شب ہجرت میں حضرت علی (ع) کی بے مثال اور عظیم جانفشانی

شب ہجرت میں حضرت علی (ع) کی بے مثال اور عظیم جانفشانی

کپی کردن لینک

شب ہجرت، حضرت علی (ع) کا اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر پیغمبر ﷺ کے بستر پر سونا، ایسی عظیم قربانی ہے جو نہ صرف آپ (ع) کی، پیغمبر ﷺ سے بے پناہ محبت اور اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دیگر افراد کے درمیان آپ (ع) کی بے مثال فضیلت کو نمایاں کرنے کا بھی سبب بنا ہے۔

انسان کے اعمال و کردار اس کے عقیدے کی عکاسی کرتے ہیں، اور فداکاری اہل ایمان کی علامت ہے۔ جب ایمان مضبوط ہو تو انسان اپنی جان و مال قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے: ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ‘‘[1]

مومن تو بس وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں پھر شک نہ کریں اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں سے جہاد کریں، یہی لوگ (دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔

ابتدائی دور میں مسلمانوں نے ظلم و ستم برداشت کیا، مگر اسلام نے خاندانی عقائد، قوم پرستی اور قبائلی عداوت ختم کرکے اسلام پھیلنے کی راہ ہموار کی۔ قریش کی زیادتیوں کے باعث کچھ مسلمانوں نے حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی، جن میں جعفر بن ابی طالب (ع) بھی شامل تھے۔

بعثت کے دسویں سال، پیغمبر اسلام ﷺ نے شدید مشکلات کا سامنا کیا اور قریش کے منصوبے کے باوجود اللہ کی تدبیر نے انہیں بچا لیا۔ شب ہجرت، حضرت علی (ع) نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیغمبر ﷺ کے بستر پر سو کر دشمنوں کو دھوکہ دیا تاکہ پیغمبر ﷺ محفوظ طریقے سے نکل سکیں۔ چالیس مسلح افراد کے محاصرے کے باوجود، پیغمبر ﷺ نے سورہ یٰسن کی آیات کی تلاوت کرتے ہوئے گھر چھوڑا اور غار ثور میں پناہ لی۔ خدا کی حکمت نے اعجاز کے بجائے قربانی اور مشقت کا راستہ اختیار کیا۔

قرآن مجید نے ان سازشوں کا تذکرہ اس طرح کیا ہے: ’’وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِيُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ‘‘[2]

اور (وہ وقت یاد کریں) جب یہ کفار آپ کے خلاف تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا آپ کو قتل کردیں یا آپ کو نکال دیں وہ اپنی چال سوچ رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔

بعض مؤرخین کا نظریہ ہے کہ پیغمبر ﷺ دشمنوں کی نیند کا فائدہ اٹھا کر نکلے، جو کہ عقل کے خلاف ہے، کیونکہ ایک بہت ہی اہم مشن کے تحت محاصرہ کرنے والے چالیس افراد کا ایک ساتھ سونا غیر منطقی بات ہے، لیکن بعید نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ پیغمبر ﷺ محاصرین کے درمیان سے ہوکر نکلے تھے۔[3]

شب ہجرت میں خانۂ وحی پر حملہ

قریش کے سپاہی تلواریں تھامے پیغمبر ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے ان کے گھر کے باہر منتظر تھے، مگر حضرت علی (ع) اطمینان سے پیغمبر ﷺ کے بستر پر سو رہے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ نے پیغمبر ﷺ کو دشمنوں کے شر سے بچا لیا ہے۔ دشمنوں نے صبح کے وقت حملہ کیا لیکن بستر پر حضرت علی (ع) کو پایا۔ غصے اور حیرت کے عالم میں پوچھا: محمد ﷺ کہاں ہیں؟

آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے محمد ﷺ کو میرے حوالے کیا تھا جو مجھ سے طلب کر رہے ہو؟ اس جواب کو سن کر غصے سے آگ بگولہ ہوگئے اور حضرت علی (ع) پر حملہ کردیا اور انہیں مسجد الحرام لے آئے، لیکن تھوڑی جستجو و تحقیق کے بعد مجبور ہوکر آپ کو آزاد کردیا، وہ غصے میں بھنے جا رہے تھے، اور ارادہ کیا کہ جب تک پیغمبر ﷺ کو قتل نہ کرلیں گے آرام سے نہ بیٹھیں گے۔[4]

