قرآن مجید کی تعلیم و تدریس کی بحث انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ نہ صرف قرآنی علوم و معارف کی بہتر سمجھ بوجھ کا ذریعہ ہے، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں پر قرآن مجید کی تعلیم کے مثبت اثرات کو فروغ دینے کا بھی سبب ہے۔ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے اہل بیت (ع) نے قرآن مجید کی تعلیم کی وسیع نشر و اشاعت پر خصوصی زور دیا ہے۔
قرآن مجید اللہ کی ضیافت کا دسترخوان
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: قرآن مجید خداوند متعال کی ضیافت کا دسترخوان ہے لہذا جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی ضیافت سے استفادہ کرو۔ وہ ایک روشن نور اور فائدہ بخش علاج ہے۔ اسے سیکھو کیونکہ خداوند متعال اس (قرآن) کو سیکھنے پر تمہیں مقام عطا کرے گا۔
[۱]
اس حدیث کی وضاحت میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انسان کی روح کو کمال تک پہنچنے کے لئے روحانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے
[۲]، جو حیات بخش اور رہنما معارف کی ضرورت کو پورا کر کے انسان کی فطری صلاحیتوں کو کشادگی بخشتی ہے بلکہ اس کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہے۔ قرآن مجید، اس قسم کی غذا تمام انسانوں کے لئے فراہم کرتا ہے۔
قرآن مجید خداوند متعال کا وسیع دسترخوان ہے جو انسان کے اختیار میں قرار پایا ہے۔ ہر شخص کو اپنی حالت کے مطابق اس سے استفادہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ قرآن مجید نور اور شفاء ہے۔ یہ جہالت کی تاریکیوں اور جہالت سے پیدا شدہ بیماریوں کا خاتمہ کر دیتا ہے۔ اس لئے کمالِ انسانیت تک پہنچنے کا دار و مدار قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے پر ہے۔
قرآن مجید کی تعلیم اور اونٹنی کی مثال
پیغمبر اکرم (ص) قرآن مجید کی تعلیم کی اہمیت بتانے کے لئے ایک قابل فہم مثال پیش کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں: تم میں سے کون یہ پسند کرے گا کہ صبح سویرے مکہ میں سرزمین عقیق یا بطحا جائے اور اسے بلند کوہان والی دو اونٹنیاں دے دی جائیں اور ان دو اونٹنیوں کو اپنے اہل خانہ کے پاس لائے، بغیر اس کے کہ کسی گناہ یا قطع رحم کا مرتکب ہوا ہو؟ لوگوں نے کہا: اے رسول خدا! ہم سب اس چیز کو پسند کرتے ہیں۔
آنحضرت (ص) نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں آجائے اور ایک آیت سیکھ لے تو وہ اس کے لئے ایک اونٹنی سے بہتر ہے اور اگر دو آیتوں کو سیکھ لے تو وہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اگر تین آیتوں کو سیکھ لے تو وہ اس کے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہے۔
[۳]
بلند کوہان والی اونٹنی کی عرب میں بڑی قیمت ہوا کرتی تھی۔ اس ثروت کو حاصل کرنے کے لئے ہر شخص مکہ میں وادی عقیق یا بطحا جانے کی صعوبت برداشت کرنے کو تیار تھا۔
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں: جس طرح تم لوگ ناپائدار مادی نعمتوں کو (جن کی حفاظت کرنے میں بے شمار مشکلات در پیش ہو تی ہیں) حاصل کرنے کے لئے پوری دلچسپی کے ساتھ جدوجہد کرتے ہو اسی طرح ان پائیدار معنوی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ کوشش لازم ہے جن کی ہمیشہ تمہیں ضرورت ہے اور جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہنے والی ہیں۔
سب سے برگزیدہ اور بہترین انسان
