سقیفہ کے تلخ اور بدترین نتائج تاریخ و سیرت کے آئنہ میں

سقیفہ کے تلخ اور بدترین نتائج تاریخ و سیرت کے آئنہ میں

2025-05-24

316 مشاہدات

کپی کردن لینک

تاریخ بشریت میں مسلمانوں کے لئے سقیفہ سے زیادہ تلخ اور ناگوار کوئی حادثہ رونما نہیں ہوا ہے، جس نے مسلمانوں کے اتحاد کو اختلاف اور وحدت کو تفرقہ میں تبدیل کردیا تھا۔ اس سے مسلمان ایک عظیم شر میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اسلام کے پیکر پر یہ ایسا زخم تھا، جس کا آج تک مداوا نہ ہو سکا۔ آج پوری بشریت سقیفہ کی وجہ سے مختلف دردوں میں مبتلا ہے۔ سقیفہ کے جو بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں، ان میں سے ہم کچھ یہاں بیان کرتے ہیں:

۱۔ مسلمانوں کے درمیان اختلاف

مسلمانوں کے درمیان خلافت کے سلسلہ میں اختلاف کا منشاء ظہور تعیین خلیفہ کا طریقۂ کار ہے۔ شیعہ حضرات اس بات پر مکمل ایمان و عقیدہ رکھتے ہیں کہ خلیفة المسلمین کی تعیین اللہ کی جانب سے نص کی بنا پر ہوگی. ان لوگوں میں سے میں بھی ہوں اور یہی عقیدہ رکھتا ہوں کہ رسول خدا (ص) نے مسئلہ خلافت سے ایک لمحہ بھی غفلت نہ برتی، بلکہ اپنے جیتے جی اپنے بھائی اور پرچمدار عدالت انسانی حضرت علی (ع) کو اپنی امت کا حاکم و خلیفہ مقر ر کیا ہے۔

ہم نے اس حوالہ سے معتبر روایات برادران اہلسنت کی کتابوں سے نقل کی ہیں، جن کے پیغمبر اسلام (ص) سے صادر ہونے میں ذرہ برابر بھی شک و شبہ نہیں ہے۔ اور ان کے راویو ں کی وثقاقت اور دینی احتیاط پر ان کے تمام علماء کا اجماع ہے۔ وہ روایات جو ہم نے بیان کی ہیں دلالت کے اعتبار سے روز روشن کی طرح واضح ہیں۔

ان میں کسی طرح کا بھی ابہام و اجمال نہیں پایا جاتا ہے اور وہ سب کی سب اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول خدا (ص) کے بعد صرف حضرت علی (ع) ہی خلیفۂ مسلمین ہیں کہ جن کو آپ نے اپنی زندگی میں اپنی امت کا امام و خلیفہ مقرر کیا تھا۔

مسلمانوں کا دوسرا فرقہ اس نظریہ کا قائل ہے کہ رسول خدا (ص) نے خلافت کے سلسلہ میں اہمال سے کام لیا اور اس کام کو اپنی امت کے حوالہ کر دیا کہ وہ اپنے لئے جسے چاہیں قائد منتخب کرلیں۔ خود پیغمبر (ص) نے امت کے لئے اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر نہیں کیا، بلکہ خلیفہ کے تقرر کے مسئلہ کو امت کے لئے چھوڑ دیا۔

لیکن اگر تعصب کی عینک کو اپنی آنکھوں سے اتار کر ہم اس مسئلہ پر دقت سے غور کریں اور ایک عالمانہ اور فلسفیانہ نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا، کہ یہ نظریہ باطل ہے، کیونکہ وہ مہربان نبی جو اپنی امت کا اتنا ہمدرد تھا کہ امت کی ذراسی پریشانی بھی اس کے لئے گراں گذرتی تھی۔ وہ اپنے بعد کیسے اس کو جہل و اختلاف کے میدان میں سر گرداں اور جہالتوں کے گرداب میں حیران و پریشان چھوڑ دیتا؟ یقیناً پیغمبر (ص) کے بعد خلیفہ کا تعین ایک انتہائی ضروری امر تھا۔

