شیعہ عباسی خلافت میں خاص طور پر امام کاظم (ع)، امام رضا (ع)، اور امام ہادی (ع) کے زمانے میں نمایاں ترقی کی۔ اس دور میں شیعیت نہ صرف ایران اور عراق جیسے مرکزی علاقوں میں پھیلی، بلکہ دور دراز کے خطوں تک بھی اس کا اثر رسوخ بڑھا۔ عباسی خلفا کی جانب سے ائمہ (ع) پر نگرانی کے باوجود، شیعوں نے اپنے دفاعی اور تبلیغی نظام کے ذریعے اپنا وجود برقرار رکھا۔
۱۔ تشیع امام رضا (ع) اور امام کاظم (ع) کے زمانے میں
شیعیت ١٣٢ھ یعنی عباسی خلافت کے آغاز سے غیبت صُغریٰ کے آخر یعنی ٣٢١ھ تک امویوں کے دور کی بہ نسبت زیادہ پھیلی، شیعہ دور و دراز کے علاقہ میں منتشر اور بکھری ہوئے تھے۔ جیسا کہ عباسی خلافت کے بہت ظالم خلیفہ، ہارون کے پاس امام موسیٰ کاظم (ع) کی شکایت کی جاتی تھی کہ دنیا کے مشرق و مغرب سے آپ کے پاس خُمس آتا ہے۔[1]
جس وقت امام رضا (ع) نیشاپور آئے دو حافظان حدیث جن میں ابو زرعہ رازی اور محمد بن مسلم طوسی اور بے شمار طالبان علم حضرت کے ارد گرد جمع ہو گئے اور امام (ع) سے خواہش ظاہر کی کہ اپنے چہرہ انور کی زیارت کرائیں اس کے بعد مختلف طبقات کے لوگ جو ننگے پاؤں کھڑے ہوئے تھے ان کی آنکھیں حضرت کے جمال سے روشن ہوگئیں۔
حضرت نے حدیث سلسلة الذہب ارشاد فرمائی۔ بیس ہزار کاتب اور صاحبان قلم نے اس حدیث کو لکھا۔[2] اسی طرح امام رضا (ع) نے ولی عہدی قبول کرنے کے بعد مامون سے کہ جو حضرت سے بہت کچھ توقع رکھتا تھا، اس کے جواب میں فرمایا: اس ولی عہدی نے میری نعمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا ہے جب میں مدینہ میں تھا تو میرا لکھا ہوا شرق وغرب میں اجرا ہوتا تھا۔ [3]
۲۔ شیعیت امام ہادی (ع) کے زمانے میں
اسی طرح ابن داؤد جو فقہائے اہل سنّت میں سے تھا اور شیعوں کا سرسخت مخالف اور دشمن تھا اس کا اعتراف کرنا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے پہلے کہ معتصم عباسی چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں امام جواد (ع) کی رائے کو فقہائے اہل سنت کے مقابلہ میں قبول کرے۔
ابن داؤد تنہائی میں اس کو مشورہ دیتا ہے کہ کیوں اس شخص کی بات کو کہ آدھی امت جس کی امامت کی قائل ہے درباریوں، وزیروں، کاتبوں اور تمام علمائے مجلس کے سامنے ترجیح دیتے ہیں۔[4] یہاں تک کہ شیعیت، حکومت بنی عباس کے فرمانرواؤں اور حکومت کے لوگوں کے درمیان بھی پھیل گئی تھی جیسا کہ یحییٰ بن ہر ثمہ نقل کرتا ہے:
"(عباسی خلافت کے مشہور) خلیفہ متوکل نے مجھے امام ہادی (ع) کو بلانے کے لئے مدینہ بھیجا جس وقت میں حضرت کو لے کر اسحاق بن ابراہیم طاہری کے پاس بغداد پہنچا جو اس وقت بغداد کا حاکم تھا تو اس نے مجھ سے کہا: اے یحییٰ! یہ شخص رسول خُدا (ص) کا فرزند ہے۔
تم متوکل کو بھی پہچانتے ہو اگر تم نے متوکل کو ان کے قتل کے لئے برانگیختہ کیا تو گویا تم نے رسول خُدا (ص) سے دشمنی کی، میں نے کہا: میں نے اس سے نیکی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا، اس کے بعد میں سامرا کی طرف روانہ ہوا جس وقت میں وہاں پہنچا سب سے پہلے وصیف ترکی کے پاس گیا اس نے بھی مجھ سے کہا، اگر اس شخص کے سر کا ایک بال بھی کم ہو گیا تو تم میرے مقابلہ میں ہو۔” [5]
