نظریہ امامت؛ آزادی کی موت یا انسانوں کی سعادت

نظریہ امامت؛ آزادی کی موت یا انسانوں کی سعادت

کپی کردن لینک

نظریہ امامت کے بارے میں کئی اہم اشکالات پیش کیا جاتا ہے جن میں دو کا ذکر اس مقالہ میں کیا جائے گا۔ پہلا اشکال یہ ہے کہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق خلیفہ یا امام کے انتخاب کا حق، صرف خدا اور رسول اللہ (ص) کو حاصل ہے، اور لوگوں کو اس فیصلے کو قبول کرنا ضروری ہوگا۔ کیا یہ جبر اور زبردستی نہیں، جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے؟ قرآن مجید کی آیت "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ” کے تناظر میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اسلام میں جبر و اکراہ کی مذمت کی گئی ہے۔

دوسرا اشکال یہ ہے کہ اگر نظریہ امامت، مکتب اہل بیت (ع) کا خاص نظریہ ہے تو پھر اہل بیت کے تمام افراد اس بات کو قبول کریں جبکہ ہم نے تاریخ میں یہ دیکھا ہے کہ اہل بیت کے خاندان کے  بعض نامور شخصیات جیسے زید بن علی ابن حسین (ع) نے نظریہ امامت کی مخالت کی ہے۔

نظریہ امامت پر پہلے اشکال کی وضاحت

شیعہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ خلافت کا حق اللہ اور اس کے رسول (ص) کو حاصل ہے اور امت پر لازم ہے کہ وہ اس انتخاب کو قبول کرے۔ بعض افراد اس تصور کو جبر و زبردستی سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اسلام جبر کو ناپسند کرتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”[1] دین میں کوئی جبر نہیں، یقیناً ہدایت اور گمراہی میں فرق واضح ہو چکا ہے، پس جو کوئی طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے تو اس نے مضبوط رسی کو تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں، اور اللہ خوب سننے والا اور جاننے والا ہے۔

نظریہ امامت پر مذکور پہلے اشکال کا جواب

ناقض جواب یہ ہے کہ: یہ آیت کریمہ ایمان کو اختیار کرنے میں جبر و زبردستی کی نفی کر رہی ہے۔ کیونکہ ایمان دل کا معاملہ ہے اور دل کے معاملات زبردستی سے قبول نہیں کرائے جا سکتے۔ ممکن ہے کہ کسی کو ظاہری طور پر ایمان قبول کرنے پر مجبور کیا جائے، لیکن حقیقی ایمان صرف عقل و بصیرت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔

اسلام میں انسان کو با اختیار مخلوق قرار دیا گیا ہے اور اسی اختیار کی بنیاد پر وہ حق و باطل کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے: "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ…"[2]

یعنی جب حق و باطل واضح ہو چکا ہے تو ہر انسان کو اختیار حاصل ہے کہ وہ صحیح راستے کا انتخاب کرے۔ نظریہ امامت اسی اصول پر استوار ہے کہ انسان کو ہدایت کی راہ دکھائی جائے اور وہ خود اپنی عقل سے حق کو قبول کرے۔

حلی جواب یوں دیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی عقل اور فطرت کے مطابق ایک نظام ہدایت دیا ہے، اور نظریہ امامت اسی نظام کا تسلسل ہے۔ جب کوئی شخص اللہ کی حکمت، عدالت اور ہدایت پر ایمان لے آتا ہے تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (ص) کی اطاعت کرے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ"[3] جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

اسی طرح اہل بیت (ع) کی اطاعت کے متعلق فرمایا: "وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ…"[4] اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی اطاعت کرو۔

نظریہ امامت کے مطابق، امام کا انتخاب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور امت پر لازم ہے کہ وہ اس انتخاب کو قبول کرے۔ اگر نبی اکرم (ص) نے اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کیا ہے، تو اس کی اطاعت بھی اللہ اور رسول (ص) کی اطاعت کے مترادف ہے۔ جیسا کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا:

"مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَمَنْ أَطَاعَ عَلِيًّا فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى عَلِيًّا فَقَدْ عَصَانِي"[5] جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اور جس نے علی (ع) کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے علی (ع) کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔

اگر ہم نظریہ امامت کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی جبر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو عقل و شعور دے کر انہیں صحیح راستہ دکھایا ہے۔ جب اللہ نے اپنی مرضی سے کچھ افراد کو امت کی قیادت کے لئے منتخب کیا ہے، تو ان کی اطاعت درحقیقت اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔

قرآن مجید میں مزید ارشاد ہوتا ہے: "إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ"[6] تمہارا ولی تو صرف اللہ، اس کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔

یہ آیت واضح طور پر نظریہ امامت کی تائید کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اللہ نے خود امام کا تعین کیا ہے۔ اب اگر کوئی اللہ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے تو وہ اللہ کی حکمت سے انکار کر رہا ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"[7] اور جو کچھ تمہیں رسول دے، اسے لے لو، اور جس چیز سے تمہیں روکے، اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

اس آیت سے بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے رسول (ص) کو اختیار دیا ہے کہ وہ امت کے معاملات طے کریں، اور اگر رسول (ص) نے اپنے بعد کسی کو امام مقرر کیا ہے تو یہ اللہ کے حکم سے ہی ہوا ہے۔

لہذا، یہ کہنا کہ نظریہ امامت جبر ہے، ایک بے بنیاد الزام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امامت اللہ کی طرف سے ایک ہدایت ہے، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (ص) پر ایمان رکھتا ہے، وہ نظریہ امامت کو دل و جان سے قبول کرے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو عقل و بصیرت کے مطابق ہے، اور یہی ایمان کی معراج ہے۔

نظریہ امامت اور اسلامی رہبر کے انتخاب کا طریقہ

رہبر کے انتخاب کے دو ہی ممکنہ طریقے ہو سکتے ہیں: یا تو اللہ اور اس کے رسول (ص) کسی کو منتخب کریں، یا پھر عوام اپنی رائے (Vote) کے ذریعے کسی کو رہبر کے منصب پر فائز کریں۔

اب اگر ہم اہل سنت کے اس عقیدے کو دیکھیں کہ ایک شخص کی بیعت بھی کسی کو خلیفہ بنانے کے لئے کافی ہے، تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بقیہ تمام افراد پر ایسے خلیفہ کی اطاعت لازم ہوگی جو محض ایک شخص کی بیعت سے منصب خلافت پر فائز ہوا ہو۔ کیا یہ ایک قسم کی زبردستی نہیں؟ اسی طرح مغربی جمہوریت میں بعض اوقات 30%، 40% یا 50% لوگ ووٹ ڈالتے ہیں، اور جو لوگ ووٹ نہیں دیتے، ان پر بھی منتخب وزیرِ اعظم کی حکومت کو قبول کرنا لازم ہوتا ہے۔ کیا یہ زبردستی کے زمرے میں نہیں آتا؟

ان نکات پر غور کرنے کے بعد اس بات کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ جس حکمران کو عوام نے منتخب نہ کیا ہو، اسے حکومت کا حق نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں بغیر رہبر یا امام کے رہنا انسانی فطرت اور معاشرتی تقاضوں کے خلاف ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ جب اللہ کسی کو حاکم مقرر کرتا ہے تو اس میں کوئی زبردستی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ انتخاب خدائی حکمت اور عدل پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن جب عوام کسی کو منتخب کرتے ہیں تو اس میں زبردستی کا عنصر شامل ہو سکتا ہے، کیونکہ مخلوق کو دوسرے انسانوں پر حکومت کرنے کا مطلق حق حاصل نہیں۔ اس تناظر میں نظریہ امامت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ رہبری اور خلافت کسی کے ووٹ یا بیعت کا محتاج نہیں، بلکہ یہ ایک الٰہی منصب ہے جو اللہ کی طرف سے منتخب کردہ افراد کو ہی عطا ہوتا ہے۔