پیغمبر (ص) کی زندگی کے اواخر میں سماجی حالات دگرگون تھے، مسلمانوں کے سروں پر منافقین وغیرہ کی طرف سے خطرات کے بادل منڈلا رہے تھے۔ وہ حکومتیں جن کو اسلام نے شکست دی تھی، اسلام کو ان کی طرف سے سخت چیلنج کا سامنا تھا۔ وہ اپنی پوری توانائی سے اسلام کو شکست دینے کے درپے تھیں۔ اب ایسے میں رسول (ص) پر ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی وفات سے پہلے کسی ایک کو اپنی امت کا خلیفہ قرار دیں تاکہ امت ان خطرات سے محفوظ رہے اور ذاتی اختلاف کا شکار نہ ہو۔

بہر حال جب ہم تاریخ کا دقیق مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو پتہ چلتا ہے کہ رسول (ص) نے خود اپنی زندگی میں منصب خلافت کو حضرت علی (ع) کے سپرد کیا اور ان کو تمام مسلمانوں کا خلیفہ اور امام قرار دیا جیسا کہ حدیث غدیر اس پر تاکید اور دلالت کرتی ہے۔

۲۔ اہلبیت (ع) پر مظالم کا سلسلہ

سقیفہ کے بھیانک نتایج میں سے ایک نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے غاصبانہ طور پر منصب خلافت پر قبضہ کیا تھا، انہوں نے رسول خدا (ص) کی عترت کو ظلم و استبداد کا ہدف بنایا۔ چنانچہ معاویہ کے دور خلافت میں حضرت علی (ع) پر منبروں سے لعنت کو واجب قرار دیا گیا۔ اور شیعوں پر بہت ظلم ستم کیا گیا۔

اس بارے میں امام محمد باقر (ع) فرماتے ہیں: "وَ قُتِلَتْ شیعتُنَا بِکلِّ بَلَدَةٍ وَ قُطِّعَت الأَیۡدِيۡ و الأَرْجُلِ علیٰ الظِّنَّةِ وَ کان مَنْ یُذۡکَرُ بِحُبِّنا و الاِنقطَاعِ إلَیْنَا سُجِنَ أَوْ نُھِبَ مَالُہ أَوْ ھُدِّمَتْ دَارَہ”[1] ہر شہر میں ہمارے شیعوں کا قتل عام کیا گیا اور صرف گمان کی بنا پر ان کے ہاتھ پاؤں کو کاٹ ڈالا گیا اور جس شخص کو ہمارے محب یا ہمارے چاہنے والے کے نام سے یاد کیا گیا اس کو قید کر دیا گیا یا اس کے مال کو لوٹ لیا گیا یا اس کے گھر کو تباہ کر دیا گیا۔

۳۔ حکام کا ظلم

سقیفہ اس بات کا سبب بنی کہ ظالم و جابر حکمراں لوگوں پر مسلط ہو گئے، جنہوں نے خدا کی عظمت کا پاس و لحاظ نہ رکھا اور لوگوں پر ظلم و قہر ڈھانے میں اپنی پوری طاقت صرف کردی۔ ان کی نگاہ میں انسان اور جانور سب برابر تھے۔ معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے درندہ صفت حاکموں کو اسلامی سر زمینوں کے اوپر مسلط کیا۔ جنہوں نے لوگوں کے اموال کو تاراج کیا۔

ابن عباس کہتے ہیں: بنی امیہ نے اسلام کے کانوں کو بری طرح سے چھید ڈالا اور قرآن کو تیز چاقو سے پارہ پارہ کر ڈالا۔[2]

۴۔ مسلمانوں کی تحقیر و توہین

سقیفہ کی وجہ سے اموی سیاست میں جو بات سب سے زیادہ عام تھی، وہ اسلامی قوموں کی تحقیر و توہین تھی۔ ولید بن یزید کہتا ہے:

"فَدعْ عَنکَ اِدِّکارک آلِ سِعدی * فَنَحنُ الأکْثَرُونَ حَصیً وَ مالاً
وَ نَحنُ المالکوُنَ النّاسَ قَسْراً * نَسومُھُم المَذلَّة َ وَ النَّکالا
و نورِدُھُم حیاضَ الخَسۡفِ ذُلا * وَ مَا نَألوھُمۡ إلا خَبَالاً”[3]

١۔ آج کے بعد سعدی کے خاندان کو چھوڑ کہ ہم مال اور عدد کے اعتبار سے ان سے زیادہ ہیں۔

٢۔ ہم اپنے زور کی بنا پر لوگوں کے مالک ہیں اور ہم خواری و ذلت کے ساتھ ان کو شکنجے دیں گے۔

٣۔ ہم ان کو بدبختی کے گرداب میں اتاریں گے اور وہ ہمارے پاس سوائے نابودی اور بدبختی کے کچھ نہ پائیں گے۔

ان اشعار کا لب لباب یہ ہے کہ سقیفہ اور اموی خلفاء اپنی تلوار کے زور پر لوگوں پر مسلط ہوئے تھے، جو مسلمانوں کو اپنی ملکیت سمجھتے تھے اور ان کو ذلیل و رسوا کرتے تھے۔ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس میں کسی بھی قسم کا مبالغہ نہیں ہے، کیونکہ حکومت بنی امیہ کی اساس ہی لوٹ مار، قتل و غارت اور اسلامی قوموں کو اہمیت نہ دینے پر تھی۔

۵۔ اسلامی اقدار کو کم اہمیت سمجھنا

سقیفہ کی حکومت میں اسلامی اقدار کو کوئی اہمیت نہ دینا، ایک عام بات تھی۔ معاویہ نے سب سے پہلے اسلامی اقدار سے بے اعتنائی برتی ہے۔ اس نے امام حسن (ع) سے صلح کرنے کے بعد، امام کی شروط پر عمل نہ کرنے کا یوں اعلان کیا: "إنِّي أعطیتُ الحسن بن علي شروطاً و ھا ھي تحت قدمي لا أَفَي بشيء منھا"[4] میں نے حسن (ع) بن علی (ع) کی کچھ شرطیں قبول کی تھیں، لیکن وہ شرطیں اب میرے پاؤں کے نیچے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی پورا نہ کروں گا۔

آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان اسلامی اقدار کا کس طرح مذاق اڑایا گیا کہ جو عہد و پیمان کو پورا کرنے کو لازم قرار دیتی ہیں۔ یہ سب سقیفہ میں خلافت کو اہل بیت نبوت اور مرکز وحی سے دور کرنے کا نتیجہ ہے۔

۶۔ الحاد و بے دینی

یہ بات مسلم ہے کہ بنی امیہ کے اکثر خلفاء جن کا ریشہ شقیفہ ہے، دین سے منحرف تھے۔ ان میں سر فہرست معاویہ ہے، جس نے اسلام کی عظیم شخصیتوں کو قتل کیا۔ جن میں نواسہ رسول (ص) جوانان جنت کے سردار امام حسن (ع) سر فہرست ہیں۔

حجر بن عدی جیسے عظیم صحابی اور ان کے دوسرے بھائیوں کو دمشق کے نزدیک مقام "عذرا” میں تہہ تیغ کیا۔ اسی طرح "عمرو بن حمق خزاعى” کو شہید کیا۔ ان سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ اس نے اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کے اوپر حاکم مقرر کیا، جبکہ اس کو اس کے فسق و فجور اور اسلام سے خارج ہونے کا علم تھا۔ جس نے امام حسین (ع) اور ان کے انصار کو کربلا میں شہید کیا۔ اور ان کے اہلبیت (ع) کو دیار بہ دیار تشہیر کیا۔