حضرت علی (ع) نے پیغمبر اکرم (ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا:
’’ خيارکم من تعلّم القرآن و علّمه‘‘ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن مجید سیکھتے ہیں اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔
[۴]
اس حدیث کی وضاحت میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے برتر و بالاتر ماحصل علم و معرفت ہے اور علوم معارف میں قرآن مجید کی تعلیم سب سے برتر علم ہے۔
اس لئے قرآن مجید کی تعلیم و تعلّم کے لئے کوشش کرنا سب سے بہتر کوشش ہے اور یہ کوشش کرنے والے سب سے برگزیدہ اور بہترین انسان ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے کام کے لئے کوشش اور سعی کرتے ہیں جس کے برابر کوئی اور کوشش انسان کے لئے معنوی لحاظ سے ثمر بخش نہیں ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کے علاوہ دوسرے علوم کا سیکھنا اگرچہ اچھا ہے لیکن بعض آمیزشوں کی وجہ سے وہ اس قدر ثمر بخش نہیں ہیں۔
البتہ پیغمبر اکرم (ص) اور اہل بیت اطہار (ع) کے بیانات چونکہ در حقیقت تفسیر قرآن شمار ہوتے ہیں لہذا ان کو سیکھنے میں مشغول ہونا قرآن مجید کی تعلیم و تعلم میں مشغول ہونے کے برابر ہے۔ اصل میں قرآن مجید کی تعلیم اور اہل بیت (ع) کے بیانات کے درمیان جدائی ناممکن ہے اور ان میں سے ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو سیکھنے کی کوشش کرنا بے نتیجہ اور بے فائدہ ہے۔
قرآن مجید کی تعلیم کا بیج بونے والے
قرآن مجید کی تعلیم اور اہلبیت (ع) کی راہ سے ہٹ کر حاصل کئے جانے والے معارف و علوم، غالباً مخلوط ہونے کی وجہ سے فائدہ پہنچانے کے ساتھ ساتھ بے ضرر بھی نہیں ہوتے، لہذا
امام علی (ع) فرماتے ہیں: قیامت کے دن ایک منادی آواز دے گا: ہوشیار ہو جاؤ! آج ہر کسان اپنی کاشت اور اپنے اس کام کے ہاتھوں گرفتار ہے جسے اس نے انجام دیا ہے،سوائے ان لوگوں کے جو قرآن مجید کا بیج بونے (اسے سیکھنے اور اس کا مطالعہ کرنے) میں مشغول تھے۔ پس تم لوگ قرآن مجید (کو سیکھنے والے)، اس کا بیج بونے والے اور اس کے پیروکار بنو۔
قرآن مجید کی تعلیم کے ذریعے (خدا کو پہچاننے کی) راہ تلاش کرو اور اپنے لئے اس سے نصیحت حاصل کرو۔ (اگر تمہاری نظر قرآن مجید کی تعلیم کے خلاف ہو تو) اپنے نظریات کو مسترد کرو اور اپنی خواہشات کو قرآن مجید کے مقابل غلط جانو۔
[۵]
یاد رہے کہ بعض علوم یا تو ہر قسم کے فائدے سے خالی ہیں یا ان کا فائدہ بہت کم اور ناچیز ہے۔ لہذا مناسب نہیں کہ انسان قرآن مجید کی تعلیم جیسے مفید علوم کو جو مکمل طور پر فائدہ مند اور خیر ہے، چھوڑ دے اور قومی آثار جیسے عناوین کے تحت کچھ مطالب کو سیکھنے لگے جن کا توہمات اور تخیلات کی خدمت کرنے کے علاوہ کوئی اور فائدہ نہیں ہے۔
اسلام کی نظر میں مفید اور بے فائدہ علم
اصولی طور پر اسلامی نقطہ نظر سے علم کی قدر و قیمت کو اس کے فوائد سے معلوم کیا جاتا ہے۔ پس جس علم کا فائدہ انسان کے لئے زیادہ ہو اس کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ اگر کسی علم کا فائدہ کم ہو تو اس کی قدر و قیمت بھی کم ہوگی۔ پیغمبر اکرم (ص) نے مندرجہ ذیل حدیث شریف میں اس اصول کی وضاحت مصداق کے ذکر کے ساتھ فرمائی ہے۔