۳۔ اہم حکومتی عہدوں پر فائز شیعہ شخصیات
سیّد محسن امین نے اپنی کتاب کی پہلی جلد میں عباسی خلافت کے چند افراد کو شیعوں میں شمار کیا ہے۔ منجملہ ان میں سے ابو سلمہ خلال ہیں[6] کہ جو عباسی خلافت کے پہلے وزیر تھے اور وزیر آل محمد (ع) کے لقب سے مشہور تھے، ابو بجیر اسدی بصری منصور کے زمانے میں بزرگ فرمانرواؤں میں محسوب ہوتے تھے۔
محمد بن اشعث ہارون رشید کے وزیر تھے اور امام کاظم (ع) کی گرفتاری کے وقت اسی شخص سے منسوب داستان ہے جو اس کے شیعہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ علی بن یقطین ہارون کے وزیروں میں سے تھے، اسی طرح یعقوب بن داؤد مہدی عباسی خلافت کے وزیر اور طاہر بن حسین خزاعی مامون کے دور میں خراسان کے عباسی خلافت کی طرف سے حاکم اور بغداد کے فاتح تھے، اسی وجہ سے حسن بن سہل نے ان کو ابی السرایا کی جنگ میں نہیں بھیجا۔[7]
شریک بن عبداللہ نخعی، عباسی خلافت کی جانب سے کوفہ کے قاضی اور واقدی مشہور مورّخ جو مامون کے دور میں قاضی تھے۔[8] یہاں تک کہ شیعیت ان مناطق میں کہ جہاں پر عباسی خلافت کا رسوخ و نفوذ تھا اس قدر پھیل گئی تھی کہ ان کو بڑا خطرہ لاحق ہونے لگا تھا جیسا کہ امام کاظم (ع) کی تشییع جنازہ کے موقع پر سلیمان بن منصور کہ جو ہارون کا، چچا تھا اس نے شیعیت کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لئے جو کافی تعداد میں جمع تھے آپ کے جنازہ میں پا برہنہ شرکت کی۔[9]
اسی طرح جس وقت امام جواد (ع) شہید ہوئے، وہ لوگ چاہتے تھے کہ ان کو مخفی طور پر دفن کر دیں لیکن شیعہ باخبر ہو گئے اور بارہ ہزار افراد مسلح ہو کر ہاتھوں میں تلوار لئے گھروں سے باہر آگئے اور عزت و احترام کے ساتھ حضرت کے جنازہ کی تشییع کی۔[10] امام ہادی (ع) کی شہادت کے موقع پر بھی تشیع کی کثرت کی بنا پر اور بہت کافی گریہ و بکا کی وجہ سے مجبور ہوئے کہ حضرت (ع) کو ان کے گھر میں دفن کردیں۔ [11]
۴۔ امام رضا (ع) کے بعد شیعوں سے نیک برتاؤ کی علل
امام رضا (ع) کے دور کے بعد عباسی خلافت کے خُلفا نے فیصلہ کیا کہ ائمہ طاہرین (ع) کے ساتھ اچھے رفتار سے پیش آئیں تاکہ شیعوں کے غصّہ کا سبب نہ بنیں، اسی بنا پر امام رضا (ع) کو ہارون کے دور میں نسبتاً آزادی حاصل تھی اور آپ نے شیعوں کے لئے علمی اور تبلیغی فعالیت و سرگرمیاں بھی انجام دیں۔
نیز اپنی امامت کا کھل کر اعلان کیا اور تقیہ سے باہر آئے۔ مزید دوسرے تمام فرق و مذاھب کے اصحاب سے بحث وگفتگو کی، اور ان میں سے بعض کو جواب سے مطمئن کیا جیسا کہ اشعری قمی نقل کرتا ہے: امام کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے زمانے میں اہل سنّت فرقہ سے مرجئہ اور زیدیوں کے چند افراد شیعہ ہو گئے اور ان دو اماموں کی امامت کے قائل ہوگئے۔ [12]
۵۔ ائمہ طاہرین (ع) پر نگرانی کرنے کی ناکام کوششیں