اس کے بعد یہ شعر پڑھا: "لَعِبَتْ ھَاشِم ُ بِالمُلکِ فَلا * خَبَر جَاءَ وَلا وَحْيٌ نَزَلَ” بنی ہاشم نے حکومت کے لئے ڈھونگ رچا تھا، ورنہ آسمان سے نہ کوئی وحی نازل ہوئی اور نہ کوئی فرشتہ آیا تھا۔

۷۔ خلفاء کی عیّاشی

سقیفہ کا ثمر بنی امیہ اور بنی عباس کے اکثر خلفاء عیاشی، فسق و فجور اور ناچ گانے میں غرق رہتے تھے۔ یزید ابن عبد الملک تو حد سے زیادہ عیاشی اور فسق و فجور میں غرق تھا۔ اس کی عیاشی کا ایک نمونہ یہ ہے کہ ایک روز مستی کے عالم میں بولا: "کہو تو پرواز کر جاؤں” اس کی کنیز حبابہ نے مزاح کرتے ہوئے کہا: امت کو کس پر چھوڑو گے؟ اس نے جواب دیا: تمہارے اوپر، یہ ہے سقیفہ۔

یزید بن عبد الملک ایک لمحہ بھی اس کے فراق کو برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ ایک روز وہ اس کے ساتھ اردن کی طرف سیر کرنے کے لئے نکلی؛ ٹہلتے ٹہلتے یزید نے ایک انگور کا دانہ اس کی طرف پھینکا، جو اس کے حلق میں پھنس گیا۔ جس کی بنا پر وہ مریض ہوگئی اور اس دنیا سے چل بسی۔ یزید ابن عبد الملک نے اس کے جنازہ کو ایسے ہی تین دن تک پڑے رہنے دیا۔

وہ اس کو سونگھتا تھا، اس کی طرف دیکھتا تھا اور روتا تھا، یہاں تک کہ اس کی میت سڑنے لگی۔ اس کے خاص لوگوں نے اسے دفن کرنے کا اصرار کیا، تو اس نے اجازت دے دی۔

مسعودی کا بیان ہے کہ اس نے اس کی قبر پر کھڑے ہو کر یہ شعر پڑھا:

"فَإنْ تسل عنکِ النَفۡسُ أو تدَعِ الھویٰ * فَبِالیأسِ تَسۡلو النَّفسُ لا بالتَّجَلُّدِ”[5] اگر میرا دل تجھے فراموش کردے، یا تیرے عشق کو بھلا بیٹھے تو یہ مایوسی کی وجہ سے ہوگا، نہ صبر کرنے کی وجہ سے نہیں۔ یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ اس نے دفن کے بعد اس کی قبر کھود کر اس کو دیکھا۔[6]

سقیفہ کے ان بادشاہوں میں جو بدی اور عیاشی میں غرق تھے، ولید بن یزید بھی ہے۔ اس کے بارے میں ابن عساکر نے لکھا ہے: "وہ عیاشی اور شراب نوشی میں بہت زیادہ منہمک تھا۔ اس نے آخرت کو اپنے پس پشت ڈال دیا تھا اور وہ اپنے شراب پینے والے دوستوں کے ساتھ عیش و عشرت اور لہو و لعب میں مگن رہتا تھا۔ وہ ڈھول باجا اور تار و تنبور بجاتا تھا۔ اس نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو اتنا زیادہ انجام دیا کہ اس کو فاسق کے لقب سے یاد کیا جانے لگا”[7]

عباسی خلفاء نے تو بدی اور بے حیائی میں حد کر رکھی تھی۔ مہدی عباسی تو پوری طرح شراب نوشی، موسیقی اور دیگر آلات لہو و لعب میں غرق رہتا تھا۔ بعض شاعروں نے اپنے اشعار میں مہدی عباسی کو عیاشی اور فحاشی سے متصف کرتے تھے۔

