شیعہ مکتب کے مخلتف اسامی کا تاریخی پس منظر

شیعہ مکتب کے مختلف اسامی کا تاریخی پس منظر

2025-07-31

296 مشاہدات

کپی کردن لینک

شیعہ مکتب کی تاریخ میں، حضرت علی (ع) کی خلافت کے بعد، شیعوں کے لئے مختلف القاب اور عناوین استعمال ہونے لگے۔ یہ القاب مختلف تاریخی اور سیاسی مناسبتوں کے تحت استعمال ہوئے، جو کبھی تعریف کے لئے اور کبھی سرزنش کے لئے تھے۔ یہ القاب اور اسامی، اس مکتب کی پیچیدہ تاریخی اور سماجی شناخت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ القاب شیعہ مکتب کے پیروکاروں کی شناخت اور تعلقات کو مختلف زاویوں سے بیان کرتے ہیں۔

حضرت علی (ع) کی خلافت کے بعد جب شیعہ مکتب کا دائرہ وسیع تر ہوا تو شیعہ نام کے علاوہ آہستہ آہستہ دیگر القاب اور عناوین جیسے علوی، امامی، حسینی، اثنا عشری، خاصہ، جعفری، ترابی، اور رافضی بھی خاندان رسالت کے پیروکاروں کے لئے استعمال ہونے لگے۔

اگرچہ عام طور پر اہل بیت (ع) کے چاہنے والوں کو شیعہ ہی کہا جاتا تھا، لیکن یہ القاب اور عناوین مختلف تاریخی، سیاسی، اور سماجی مناسبتوں کے تحت شیعوں کے لئے استعمال ہوئے۔ کبھی یہ القاب شیعہ مکتب فکر کے پیروکاروں کی تعریف اور شناخت کے لئے استعمال ہوتے تھے، تو کبھی مخالفین انہیں شیعوں کی سرزنش اور تحقیر کے لئے استعمال کرتے تھے۔

۱۔ ترابی

معاویہ کے زمانے میں بنی امیہ اور اہل شام، حضرت علی (ع) کے القاب اور کنیت میں سے آپ کو ابو تراب اور آپ کے شیعوں کو ترابی کہتے تھے۔ یہ لقب شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے لئے ایک طرح کی تحقیر اور تنقید کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

معاویہ نے صفین کی جنگ اور حکمیت کے واقعات کے بعد جب عبداللہ بن خزرمی کو بصرہ بھیجنے کا فیصلہ کیا، تو اس نے تمام قبیلوں کے بارے میں سخت ہدایات جاری کیں۔ لیکن قبیلہ ربیعہ کے بارے میں اس نے خاص طور پر کہا: "ربیعہ کو چھوڑ دو، کیونکہ اس قبیلے کے تمام افراد ترابی ہیں۔”[1]

۲۔ رافضی

رافضی کا لقب مخالفین کی طرف سے شیعوں پر اطلاق کیا جاتا تھا۔ یہ لفظ شیعہ مکتب کے پیروکاروں کو تنقید اور تحقیر کا نشانہ بنانے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اکثر اوقات جب کسی شخص پر دین چھوڑنے کی تہمت لگانی ہوتی تو اسے رافضی کہا جاتا تھا۔ چنانچہ شافعی نے اپنے مشہور شعر میں کہا:

"ان کان رفضاً حب آل محمدٍ
فلیشهد الثقلان انی رافضی[2]

یعنی اگر آل محمد (ع) کی محبت رفض ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں۔[3] تاریخ میں یہ بات ملتی ہے کہ زید بن علی کے قیام کے بعد شیعوں کو رافضی کہا جانے لگا۔ شہرستانی کے مطابق، جب شیعیان کوفہ نے زید بن علی سے سنا کہ وہ شیخین (ابو بکر اور عمر) پر تبرّا نہیں کرتے اور افضل (حضرت علی) کے ہوتے ہوئے مفضول (شیخین) کی امامت کو جائز سمجھتے ہیں، تو انہوں نے زید بن علی کو چھوڑ دیا۔ اسی وجہ سے وہ رافضی کہلانے لگے۔[4]

۳۔ علوی

علوی لقب کے بارے میں سید محسن امین لکھتے ہیں کہ عثمان کے قتل اور معاویہ کے حضرت علی (ع) سے برسر پیکار ہونے کے بعد، معاویہ کی پیروی کرنے والوں کو عثمانی کہا جانے لگا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عثمان کو دوست رکھتے تھے اور حضرت علی (ع) سے نفرت کرتے تھے۔