قرآن مجید نے اس عظیم اور بے مثال فداکاری کو ہمیشہ اور ہر زمانے میں باقی رکھنے کے سلسلے میں حضرت علی (ع) کی جانبازی کو سراہا ہے اور انہیں ان افراد میں شمار کیا ہے جو لوگ خدا کی مرضی کی خاطر اپنی جان تک کو نچھاور کردیتے ہیں: ’’وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ‘‘[5]

اور لوگوں میں سے خدا کے بندے کچھ ایسے ہیں جو خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور خدا ایسے بندے پر بڑا ہی شفقت والا ہے۔

بنی امیہ کے زمانے کے مجرم

بہت سارے مفسرین نے اس آیت کی شان نزول کو ’’لیلۃ المبیت‘‘ سے مخصوص کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کے بارے میں اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہے۔ مزید تفصیل کےلئے سید بحرینی کی کتاب تفسیر برہان، ج۱، ص۲۰۶، مرحوم بلاغی کی تفسیر آلاء الرحمٰن، ج۱، ص ۱۸۴۔۱۸۵ اور ابن ابی الحدید کی شرح نہج البلاغہ، ج۱۳، ص۲۶۲ پر مراجعہ کریں۔

سمرۃ بن جندب، بنی امیہ کے زمانے کا بدترین مجرم صرف چار لاکھ درہم کی خاطر اس بات پر راضی ہوگیا کہ اس آیت کے نزول کو حضرت علی (ع) کی شان میں بیان نہ کر کے لوگوں کے سامنے اس سے انکار کردے اور مجمع عام میں یہ اعلان کردے کہ یہ آیت عبد الرحمن ابن ملجم کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

اس نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اس آیت کو علی (ع) کے بارے میں نازل ہونے سے انکار کیا، بلکہ ایک دوسری آیت جو منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی اس کو حضرت علی (ع) سے مخصوص کردیا[6] کہ یہ آیت ان کی شان میں نازل ہوئی ہے وہ آیت یہ ہے: ’’وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ ‘‘[7]

اے رسول: بعض لوگ (منافقین سے ایسے بھی ہیں) جن کی (چکنی چپڑی) باتیں (اس ذرا سی) دنیوی زندگی میں تمہیں بہت بھاتی ہیں اور وہ اپنی دلی محبت پر خدا کو گواہ مقرر کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ (تمہارے) دشمنوں میں سب سے زیادہ جھگڑالو ہیں۔

اس طرح سے حقیقت پر پردہ ڈالنا اور تحریف کرنا ایسے مجرم سے کوئی بعید نہیں ہے۔ وہ عراق میں ابن زیاد کی حکومت کے وقت بصرہ کا گورنر تھا، اور خاندان اہلبیت (ع) سے بغض و عداوت رکھنے کی وجہ سے 8 ہزار آدمیوں کو صرف اس جرم میں قتل کر ڈالا تھا کہ وہ حضرت علی (ع) کی ولایت و دوستی پر زندگی بسر کر رہے تھے۔

جب ابن زیاد نے اس سے باز پرس کی کہ تم نے کیوں اور کس بنیاد پر اتنے لوگوں کو قتل کر ڈالا، کیا تو نے اتنا بھی نہ سوچا کہ ان میں سے بہت سے افراد بے گناہ بھی تھے، اس نے بہت ہی تمکنت سے جواب دیا ’’لو قتلت مثلهم ما خشيت‘‘ میں اس سے دو برابر قتل کرنے میں بھی کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتا۔[8]

لیکن کچھ ہی زمانہ گذرا تھا کہ تعصب کی چادریں ہٹتی گئیں اور تاریخ اسلام کے محققین نے شک و شبہات کے پردے کو چاک کرکے حقیقت کو واضح و روشن کردیا ہے اور محدثین و مفسرین قرآن نے ثابت کردیا کہ یہ آیت حضرت علی (ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے، یہ تاریخی واقعہ اس بات پر شاہد ہے کہ شام کے لوگوں پر اموی حکومت کی تبلیغ کا اثر اتنا زیادہ ہوچکا تھا کہ جب بھی حکومت کی طرف سے کوئی بات سنتے تو اس طرح یقین کرلیتے گویا لوح محفوظ سے بیان ہو رہی ہے۔

جب شام کے افراد سمرہ بن جندب جیسے کی باتوں کی تصدیق کرتے تھے تو اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ تاریخ اسلام سے ناآشنا تھے، کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت عبد الرحمٰن پیدا بھی نہ ہوا تھا اور اگر پیدا ہو بھی گیا تھا تو کم از کم حجاز کی زمین پر قدم نہ رکھا تھا اور پیغمبر ﷺ کو نہیں دیکھا تھا کہ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوتی۔