اب اگر تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو عمر کا ابوبکر کو منتخب کرنا بھی ایک زبردستی کا عمل تھا۔ اسی طرح ابوبکر کا عمر کو خلافت کے لئے نامزد کرنا بھی زبردستی پر مبنی اقدام تھا۔ بعد ازاں عثمان کا انتخاب چھ رکنی شوریٰ کے ذریعے ہوا، جو درحقیقت چند افراد کی رائے کا زبردستی تمام امت پر نافذ کیا جانا تھا۔

اس کے بعد اسلحہ کے زور پر معاویہ کی حکومت کا مسلط ہونا، اور ان کا اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کرنا بھی ایک جبر تھا۔ اسی طرح بنو امیہ، بنو عباس اور ترکوں کی موروثی حکومتیں جو اہل سنت بھائی جائز سمجھتے ہیں، سب درحقیقت زبردستی اور طاغوتی اقتدار کی مثالیں تھیں۔ نظریہ امامت کے مطابق یہ تمام حکومتیں اسلامی اصولوں کے برخلاف تھیں، کیونکہ اسلام آزادی کا حامی اور جبر کا مخالف ہے۔

نظریہ امامت اور اسلامی جہاد کا فلسفہ

اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمتِ بالغہ سے مومنین کو جہاد کا حکم دیا تاکہ وہ دینِ حق کی سربلندی اور باطل کی سرکوبی کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اسلام کے احکام میں زبردستی اور جبر پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ اللہ اور رسول (ص) کی طرف سے کسی کو منتخب کرنا بھی جبر کے زمرے میں آتا ہے، تو پھر درج ذیل آیات کو بھی زبردستی کی دلیل قرار دینا پڑے گا:

"وَ قٰتِلُوهُمْ حَتّٰى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَ يَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظَّالِمِيْنَ"[8] اور ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے اور دین صرف اللہ کے لئے نہ ہو جائے، ہاں اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی پر زیادتی نہ ہوگی۔

"یٰاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ وَ بِئْسَ الْمَصِيْرُ"[9] اے نبی (ص)! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کریں اور ان پر سختی کریں، ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

"فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِيْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِيْرًا"[10] آپ کفار کی بات نہ مانیں اور قرآن کے ذریعے ان کے ساتھ بڑے پیمانے پر جہاد کریں۔

"وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ هُوَ مَوْلٰىكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِيْرُ"[11]

اور راہِ خدا میں ویسا جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے، اس نے تمہیں منتخب کیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی، یہ تمہارے باپ ابراہیم (ع) کا دین ہے، اسی نے تمہارا نام پہلے بھی مسلم رکھا اور اس قرآن میں بھی، تاکہ رسول تم پر گواہ ہوں اور تم لوگوں پر گواہ بنو۔ پس نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، وہی تمہارا بہترین مددگار اور کارساز ہے۔

"مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا۟ أُخِذُوا۟ وَقُتِّلُوا۟ تَقْتِيلاً"[12] یہ لعنتی جہاں پائے جائیں گے، پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے۔

"وَإِن نَّكَثُوا۟ أَيْمَٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ"[13] اور اگر وہ اپنی قسمیں توڑ دیں، عہد کے بعد اور تمہارے دین پر حملہ کریں تو کفر کے اماموں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں، شاید وہ باز آجائیں۔

نظریہ امامت ہی حقیقی نظامِ حکومت

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل زور حق و باطل کی تفریق پر ہے، نہ کہ کسی کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کرنے پر۔ اسلام کے مطابق نظریہ امامت ہی وہ حقیقی نظامِ حکومت ہے جو اللہ کے منتخب کردہ امام کی رہبری میں چلتا ہے۔ لہٰذا، خلافت و امامت کے باب میں اللہ اور اس کے رسول (ص) کی مرضی ہی اصل حیثیت رکھتی ہے، اور انسانی آراء اس میں کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکھتیں۔

نظریہ امامت کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہل بیت (ع) کی امامت ایک الٰہی منصب ہے، اور اسے عوامی رائے یا زبردستی کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اسلامی نظام حکومت ہمیشہ الٰہی منتخب رہبروں کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ محض انسانی خواہشات کے تابع۔

یہ واضح کرتا ہے کہ کفار کے خلاف قتال، محض ایک جنگی عمل نہیں بلکہ دین کی حفاظت اور سربلندی کے لئے ایک مقدس فریضہ ہے۔ اسی طرح، اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