مجموعی طور پر عباسی خلافت کی کوشش یہ تھی کہ ائمہ طاہرین (ع) کو اپنی نظارت میں رکھیں تاکہ ان پر کنٹرول کر سکیں، ان حضرات کو مدینہ سے لاتے وقت اس بات کی کوشش کی کہ ان کو شیعہ نشین علاقہ سے نہ گزارا جائے، اسی وجہ سے امام رضا (ع) کو مامون کے دستور کے مطابق ”بصرہ”، ”اہواز” اور ”فارس” کے راستے سے مرو لے گئے نہ کہ کوفہ، جبل اور قم کے راستے سے کیونکہ یہ شیعہ علاقے تھے۔ [13]
یعقوبی کے نقل کے مطابق جس وقت امام ہادی (ع) کو متوکل عباسی کے دستور کے مطابق سامرّہ لے جایا گیا تو جس وقت آپ بغداد کے نزدیک پہنچے تب اس بات سے باخبر ہوئے کہ کافی تعداد میں لوگ امام (ع) کے دیدار کے منتظر ہیں یہ لوگ وہیں ٹھہر گئے اور رات کے وقت شہر میں داخل ہوئے اور وہاں سے سامرہ گئے۔[14]
۶۔ نظام وکالت، شیعیت کا دفاعی اوزار
عباسی خلافت کے دور میں شیعیت سے تعلق رکھنے والے حضرات، دور دراز اور مختلف مناطق میں پراکندہ تھے۔ ائمہ طاہرین (ع) نے وکالت کے نظام کی داغ بیل ڈالی اور مختلف مناطق اور شہروں میں اپنے نائب اور وکیل معین کئے تاکہ ان کے اور شیعوں کے درمیان رابطہ قائم ہوسکے۔
یہ مطلب امام صادق (ع) کے زمانے سے شروع ہوا اس وقت عباسی خلافت کا کنٹرول ائمہ طاہرین (ع) پر جتنا شدید ہوتا گیا اتنی ہی شیعوں کی دسترسی اماموں تک مشکل ہوتی گئی اور اسی اعتبار سے وکالت اور وکیلوں کے نظام کی اہمیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ کتاب تاریخ عصر غیبت میں آیا ہے کہ مخفی کمیٹیوں کے پھیلنے اور تقویت پانے کا سب سے اہم ترین سبب وکلا ہیں۔ یہ نظام امام صادق (ع) کے زمانے سے شروع ہوا اور عسکریین (ع) کے دور میں اس میں بہت زیادہ ترقی اور وسعت ہوئی۔[15]
استاد پیشوائی اس بارے میں لکھتے ہیں: شیعہ ائمہ (ع) جن بحرانی شرائط سے عباسی خلافت کے زمانے میں روبرو تھے وہ سبب بنا کہ ان کی پیروی کرنے والوں کے درمیان رابطہ برقرار کرنے کے لئے نئے وسائل کی جستجو کی جائے اور ان کی بروئے کار لایا جائے اور یہ وسائل وکالت کے ارتباط اور نمائندوں سے رابطہ نیز وکیلوں کا تعین کرنا مختلف مناطق میں امام (ع) کے توسط سے تھا۔
وکلا اور نمائندوں کے معین کرنے کا مقصد مختلف مناطق سے خمس و زکوٰة، ہدایا اور نذورات کی رقم کا جمع کرنا تھا اور وکلا کے توسط سے لوگوں کی طرف سے ہونے والی فقہی مشکل اور عقیدتی سوالات کا امام (ع) کو جواب دینا تھا چنانچہ اس طرح کی کمیٹیاں امام (ع) کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں کافی مؤثر رہیں۔ [16]
وہ مناطق اور علاقے کہ جہاں امام (ع) کے وکیل اور نائب ہوا کرتے تھے وہ مندرجہ ذیل ہیں: کوفہ، بصرہ، بغداد، قم، واسط، اہواز، ہمدان، سیستان، بست، ری، حجاز، یمن، مصر اور مدائن۔[17]
۷۔ شیعیت کی اوج، چوتھی صدی ہجری میں
شیعیت چوتھی صدی ہجری میں، شرق و غرب اور اسلامی دنیا کے تمام مناطق میں اتنی اوج اور بلندی پیدا کر چکی تھی کہ اس کے بعد اور اس سے پہلے ایسی وسعت دیکھنے میں نہیں آئی۔ مقدسی نےشیعہ آبادی کے شہروں کی فہرست، اس دور کے اسلامی سرزمین میں جو پیش کی ہے وہ اس مطلب کی طرف نشاندہی کرتی ہے کہ یمن، کرانہ، مکہ اور صحار میں اکثر قاضی معتزلی اور شیعہ تھے۔ [18]