ناروا تعصب

حضرت علی (ع) سے بغض رکھنے والوں نے پوری کوشش و طاقت سے کوشش کی کہ اس بزرگ فداکاری اور عظیم تاریخی فضیلت کی اس طرح سے تفسیر کی جائے کہ حضرت علی (ع) کی عظیم و بے مثال قربانی کی کوئی فضیلت باقی نہ رہے۔

جاحظ، اہلسنت کے ایک عالم کا قول

حضرت علی (ع) کا پیغمبر ﷺ کے بستر پر سونا ہرگز اطاعت اور بزرگ فضیلت شمار نہیں ہوسکتی، کیونکہ پیغمبر ﷺ نے انہیں اطمینان دلایا تھا اگر میرے بستر پر سو جاؤ گے تو تمہیں کوئی تکلیف و نقصان نہیں پہونچے گا۔[9]

اس کے بعد ابن تیمیہ دمشقی نے اس میں کچھ اور اضافہ کیا ہے کہ حضرت علی (ع) کسی اور طریقے سے جانتے تھے کہ میں قتل نہیں ہوسکتا، کیونکہ پیغمبر ﷺ نے ان سے کہا تھا کہ کل مکہ کے ایک معین مقام پر اعلان کرنا کہ جس کی بھی امانت محمد ﷺ کے پاس ہے آ کر اپنی امانت واپس لے جائے۔ حضرت علی (ع) اس ماموریت سے جو پیغمبر ﷺ نے انہیں دیا تھا، خوب واقف تھے کہ اگر پیغمبر ﷺ کے بستر پر سوؤں گا تو مجھے کوئی بھی ضرر نہیں پہونچے گا اور میری جان صحیح و سالم بچ جائے گی۔

جواب

یہاں پر ایک نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ جاحظ اور ابن تیمیہ اور ان دونوں کے ماننے والوں نے جو خاندان اہلبیت (ع) سے عداوت رکھنے میں مشہور ہیں، حضرت علی (ع) کی اس فضیلت سے انکار کرنے کی وجہ سے غیر شعوری طور پر بڑی فضیلت کو حضرت علی (ع) کے لئے ثابت کیا ہے۔

اگر حضرت علی (ع) کا ایمان پیغمبر ﷺ کی صداقت پر محدود ہوتا تو انہیں اپنی سلامتی کے بارے میں یقین نہ ہوتا، اور اضطراب کا شکار ہوتے۔ لیکن چونکہ ان کا ایمان اعلیٰ درجے کا تھا اور پیغمبر ﷺ کی سچائی ان کے لیے واضح تھی، اس لیے وہ مکمل یقین اور اطمینان کے ساتھ بستر پر سوئے، جو ان کی عظیم فضیلت کی دلیل ہے۔ ایسا یقین اور اطمنان کسی بھی انسان کی ایمان کی معراج کی علامت ہے۔

تاریخی اوراق کا تجزیہ

ابھی تک ہماری بحث اس بات پر تھی کہ پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) سے کہا کہ تم قتل نہ ہوگے۔ لیکن اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ بات ایسی نہیں ہے جیسا کہ جاحظ اور ابن تیمیہ کے ماننے والوں نے گمان کیا ہے اور تمام مؤرخین نے اس واقعہ کو اس طرح نقل نہیں کیا ہے جیسا کہ ان دونوں نے لکھا ہے۔ اس واقعے کی مزید تفصیل کے لئے طبقات کبریٰ کی ج1، ص228 پر رجوع کرسکتے ہیں،

نہ صرف یہ بلکہ تقی الدین احمد بن علی مقریزی نویں صدی کا مشہور مؤرخ، اس نے اپنی مشہور کتاب ’’امتاع الاسماع‘‘ میں بھی کاتب واقدی کی طرح اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے اور اس بات سے انکار کیا ہے کہ پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) سے کہا ’’کہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہونچے گا‘‘

جی ہاں! انہی افراد کے درمیان ابن ہشام نے اپنی کتاب سیرت، ج1، ص483 پر اور طبری نے اپنی کتاب تاریخ طبری، ج2، ص99 پر اس کا تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح ابن اثیر نے اپنی کتاب تاریخ کامل، ج2، ص382 پر اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مؤرخین نے اسے نقل کیا ہے ان تمام مؤرخین نے سیرۂ ابن ہشام یا تاریخ طبری سے نقل کیا ہے۔