امام موسیٰ کاظم (ع) نے فرمایا: پیغمبر خدا (ص) مسجد میں تشریف لائے، کچھ لوگ ایک شخص کے پاس جمع تھے۔ آنحضرت (ص) نے فرمایا: یہ کون ہے؟ آپ (ص) کے جواب میں کہا گیا: یہ علامہ ہے، آنحضرت (ص) نے فرمایا: علامہ کیا ہے؟ کہا گیا: یہ انسانوں اور عربوں کے حالات، دور جاہلیت اور عربی اشعار کا سب سے بڑا عالم ہے۔ امام کاظم (ع) فرماتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اکرم (ص)نے فرمایا:
یہ ایسا علم ہے کہ اگر کوئی اسے نہ جانے تو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور جو اسے جان لے تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: علم صرف تین چیزیں ہیں: محکم آیت، پائیدار فریضہ اور جاری رہنے والی سنت۔ اس کے علاوہ تمام علوم فضول اور اضافی ہیں۔
[۶]
اس حدیث کے مطابق ہر وہ علم جو انسان کے لئے زیادہ نفع بخش ہو اس کی قدر و قیمت زیادہ ہے۔
ضروری اور مفید علوم کے تین نمونے
پیغمبر اسلام (ص) نے انسان کے لئے ضروری اور مفید علوم کے تین نمونے ذکر فرمائے جو حسب ذیل ہیں:
الف. محکم آیات
ہمارے خیال میں ”محکم آیات “ کے علم سے مراد پہلے مرحلے میں قرآن مجید کی ان آیات کا سیکھنا ہے جو قرآن مجید میں اس نام اور خصوصیت کے ساتھ ذکر ہوئی ہیں۔ چنانچہ خداوند متعال فرماتا ہے:
’’كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَت‘‘[۷] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم بنائی گئی ہیں۔
اس مرحلہ میں ان علوم کا سیکھنا ہے جن سے کائنات کے اندر موجود خدائی نشانیوں کی تحقیق کی جاتی ہے جیسے سائنسی و طبیعی علوم اور ریاضی وغیرہ، کیونکہ خود قرآن مجید میں مخلوقات عالم کو آیات الٰہی کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔ خداوند متعال فرماتا ہے:
’’سَنُريهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ وَ في أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَ وَ لَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ شَهيد‘‘[۸]
ہم انہیں عنقریب اپنی وہ نشانیاں دکھائیں گے جو اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر موجود ہیں تاکہ ان پر یہ واضح ہوجائے کہ وہ برحق ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شے کا گواہ ہے؟
ب. استوار و پائیدار فرائض
فریضہ عادلہ (پائیدار فریضہ) سے مراد وہ علوم ہیں جو احکام الٰہی کو بیان کرتے ہیں۔ یہ خود ان تمام علوم کو شامل ہیں جو دین پر مبنی اقتصادی، سیاسی اور قانونی علوم کی تحقیق کرتے ہیں۔
ج. جاری رہنے والی سنتیں
’’سنة قائمة‘‘ (جاری رہنے والی سنت) سے مراد وہ تمام طریقے ہیں جو انبیاء، معصومین (ع) اور اولیائے الٰہی کی سیرت اور زندگی میں پائے جاتے ہیں۔ انسان کی کردار سازی اور تربیت کے نمونوں کے طور پر انہیں جاننا لازمی ہے۔
بہترین کلام اور دلوں کی بہار
امام علی (ع) نے فرمایا ہے:
’’تعلّموا القرآن فانه احسن الحديث و تفقهوا فيه فانه ربيع القلوب‘‘ [۹]
قرآن مجید سیکھو کہ وہ بہترین کلام ہے۔ اسے عمیق طور پر سمجھو کہ وہ دلوں کی بہار ہے۔
قرآن مجید ظاہری طور پر اس قدر پر کشش اور دلکش بیان کا حامل ہے کہ اس کا بار بار سننا بھی انسان کے لئے ملال آور نہیں ہوتا۔ مفہوم کے لحاظ سے بھی علم و حکمت کے ایسے خزانوں پر مشتمل ہے جو دل کو زندہ کرتے ہیں اور اسے بہار کی سی طراوت بخشتے ہیں کیونکہ دل حکمت سے زندہ اور پر نشاط رہتا ہے۔
قرآن مجید کی تعلیم اور امام صادق (ع) کی دو روایات
پہلی روایت میں امام صادق (ع) فرماتے ہیں:
’’ينبغی للمؤمن ان لايموت حتی يتعلم القرآن او يکون فی تعليمه‘‘ [۱۰]
