یا علیؑ مدد کہنے کی شرعی حیثیت کا علمی جائزہ لینے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ "یا علیؑ مدد” کہنا اہلِ تشیع اور سلفی مکاتبِ فکر کے درمیان کشمکش کا محور ہے جبکہ قرآن، احادیث اور اہل سنت علماء کے اقوال سے ثابت ہے کہ "یا علیؑ مدد” کہنا شرک نہیں۔ سلفی دعویٰ کرتے ہیں کہ غیر اللہ سے مدد طلب کرنا شرک ہے، جبکہ شیعہ "یا علی (ع) مدد” کہنے کو قرآن و سنت کی روشنی میں جائز توسل قرار دیتے ہیں۔
۱۔اجمالی جواب: یا علیؑ مدد کہنا بدعت یا شرک ہے؟
جب مکتبِ اہل بیت (ع) کے پیروکار ، یا علیؑ مدد،… کہتے ہیں؛ تو سلفی، وہابی اور ابن تیمیہ کے ماننے والے کہتے ہیں کہ یا علیؑ مدد کہنا شرک ہے. اور صرف "یا اللہ” کہہ سکتے ہیں جبکہ آیت و روایات سے واضح ہے کہ”یا علیؑ مدد” کہنا اور دیگر ائمہ اطہار (ع) سے مدد طلب کرنا ہرگز شرک نہیں ہے۔ ہمارے اس دعوے "یا علیؑ مدد” کی دلیل قرآن کریم کی آیات ہیں:
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ٱدۡعُونِیٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡۚ إِنَّ ٱلَّذِینَ یسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِی سَیدۡخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ﴾[1]؛اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلّت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔
اور دوسری جگہ فرمایا: ﴿یٰٓأَیهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱبۡتَغُوٓاْ إِلَیۡهِ ٱلۡوَسِیلَةَ وَجَٰهِدُواْ فِی سَبِیلِهِۦ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ﴾[2]؛اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو، شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے۔
اسی طرح حضرت یوسف (ع) کے بھائیوں کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے حضرت یعقوب (ع) سے کہا: ﴿قَالُواْ یٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔینَ٭ قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّیٓ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِیمُ﴾[3]؛ سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے” اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے”۔
اگر غیر اللہ سے توسل کرنا شرک ہوتا تو حضرت یعقوب (ع)، جو خود نبی تھے، انہیں ایسا وعدہ نہ دیتے یا پھر اللہ تعالیٰ اس واقعے کے بعد ان کے عمل کو شرک قرار دیتا جبکہ شرک قرار نہیں دیا۔ لہٰذا "یا علیؑ مدد” کہنا بھی شرک نہیں۔
ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ رسول اللہ (ص) سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿فَٱسۡتَغۡفَرُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡتَغۡفَرَ لَهُمُ ٱلرَّسُولُ لَوَجَدُواْ ٱللَّهَ تَوَّابٗا رَّحِیمٗا﴾[4]؛ اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ (ص) کی شفاعت طلب کرنا اور انہیں وسیلہ بنانا اور اسی طرح "یا علیؑ مدد” کہنا نہ صرف شرک نہیں، بلکہ توبہ کی قبولیت اور رحمت الٰہی کا سبب ہے۔اگر نبی یا ائمہ (ع) سے دعا، شفاعت، یا استغفار طلب کرنا (یا علیؑ مدد کہنا) شرک ہوتا تو اللہ تعالیٰ ایسا حکم کیوں دیتا؟
یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ انبیاء اور ائمہ (ع) گناہوں کو معاف نہیں کرسکتے، بلکہ وہ صرف اللہ سے گناہوں کی بخشش کی دعا کرسکتے ہیں۔ چونکہ وہ اللہ کے مقرب بندے ہیں، اللہ ان کی شفاعت قبول فرماتا ہے۔ لہٰذا "یا علیؑ مدد” بھی اسی زمرے میں ہے۔
یا علیؑ مدد کہنا شرک تب ہوتا جب کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت علی (ع)، خدا کے مقابلے میں خودمختار طاقت رکھتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی یہ مانتا ہو کہ یہ ہستیاں صرف اللہ کے اذن اور اس کی بارگاہ میں دعا کے ذریعے مدد کرسکتی ہیں، تو یہ شرک نہیں۔ شیعہ علی پرست یا امام پرست نہیں کہ "یا علیؑ مدد” کہنا شرک ہو۔
شیعہ صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں، لیکن اللہ کے حکم کے مطابق اس کے مقرب بندوں کو وسیلہ بناتے ہیں اور یا علیؑ مدد کہتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ اور رسول کے محبوب ہیں۔ اللہ اور رسول نے ان کی محبت، اطاعت، اور ان سے شفاعت طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔
۲۔ تفصیلی تجزیہ: یا علیؑ مدد کہنا
اسلامی عقیدہ کے مطابق، کسی بھی زبان سے کلمۂ توحید ادا کرنے والا شخص اسلام کے دائرہ میں رہتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنی عبادات میں کسی بھی ہستی کو خداوندی صفات نہ دے۔ لہٰذا، اگر کوئی شخص "یا علیؑ مدد” کہتا ہے اور اس کا مقصد صرف حضرت علی (ع) سے شفاعت اور اللہ کی قریب ہونے کا ذریعہ مانگنا ہوتا ہے، تو اس میں کوئی شرک موجود نہیں ہوتا کیونکہ:
– وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتا ہے کہ تمام مدد صرف اللہ کی طرف سے حاصل ہوتی ہے۔
– اس نے اپنی عبادت اور دعا میں کوئی ایسی ذاتی طاقت نہیں سموئی جس سے وہ اللہ سے آزاد ہو جائے
شیعہ موقف کی وضاحت: شیعہ مذہبی اصطلاحات مثلاً "یا علیؑ مدد” "یا حسین (ع)” وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بزرگانِ دین صرف اللہ کی حکم اور اذن سے شفاعت فراہم کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ پیغمبرِ اکرم (ص) اور اہل بیت (ع) کی محبت اور اطاعت مسلمانوں کے لیے ایک لازمی عمل ہے اور ان سے دعا اور شفاعت طلب کرنا ایک طرح سے اللہ کی رضا اور اس کی رحمت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا، صحیح نیت اور عقیدے کے تحت "یا علیؑ مدد” کہنا شرک نہیں بلکہ اسلامی توسل کا جائز اور مستحب طریقہ عمل ہے۔
اسلام میں اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے محبوبین سے شفاعت یا استغاثہ کرنا اور یا علیؑ مدد کہنا ایک عہدِ وفا اور روحانی پناہ کا طریقہ ہے جو کہ ہمارے دین کی روح میں پوشیدہ ہے۔ اگر یا علیؑ مدد کہنے میں کوئی خودمختار طاقت کا دعویٰ نہ ہو اور دل میں صرف یہ یقین برقرار رہے کہ یہ سب اللہ کے کرم سے ممکن ہو رہا ہے، تو یا علیؑ مدد کہنے کو شرک قرار دینا نہ صرف قرآنی روح سے متصادم نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اگر "یا علیؑ مدد” کہا جائے تو اس کا مقصد صرف اور صرف اللہ سے قربت اور شفاعت طلب کرنا ہے نہ کہ کسی اور کی الٰہی حیثیت کا اعتراف۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل نِکات پر توجہ لازمی ہے جس سے بات کافی حد تک واضح ہوجائے گی:
۳۔ وہابی اعتراضات کا علمی محاسبہ
۱- یہ جاننا ضروری ہے کہ شرک اس صورت میں واقع ہوتا ہے جب کوئی خدا کے سوا کسی اور کو اُلوہیت کی حیثیت میں پکارے، کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے: ﴿وَمَن یدۡعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرۡهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ إِنَّهُۥ لَا یفۡلِحُ ٱلۡكَٰفِرُونَ﴾[5]؛اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے، جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔
لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر خدا سے مدد، یاری یا استمداد طلب کرنا شرک نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِیدُ ٱلۡعِقَابِ﴾[6]؛جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو اللہ سے ڈرو۔
اسی طرح ارشاد ہے: ﴿یٰٓأَیهَا ٱلَّذِینَ ءَامَنُواْ كُونُوٓاْ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِیسَى ٱبۡنُ مَرۡیمَ لِلۡحَوَارِیـۧنَ مَنۡ أَنصَارِیٓ إِلَى ٱللَّهِۖ قَالَ ٱلۡحَوَارِیونَ نَحۡنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ﴾[7]؛اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا: "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟” اور حواریوں نے جواب دیا تھا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار”۔
اسی طرح ارشاد ہے: ﴿وَإِنِ ٱسۡتَنصَرُوكُمۡ فِی ٱلدِّینِ فَعَلَیۡكُمُ ٱلنَّصۡرُ ﴾[8]؛… ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے۔
واضح ہے کہ انسان کا ایسی قوت پر یقین کرنا جو خدا کی قوت سے آزاد ہو شرک ہے، مگر ایسی حالت میں استمداد طلب کرنے میں جبکہ انسان تسلیم کرتا ہو کہ سب کچھ صرف اور صرف اللہ ہی سے ہے کوئی حرج نہیں لہٰذا یا علی (ع) مدد کہنا شرک نہیں۔
۲- جب شیعہ کہتے ہیں کہ «یا علی (ع)، یا حسین (ع)، یا فاطمہ (س)، یا ابوالفضل (ع) مدد… وغیرہ»، تو اس کا مفہوم یہ نہیں کہ ان ہستیوں کے پاس الٰہی ارادہ یا خدا کی اجازت سے ہٹ کر کوئی مستقل ارادہ یا اجازت موجود ہے، بلکہ جب ہم مثلاً "یا علیؑ مدد” کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ "علی مولا، ہماری مدد فرما اور ہمیں خدا تک پہنچا”۔
شیعہ اس ضمن میں قرآنی دلائل پیش کرتے ہیں جو مخالف کو لاجواب کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اب ہمارا وہابیوں سے سوال یہ ہے:
◾کیوں حضرت یعقوب (ع) کے بچوں نے "یا اللہ” کہنے کی جگہ "یٰٓأَبَانَا” کہا؟
◾کیوں حضرت یعقوب (ع) نے اپنے بچوں کے اِس عمل کو روکنے سے گریز کیا؟ جبکہ آپ کہتے ہیں کہ یہ بات شرک ہے؟
◾قرآن اس بات کو کیوں نہیں بیان کرتا کہ حضرت یعقوب (ع) کے بچوں کا یہ عمل شرک کا ہے؟
۳- ابن تیمیہ الحَرانی نے خود اپنے کتاب "ألکَلِمُ الطَّیِّب” میں کہا ہے: «كُنّا عِندَ عَبدالله بن عُمر، فَخَدِرَت رِجلَه فَقَالَ لَهُ رَجُلٍ: أَذْكُر أَحَبَّ النَّاسَ إلَیكَ، فَقَالَ: یا مُحَمَّد فَكَأَنَّما نَشِطَ مَن عِقال»؛