اس بناء پر عقل اس بات کو قبول نہیں کرتی کہ پیغمبر ﷺ نے یہ بات کہی ہے، اور اگر مان لیں کہ پیغمبر ﷺ نے یہ بات کہی بھی ہے تو کسی بھی صورت سے یہ معلوم نہیں کہ ان دونوں باتوں کو (نقصان نہ پہونچنا اور لوگوں کی امانت واپس کرنا) اسی رات میں پہلی مرتبہ کہا ہو۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس واقعے کو علماء اور شیعہ مؤرخین اور بعض سیرت لکھنے والے اہلسنت نے دوسرے طریقے سے نقل کیا ہے، جس کی ہم وضاحت کر رہے ہیں:

شیعوں کے مشہور و معروف دانشمند مرحوم شیخ طوسی اپنی کتاب ’’امالی‘‘ میں ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے، جو کہ پیغمبر ﷺ کی سلامتی اور نجات پر ختم ہوتا ہے، لکھتے ہیں:

شب ہجرت گزر گئی۔ اور حضرت علی (ع) اس مقام سے آگاہ تھے جہاں پیغمبر ﷺ نے پناہ لی تھی۔ اور پیغمبر ﷺ کے سفر پر جانے کے مقدمات کو فراہم کرنے کے لئے ضروری تھا کہ رات میں ان سے ملاقات کریں۔[10]

حضرت علیؓ کے لیے پیغمبر ﷺ کا حکم

پیغمبر ﷺ نے تین رات غار ثور میں قیام کیا، ایک رات حضرت علی (ع) اور ہند بن ابی ہالہ غار ثور میں پیغمبر ﷺ کی خدمت میں پہونچے، پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) کو چند چیزوں کا حکم دیا:

پہلا حکم

دو اونٹ ہمارے اور ہمارے ہمسفر کے لئے مہیا کرو (اس وقت ابوبکر نے کہا: میں نے پہلے ہی سے دو اونٹ اس کام کے لئے مہیا کر لئے ہیں، پیغمبر ﷺ نے فرمایا: میں اس وقت تمہارے ان دونوں اونٹوں کو قبول کروں گا جب تم ان دونوں کی قیمت مجھ سے لے لو، پھر حضرت علی (ع) کو حکم دیا کہ ان اونٹوں کی قیمت ادا کر دو۔

دوسرا حکم

میں قریش کا امانتدار ہوں اور ابھی لوگوں کی امانتیں میرے پاس گھر میں موجود ہیں، کل مکہ کے فلاں مقام پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے اعلان کرو کہ جس کی امانت محمد ﷺ کے پاس ہے وہ آئے اور اپنی امانت لے جائے۔

تیسرا حکم

امانتیں واپس کرنے کے بعد تم بھی ہجرت کے لئے تیار رہو، اور جب بھی تمہارے پاس میرا خط پہونچے تو میری بیٹی فاطمہ اور اپنی ماں فاطمہ بنت اسد اور زبیر بن عبد المطلب کی بیٹی فاطمہ کو اپنے ہمراہ لے آؤ۔ پھر فرمایا: اب تمہارے لئے جو بھی خطرہ یا مشکلات تھیں وہ دور ہوگئیں ہیں اور تمہیں کوئی تکلیف نہ پہونچے گی۔[11]

یہ جملہ بھی اسی جملے کی طرح ہے جسے ابن ہشام نے سیرۂ ہشام میں اور طبری نے تاریخ طبری میں نقل کیا ہے، لہٰذا اگر پیغمبر ﷺ نے حضرت علی (ع) کو امان دیا ہے تو وہ بعد میں آنے والی رات کے لئے تھا نہ کہ شب ہجرت، اور اگر حضرت علی (ع) کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کی امانتوں کو ادا کر دو تو وہ دوسری یا تیسری رات تھی نہ شب ہجرت تھی۔

اگرچہ اہلسنت کے بعض مؤرخین نے واقعہ کو اس طرح نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ نے شب ہجرت ہی حضرت علی (ع) کو امان دیا تھا اور اسی رات امانتوں کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا مگر یہ قول توجیہ کے لائق ہے کیونکہ انہوں نے صرف اصل واقعہ کو نقل کیا ہے وقت اور جگہ اور امانتوں کے واپس کرنے کو بیان نہیں کرنا مقصود نہیں تھا کہ جس کی وجہ سے دقیق طور پر ہر محل کا ذکر کرتے۔

