

[15]۔ کلینی، کافی، ج5، ص121۔

[16]۔ طوسی، تہذیب الاحکام، ج6، ص364۔

فہرست منابع

1۔ ابوالفتوح الرازی، حسین بن علی، رَوضُ الجِنان و رَوحُ الجَنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی،1371ش۔

2۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، مشہد، آستان قدس رضوی، 1367ش۔

3۔ شہید ثانی، زین‌‌الدین بن علی، شرح لمعہ، قم، ناصر، 1413ق۔

4۔ شہید ثانی، زین‌‌الدین بن علی، منیة المرید، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، 1409ق۔

5۔ ابن‌بابویه، محمد بن علی، ثواب الا عمال، قم، دار الشریف الرضی، 1406ق۔

6۔ ابن‌بابویه، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمة، قم، مسجد مقدس جمکران، 11382ش۔

7۔ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1364ش۔

8۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیة، 1407ق۔

9۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، قم، مؤسسة الوفاء، 1403ق۔

10۔ محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد، بیروت، مؤسسة آل البیت، 1414ق۔

11۔ یزدی، محمد کاظم بن عبدالعظیم، العروۃ الوثقی، نجف اشرف، مطبعة الحیدریة، 1377ق۔

مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)

ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج1، ص134‑139 اور 143‑145، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، 1442ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