"ہم عبد اللہ بن عمر (جو خلیفہ دوم کے بیٹے ہیں) کے پاس تھے کہ ان کی ٹانگ کھسک گئی اور وہ حرکت کرنے سے قاصر ہو گئے۔ ایک شخص نے ان سے کہا: تمہاے نزدیک جو سب سے عزیز ہے اس کو پکارو تاکہ تمہاری ٹانگ شفا پا جائے، تو انہوں نے کہا: "یا محمد”؛ اور جیسے ہی "یا محمد” کہا گیا، اُن کی کھسکی ہوئی ٹانگ پھر کھل گئی”۔[9]
۴- کتاب "عمل الیوم و اللیلہ” میں احمد بن محمد دنیوری نے اسی مسئلے کو ایک قطعی روایت کے طور پر سند نمبر ۱۶۸ میں درج کیا ہے۔[10]
۴۔ علماء اہل سنت کا نظریہ
۱- علّامہ سُبکی، اہل سنت کے صف اوّل کے علماء میں سے، کتاب "شفاء السقام فی زیاره خیر الانام” کے صفحہ ۳۵۷ پر فرماتے ہیں: "جان لو! نہ توسل حرام ہے اور نہ استغاثہ؛ بلکہ پیغمبر (ص) سے شفاعت طلب کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے جس کے پاس دین ہے”۔[11]
سُبکی یہاں یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ یہ عمل انبیاء، مرسلین، صالح سلف، علماء اور عام مسلمان سب پر عائد رہا ہے۔ اب وہابیوں کا جواب کیا ہے، جو خود کو اہل سنت مانتے ہیں، اس معروف عالم کی اس فتویٰ پر؟
۲– امام ذہبی اپنی کتاب "المُعجَمُ المُختَصّ بالمُحِدثینَ” کے صفحہ نمبر ۲۰۴ میں سُبکی کا تعارف کراتےہوئے لکھتے ہیں: «الإمام، العَلّامه، الفَقیه، المُحدَّث، الحافظ، فَخر العُلَما تقی الدین ابوالحسن السُبکی»[12]
تو جب سُبکی فرماتے ہیں کہ توسل اور استغاثہ پیغمبر (ص) کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد دونوں صحیح ہیں، تو آپ یا علیؑ مدد کہنے کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
۳- سَمہودی، اہل سنت کے ایک اور بڑے علماء میں سے، کتاب "وفاء الوَفاء بِاخبارَ دار المُصطَفی” میں فرماتے ہیں:«اسغاثہ اور شفاعت پیغمبر (ص) سے اور ان کی جاه و برکت طلب کرنا انبیاء اور مرسلین اور صالح سلف کا عمل ہے، جو ہر حالت میں انجام پاتا رہا ہے، چاہے ان کی تخلیق سے پہلے ہو، یا تخلیق کے بعد، یا دنیا کی زندگی میں یا اب برزخ میں ہوں»۔[13]
یہاں سے علماء اہل سنت کا موقف صاف نظر آتا ہے اس لیے ان کے نزدیک بھی یا علیؑ مدد کہنے میں کہیں کوئی اِشکال وارد نہیں ہے۔
۵۔ توسل میں زندہ اور مردہ کا فرق
مسئلہ توسل (کسی نیک بندے کے ذریعے اللہ سے دعا کرنا) کے بارے میں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اختلافات ہیں۔ وہابی/سلفی حضرات کا موقف ہے کہ زندہ شخص سے توسل جائز ہے لیکن مردہ سے توسل شرک ہے اس لیے یا علیؑ مدد کہنا بھی شرک ہے۔
جبکہ شیعہ اور اہل سنت والجماعت کا موقف ہے کہ نیک افراد کے وسیلے سے (خواہ زندہ ہوں یا مردہ) اللہ سے دعا کرنا جائز ہے اور یا علیؑ مدد کہنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ یہ عقیدہ نہ ہو کہ وہ ذاتی طور پر نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
وہابی حضرات زندہ اور مردہ کے درمیان فرق کرتے ہیں، لیکن قرآن و حدیث میں ایسی کوئی صریح تقسیم موجود نہیں۔ توسل کا جواز "مرتبہ اور مقام” پر منحصر ہے نہ کہ حیات یا موت پر۔