حلبی اپنی کتاب ’’سیرۂ حلبیہ‘‘ میں لکھتا ہے: جس وقت پیغمبر ﷺ غار ثور میں قیام فرما تھے تو انہی راتوں میں سے کسی ایک رات حضرت علی (ع)، پیغمبر ﷺ کی خدمت اقدس میں شرفیاب ہوئے، پیغمبر ﷺ نے اس رات حضرت علی (ع) کو حکم دیا کہ لوگوں کی امانتیں واپس کر دو اور پیغمبر ﷺ کے قرضوں کو ادا کر دو۔[12] در المنثور میں ہے کہ حضرت علی (ع) نے شب ہجرت کے بعد پیغمبر ﷺ سے ملاقات کی تھی۔[13]

شب ہجرت میں حضرت علی (ع) کی فداکاری پر دو معتبر گواہ

تاریخ کی دو چیزیں اس بات پر گواہ ہیں کہ حضرت علی (ع) کا عمل، شب ہجرت، فداکاری کے علاوہ کچھ اور نہ تھا اور حضرت علی (ع) صدق دل سے خدا کی راہ میں قتل اور شہادت کے لئے آمادہ تھے ملاحظہ کیجئے:

پہلا گواہ

شب ہجرت کے اس تاریخی واقعہ کی مناسبت سے جو امام (ع) نے اشعار کہے ہیں اور سیوطی نے ان تمام اشعار کو اپنی تفسیر[14] میں نقل کیا ہے جو آپ کی جانبازی اور فداکاری پر واضح دلیل ہے۔ اشعار کا ترجمہ درج ذیل ہے:

میں نے اپنی جان کو روئے زمین کی بہترین اور سب سے نیک شخصیت جس نے خدا کے گھر اور حجر اسماعیل کا طواف کیا ہے، اسی کے لئے سپر (ڈھال) قرار دیا ہے۔ وہ عظیم شخص محمد ﷺ ہیں اور میں نے یہ کام اس وقت انجام دیا جب کفار ان کو قتل کرنے کے لئے آمادہ تھے لیکن میرے خدا نے انہیں دشمنوں کے مکر و فریب سے محفوظ رکھا۔ میں ان کے بستر پر بڑے ہی آرام سے سویا اور دشمن کے حملے کا منتظر تھا اور خود کو مرنے یا قید ہونے کے لئے آمادہ کر رکھا تھا۔

 دوسرا گواہ

شیعہ اور سنی مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ خداوند عالم نے شب ہجرت میں اپنے دو بزرگ فرشتوں، جبرئیل و میکائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں تم میں سے ایک کے لئے موت اور دوسرے کے لئے حیات مقرر کروں تو تم میں سے کون ہے جو موت کو قبول کرے اور اپنی زندگی کو دوسرے کے حوالے کردے؟

اس وقت دونوں فرشتوں میں سے کسی نے بھی موت کو قبول نہیں کیا اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ فداکاری کرنے کا وعدہ کیا۔ پھر خدا نے ان دونوں فرشتوں سے کہا: زمین پر جاؤ اور دیکھو کہ حضرت علی (ع) نے کس طرح سے موت کو اپنے لئے خریدا ہے اور خود کو پیغمبر ﷺ پر فدا کردیا ہے، جاؤ علی (ع) کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو۔[15]

اگرچہ بعض لوگوں نے طویل زمانہ گزرنے کی وجہ سے شب ہجرت کی اس عظیم فضیلت پر پردہ ڈالا ہے، مگر ابتدائے اسلام میں حضرت علی (ع) کا یہ عمل دوست اور دشمن سب کی نظر میں ایک بہت بڑی اور فدا کاری شمار کی جاتی تھی۔ چھ آدمیوں پر مشتمل شوریٰ جو عمر کے حکم سے خلیفہ معین کرنے کے لئے بنائی گئی تھی، حضرت علی (ع) نے اپنی اس عظیم فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے شرکائے شوریٰ پر اعتراض کیا اور کہا: میں تم سب کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ کیا میرے علاوہ کوئی اور تھا جو غار ثور میں پیغمبر ﷺ کے لئے کھانا لے گیا؟

کیا میرے علاوہ کوئی ان کے بستر پر سویا؟ اور خود کو اس بلا میں ان کی سپر قرار دیا؟ سب نے ایک آواز ہوکر کہا: خدا کی قسم تمہارے علاوہ کوئی نہ تھا۔[16]