جزیرة العرب میں بھی کافی شیعیت پھیلی ہوئی تھی،[19] اہل بصرہ کے ارد گرد رہنے والوں کے بارے میں ملتا ہے کہ اکثر اہل بصرہ قدری، شیعہ، معتزلی یا پھر حنبلی تھے[20] کوفہ کے لوگ بھی اس صدی میں کناسہ کے علاوہ سب شیعیت سے تعلق رکھنے والے تھے۔[21]
موصل کے علاقوں میں بھی کچھ شیعہ موجود تھے،[22] اہل نابلس، قدس اور عُمان میں بھی شیعوں کی اکثریت میں تھی،[23] قصبہ فسطاط اور صندفا کے لوگ بھی شیعہ ہی تھے [24] سندھ کے شہر ملتان میں بھی شیعہ تھے کہ جو اذان و اقامت میں ہر فقرے کو دو بار پڑھتے ہیں۔ [25]
اہواز میں شیعہ اور سنی کے درمیان حالات کشیدہ رہے اور جنگ تک نوبت پہنچ گئی۔ [26]
مقریزی نے بھی حکومت آل بویہ اور مصری فاطمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شیعیت مغرب کے شہروں میں شام، دیار بکر، کوفہ، بصرہ، بغداد، پورے عراق، خراسان کے شہر، ماوراء النہر اور اسی طرح حجاز، یمن، بحرین، میں پھیل گئی ہے۔ ان کے اور اہل سنت کے درمیان اس قدر جنگیں ہوئیں کہ جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔[27]
اس صدی میں بغداد میں بھی اکثر شیعیت سے تعلق رکھنے والے ہی تھے جب کہ بغداد بنی عباس کی خلافت کا مرکز تھا اور جتنا ہو سکتا تھا روز عاشورا کھل کر آزادانہ طور پر عزاداری کرتے تھے، جیسا کہ ابن کثیر کا بیان ہے کہ شیعہ کی کثرت اور حکومت آل بویہ کی حمایت کی بنا پر اہل سنت ان کو اس عزاداری سے نہیں روک سکے۔ [28]
اس زمانے میں شیعیت کے لئے اتنا زیادہ راستہ ہموار ہو گیا تھا کہ اکثر اسلامی سرزمینیں شیعہ حاکموں کے زیر تسلط تھیں، ایران کے شمال میں، گیلان اور مازندران میں طبرستان کے علوی حکومت کرتے تھے۔ مصر میں فاطمی، یمن میں زیدی، شمال عراق اور سوریہ میں حمدانی اور ایران و عراق میں آل بویہ حکومت کرتے تھے، البتہ بعض عباسی خلفا جیسے مھدی، امین، مامون، معتصم، واثق اور منتصر ان کے زمانے میں شیعیت نسبتاً عملی طورسے آزاد تھی۔
ان خلفا کے زمانے میں پہلے کی بہ نسبت سخت گیری کم ہو گئی تھی۔ یعقوبی کے نقل کے مطابق مھدی عباسی نے طالبیان اور شیعوں کو جو زندان میں تھے آزاد کر دیا تھا۔ [29]
۸۔ امین کی پنج سالہ مستی اور شیعیت کی آزادی
امین کی پنج سالہ دور حکومت میں بھی عیش و مستی اور اپنے بھائی مامون سے جنگ میں مشغول ہونے کی وجہ سے شیعیت پر سختی کم تھی مامون، معتصم، واثق، اور معتضد عباسی بھی شیعیت کی طرف مائل تھے، لیکن متوکل خاندان پیغمبر (ص) اور شیعوں کا سخت ترین دشمن تھا۔ اگرچہ اس کے دور میں شیعہ کنٹرول کے قابل نہیں تھے اس کے باوجود بھی وہ زیارت قبر امام حسین (ع) سے روکتا تھا۔ [30]
۹۔ عباسی خلافت کے متوکل کی شیعیت پر کڑی نگرانی