مومن کو چاہئے کہ موت سے پہلے قرآن مجید کو سیکھ لے یا اس کو سیکھنے میں مشغول ہوجائے۔
امام صادق (ع) کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے رہبروں کی نظر میں واجبات کی تعلیم یعنی اصول عقائد اور دین کے احکام سیکھنے کے بعد واحد عمومی تعلیم جس سے ہر مومن کو بہرہ مند ہونا چاہئے قرآن مجید کی تعلیم ہے۔ امام جعفر صادق (ع) نے اپنے اس نورانی بیان میں ہر سطح پر ہر عمر کے مومنین کے لئے جملہ حالات میں قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ وہی علم ہے جسے ہر فرد کو عمر بھر حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
یہ علم ایسا نہیں ہے کہ اپنے اندر کسی قسم کا مفہوم اور پیغام نہ رکھتا ہو اور صرف ایک وسیلہ ہو بلکہ اس میں ایک ایسا پیغام ہے جس کا ہر حرف اور لفظ انسان کو کمال ابدی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
دوسری روایت
امام صادق (ع) کا فرمان ہے: جو شخص قرآن مجید کا ایک حرف حفظ کرے تو خداوند متعال اس کے بدلے دس نیکیاں لکھتا ہے۔ اس کے دس گناہ معاف کرتا ہے اور اس کے دس درجے بڑھاتا ہے۔ امام (ع) نے فرمایا: میں یہ نہیں کہتا: ”ہر آیت کے بدلے“ بلکہ کہتا ہوں: ب، ت، جیسے ہر حرف کے بدلے۔
[۱۱]
اس حدیث میں قرآن مجید کے ایک حرف کو سیکھنے اور حفظ کرنے پر ایک عظیم معنوی اجر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگرچہ خداوند متعال اپنے صالح بندوں پر ہمیشہ فضل و کرم کرتا ہے اور نزول رحمت کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ اسے اس کے استحقاق سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے لیکن واضح ہے کہ خداوند متعال کا فضل و کرم ایک عادلانہ نظام اور حکمت کی بنیاد پر اور خدا کے علم و حکمت کے مطابق انجام پاتا ہے اس لئے ممکن ہے یہ سوال پیدا ہوکہ، ایک بندہ قرآن مجید کے ایک حرف کو سیکھنے اور حفظ کرنے سے کیسے اس قدر لطف و کرم کا مستحق قرار پاسکتا ہے؟
جواب میں کہنا چاہئے کہ خود قرآن مجید کی تعلیم کی طرف توجہ کرنا اور اسے حفظ کرنا، اگرچہ اس کا ایک چھوٹا حصہ ہی کیوں نہ ہو، انسان کی روح و قلب میں ایسا اثر ڈالتا ہے کہ اس کے برے اعمال کے آثار کو اندر سے زائل کرتا اور انسان میں معنوی کمال و ترقی کی لیاقت پیدا کرتا ہے۔ لہذا یہ گناہوں کے پاک ہونے اور الٰہی فیض و رحمت حاصل کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
قاری قرآن اور امام علی (ع) کی سفارش
قابل ذکر بات ہے کہ احادیث میں قرآن مجید کی بعض سورتوں کو سیکھنے کی خاص تأکید کی گئی ہے۔ ہم یہاں بطور نمونہ صرف ایک حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
رسول خدا (ص) نے فرمایا: قرآن مجید خداوند متعال کی ضیافت کا دسترخوان ہے، پس جتنا ممکن ہو اس کی ضیافت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرو۔ یہ ایک روشن اور واضح نور اور فائدہ بخش علاج ہے۔ اسے سیکھو کیونکہ خداوند متعال اسے سیکھنے پر تمہیں عزت بخشے گا۔
سورہ بقرہ اور آل عمران کو سیکھو کیونکہ ان دو سورتوں کو سیکھنا برکت کا سبب بنتا ہے اور ان دونوں کو ترک کرنا حسرت اور ندامت کا سبب بنتا ہے۔ پہلوان یعنی جادوگر ان دو سورتوں تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی جیسے دو بادل ہوں یا دو عبائیں ہوں یا پرندوں کے دو جھنڈ ہوں جو اپنے مالک کا دفاع کرتے ہوں اور پروردگار عالم بھی ان دونوں کا دفاع کرتا ہو۔