مرحوم سید ابن طاؤس نے شب یجرت کے موقع پر حضرت علی (ع) کی اس عظیم فداکاری کے بارے میں بہترین تحلیل پیش کرتے ہیں اور انھیں اسماعیل کی طرح فداکار اور باپ کے سامنے راضی بہ رضا رہنے سے قیاس کرتے ہوئے حضرت علی (ع) کے ایثار کو عظیم ثابت کیا ہے۔[17

خاتمہ

شب ہجرت کے موقع پر حضرت علی (ع) کی عظیم قربانی اور فداکاری کو چھپانے کی تمام تر کوششیں، بغض و عناد رکھنے والے افراد کی طرف سے کی گئیں۔ تاہم قرآن و حدیث نے اس عظیم فضیلت کو واضح طور پر تسلیم کیا اور ان ناپاک سازشوں کو بے نقاب کردیا۔

 

حوالہ جات

[1]۔ سورہ حجرات، آیت۱۴۔

[2]۔ سورہ انفال، آیت۳۰۔

[3]۔ حلبی، سیرۂ حلبی، ج۲، ص۳۲۔

[4]۔ طبری، تاریخ طبری، ج۲، ص۹۷۔

[5]۔ سورہ بقرہ، آیت۲۰۷۔

[6]۔ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۴، ص۷۳۔

[7]۔ سورہ بقرہ، آیت۲۰۴۔

[8]۔ طبری، تاریخ طبری ج۲، سن ۵۰ ہجری کے واقعات۔

[9]۔ جاحظ، العثمانیہ، ص۴۵۔

[10]۔ امین، اعیان الشیعہ، ج۱، ص۲۳۷۔

[11]۔ پیغمبر ﷺ کی عبارت یہ ہے: ’’إنهم لن يصلوا إليك من الآن بأمر تكرهه‘‘

[12]۔ حلبی، سیرہ حلبی، ج۲، ص۳۶۔۳۷۔

[13]۔ حلبی، سیرہ حلبی، ج۲، ص۳۶۔۳۷۔

[14]۔ سیوطی، در المنثور، ج۳، ص۱۸۰۔

[15]۔ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۹، ص۳۹؛ غزالی، احیاء العلوم۔

[16]۔ ابن بابويه، خصال صدوق، ج۲، ص۱۲۳؛ طبرسی، احتجاج طبرسی، ص۷۴۔

[17]۔ ابن‌ طاؤس، اقبال، ص۵۹۳؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۱۹، ص۹۸۔

 

کتابیات

1۔ قرآن مجید۔

2۔ ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن هبةالله، شرح نهج البلاغۃ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۸۵ق۔

3۔ ابن بابويه، محمد بن على‌، الخصال، قم، مؤسسة النشر الإسلامی، ۱۳۶۲ق۔

4۔ غزالی، محمد بن محمد، احياء علوم الدين، ریاض، دار المنهاج، ۱۴۳۲ق۔

5۔ جاحظ، عمرو بن بحر، العثمانیة، بیروت، دار الجيل، ۱۴۱۱ق۔

6۔ امین، محسن، أعیان الشیعة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۳ق۔

7۔ حلبی، علی بن ابراهیم، السّيرة الحلبيّة، بیروت، دار الکتب العلمية، ۱۴۲۷ق۔

8۔ سیوطی، عبدالرحمن بن ابی‌‌بکر، تفسیر الدر المنثور في التفسیر المأثور، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۴ق۔

9۔ طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، قم، شریف رضی، ۱۳۸۰ق۔

10۔ ابن‌ طاؤس، علی بن موسی، إقبال الأعمال، بیروت، مؤسسۃ الأعلمي للمطبوعات، ۱۴۱۷ق۔

11۔ طبری، محمد بن جریر، تاريخ الأمم و الملوك، بیروت، عزالدين، ۱۴۱۳ق۔

12۔ مجلسی، محمد باقر، بحارالأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمة الأطهار (ع)، بیروت، وفاء۱۴۰۳ق۔

 

مضمون کا مآخذ (تلخیص اور ترمیم کے ساتھ)

سبحانی، جعفر، فروغ ولايت؛ ترجمہ، سید حسین اختر رضوی، دوسرا باب، تیسری فصل، قم، مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام، ۱۴۲۹ھ ق۔

کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

تبصرہ لکھیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری فیلڈز کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