ابن اثیر کا کہنا ہے: متوکل اپنے سے پہلے خلفا، جیسے مامون، معتصم، واثق جو علی (ع) اور خاندان علی (ع) سے محبت کا اظہار کرتے تھے ان سے دشمنی رکھتا تھا اور جن کا شمار دشمنان علی (ع) میں ہوتا تھا مثلاً شامی شاعر علی بن جہم، عمر بن فرج، ابو سمط اور مروان بن ابی حفصہ کی اولادیں کہ جو بنی امیہ کا دم بھرتی تھیں، اسی طرح عبداللہ بن محمد بن داؤد ھاشمی کہ جو ناصبی اور دشمن علی (ع) تھا اس کے ساتھ اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا۔[31]
اس دور میں ناصبی اور بے دین شاعروں میں متوکل سے نزدیکی کی وجہ سے یہ جرأت پیدا ہوگئی تھی کہ خاندان پیغمبر (ص) کے خلاف اشعار کہنے لگے، لیکن متوکل کے جانشین منتصر نے اس روش کے خلاف کام کیا اور شیعوں کو عملی آزادی دی اور قبر امام حسین (ع) کی تعمیر کرائی اور زیارت کی ممانعت کو برطرف کر دیا۔ [32] اس دور کے شاعر بحتری نے اس طرح کہا ہے: انّ علیاً لاولی بکم / و ازکی یداً عندکم من عمر[33] عمر کی بہ نسبت حضرت علی (ع) زیادہ مقرب و مقدس ہیں۔
خاتمہ
شیعیت نے عباسی خلافت دور میں اپنی علمی، تبلیغی، اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک مضبوط شناخت قائم کی۔ نظام وکالت کے تحت شیعیت کے نظریات کو دور دراز کے علاقوں تک پہنچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ چوتھی صدی ہجری میں شیعیت اپنے عروج پر پہنچ گئی، جب یہ اسلامی دنیا کے بیشتر حصوں میں پھیل چکی تھی۔ عباسی خلفا کی جانب سے شیعیت پر کڑی نگرانی کے باوجود، شیعہ علماء اور عوام نے اپنے عقائد کا دفاع کیا اور اسے زندہ رکھا۔
حوالہ جات
[1]۔ شیخ مفید، الارشاد، ص٥٨١۔
[2]۔ شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج٢ ص١٣٥۔
[3]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج٤٩، ص ١٥٥۔
[4]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۵۰، ص٦۔
[5]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٤، ص١٨٣۔
[6]۔ البتہ کچھ صاحبان نظر اس بات کے معتقد ہیں کہ اگر ابو سلمہ کے شیعہ ہونے کی دلیل ہ خط ہے کہ جو امام صادق (ع) کی خدمت لکھا گیا تھا تو یہ دلیل نہیں ہے کیونکہ اس اقدام کو ایک سیاسی اقدام تصور کیا گیا ہے، رجوع کیا جائے۔ پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص٣٧٨۔
[7]۔ امین، اعیان الشیعۃ، ج١ ص١٩١۔
[8]۔ امین، اعیان الشیعۃ، ص١٩٢۔١٩٣ (البتہ واقدی کا محققین کے درمیان تشیع کے بارے یں اختلاف ہے)۔
[9]۔ امین، اعیان الشیعۃ، ج١، ص٢٩۔
[10]۔ حیدر، الامام الصادق و المذاہب الاربعۃ، ج١، ص٢٢٦۔
[11]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٨٤۔
[12]۔ نوبختی، المقالات و الفرق، ص٩٤۔
[13]۔ پیشوائی، سیرہ پیشوایان، ص٤٧٨۔
[14]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٥٠٣۔
[15]۔ پور طباطبائی، تاریخ عصر غیبت، ص٨٤۔
[16]۔ پیشوائی، تاریخ عصر غیبت، ص٥٧٣۔
[17]۔ نجاشی، رجال نجاشی، ص٣٤٤، ٧٩٧، ٨٠٠، ٨٢٥، ٨٤٧۔
[18]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ج١، ص١٣٦۔
[19]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص١٤٤۔
[20]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص٢٠٠۔