وہ دو سورتیں کہتی ہیں: اے خداؤں کے خداوند! تیرے اس بندے نے ہماری تلاوت کی اور دن کو ہمارے ساتھ تشنگی میں گزارا اور رات ہمارے ساتھ بیداری میں گزاری، اور اپنے بدن کو سختی میں ڈالا۔
پس خداوند متعال فرمائے گا: اے قرآن! جب میں نے محمد رسول اللہ (ص) کے بھائی علی بن ابی طالب (ع) کی برتری اور فضیلت میں تیرے اندر ایک آیت نازل کی تو اس کی فرماں برداری کیسی تھی؟ جواب دے گا: اے پروردگاروں کے پروردگار! اور اے معبودوں کے معبود! اس نے انہیں دوست رکھا، اگر ممکن ہوا تو (ان کی محبت کو) آشکار کیا اور اگر عاجز رہا تو (اپنے آپ کو) حفظ کر کے اسے چھپایا۔ خداوند متعال فرمائے گا: پس اس صورت میں اس نے تیرے احکام پر عمل کیا ہے اور تیرے حق کو عظیم جانا ہے۔
اے علی! کیا تم نے قرآن مجید کی اس گواہی کو اپنے محب کے بارے میں نہیں سنا؟! علی کہیں گے: ہاں، اے میرے پروردگار۔ خداوند متعال کہے گا: جو جی چاہے اس کے لئے تجویز کرو۔ پس علی (ع) اس قاری کی خواہشات چاہے وہ جس قدر بھی ہوں، اسے کئی گنا زیادہ کی سفارش کریں گے جسے خدا کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ پس ان سے کہا جائے گا کہ جو تجویز تم نے پیش کی تھی میں نے اسے عطا کیا۔
[۱۲]
خاتمہ
قرآن مجید کی تعلیم و تعلم کو اسلام میں بے پناہ اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم کی عظیم فضیلت کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا ہے اور اس مقدس عمل میں شریک ہونے والوں کے لیے بے شمار اجر و ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق، اس کی تعلیم و تعلم تمام علوم میں افضل ہے اور اس کا طالب علم بہترین مقام کا حامل ہے۔
حوالہ جات
[۱]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۸۹، ص۹ تا ۱۸ اور ص۲۶۷ و ۲۶۸۔
[۲]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۳، ص۱۵۲؛ طوسی، اختیار معرفۃالرجال، ج۱، ص۱۲۔
[۳]۔ طوسی، امالی، ج۱، ص۳۵۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۹۲، ص۱۸۶۔
[۴]۔ طوسی، امالی، ج۱، ص۳۵۷؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۶، ص۱۷۶۔
[۵]۔ مجلسی، بحارالانوار، ج۸۹، ص۲۲؛ شریف رضی، نہج البلاغہ، خطبہ۱۷۶۔
[۶]۔ کلینی، کافی، ج۱، ص۳۲۔
[۷]۔ سورہ ہود، آیت۱۔
[۸]۔ سورہ فصلت، آیت۵۳۔
[۹]۔ نہج البلاغہ، خطبہ،۱۱۰۔
[۱۰]۔ کلینی، کافی، ج۲، ص۲۶۹؛ حلی، عدۃ الداعی، ص۲۶۹۔
[۱۱]۔ کلینی، کافی، ج۲، ص۶۱۲۔
[۱۲]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۸۹، ص۲۶۸۔
فہرست منابع
۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة، بیروت، دار إحياء التراث العربي، ۱۳۶۷ش۔
۳۔ حلی، جمال الدین، عدة الداعی، بیروت، دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ق۔
۴۔ شریف رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغة،تهران، پیام آزادی، ۱۳۸۶ ش۔
۵۔ طوسی، محمد بن حسن، اختیار معرفۃالرجال، قم، مؤسسة آل البیت (ع) لإحیاء التراث، ۱۴۰۴ق۔
۶۔ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافة، ۱۴۱۴ق۔
۷۔ کلینی، محمد بن یعقوب، اصول کافی، تہران، دار الکتب الاسلامیة، ۱۴۰۷ق۔
۸۔ مجلسی، محمد باقر، بِحارُ الاَنوار الجامِعَةُ لِدُرَرِ أخبارِ الأئمةِ الأطهار، تہران، دارالکتب الاسلامیه، ۱۳۱۵ق۔
مضمون کا مآخذ (ترمیم کے ساتھ)
ترابی، مرتضی، اہل بیت (ع) کی قرآنی خدمات، ج۱، ص ۱۲۱ تا ۱۲۹، اہل البیت (ع) عالمی اسمبلی قم، ۱۴۴۲ق؛ ترجمہ سید قلبی حسین رضوی۔