دوسری طرف، حضرت علی (ع) کے چاہنے والوں کو شیعہ کے علاوہ علوی کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ یہ طریقہ کار بنی امیہ کے دور حکومت کے آخر تک جاری رہا۔ تاہم، عباسیوں کے زمانے میں علوی اور عثمانی جیسے القاب کم ہو گئے، اور صرف شیعہ اور سنی کے الفاظ استعمال ہونے لگے۔[5]

۴۔ امامی

شیعوں کے لئے ایک اہم نام "امامی” تھا، جو زیدیوں کے مقابلے میں استعمال ہوتا تھا۔ ابن خلدون کے مطابق، شیعہ مکتب کے بعض پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ صریح روایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امامت صرف حضرت علی (ع) کی ذات میں منحصر ہے اور یہ امامت ان کے بعد ان کی اولاد میں منتقل ہو گی۔ یہ لوگ، جو امامیہ کہلاتے ہیں، شیخین (ابو بکر اور عمر) سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے حضرت علی (ع) کو مقدم نہیں کیا اور نہ ہی ان کی بیعت کی۔ یہ گروہ ابو بکر اور عمر کی امامت کو قبول نہیں کرتا۔[6]

شیعہ مکتب کی تاریخ میں امامیہ کا یہ نظریہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ حضرت علی (ع) اور ان کی اولاد کی امامت پر زور دیتا ہے۔ دوسری طرف، بعض شیعہ گروہوں کا خیال ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی جانشینی کے لئے کسی کو نامزد نہیں کیا، بلکہ امام کے اوصاف بیان کر دیے تھے، جو صرف حضرت علی (ع) پر منطبق ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ لوگوں کی کوتاہی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت علی (ع) کو پہچانا نہیں۔ یہ گروہ، جو زیدیہ کہلاتا ہے، شیخین کو برا نہیں کہتا اور ان کی خلافت کو قبول کرتا ہے۔

۵۔ حسینی

حضرت امام حسین (ع) اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد جو اشعار کہے گئے ہیں اور جو آج تک محفوظ ہیں، ان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضرت امام مظلوم کی شہادت کے بعد ان کے پیروکاروں کو "حسینی” کہا جانے لگا۔ ان لوگوں نے اپنے اشعار میں بار بار خود کو حسینی اور دین حسین کا پیروکار ظاہر کیا ہے، جو شیعہ مکتب کی گہری عقیدت اور وفاداری کی عکاسی کرتا ہے۔[7]

ابن حزم اندلسی کے مطابق، رافضیوں میں سے ایک گروہ "حسینی” کہلاتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ابراہیم بن مالک اشتر کے ساتھیوں میں سے تھے اور کوفہ کی گلیوں میں گھومتے پھرتے تھے۔ وہ "یا لثارات الحسین” کا نعرہ لگاتے تھے، جو حضرت امام حسین (ع) کے خون کا بدلہ لینے کی جدوجہد کی علامت تھا۔ یہ نعرہ شیعہ مکتب کے پیروکاروں کے جذبات کو ظاہر کرتا تھا اور نیز یہ ان کی تحریک اور عزم کی بھی عکاسی کرتا تھا۔[8]

۶۔ قطعیہ

قطعیہ کا نام حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کے بعد واقفیہ کے مقابلے میں شیعوں پر اطلاق ہوتا تھا۔ یہ لقب ان لوگوں کے لئے استعمال ہوتا تھا جو حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت پر پختہ یقین رکھتے تھے اور حضرت امام رضا (ع) اور ان کے بعد آنے والے اماموں کی امامت کے قائل تھے۔

دوسری طرف، واقفیہ کا گروہ حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کو تسلیم نہیں کرتا تھا اور ان کی امامت پر شک کرتا تھا۔ یہ گروہ حضرت حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت کو تسلیم کرتا تھا اور نیز ان کے بعد آنے والے اماموں کی امامت پر بھی کامل یقین رکھتا تھا۔ شیعہ مکتب کے اندر یہ عقیدہ ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے، جو اس مکتب کی بنیادوں کو مضبوط کرتا ہے۔