نظریہ امامت اور آزادیٔ عقیدہ

جب ایک اسلامی حکومت قائم ہو، تو اس کے قوانین کی پاسداری ہر شہری پر لازم ہوتی ہے۔ نظریہ امامت اسی اصول پر مبنی ہے کہ امامِ برحق (ع) کا انتخاب زبردستی نہیں، بلکہ عقل و شعور کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگر دین کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی جائے تو اللہ کا حکم ہے کہ اس رکاوٹ کو ہٹایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ نظریہ امامت ایک ایسی بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں عدل و انصاف، اللہ کی حاکمیت اور مومنین کی سربلندی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

نظریہ امامت اور اسلامی حکومت

امامت کا نظام، کسی فردِ واحد کی آمریت نہیں، بلکہ یہ اللہ کے منتخب کردہ امام (ع) کی ولایت پر مبنی ہے، جسے لوگ اپنی عقل و بصیرت سے قبول کرتے ہیں۔ یہ نظام معاشرے میں عدل و انصاف کو رائج کرتا ہے اور ہر فرد کو اس کے حقوق فراہم کرتا ہے۔ امام (ع) کی حکومت، محض ایک سیاسی نظام نہیں، بلکہ ایک الٰہی نظام ہے جو ظلم و جبر کے بجائے عدل و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

یہ نظریہ، تاریخِ اسلام میں بارہا ثابت ہوا کہ جب امامِ برحق (ع) کی قیادت میں اسلامی حکومت قائم ہوئی، تو معاشرتی فلاح اور عدل کا ایک بہترین نمونہ پیش کیا گیا۔

نظریہ امامت پر مذکور دوسرے اشکال کا جواب

دوسرا اشکال یہ تھا کہ نظریہ امامت کی حقانیت کے خلاف خاندان اہل بیت کے بعض افراد نے مخالفت کی۔ اس کے جواب میں یوں کها جاسکتا ہے کہ جب نظریہ امامت کو عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے ثابت کر دیا جائے، تو پھر کسی فرد یا چند افراد کی مخالفت یا موافقت اس حقیقت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ حق جب ایک بار واضح ہو جائے تو لازم ہے کہ لوگ اس کے تابع ہوں، نہ کہ حق کو افراد کے طرزِ عمل سے پرکھا جائے۔

جیسا کہ نبی اکرم (ص) نے فرمایا: "عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَالْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ” علی (ع) حق کے ساتھ ہیں اور حق علی (ع) کے ساتھ ہے۔ لہٰذا، اگر کچھ افراد نے امام علی (ع) کے حقِ خلافت کو تسلیم نہ کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خلافت علی (ع) کا حق نہ تھی، بلکہ حقیقت وہی رہے گی جسے رسول اللہ (ص) نے واضح فرمایا۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: "وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ"[14] اور محمد (ص) تو بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں، کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو تم اپنے دین سے پھر جاؤ گے؟

یہ آیت اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ حق کا انکار کرنے والے ہمیشہ موجود رہے ہیں، مگر اس سے حق کی سچائی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ نظریہ امامت حدیثِ متواتر کی روشنی میں اہل بیت (ع) میں ثابت ہے۔ جیسا کہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا: "إِنَّ خُلَفَائِي اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً” میرے بارہ خلیفہ ہوں گے۔

یہ بارہ خلفاء معصوم ہوں گے اور علمِ الٰہی کے حامل ہوں گے۔ دوسرے افراد، چاہے وہ اہل بیت (ع) کے خاندان سے ہی کیوں نہ ہوں، اس مقام پر فائز نہیں ہو سکتے۔ اگر زید بن علی (ع) جیسے شخصیات نے قیام کیا تو یہ نظریہ امامت کی نفی نہیں بلکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے تھا۔

جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: "وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ[15] اور تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور وہی کامیاب لوگ ہیں۔