ہادی عباسی وہ شخص تھا، جس کی وجہ سے "واقعہ فخ” رونما ہوا ہے، جو ظلم و ستم کے اعتبار سے کربلا کے واقعہ سے کم نہیں تھا۔ اس نے حکومت کے اموال کو صرف ناچنے گانے والوں اور بے حیاؤں پر خرچ کیا ہے۔ ابراہیم بن موصلی جو گانا گانے والا اور مُطرب تھا کہتا ہے: اگر ہادی زندہ رہتا، تو ہم لوگ اپنے گھر سونے سے بنا لیتے۔

بنی عباس کے اکثر خلفاء نے حکومت کے بیت المال کو لوگوں کے حالات کو ٹھیک کرنے، علم کی اشاعت اور فقر و فاقہ کو ختم کرنے کے بجائے اپنی سنہری راتوں پر خرچ کیا ہے۔ ان کے گھر اور دربار میں ایمان و تقویٰ کا نام و نشان تک نہ تھا۔

بہر حال ہمارے سامنے جو تاریخ ہے وہ بہترین شاہد ہے، جو ہمیں سقیفہ کی اولاد بنی امیہ کے بادشاہوں کے فسق و فجور، ان کی بے حیائی، شیعوں پر ان کی زیادتی کی نشاندہی کرتی ہے۔

یہ تمام رنج و غم اور حزن و ملال جن میں امت مسلمہ گرفتار ہوئی، اس کی اصل وجہ سقیفہ ہے کہ جہاں رسول خدا (ص) کے فوراً بعد خلافت کو اہلبیت (ع) سے دور کیا گیا ہے۔ اہلبیت (ع) سیرت اور اپنی زندگی کے ہر میدان میں رسول (ص) کے اوصاف کے مظہر تھے۔

اگر واقعاً امت مسلمہ سقیفہ کو چھوڑ کر صراط مستقیم پر چلتی جو اللہ اور اس کے رسول (ص) نے ان کے لئے معین کیا تھا، تو پوری امت کے درمیان عدالت کا دور دورہ ہوتا اور مسلمان زندگی کے کسی بھی موڑ پر مہلک زلزلوں اور سخت لغزشوں کا شکار نہ ہوتے۔ اور ان پر زمین و آسمان سے برکتیں ہی برکتیں نازل ہوتیں اور وہ ہمیشہ اپنے پروردگار کی رحمت و شفقت کے سایہ میں رہتے۔

۸۔ منع تدوین حدیث

سقیفہ کے بدترین نتائج میں سے حدیث کی کتابت سے لوگوں کو منع کرنا تھا۔ ابوبکر کی سربراہی میں "منع تدوین حدیث” یعنی حدیث رسول (ص) کا نہ لکھنے کا حکم جاری ہونا ہے۔ وہ اس طرح کہ جب بزرگ اور دور اندیش صحابہ نے احادیث نبوی میں کمی، زیادتی اور جعل کے خوف و خطر کو ختم کرنے کے لئے ابوبکر کو تدوین حدیث کا مشورہ دیا، تو اس نے منع کردیا۔

اصحاب رسول کا یہ بہت اہم مشورہ تھا، کیونکہ اس طرح احادیث نبوی جھوٹی حدیث جعل کرنے والوں سے محفوظ رہ جاتیں۔ جن کو کچھ بھی خوف خدا اور اس کی عظمت اور وقار کا پاس و لحاظ نہیں تھا اوراس طرح اس سے اسلام کا وقار بھی مجروح ہونے سے بچ جاتا اور اس کی طرف ان جعلی حدیثوں کی نسبت نہ دی جاتی، جو بلکل بھی روح اسلام کے مطابق نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ خود پیغمبر (ص) نے اپنی احادیث کے لکھنے پر تاکید فرمائی تھی۔ اور اس اہم کام کو انجام دینے والے کے لئے خداوند عالم کی بارگاہ میں اجر عظیم کا  سوال کیا تھا۔