واقفیہ کا گروہ، جو حضرت امام موسیٰ کاظم (ع) کی شہادت پر شک کرتا تھا، شیعہ مکتب کے اندر ایک اختلافی موقف رکھتا تھا۔ تاہم، قطعیہ کے پیروکاروں نے ہمیشہ اپنے عقائد پر استقامت کا مظاہرہ کیا اور امامت کے سلسلے کو جاری رکھا۔[9]

۷۔ جعفری

آج جعفریہ کا لقب، فقہی اعتبار سے زیادہ تر اہل سنت کے چار مذاہب کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیعہ مکتب کی فقہی تعلیمات کا بڑا حصہ حضرت امام جعفر صادق (ع) کے توسط سے شیعوں تک پہنچا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق (ع) کی تعلیمات اور روایات نے شیعہ مکتب کو ایک منفرد فقہی شناخت دی ہے، جو دیگر مکاتب فکر سے ممتاز کرتی ہے۔

سید حمیری کے شعر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جعفریہ کا لفظ نہ صرف فقہی لحاظ سے حضرت امام جعفر صادق (ع) کے زمانے میں استعمال ہوتا تھا، بلکہ یہ اصولی لحاظ سے بھی تمام فرقوں کے مقابلے میں شیعہ مکتب کی پہچان بن گیا تھا۔ سید حمیری اپنے شعر میں کہتے ہیں:

"تجعفرت باسم الله والله اکبر"[10] یعنی "میں خدا کے نام سے جعفری ہو گیا ہوں اور خداوند متعال بزرگ ہے۔” سید حمیری کا مقصد جعفری ہونے سے فرقۂ حقہ شیعہ اثنا عشری کے راستے پر چلنا تھا، جو کیسانیہ جیسے دیگر فرقوں کے مقابلے میں حق پرست اور مستحکم تھا۔

خاتمہ

شیعہ مکتب کی مختلف القاب، جیسے علوی، امامی، جعفری، حسینی، ترابی، اور رافضی، اس مکتب کے پیروکاروں کے لئے مختلف تاریخی اور سماجی مناسبتوں سے استعمال ہوئے ہیں۔ یہ القاب شیعہ مکتب کی شناخت اور تنوع کو ظاہر کرتے ہیں۔

 

حوالہ جات

[1]۔ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۴۲۳۔
[2]۔ ہیثمی مکی، الصواعق المحرقہ، ص۱۲۳۔
[3]۔ الامین، اعیان الشیعہ، ج۱، ص۲۱۔
[4]۔ شہرستانی، ملل و نحل، ج۱، ص۱۳۹۔
[5]۔ الامین، اعیان الشیعہ، ص۱۹۔
[6]۔ ابن خلدون، مقدمہ، ص۱۹۷۔
[7]۔ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج۴، ص۱۰۲۔
[8]۔ عبد ربہ اندلسی، العقد الفرید، ج۲، ص۲۳۴۔
[9]۔ شہرستانی، ملل و نحل، ص۱۵۰۔
[10]۔ مسعودی، مروج الذہب، ج۳، ص۹۲۔

 

منابع و مصادر

۱۔ ابن خلدون، عبدالرحمن بن محمد، مقدمۃ ابن خلدون، بیروت، لبنان، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۸ء۔
۲۔ ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، قم ایران، مؤسسہ انتشارات علامہ، تاریخ ندارد۔
۳۔ امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت لبنان، دار التعارف للمطبوعات، ۱۹۸۳ء۔
۴۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، لبنان، منشورات موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۷۴ء۔
۵۔ شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، قم، ایران، منشورات شریف الرضی، ۱۹۸۵ء۔
۶۔ عبد ربہ اندلسی، احمد بن محمد، العقد الفرید، بیروت، لبنان، دار احیاء التراث العربی، ۱۹۹۰ء۔
۷۔ مسعودی، علی بن حسین، مُروجُ الذَّهَب و مَعادنُ الجَوهَر، بیروت لبنان، منشورات الاعلمی للمطبوعات، ۱۸۹۸ء۔
۸۔ ہیثمی مکی، ابن حجر، الصَّواعِق‌ُ المُحْرِقَة فِی‌ الرَّدِّ عَلی‌ اَهْل‌ِ البِدَع‌ِ وَ الزَّنْدَقَة، قاہرہ، مصر، مکتبہ القاہرہ، ۱۹۹۷ء۔

مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):

محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، مترجم: سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