قرآن و حدیث میں صراحت ہے کہ بعض اموات (جیسے انبیاء اور شہداء) اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور ان کا مقام اللہ کے نزدیک بلند ہے لہٰذا اگر ان کی حیاتِ برزخی ثابت ہے، تو ان کے وسیلے سے دعا کرنا منطقی ہے۔
وہابیوں کا اشکال یہ ہے کہ مردہ سے توسل شرک ہے، لیکن شرک تب ہوتا ہے جب کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جائے۔ توسل صرف "وسیلہ” ہے، نہ کہ عبادت اور قرآن میں وسیلہ کی ترغیب صراحت کے ساتھ موجود ہے اور اسمیں زندہ یا مردہ سے توسل میں فرق کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں، بلکہ یہ تقسیم بعد کے دور میں ایجاد کی گئی۔ مندرجہ ذیل چند نِکات پر توجہ فرمائیں:
۱۔ بہت سی احادیث موجود ہیں جو اللہ کے اولیاء کی ذات یا مقام سے توسل کی صحت اور درستگی پر گواہ ہیں۔ جو یا علیؑ مدد کہنے کو جواز فراہم کرتی ہیں، ہم یہاں ان کا ایک چھوٹا سا حصہ پیش کر رہے ہیں:
«إنَّ رجُلاً ضَریراً أتَی إلَی النَّبی(ص) فَقالَ اُدعُ اللَّهَ أنْ یعافِیَنی فَقَال: إنْ شِئتَ دَعَوْتُ وَ اِنْ شِئتَ صَبَرْتَ وَ هُو خیرٌ. قَالَ: فَادْعُهُ، فَامَرَهُ أنْ یَتَوضّأ فَیُحْسِنَ وُضُوءَهُ وَ یُصَلِّیَ رَکْعتینِ وَ یَدْعُو بِهذا الدُّعاء: أللَّهُمَّ إنّی أَسْأَلُکَ، وَ أَتوجّه إِلَیْکَ بَنَبِیِّکَ مُحمَّد نَبِیِّ الرَّحمَهِ، یا مُحمَّد إنّی أَتوجَّهُ بِکَ إلَی رَبِّی فِی حاجَتِی لِتَقْضِی، اللّهُمَّ شَفِّعْهُ فِیَّ. قالَ: ابنُ حنیفٍ فَوَاللَّهِ ما تَفَرَّقنا وَطالَ بِنا الحَدیثَ حَتّی دخَلَ عَلَیْنا کَأنْ لَمْ یَکُن بِهِ ضُرٌّ»
"ایک نابینا شخص نبی کریم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے شفا دے۔ آپ (ص) نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں دعا کر دوں، اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس شخص نے کہا: پھر آپ دعا فرمائیے۔ تو آپ (ص) نے اسے حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے، دو رکعت نماز پڑھے اور یہ دعا کرے:
"اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری طرف تیرے نبی محمد (ص)، نبی رحمت کی وجہ سے متوجہ ہوتا ہوں۔ اے محمد (ص)! میں اپنی حاجت کے لیے آپ کی وساطت سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری حاجت پوری ہو۔
اے اللہ! ان کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔” راوی ابن حنیف کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ہماری بات چیت ختم بھی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی زیادہ وقت گزرا تھا کہ وہ شخص ہمارے پاس اس طرح آیا جیسے اسے کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔”
وہابیوں کے پیشوا ابن تیمیہ نے بھی اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سند میں مذکور "ابو جعفر” سے مراد ابو جعفر خطمی ہیں، جو ثقہ راوی ہیں۔ [15]
۲- چیزوں کا وجودی تنزّل براہِ راست فیض حاصل کرنے کی قدرت سے محروم کر دیتاہے اور وہ مجبور ہو جاتے ہیں کہ خلقت کے اعلیٰ مراتب کی پناہ میں آ کر، عام رحمت اور مبداءِ فیاض سے فیض حاصل کریں۔مثلاً زمینوں کا زندہ رہنا سورج کی موجودگی پر منحصر ہے کہ اگر سورج نہ ہو تو پورا شمسی نظام اور تمام مخلوقات تباہ ہو جائیں گی۔