آپ (ص) نے فرمایا: "مَن کَتَبَ عَليَّ عِلۡمَاً َو حَدِیثاً لَم یَزَل یُکۡتَبۡ لَہُ الأَجۡرُ مَا بَقِيَ ذَلِکَ العِلمُ َو الحَدِیثَ”[8] جو بھی میرے تعلیم کردہ علم اور حدیث کو لکھے گا، جب تک وہ علم یا حدیث باقی رہے گی، اس کے نامہ اعمال میں اس وقت تک اجر لکھا جاتا رہے گا۔

افسوس کہ ابوبکر اور عمر نے منع تدوین کیا اور اس بات کو بہانہ قرار دیا کہ اگر ہم احادیث کو لکھنے کی اجازت دے دیں، تو مسلمان قرآن کی تلاوت چھوڑ کر، احادیث پیغمبر (ص) کی تلاوت میں مصروف ہو جائیں گے۔

عمر ابن خطّاب نے کہا تھا: میں احادیث نبوی کے لکھنے کا قصد رکھتا تھا، لیکن مجھ کو تم سے پہلے والی ایک قوم کی یاد آئی، جنہوں نے اپنے پیغمبر (ص) کی باتوں کو تحریر کیا تھا۔ جس کے بعد وہ بس اسی کی طرف راغب ہو گئے اور انہوں نے کتاب خدا کو چھوڑ دیا تھا۔[9]

لیکن یہ بہانہ بلکل بھی قابل قبول نہیں ہے، کیونکہ قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے۔ کھبی بھی احادیث اس سے مشتبہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ دوسرے یہ کہ احادیث کا قرآن سے گہرا رابطہ ہے، کیوںکہ بعض احادیث قرآن کے عمومات کی لئے مخصص ہیں، تو بعض اس کے مطلقات کے لئے مقید۔ بعض اس کے ناسخ و منسوخ کو بیان کرنے والی ہیں، تو بعض اس کے مجملات کو اجاگر کرنے والی ہیں۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ احادیث کی طرف توجہ نہ دی جائے۔

احادیث نبوی کو نہ لکھنے کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ احادیث کی ایک بڑی تعداد اہلبیت اطہار (ع) کی فضیلت اور اسلام میں ان کی اہمیت و عظمت کے بارے میں تھی۔ لہذا تدوین فضائل اہلبیت (ع) قریش کے ان منصوبوں کے برخلاف تھا، جن کا بنیادی مقصد اہلبیت (ع) کو خلافت کے میدان سے دور رکھنا تھا۔ سیاسی و سماجی زندگی میں ان کو مکمل طور سے دور رکھنا اور ان کے ساتھ عام لوگوں جیسا معاملہ کرنا تھا۔

بہر حال احادیث نبوی کے لکھنے سے منع کرنا ایک ایسا المناک حادثہ ہے، جس کی وجہ سے مسلمان بہت سی مشکلوں اور سختیوں میں گرفتار ہو گئے اور جو اس بات کا سبب بنا کہ بہت سی احادیث کو پیغمبر (ص) کے نام سے گھڑ دیا گیا۔ جن میں سے اکثر روح اسلام کے منافی ہیں۔

خاتمہ

اس تحریر سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سقیفہ میں جس خلافت کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہ اسلام یا مسلمانوں کے فائدہ کے لئے نہیں تھی، بلکہ اسلام کو برباد کرنا ان سب کا مقصد تھا۔ اس لئے کہ جو بھی اس کے نتائج سامنے آئے ہیں اور آج تک مسلمان برداشت کر رہے ہیں، سب حقیقی اسلام سے دور ہیں۔