[21]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص٢٢٠۔
[22]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص٢٨٦۔
[23]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص١٧٥۔
[24]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ص١٧٤۔
[25]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ج٢، ص٧٠٧۔
[26]۔ مقدسی، احسن التقاسیم، ج٢، ص٦٢٣۔
[27]۔ مقریزی، المواعظ و الاعتبار، ج٤، ص١٩١۔
[28]۔ ابن کثیر، البدایۃ والنھایۃ، ص٢٤٣۔
[29]۔ ابن واضح، تاریخ یعقوبی، ج٢، ص٤٠٤۔
[30]۔ طبری، تاریخ طبری، ج٥ ص٣١٢۔
[31]۔ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج٧، ص٥٦۔
[32]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٤، ص١٤٧۔
[33]۔ مسعودی، مروج الذھب، ج٤، ص١٤٧۔
مصادر
۱۔ ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ۱۴۰۲ق۔
۲۔ ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، بیروت، دار الفکر، ۱۹۶۶م۔
۳۔ ابن واضح، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، قم، منشورات شریف الرضی، ۱۳۷۹ق۔
۴۔ امین، محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق۔
۵۔ پورطباطبائی، سید مجید، تاریخ عصر غیبت، قم، مرکز جہانی علوم اسلامی، ۱۳۸۵ش۔
۶۔ پیشوائی، مہدی، تاریخ عصر غیبت، قم، مؤسسہ امام صادق، ۱۳۸۰ش۔
۷۔ پیشوائی، مہدی، سیرہ پیشوایان، قم، مؤسسہ امام صادق، طبع ہشتم، ۱۳۷۸ش۔
۸۔ حیدر، اسد، الامام الصادق والمذاہب الاربعۃ، بیروت، دار الکتاب العربی، طبع سوم، ۱۳۹۰ق۔
۹۔ شیخ صدوق، محمد بن علی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا، قم، مؤسسہ امام ہادی، ۱۳۷۷ق۔
۱۰۔ شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد، ترجمہ محمد باقر ساعدی خراسانی، تہران، کتاب فروشی اسلامیہ، ۱۳۷۶ق۔
۱۱۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۷ق۔
۱۲۔ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الاطهار، تہران، مکتبہ الاسلامیہ، ۱۳۵۸ق۔
۱۳۔ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۱ق۔
۱۴۔ مقدسی، ابو عبداللہ محمد بن احمد، احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم، ترجمہ منذوی، تہران، شرکت مؤلفان و مترجمان ایران، ۱۳۶۱ش۔
۱۵۔ مقریزی، تقی الدین ابن العباس احمد بن علی، المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار (الخطط المقریزیۃ)، بیروت، دار الکتب العلمیہ، طبع اول، ۱۴۱۸ق۔
۱۶۔ نجاشی، احمد بن علی، رجال نجاشی، قم، دفتر نشر فرہنگ اسلامی وابستہ جامع مدرسین، ۱۴۰۴ق۔
۱۷۔ نوبختی، حسن بن موسی، المقالات والفرق، تہران، مرکز انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۵۸ش۔
مضمون کا مأخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ):
محرّمی، غلام حسن، تاریخ تشیّع ابتدا سے غیبت صغری تک، ترجمہ سید نسیم رضا آصف، قم، مجمع جہانی اہل بیت (ع)، ١٤٢٩ھ۔ ٢٠٠٨ء۔ (نسخہ اردو توسط شبکہ الامامین الحسنین)۔