اب کیا سورج خدا کا شریک ہے؟ یہ دراصل اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زمین، عمارت وغیرہ کے لیے سورج ایک لازمی جزو ہے، بغیر اس کے وہ فیاضیتِ حق حاصل نہیں کر سکتے۔
۳- سوره مبارکہ یوسف میں حضرت یوسف (ع) کا پیراہن کس طرح حضرت یعقوب (ع) کی آنکھوں کی شفا کا سبب بنتا ہے؟
ان سارے دلائل و براہین کے بعد اب اگر کوئی شیعہ یا علیؑ مدد کہتا ہے اور حضرت علی (ع ) پکارتا ہے اور یا علیؑ مدد کہتا ہے– جو کہ آیتِ مباہلہ کی رو سے "پیغمبر کے نفس” اور آیت تطہیر کے مصادیق میں سے ایک ہیں– تو کیا یہ شرک کہلائے گا؟ بہتر ہے کہ وہابی اپنی فتنہ انگیزی اور شبہ افکنی سے پہلے قرآنِ کریم کی آیات کا مطالعہ کریں! وہابیت کی فتنہ انگیزیوں میں سے مسلمانوں کی تکفیر اور انھیں آپس میں ہی لڑانا ہے۔ ان کی شر انگیزیوں میں سے ایک یہی شبھہ "یا علیؑ مدد” کہنے کو شرک قرار دینا اور ان جیسے سیکڑوں شبہات ایجاد کرکے مؤمنین کی صفوف میں فتنہ ایجاد کرنا ہے۔
خاتمہ
قرآنِ کریم اور احادیث مبارکہ کے ساتھ ہی اہلِ سنت کے اکابر علماء توسل کو جائز قرار دیتے ہیں ۔ لہٰذا، "یا علیؑ مدد” کہنا شرک نہیں، بلکہ ایک جائز توسل ہے، کیونکہ اس میں حضرت علی (ع) کے مقام و مرتبہ کو اللہ کے سامنے وسیلہ بنایا جاتا ہے، نہ کہ انہیں مستقل مددگار سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ جات
[1] .غافر: 60۔
[2] .مائدة: 35۔
[3] .یوسف: 97-98۔
[4] .نساء 64۔
[5] .المؤمنون: 117۔
[6] .المائدة: 2۔
[7] .الصف: 14۔
[8] الأنفال:72۔
[9]. ابن تيمية،الكلم الطيب: ج1 ص96۔
[10] . الدینوری الشافعی (ابن السنی)، عمل الیوم واللیلۃ، ج1، ص141۔
[11] . سبکی، شفاء السقام، ص357۔
[12] . ذہبی، المعجم المختص بالمحدثین، ص204۔
[13] . سمہودی، وفاء الوفا، ج5، ص818۔
[14] . ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، ج2، ص47۔
[15]. ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، ج1، ص441، ح13885۔
کتابیات
۱۔ قرآن مجید
۲. ابن تيمية الحراني، الكلم الطيب، بيروت، دار الفكر اللبناني للطباعة والنشر، ۱۴۰۷هـ
۳. ابن حجر العسقلانی، أحمد بن علی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، بیروت، دار المعرفہ، ۱۳۷۹هـ
۴. الدینوري الشافعی (ابن السنی)، أحمد بن محمد بن إسحاق، عمل الیوم واللیلہ، جدة/بیروت، دار القبلہ للثقافۃ الإسلامیہ، ۱۴۳۸هـ
۵. الذہبی، شمس الدین محمد بن أحمد، المعجم المختص بالمحدثین، بیروت، دار الكتب العلمیہ، ۱۴۱۷هـ
۶. السبكی، علی بن عبد الكافی، شفاء السقام فی زیارة خیر الأنام، القاہرة، دار الحدیث، ۱۴۲۰هـ
۷. السمہودی، علی بن عبد الله، وفاء الوفا بأخبار دار المصطفى، المدینۃ المنورة، مؤسسۃ الفرقان، ۱۴۲۲هـ
۸. ابن ماجه، سنن ابن ماجه، انتشارات داراحیاء الكتب العربيه عيسى البابى الحلبى و شركاء، تحقيق محمّد فؤاد عبدالباقى، ۱۴۳۸هـ
مضمون کا مآخذ (تلخیص و ترمیم کے ساتھ)
۱۔ سبحانی تبریزی، جعفر، آیین وهابیت،جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، دفتر انتشارات اسلامی – قم – ایران۔
۲۔ پرسمان دانشگاهیان، اداره تبلیغ نوین نهاد نمایندگی مقام معظم رهبری در دانشگاه ها۔