زید بن علی کا قیام اور نظریہ امامت

زید بن علی (ع) کے قیام کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ اس وقت کے اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے امام باقر (ع) کی بے عزتی کی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ زید بن علی (ع) نے کبھی نظریہ امامت کا انکار نہیں کیا، بلکہ اگر وہ کامیاب ہوتے تو خلافت کو اس کے اصل حقدار تک پہنچاتے۔

امام رضا (ع) نے بھی زید بن علی (ع) کے قیام کی تائید کی ہے اور ان کے امامت کے دعوے کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: "زید ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو امامت کے مدعی ہوں، بلکہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے کھڑے ہوئے۔”[16]

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی ایک فرد کی مخالفت نظریہ امامت کے باطل ہونے کی دلیل نہیں بن سکتی۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا کہ چونکہ ابو لہب نے رسول اکرم (ص) کی نبوت کا انکار کیا تھا، لہٰذا (نعوذ باللہ) نبوت حق نہیں تھی۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں۔

قرآن میں ہے: "قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا"[17] کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

یہی اصول نظریہ امامت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر اہل سنت ابوبکر کی خلافت کو برحق مانتے ہیں، تو پھر انہیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ جناب محمد بن ابی بکر اور قاسم بن محمد بن ابی بکر نے بھی ان کی مخالفت کی تھی۔ تو کیا اس سے ان کی خلافت باطل ہو گئی؟ یقیناً نہیں، کیونکہ اہل سنت مخالفت کو دلیل نہیں بناتے، بلکہ اپنے عقیدے کو اصل مانتے ہیں۔

 

خاتمہ

نظریہ امامت اسلامی حکومت کا ایک ایسا بنیادی اصول ہے جو دین کی حفاظت، معاشرتی انصاف اور آزادیٔ عقیدہ کو یقینی بناتا ہے۔ نظریہ امامت محض اقتدار کی خواہش نہیں، بلکہ دین حق کی ترویج اور مومنین کی رہنمائی کا خدائی منصوبہ ہے۔ نظریہ امامت کا تعلق کسی فرد یا گروہ کی ذاتی پسند و ناپسند سے نہیں، بلکہ یہ ایک مستقل الہی نظام ہے جو بارہ اماموں (ع) کے ذریعے قائم کیا گیا۔ نظریہ امامت کو لوگوں کے اعمال سے نہیں پرکھا جاتا، بلکہ حق کے میزان میں جانچا جاتا ہے۔ یہی نظریہ امامت مومنین کے لئے حقیقی آزادی اور عدل کا ضامن ہے۔

 

حوالہ جات

[1]۔ سورہ البقرہ، آیت۲۵۶۔
[2]۔ سورہ البقرہ، آیت۲۵۶۔
[3]۔ سورہ النساء، آیت۸۰۔
[4]۔ سورہ النساء، آیت۵۹۔
[5]۔ حاکم نیشاپوری، المستدرک علی الصحیحین، ج۲، ص۱۲۱۔
[6]۔ سورہ المائدہ، آیت۵۵۔
[7]۔ سورہ الحشر، آیت۷۔
[8]۔ سورہ البقرة، آیت١٩٣۔
[9] ۔ سورہ التوبة، آیت٧٣۔
[10]۔ سورہ الفرقان، آیت٥٢۔
[11]۔ سورہ الحج، آیت٧٨۔
[12]۔ سورہ الأحزاب، آیت٦١۔
[13]۔ سورہ التوبۃ، آیت١٢۔
[14]۔ سورہ آل عمران، آیت۱۴۴۔
[15]۔ سورہ آل عمران، آیت۱۰۴۔
[16]۔ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا، ج۱، باب۲۵، ص۲۴۱۔
[17]۔ سورہ الاسراء، آیت۸۱۔

منابع و مآخذ

۱۔ قرآن مجید۔
۲۔ حاکم نیشاپوری، ابوعبدالله محمد بن عبدالله ،المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دار الکتب العلمیة، ۱۴۱۱ھ۔
۳۔ شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویه قمی، عیون أخبار الرضا، تہران، دارالکتب الاسلامیة، ۱۳۷۵ش۔

 

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

داداشی، شعبان، امامت پراُٹھائے جانے والے شبہات کے جوابات، ترجمہ شعبہ علمی و تحقیقی ادارہ امید (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