حوالہ جات

[1]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۳، ص۱۵۰؛ هلالى، کتاب سلیم بن قیس، ص١٨٨؛ قندوزی، ینابیع المودة، ج۳، ص٢٧٨۔
[2]۔ مفید، الاختصاص، ص۱۳۳۔
[3]۔ قزوینی، موسوعۃ الامام الصادق (ع)، ج۷، ص۸۳؛ دینوری، اخبار الطّوال، ص۳۴۸۔
[4]۔ قرشی، حیاۃ الامام الحسن بن علی (ع)، ج۲، ص۳۳۰؛ علوی، النصائح الکافیہ، ص۱۹۴۔
[5]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج۳، ص۱۹۸؛ مقدسی، البدء و التاریخ، ج۳، ص۴۸؛ فخر رازی، الأربعین في أصول الدین، ص٣٤٧؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ج۱۲، ص٢٨١۔
[6]۔ قرشی، حیاۃ الامام الباقر (ع)، ج۲، ص۵۶۔
[7]۔ قزوینی، موسوعۃ الامام الصادق (ع)، ج۷، ص۶۳۔
[8]۔ سیوطی، تاریخ الخلفاء، ص۹۳۔
[9]۔ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۳۰۶؛ ابن‌ عبد البر، مختصر جامع بیان العلم، ص۳۶۔

منابع

1. ابن ابی الحدید، عبد الحميد، شرح نہج البلاغۃ، قم، مكتبة آية الله المرعشي، ۱۳۸۳ش۔
2. ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الفکر، ۱۹۹۴م۔
3. ابن‌ عبد البر، یوسف‌، مختصر جامع بیان العلم، محقق: مروه، حسن اسماعیل، بیروت، دار الخير، ۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲ء۔
4. دینوری، احمد، اخبار الطوال، مصحح: علی، عصام محمد حاج، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۱ء۔
5. سیوطی، عبدالرحمن، تاريخ الخلفاء، محقق: صالح، ابراهیم، بیروت، دار صادر، ۱۴۱۷ھ / ۱۹۹۷ء۔
6. علوی، محمد، النصائح الکافیة، محقق: شابندر، غالب، بیروت، موسسة الفجر، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۱ء۔
7. فخر رازی، محمد، الأربعین في أصول الدین، قاهره، كتبة الكليات الأزهرية، ۱۹۸۶ء۔
8. قرشی، باقر شریف، حیاة الإمام محمد الباقر علیه السلام: دراسه و تحلیل، بیروت، دار البلاغة، ۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۳ء۔
9. قرشی، باقر شریف، حياة الإمام الحسن بن علي عليهما السلام، بیروت، دار البلاغة، ۱۴۱۳ھ/ ۱۹۹۳ء۔
10. قزوینی، محمد کاظم، موسوعة الإمام الصادق علیه السلام، قم، السید محمد کاظم القزویني الحائري، ۱۴۱۴ھ۔
11. قندوزی، سلیمان، ینابیع المودة، محقق: اشرف، علی، قم، منظمة الاوقاف و الشؤون الخیریة، دار الأسوة للطباعة و النشر، ۱۴۲۲ھ۔
12. مسعودی، علی، مروج الذھب، محقق: داغر، یوسف اسعد، قم، مؤسسة دار الهجرة، ۱۴۰۹ھ۔
13. مفید، محمد، الاختصاص، محقق: غفاری، علی‌‌اکبر، بيروت، مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، ۱۴۳۰ھ /۲۰۰۹ء۔
14. مقدسی، مطهر، البدء و التاریخ، قاهره، مکتبة الثقافة الدينية، بغیر تاریخ۔
15. مقریزی، احمد، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدة و المتاع، محقق: نمیسی، محمد عبدالحمید، بیروت، دار الکتب العلمية،۱۴۲۰ھ / ۱۹۹۹ء۔
16. هلالى، سليم بن قيس، كتاب سليم، محقق: انصارى زنجانى خوئينى، محمد، قم، الهادى، ۱۴۰۵ھ۔

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

قرشی، باقر شریف، سقیفہ کانفرنس، مترجم: ذیشان حیدر عارفی، تصحیح: سيد محمد سعيد نقوی، نظر ثانی: سید مبارک حسنین زیدی، مجمع جہانی اہل بیت، ۱۴۴۲ھ۔ ق،۲۰۲۱ء، ص۲۸۱-۳۱۳۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